شامی بھیا (زہرا تنویر)

شامی بھیا (زہرا تنویر)

سردی آنے کی دیر ہوتی شامی بھیا سر شام ہی ابلے انڈوں کا کولر اٹھائے نکل پڑتے۔ بیوی نے لاکھ سمجھایا کہ کچھ اندھیرا ہونے دو ابھی انڈے بیچنے کا ٹھیک وقت نہیں لیکن شامی بھیا نے پہلے کب کسی کی بات سنی تھی جو اب سنتے۔۔۔ ہمیشہ اپنی مرضی کی چاہے نقصان اٹھانا پڑتا۔۔۔۔ جو اکثر و بیشتر وہ اٹھاتے رہتے مجال ہے جو کبھی اپنی غلطی تسلیم کی ہو۔۔۔ شامی بھیا اپنے نت نئے کاروبار کرنے کی وجہ سے محلے میں اچھی خاصی شہرت رکھتے تھے۔۔۔ جس کسی کا کاروبار اچھا چلتے دیکھتے وہی کرنے کی ٹھان لیتے۔ پرانے والے کو ٹھپ کر کے نئے کی تیاری میں جت جاتے۔۔۔ گھر والے ان کی اس عادت سے سخت عاجز و نالاں تھے۔ ’’شاید جب انسان خود کو عقل کل سمجھنے لگ جائے تو کسی کی بات اور مشورے پر کان نہیں دھرتا‘‘‘۔

شامی بھیا کے ساتھ بھی یہی مسئلہ تھا آگے بڑھنے کی لگن میں ایک کام ٹک کر نہ کرتے۔۔۔ پہلے والے کو ادھورا چھوڑ کر دوسرے میں لگ جاتے۔۔۔ سردی گرمی میں ان کے کاروبار مسلسل بدلتے رہتے۔پچھلی دفعہ گرمیوں میں ان کو دال چاول بیچنے کا شوق چرایا۔ اچھا بھلا کارخانے میں مشینوں کو تیل دینے کا کام ملا تھا معقول تنخواہ تھی لیکن اپنے کسی دیرینہ دوست کو لاری اڈے دال چاول بیچتے دیکھا اس کی اچھی خاصی بکری ہوتے دیکھ کر کارخانے کو خدا حافظ کہا اور بیوی کو دوپہر میں دو پتیلے دال چاول کے تیار کرنے کا حکم صادر کیا۔ وہ بیچاری ہمیشہ کی طرح سر پیٹ کر رہ گئی۔ جب سے شامی بھیا کے ساتھ بیاہ ہوا تھا ان کے کاروبار میں ساتھ دیتی آ رہی تھی۔ کوئی بھی کام دو تین ماہ سے زیادہ چل نہ پاتا یا پھر یہ کہنا ٹھیک ہو گا کہ چلایا نہ جاتا۔ شامی بھیا کام کے معاملے میں ایک طرح سے خانہ بدوش تھے اور وہ اپنی اس خانہ بدوشی سے بہت خوش ہوتے۔۔۔۔ اکثر رات کو فارغ ہو کر قریبی ہوٹل میں دوستوں کے ساتھ چائے پیتے اور فخر سے کہتے کہ دنیا کا کوئی ایسا کام نہیں جو نہ کیا ہو۔ ہر کام کا اپنا مزہ ہے یہ کارخانے والے کم بخت تو خون چوس لیتے ہیں۔

مشینوں سے زیادہ آدمی سے کام لیتے ہیں۔ اس لیے میں تو کہتا ہوں دوستو! اپنا کام کرو نہ حاضری کی ٹینشن ہوتی نہ مہینہ بھر تنخواہ کا انتظار۔ روز کی روز چیز بکنے میں مال جیب میں آتا رہتا ہے۔ اب سب شامی بھیا جیسا حوصلہ اور جگرا کہاں سے لاتے جو نفع نقصان کی پرواہ کیے بغیر تھوڑی بہت جمع پونجی کام میں جھونک کر سارا مہینہ فاقوں میں گزارتے۔ شامی بھیا کو اس طرف سے بھی چنداں فکر نہ تھی ان کی بیوی دوسرے محلے میں جا کر شادی بیاہ یا پھر خدانخواستہ کسی کے گھر فوتگی ہو جاتی تو کام پکڑ لیتی اور جب کبھی ہاتھ تنگ ہوتا تو ادھار کا لین دین چلا لیتی۔ بچے بھی باپ کی اس عادت سے چڑتے۔ بڑے والا کہتا۔

’’ابا ساری زندگی تجھے کوئی ایسا کام نہیں ملا جس میں نفع ہو۔۔۔۔ لوگ ہمارا مذاق اڑاتے ہیں کہ ان کا ابا وہ ہے جس نے کوئی کام نہیں چھوڑا‘‘۔’’تو تجھے کون کہتا ہے لوگوں کی باتوں پر دھیان دھرنے کو۔۔۔ اپنے کام سے کام رکھا کر۔۔۔ اور تو بھی کسی کام دھندے پر لگ گھر پر پڑا نحوست پھیلائے رکھتا ہے‘‘۔

ابا مجھ سے یہ کام نہیں ہوتے کبھی غبارے بیچ لو۔۔۔۔ کبھی سموسے رول لگا لو میں کہہ رہا ہوں مجھے یہ سب کام نہیں کرنے۔ بڑے والا منہ بسورتے بولا۔ تو نے اس عمر میں کون سے پہاڑ توڑنے ہیں جو یہ کام نہیں کرنے تیری عمر کے لحاظ سے یہی کام ٹھیک ہیں۔ شامی بھیا سمجھاتے ہوئے بولے۔’’ابا مجھے کسی ورکشاپ میں داخل کروا دو میرے دوست بھی مکینکی کا کام سیکھ رہے ہیں‘‘۔تیری عقل گھاس چرنے گئی ہے اور کوئی بات نہیں باپ کے تجربے سے اولاد فائدہ نہ اٹھائےتو دوسروں سے کیا گلہ کرنا۔ شامی بھیا ناراضگی سے گویا ہوئے اور باہر نکل گئے۔

اولاد کے معاملے میں شامی بھیا بہت خوش نصیب تھے جس کو جس کام پر لگاتے بچے خاموشی سے لگ جاتے بیوی نے بہت کوشش کی کہ اسکول داخل کروا کر بچوں کو تھوڑا بہت پڑھا لکھا لیں۔۔۔ وہاں بھی شامی بھیا نے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہمارے بچوں نے کون سا افسر لگ جانا ہے۔ آج بھی محنت مزدوری کرنی ہے کل بھی کرنی ہے تو بہتر ہے بچوں کو بچپن سے ہی کام میں لگا دیا جائے خود کو بھی فائدہ ہو اور بچے میں کام میں ماہر ہو جائیں گے۔ تینوں بیٹوں میں سے بس بڑے والا سرکش اور ضدی تھا اس کی دیکھا دیکھی بڑے ہوتے تک چھوٹے بھی اس رنگ میں رنگنے لگے (ضدی، نکمے اور بدتمیز )۔ دونوں بیٹیاں بس کھاؤ پیو اور عیش کرو کے اصول پر زندگی بسر کر رہی تھیں۔

بھائیوں سے بھی پیسے اینٹھ لیتیں اور ماں سے بھی۔ بڑی والی ابھی 17کی نہ ہوئی تو شامی بھیا کو اس کے بیاہ کی فکر ستانے لگی۔ یہاں بڑے والے بیٹے کو اپنی حق تلفی ہوتے نظر آئی وہ 20برس کا ہو چکا تھا اس کی شادی کی تو کسی کو فکر نہ ہوئی۔ ماں نے بہتیرا سمجھایا کہ بہن بیٹی عزت کے ساتھ جتنی جلدی اپنے گھر کی ہو جائے اچھا ہوتا ہے لیکن اس کے دماغ میں یہ بات نہ سمائی۔ نیا نیا عشق کا بھوت سوار ہوا تھا۔ کچھ دن گزرنے کے بعد ایک شام اپنے ساتھ سرخ جوڑے میں ملبوس اپنی دلہن لے آیا۔ سب گھر والے ہکا بکا رہ گئے۔ یہ کیا غضب ڈھا دیا۔۔۔ کس راہ چلتی کو گھر لے آیا کم بخت مارے کیا تیرے ماں باپ مر گئے تھے جو خود ہی بیاہ رچا لیا۔ شامی بھیا کھانا ادھورا چھوڑ کر بیٹے کی طرف لپکے اور ایک دو ہاتھ بھی جڑ دیے۔بس ابا بس مارنے پیٹنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ تم لوگوں میں نظر کہاں آتا ہوں اماں سے بھی بولا تھا لیکن یہاں کسی کو میرا خیال نہیں اس لیے خود ہی بیاہ کر لیا۔

”چل زری سلام کر اور بڑوں کی دعا لے“۔ اس سے پہلے کہ دلہن سلام کرتی شامی بھیا نے گھر سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ اس موقع پر ماں کا دل بیٹے کے لیے نرم ہو گیا شامی بھیا کی منت سماجت کی وہ پھر بھی نہ مانے۔ ان کی پرانی عادت تھی کسی کی بات نہ ماننا ہمیشہ اپنی بات پر اڑے رہنا چاہے کچھ بھی ہو جائے۔

ناچار بڑا بیٹا اپنی نئی دلہن کو ساتھ لیے چلا گیا۔ گھر میں عجیب سا سناٹا چھا گیا سب چپ چپ رہنے لگے۔ زندگی پھر سے اپنی ڈگر پر چلنے لگی اور وقت گزرنے کے ساتھ بڑا بیٹا کبھی کبھار گھر آ کر ماں اور بہن بھائی کو مل جاتا۔ بڑی بہن کی شادی بھی ہو چکی تھی۔ باپ سے سامنا ہوتا تو وہ منہ پھیر لیتا۔”اماں یہ ابا کب معاف کرے گا اب تو شادی کو اتنا عرصہ ہو گیا ہے“۔

”پتا نہیں میں تو سمجھا سمجھا کر اب تھک گئی ہوں اس آدمی کی ضدی طعبیت نے کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔۔ نہ کسی رشتے دار سے بنا کر رکھی نہ کسی ایک جگہ ٹک کر کام کیا۔۔۔ اب اولاد کے ساتھ بھی ضد لگائے بیٹھ گیا ہے“۔ اماں بھی بھری بیٹھی تھیں اور کچھ حالات نے مزاج میں تلخی بھر دی تھی۔”اچھا بات سن ہو سکے تو اپنی تنخواہ سے کچھ پیسے دے دیا کر۔۔۔ تیرے باپ میں پہلے والی ہمت نہیں رہی۔ پھیری کے چکر زیادہ نہیں لگا پاتا مشکل سے گزارہ ہوتا ہے“۔ ماں نے بیٹے کر گھر کی صورت حال سے آگاہ کیا۔”اماں! مہنگائی بہت ہے میرا تو خود بہت مشکل سے مہینہ گزرتا ہے“۔ بیٹا اپنا رونا رو کر چلا گیا۔

”کتنی دفعہ تجھے سمجھایا ہے کہ ایسی ناخلف اولاد کے رونے نہ رویا کر۔۔۔ لوگوں کی اولاد بڑھاپے میں سہارا بنتی ہے ایک ہماری اولاد ہے جو اپنا بیاہ رچا کر بیٹھ گئی“۔ شامی بھیا کمرے میں لیٹے ماں بیٹے کی باتیں سن رہے تھے بیٹے کے جانے کے بعد باہر نکل کر بیوی پر غصہ نکالنے لگے۔ شامی بھیا کے نزدیک بیٹے کا خود سے بیاہ کرنا بہت بڑا جرم تھا جسے وہ معاف اور قبول کرنے میں ہرگز راضی نہ تھے۔ آج کل شامی بھیا موسمی پھل بیچ رہے تھے۔ دن چڑھنے سے پہلے قریبی منڈی جاتے اور پھر پھیری کے لیے نکل جاتے۔ 11 بجے تک گرمی کی شدت کم ہوتی اور گلیوں میں دھوپ بھی نہ ہونے کے برابر ہوتی۔ اس لیے یہ کام آسانی سے چل رہا تھا۔ ایک دن اچانک ہوٹل میں چائے پیتے شامی بھیا کی طعبیت خراب ہو گئی۔ دوست اسپتال لے گئے ڈاکٹر نے دل کے عارضے کی تشخیص کی اور مکمل آرام کی تاکید کی۔ آرام اور شامی بھیا یہ ناممکن سی بات تھی گھر والے یا باہر کے لوگ شامی بھیا کو ان کے آئے روز کے بدلتے کام پر جتنی مرضی اعتراضات کرتے درست تھا لیکن ان کی محنت کشی پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا۔

کبھی کسی کام سے چھٹی نہ کی۔ ہمیشہ اپنے کام اور گھر کے ساتھ وفاداری نبھائی۔ اب جسم میں پہلے والی طاقت نہ تھی پھر بھی روٹی روزی کے لیے تو ہاتھ پاؤں مارنے تھے۔ کب تک گھر فارغ بیٹھا جا سکتا تھا۔ چھوٹا بیٹا جس ہوٹل میں کام کرتا تھا وہ روزانہ کے 100 روپے دیتے۔ بیوی آس پڑوس کے گھروں کا کام کرنے لگی تو گھر کا نظام چلنے لگا۔ بڑا بیٹا آیا گھر اور باپ کی بیماری دیکھ کر چھوٹی بہن کو بھی کام پر لگنے کا مشورہ دے کر یہ جا وہ جا۔ باپ کی چہرے پر مشقت کے درد کو دیکھ نہ پایا جو اولاد کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھاتا رہا۔ماں نے بڑی بیٹی کو فون کر کے باپ کی بیماری کی اطلاع دی تو وہ بھی عیادت کے لیے نہ آ سکی۔ سب اپنی اپنی زندگی میں مگن تھے۔

آج صبح سے گلی میں معمول سے زیادہ چہل پہل اور شور شرابے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو گلی کو ایک کونے سے دوسرے کونے تک ٹینٹ لگا کر بند کیا گیا تھا اور زور و شور سے صفائی کا سلسلہ جاری تھا۔ معلوم نہیں ہو رہا تھا یہ تیاریاں کس تقریب کے لیے ہو رہی تھیں۔

گلی میں کھیلتے بچوں سے پوچھا تو کہنے لگے۔ ”آج شامی بھیا کا دسویں کا ختم ہے“۔ یہ سب انتظام و انصرام دیکھ کر ہماری حیرت بجا تھی۔ بھلا اس سب کی کیا ضرورت تھی۔ وہ آدمی جس کی زندگی دو وقت کی روٹی کی فکر میں گزر گئی۔ ایک گلی سے دوسری گلی سے ہوتا اپنا خوانچہ سردی ہو یا گرمی موسم کی پرواہ کیے بغیر اٹھائے پھرتا رہا اس کے ایصال ثواب کے لیے اتنے وسیع پیمانے پر ختم کی تیاریاں؟

تعریفوں کے انبار لگائے گئے، اولاد کی واہ واہ ہوئی اور بس اتنی سی بات میں شامی بھیا کی یاد تازہ ہو گئی۔ اولاد بھی رشتے داروں میں فخر سے سر بلند کیے تعریفیں سمیٹتی رہی۔ جب سب اپنے اپنے گھروں کو چل دیے تو بچا ہوا کھانا محلے کے چند گھروں میں تقسیم کرنے کا عمل شروع ہوا۔ہماری طرف بھی شامی بھیا کی بڑی بیٹی ٹرے اٹھائے چلی آئی جس میں دو قسم کے کھانے اور مختلف پھل سجے تھے۔ ہم پھر سے حیران و پریشان! آخر ہم سے رہا نہ گیا اور پوچھ ہی لیا۔”یہ اتنا سب کچھ کیسے کر لیا“؟”باجی بڑے بھیا نے ابو کے ختم کے لیے قرضہ لیا ہے یہ سب نہ کرتے تو لوگ باتیں بناتے“۔

 

پاک سعودی عرب دوستی اور میڈیا (ممتاز حیدر)

پاک سعودی عرب دوستی اور میڈیا (ممتاز حیدر)

میڈیا مملکت کے چوتھے ستون کی حیثیت سے بنیادی اہمیت کا حامل ہے، میڈیا کے مقاصد میں باخبر رکھنا اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرنا ہے، میڈیا کے معاشرے پر مثبت اثرات کسی شبنم کی مانند اسے تروتازگی بخشتے ہیں، اور منفی اثرات دیمک کی طرح اس کے تہذیبی و اخلاقی ڈھانچے کو چاٹ جاتے ہیں۔گویا صحت مند معاشرہ میڈیا کی دی ہوئی صحت بخش خوراک کا مرہونِ منت ہے۔میڈیا وسیع تر اور موثر ترین ذریعہ ابلاغ ہونے کی وجہ سے آج معاشرے کا اہم جزو ہے، اور محسوس و غیر محسوس طریقوں سے انسانی زندگی کو متاثر کررہا ہے۔ عائلی زندگی ہو یا کاروباری، سیاسی نظام ہو یا اقتصادی، تعلیم، تجارت ہو یا صنعت، زراعت ہو یا صحت، انتظامی امور ہوں یا امن عامہ، ملک کے داخلی معاملات ہوں یا ادبی میدان، معاشرتی مسائل کے حل کی نشاندہی ہو یا اہم موضوعات پر تحقیقات اور علمی نظریات پر مباحثے،الغرض زندگی کا کوئی شعبہ، کوئی گوشہ اور کوئی پہلو میڈیا کے دائرہ کار سے باہر نہیں۔ میڈیا انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر شعبے کا ترجمان ہے۔کسی بھی ملک کے ،جماعت،ادارے کے لئے میڈیا اتنا ہی ضروری ہو گیا جتنا سانس لینا، میڈیا کے ذریعے حکومتیں اپنا موقف پہنچاتی ہیں، عوام کو ،دنیا کو پیغام دیتی ہیں، میڈیا کے بغیر حکومتیں بھی نہیں چل سکتیں لیکن ایک شرط ہے کہ میڈیا ملکی سلامتی کے خلاف نہ جائے، میڈیا کے حوالہ سے ہی خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیزنے پاکستا ن کے سعودی سفارتخانے میں علی خالد الدوسری کو میڈیا کی ذمہ داریا ں دی ہیں وہ پاکستان پہنچ چکے ہیں اور انہوں نے سفارتخانے ٓ کر میڈیا سیکشن کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں،علی خالد السروری نے چارج لینے کے بعد مختلف شخصیات سے ملاقاتیں اوررابطے شروع کردیئے ہیں۔ علی خالدالدوسری کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے سفیرنواف بن سعیدالمالکی کی سربراہی میں پاک سعودی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھرپورکرداراداکریں گے۔ مملکت سعودی عرب کے سفارتخانے کے میڈیاسیکشن کے انچارج علی خالدالدوسری نے اپنے آفس کاچارج لیا تومیڈیاسیکشن کے عملے نے ان کابھرپوراستقبال کیا۔وہ میڈیااوررابطہ کاری میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں، علی خالد السروری میڈیا دوست ہیں ان کی سفارتخانے میں تعیناتی سے میڈیا کے مملکت کے ساتھ تعلقات مستحکم ہوں گے، وہ پاکستان کی صحافی برادری کے ساتھ روابط کو بڑھائیں گے اور مملکت سعودی عرب کے حوالہ سے تمام پیشرفتوں سے انہیں آگاہ کرنے کا فریضہ سرانجام دیں گے۔

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں مملکت سعودی عرب پرامن بقائے باہم اور مکالمے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ یہ سعودی عرب کی اٹوٹ پالیسی ہے۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک او رااقوام قدر مشترک پر توجہ مرکوز کریں۔ روا داری ، باہمی تعاون اور بنی نوع انسان کی صلاح و فلاح کو اپنا شیوہ بنائیں۔ سعودی ویژن 2030نے وطن عزیز کے ان مسلمہ اصولوں کی ہمیشہ تاکید کی۔ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز او ران کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پرامن بقائے باہم اور دنیا بھر کے لوگوں کے درمیان تمدنی مکالمے کے تصورات راسخ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ سعودی قیادت چاہتی ہے کہ مذہب، تہذیب ، نسل اور زبان کے اختلاف سے بالا ہوکر دنیا بھر کے لوگ ایک دوسرے سے ملیں۔ ایک دوسرے کو سنیں اور ایک دوسرے کو سمجھیں اور سمجھائیں۔سعودی سفارتخانے میںمیڈیا سیکشن کے انچارج علی خالد السروری بھی خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030کو آگے بڑھانے کے لئے پاکستان میں رہ کرکردار ادا کریں گے اور پاکستانی میڈیا کو اس حوالہ سے مکمل آگاہی فراہم کرتے رہیں گے،علی خالد الدوسری سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کے نقش قدم پر بھی چلیں گے جنہوں نے دونوں ممالک کے مابین دوستی، رشتے اور تعلق کو مضبوط کیا، اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کے دو دورے کر چکے ہیں، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی پاکستان آ چکے ہیں، سعودی عرب کے وزیر اطلاعات ، وزیر خارجہ پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں ، اب کشمیر کا مسئلہ ساری دنیا کے سامنے ہے، وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ماہ اگست میں تین بار بات ہوئی ،کسی بھی ملک کے سربراہ سے عمران خان نے ایک بار سے زیادہ رابطہ نہیں کیا صرف سعودی عرب سے تین باررابطہ ہوا اور تینوں بار کشمیر پر بات ہوئی،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ سے رابطہ کیا انہوں نے بھی کشمیرکے صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا، یہ رابطے پاک سعودی لازوال دوستی، تعلقات کے لئے دنیا کے سامنے واضح مثال ہیں۔

سعودی عرب کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہت گہرے ہیں،حرمین شریفین کی وجہ سے ہر پاکستانی کے دل میں سعودی عرب کے لئے محبت،احترام کا رشتہ موجود ہے۔دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ سعودی عرب نے قیام پاکستان سے قبل ہی پاکستانیوں کو مکمل تعاون فراہم کیا۔ پاک سعودی تعلقات اور دونوں ممالک کی مثالی دوستی کو پوری دنیا جانتی ہے۔ پاکستان سعودی تعلقات میں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ مزید وسعت اور گہرائی پیدا ہورہی ہے۔ دونوں ملک مضبوط تاریخی ، دینی اور ثقافتی رشتے میں منسلک ہیں اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان پرخلوص بھائی چارے کا رشتہ ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اخوت ، محبت اور ایمان کے رشتے پر قائم ہیں۔ کوئی بھی شر کی قوت پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو کمزور نہیں کر سکتی۔ارض الحرمین الشریفین کے دشمن پاکستان اور عالم اسلام کے دشمن ہیں۔ پاکستانی قوم ، پاکستانی فوج ، ارض الحرمین الشریفین کے دفاع ، سلامتی اور استحکام کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریںگے۔ پاکستان اور سعودی عرب گزشتہ ستر سال سے باہمی دوستی کے لازوال رشتے میں بندھے ہوئے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے دکھ اور سکھ کے ساتھی ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان ایک جسم اور دو جان ہیں ، دونوں کا رشتہ روز بروز مضبوط ہو رہا ہے۔سعودی عرب پر بھی جب بھی مشکل وقت آ یا ہے پاکستان اس کے ساتھ سب سے آ گے کھڑا ہوتا ہے ، حرمین شریفین کی حفاظت میں جس طرح پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے ، اسی طرح پاکستا ن کی سالمیت میں سعودی عرب بھی پیچھے نہیں ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا امت مسلمہ کی بات پاکستان اور سعودی عرب کی مشترکہ رائے ہوتی ہے۔سعودی عرب نے پاکستان میں نواف بن سعید احمد المالکی کو سفیر مقرر کررکھا ہے جو انتہائی کم عرصے میں پاکستانی حکام اور عوام میں مقبول ہو چکے ہیں وہ پاکستان دوست ہیں اسی لئے وہ پاکستان سے اور پاکستانی قوم ان سے محبت کرتی ہے۔سعودی سفیربن سعید المالکی کی محنت، سرگرمی اور ایمان کی حد تک پہنچے ہوئے خلوص اور دیانتدارانہ کوششوں سے پاکستان اور سعودی عرب کے عوام میں دوستی، محبت اور بھائی چارے کے جذبات میں مزید اضافہ ہوا۔

یہ بات واضح ہے کہ پاکستان کے عوام سعودی عرب کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔اور کسی بھی مشکل کی گھڑ ی میں پاکستان کے عوا م سعودی عرب کے عوا م کے سا تھ شانہ بشانہ کھڑ ے ہوکرحر مین شریفین کی حفاظت پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیارہیں ۔سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کا دونوں ممالک کے مابین رشتوں کی مضبوطی کے لئے کردار انتہائی اہم ہے۔اب سعودی سفارتخانے میں میڈیا سیکشن کے انچارج علی خالد الدوسری دونوں ممالک پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی مضبوطی کے لئے ریڑھ کی ہڈی سے بھی بڑھ کر کردار ادا کریں گے، ہم انہیں پاکستان آمد پر اھلاو سھلا مرحبا کہتے ہیں اورہم دعا کرتے ہیں کہ وہ دونوں ممالک کے مابین دوستی تعلقات کے مزید استحکام کے لئے کردار ادا کرتے رہیں۔