مولوی صاحب! (ارسلان رحمانی)

مولوی صاحب! (ارسلان رحمانی)

آج ایک قصائی کی دوکان پر بیٹھا تھا کہ ایک نوجوان سادہ سا لباس چہرے پر داڑھی، سر پر ٹوپی، ہاتھ میں تسبیح لیے دکان میں داخل ہوا۔ دکان پر کافی بھیڑ تھی ، لوگوں کی آوازوں سے دکان گونج رہی تھی۔ جیسے ہی نوجوان داخل ہوا قصائی سارے گاہکوں کو چھوڑ کر اس نوجوان سے مخاطب ہوا جی ؟ آدھا کلو گوشت نوجوان نے کہا۔

قصائی نے فوراً بہترین گوشت کا ٹکڑا کاٹا اور بوٹی بنا کر دے دی۔ نوجوان نے پیسے دینے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو قصائی نے لینے سے انکار کر دیا۔ نوجوان نے کہا جاوید بھائی! آپ ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں قصائی مسکرا دیا اور نوجوان دوکان سے باہر نکل گیا۔

لوگ گلے شکوے کرنے لگے کہ ہم کب سے کھڑے ہیں اور قصائی کو چربی چڑھی ہے۔ گاہک کی قدر نہیں ہے۔میرا تجسس بڑھا میں دوکان خالی ہونے کاانتظار کرنے لگا۔ گاہک نپٹا کر جیسے ہی قصائی فارغ ہوا میں نے کہا 2 کلوگوشت چاہیے۔

پھر میں نے پوچھا ابھی جو نوجوان آپ کی دکان سے گوشت لے کر گیا آپ کا کوئی قریبی رشتہ دار لگتا ہے۔ سارے گاہک چھوڑ کرآپ نے سب سے پہلے اس کو گوشت دیا؟

قصائی مسکرایا اور بولا جی نہیں ۔میں تعجب میں پڑ گیااور پوچھا تو پھر؟ وہ میری مسجد کے امام صاحب ہیں جو شخص میری آخرت بنانے کی فکر میں رہتا ہے اور جس نے میری نمازوں کی ذمے داری لے رکھی ہے میرے بچوں کو قرآن اور حدیث کا درس دیتا ہے کیا دنیا میں میں اس کے ساتھ اچھامعاملہ نہ کروں؟ ، قصائی نے کہا۔

میں نے کہا اوہ! اچھا مگر تم نے ان سے پیسے کیوں نہیں لیے؟ قصائی پھر مسکرایا اور بولا، کیا تمھیں نہیں پتا مسجدوں کے اماموں کو کیا دیا جاتا ہے اتنے کا تو صاحب آپ مہینے میں سگریٹ پی جاتے ہو ، میں سوچنے لگا واقعی بات میں تو دم ہے۔

قصائی پھر بولا صاحب یہ ہماری قوم کا سرمایہ ہے ان کو بچانا ہماری ذمے داری ہے بازار کی تمام دوکان والوں نے یہ متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ مولانا صاحب سے کوئی پیسہ نہیں لیں گے صرف میں ہی نہیں یہ نائی، یہ جنرل اسٹور والا یہ ٹیلر وہ ڈاکٹر صاحب کریانے والا دودھ والا اور سبزی والا کوئی ان سے پیسے نہیں لیتا بھائی ۔ اتنا تو ہم کر ہی سکتے ہیں اور پھر مسکرا کر کہا صاحب آدھا کلو گو شت کے بدلے جنت زیادہ منافع کا سودا ہے ، یہ لیجیے آپ کے گوشت کی تھیلی۔
میں نے پیسے قصائی کی طرف بڑھائے اور کہا پر بھائی میں تو جاب کرتا ہوں کاش میں بھی آپ لوگوں کی طرح ان مولوی صاحب کی کوئی مدد کرسکتا ۔

قصائی نے کہا بہت آسان ہے سامنے گلی میں مولانا نے سائیکل بننے کے لیے دی ہے ۔ آپ دوکان والے کو چپکے سے بل ادا کر دیجئے اور اس سے کہہ دیجئے کہ مولانا سے پیسے نہ لے۔ میں مسکرایا اور دوکان سے نکل گیا اس قصائی سے آج مدد کا ایک نیا سبق جو سیکھا تھا۔۔

یاد رہے کہ ان مولویوں میں بھی ہماری طرح کچھ برائیاں ہوں گی لیکن یہ اس انٹرنیٹ کے دور میں ہمارے دین کے ورثہ کے مکمل محافظ ہیں۔جیسے چودہ سو سال پہلے ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ امانت اس امت کے علماءکو دی تھی۔ بنی اسرائیل کے علماءکی طرح انہوں نے دین کا سودا نہیں کیا۔ آئیں ہم بھی دینداروں کی اسی طرح مدد کریں جیسے قصائی نے سکھایا۔

سیاست کی اہمیت (عبدالرزاق صالح)

سیاست کی اہمیت (عبدالرزاق صالح)

سیاست عربی زبان کا لفظ ہے۔ جس کی متعدد معانی آتی ہیں،جن میں سے اس کی ایک معنی آتی ہے کسی ملک کا نظامِ حکومت چلانا۔ اصطلاح میں کسی بھی ملک کے نظم و نسق کو چلانے کےلیے تدبیر و انتظام کرنے، حکومت کرنے کی حکمت عملی بنانے اور کسی بھی طریقہ حکمرانی کو اپنانے کے لیے جوڑ توڑ کرنے کو سیاست کہا جاتاہے۔ سیاست کی مزید تعریف کرتے ہوئے امام غزالی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سیاست وہ تدبیر ہے جو زندگی کے وسائل اور ان کے دائرے میں معاشرے کے افراد کے درمیان باہمی محبت، تعاون اور اتحاد پیدا کرے۔

مولانا شمس الحق افغانی رح فرماتے ہیں کہ: سیاست ایسا نظام ہے جس میں اللہ تعالیٰ اور انسانی حقوق کا تحفظ ہو۔ گویا کہ اصل مقصد سیاست معاشرے کا قیام و انتظام، حقوق العباد کی ادائیگی کرنا اور کرانا، لوگوں کے درمیان محبت و الفت اور خیر خواہی کی بنیاد پر بھائی چارگی اور امن قائم کرنا ہے۔ جو اسلام کے مقاصد عالیہ میں سے ہے۔ اسلام نہ صرف سیاست کے جواز کو مانتا ہے بل کہ اس کےاندر اپنے زریں اصول اور اس پر عمل کو بہت سارے انفرادی اعمال پر فضیلت دیتاہے۔

سیاست کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ سیاست انبیاءکرام علیہم السلام کا مقدس مشن تھا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کے انبیاءان کی سیاسی رہنمائی بھی کیا کرتے تھے، جب بھی ان کا کوئی نبی وفات پاجاتا تو دوسرے ان کی جگہ آ موجود ہوتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل کے سیاسی معاملات بھی انبیاءکرام علیہم السلام سنبھالتے تھے۔ اس کے علاوہ علامہ شامی رح فرماتے ہیں کہ سیاست فرض کفایہ ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح رح بھی سیاسی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے لندن کی پرتعیش زندگی کو چھوڑ کر صرف اور صرف مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کو محفوظ رکھنے لیے، یہاں محنت و مشقت والی زندگی کو اپنایا تھا تاکہ مسلمانوں کا سیاسی مستقبل محفوظ ہو۔ علامہ اقبال رح نے بھی ملکی سیاست میں نمایاں حصہ لیا تھا۔ موجودہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے حال ہی میں امام کعبہ نے بھی خطبہ حج میں مسلمانوں کو نصیحت کی کہ وہ اپنے آپ کو سیاسی طور پر مضبوط کریں۔

سیاست کی اس تعریف اور اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر فرد کو اپنی منزل تک پہنچنے کےلیے شریعت و طریقت کے ساتھ ساتھ سیاست بھی اپنانی ہوگی۔ کیوں کہ سیاست تصفیہ راہ ہے۔ یعنی شریعت چلنے کا ایک راستہ ہے۔ طریقت اس راستے پر چلنے کا ایک ڈھنگ اور قوت ہے اور سیاست اس راستے پر چلنے میں آنے والے روڑے یا رکاوٹیں دور کرنے کا نام ہے۔ لیکن افسوس کہ ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کل ان تینوں چیزوں کو الگ الگ شمار کیا جارہا ہے۔ جب تک قوم کا ہر فرد شریعت کا پابند ہونے کے ساتھ ساتھ، سیاسی مخلص نہیں ہوگا، اس وقت تک قوم بحیثیت مجموعی مکمل نہیں کہلا سکتی اور اسلامی نقطہ نظر سے کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتی۔ کیوں کہ شریعت کے احکامات کا ایک اہم حصہ اپنے وجود میں ریاست کا محتاج ہے۔ جیسے حدود، قصاص، قضائ، انصاف و عدل اور امر بالمعروف و نھی عن المنکر۔ ان احکام کو عملی جامہ پہنانے کےلیے ریاست پر ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ وہ ان کو قائم کرے۔ ریاست کے قیام اور اس کے چلانے کےلیے سیاست لازمی و ضروری ہے۔

مسلمانوں کی امارت اور حکمرانی کو امامت عضمی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حیرت اور تعجب ہے ہماری حالت پر کہ ہم امامت صغریٰ (نماز وغیرہ کی امامت) کے لیے تو بے حد کوشش کرتے ہیں، اس کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں لیکن امامت عظمی کے لیے ہر کس و ناکس پر راضی ہوجاتے ہیں۔ اس کے لیے قربانی دینے کی بات کی جائے تو جسم پر رعشہ طاری ہوجاتا ہے۔ حالاں کہ امامت صغریٰ سے تو دین کے صرف ایک جز پر عمل ہوسکتا ہے اور دین کے بڑے حصے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اصل میں بات یہ ہے کہ امامت عظمیٰ کی اہمیت اور عظمت ہی ہماری دلوں سے نکل گئی ہے اور ہم امامت صغری پر قناعت کر چکے ہیں۔ تو یہ بھی یاد رکھیں کہ اگر کسی قوم کے اندر سیاسی شعور نہیں ہے تو، یہ عذاب خداوندی سے کم نہیں۔ امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی رح فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی جس قوم پر عذاب کا فیصلہ فرماتا ہے تو اس کا سیاسی شعور سلب کرلیتا ہے۔ لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ اس سیاست کے ساتھ جب تک دیانت (حقیقت پسندی، سچائی) نہیں ہوگی تو محض کوری سیاست سے دنیا کبھی امن و چین کا منہ نہیں دیکھ سکتی اور نہ ہی عالم انسانیت کی اصلاح ہوسکتی ہے۔

سیاست کئی طرح کی ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر: اقتدار کے حصول کے لیے، حقوق کے حصول کے لیے، مذہبی اقدار کی حفاظت کے لیے، جمہوری روایات کے تحفظ کے لیے اور ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے۔ بنیادی طور پر سیاست کی تین قسمیں ہیں نظریاتی، مصالحتی اور مفادات۔ اس وقت وطن عزیز میں مفاداتی سیاست زوروں پر ہے۔ نظریاتی سیاست صرف اور صرف صاحبان علم کا ورثہ ہے، جو پاکستان میں ناپید تو نہیں کہہ سکتے البتہ آٹے میں نمک کے برابر ضرور ہے لیکن اس کو بھی پھلنے اور پھولنے یا اقتدار تک رسائی حاصل کرنے نہیں دیا جا رہا ہے کیوں کہ یہاں زور و زر کی حکومت ہے۔

اس تمام تر صورت حال کے باوجود ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ دور حاضر میں زیادہ تر سیاسی باگ ڈور کچھ ایسے خواہش پرست اور دین سے عاری لوگوں کے ہتھے چڑھ گئی ہے کہ ان کی بدکرداریوں کی وجہ سے لوگ سیاست سے ہی نفرت کرنے لگے ہیں اور وہ ہر پاک و نیک شخص کو سیاست سے دور دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیوں کہ ان کہ ہاں سیاست فقط جھوٹ، خیانت، بددیانتی، لوٹ مار اور دھوکہ دہی کا نام ہے اور اس قول کو عام کردیا گیا ہے کہ سیاست میں سب کچھ جائز ہے۔ جب کہ حقیقت میں سیاست ایسی چیز نہیں ہے بل کہ اپنے معنی لغوی کے اعتبار سے ایک خوب صورت اور بہترین انسانی زندگی اور حفاظت عالم کے اصول طے کرنے والا لفظ ہے۔ جس کے ہر مفہوم کے اندر فلاح و صلاح کے بہترین معانی پنہاں ہیں۔

اس لیے وطن عزیز کی موجودہ سیاسی صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے سیاست سے ہی کنارہ کشی اختیار نہیں کی جائے بل کہ سیاست کو اپنے اصلی مفہوم کے اعتبار سے عملی جامہ پہنانے کے لیے میدان عمل میں اترآئیے اور صاف و شفاف سیاست کرنے والوں کے دست بازوں بن جائیے، نہ یہ کہ حالات سے مایوس ہو کر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی جائے کیوں کہ جوو ¿ں کے ڈر سے گدڑی پہینکی نہیں جاتی ۔

یعنی معمولی سی تکلیف کی وجہ سے بڑا مطلب نہیں چھوڑا جاتا، دشمنوں کے ڈر سے اپنے گھر کو نہیں چھوڑا جاتا، چھوٹے موٹے خدشوں سے کوئی اپنا نقصان نہیں کرتا۔