قربانی (قیممصری عرفان)

قربانی (قیممصری عرفان)

رات ورک شاپ سے واپس آتے ہوئے حامد بہت خوش تھا۔ خوشی کی وجہ اس ماہ کی تنخواہ تھی، جو اس کی محنت اور ایمانداری کی وجہ سے 12000 سے 14000 ہزار ہو گئی تھی۔ ابھی وہ گلی کے کنارے پر تھا کہ اسے شور شرابہ سنائی دیا۔ خیر! یہ تو یہاں چھوٹی اور کچی بستیوں کا روز کا معمول تھا۔تھوڑا قریب پہنچا تو سلیم بھائی نفیسہ خالہ کے گھر کے سامنے کھڑے ان کے دروازے پر لاتوں اور مکے برسا رہے تھے، ساتھ ساتھ مغلاظات بھی زباں سے ادا ہورہے تھے۔ کچھ بد دعائیں بھی شامل تھیں۔ محلے کے کچھ لوگ بھی ان کے ہم نوا تھے اور کچھ کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے۔ یہ تو سلیم بھائی کی عادت اور معمول کی بات تھی۔ وہ محلے کی ایک معتبر شخصیت تھے، اس میں ان کے کردار اور تربیت سے زیادہ ان کی دولت اور اثر و رسوخ کا کمال تھا۔

حامد پہلے تو معاملے کو سمجھ نہیں پایا کہ ایک غریب بوڑھی عورت، دو جوان بیٹیوں اور ایک کم سن بیٹے نے سلیم بھائی کا کیا بگاڑا ہے! کہ انہوں نے آدھی رات کو پنچائیت لگائی ہوئی ہے بلکہ بغیر معاملے کو سمجھے فیصلہ صادر کر رہے ہیں۔ چور! جھوٹی عورت! یہ سلیم بھائی کے بیٹے کی آواز تھی۔ ہاں ہاں بھائی یہ تو ہے ہی ایسی۔۔۔ پچھلے محلے میں بھی یہی کیا تھا، ہزاروں کا کرایہ کھا کر اب سلیم بھائی کا پیسہ بھی کھائے گی۔ ہم تجھے سلیم بھائی کا پیسہ ہضم نہیں کرنے دیں گے۔ مجمع میں سے ہمدردانہ صائیں بلند ہورہی تھیں۔ دیکھ بھئی جلدی سے پیسہ نکال ورنہ ابھی کے ابھی مکان خالی کر۔ عزت سے پیسہ نکال دے، ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں کل عید ہے، ہمیں جانور بھی لینے جانا ہے۔ تو میرا پیسہ دے یا ہم تیرا سامان گھر سے نکال کے باہر پھینک دیتے ہیں۔

نفیسہ خالہ کا بیٹا جو گھر کا نفیسہ خالہ کے ساتھ مل کر گھر کی کفالت بھی کرتا تھا، چند ڈنڈا بردار نوجوانوں نے اسے گریبان سے دبوچا ہوا تھا اور سلیم بھائی کے اشارے کے منتظر تھے کب اس پر یہ ڈنڈے برسائے جائیں۔ حامد کو اب معاملہ سمجھ آگیا تھا۔ آج صبح ہی کام کے لیے جاتے ہوئے نفیسہ خالہ سے اس کی بات ہوئی تھی کہ انھیں اس ماہ کے کرائے کے ساتھ کچھ روپے پچھلے ماہ کے بھی ادا کرنے ہیں۔ نفیسہ خالہ بیمار ہونے کی وجہ سے ٹافیاں پیک کرنے والی فیکٹری نہ جا پائی تھیں، اس لیے نے ان کی چند ہراز روپے تنخواہ میں سے کافی پیسے کٹ چکے تھے اور اکیلے کم سن کفیل کی تنخواہ کرایہ ادا کرنے کے لیے نا کافی تھی۔

حامد آگے بڑھتا ہوا اپنی جیبوں کو ٹٹولنے لگا۔ اتنے بڑے مجمع میں اور اتنی معتبرشخصیت کے سامنے براہ راست پیش ہونا اس کے لیے محال ہورہا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتے ہوئے، سلیم بھائی کے پاس جا پہنچا تھا۔”ہاں بھائی حامد آگیا تو! لایا ہے نا پیسے بس ابھی اس بڑھیا سے نمٹ لیں پھر نکلتے ہیں منڈی۔ یار! تو ہے بہت اچھاہے، اتنا رحم دل ہے۔ اللہ تجھ سے بہت“۔ ”جی سلیم بھائی لایا ہوں پیسے۔ سلیم بھائی مسکرائے۔ یہ لیجیے نفیسہ خالہ کے گھر کا کرایہ اور جو پیسے پچھلے ماہ کے وہ بھی اس میں سے کاٹ لیجیے“۔ حامد اجتماعی قربانی کے لئے لائے گئے پیسوں کی قربانی دیتے ہوئے، اپنے رب کو قرض حسنہ دے دیا تھا۔

اور کشمیر سلگ گیا (سعد فاروق)

اور کشمیر سلگ گیا (سعد فاروق)

پنجابی کی معروف کہاوت ہے ”چوری تے نال سینہ زوری“ ٹھیک اسی کہاوت کے مطابق بھارت شروع سے چلتا آ رہا ہے۔ 70 سال سے عالمی تنازعہ کو ایک ہی رات میں حل کرکے مودی حکومت نے اگلے پچھلے سب ریکارڈ توڑ دیے۔ مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر بھارت کا ایوان راجیہ سبھا مچھلی منڈی بنا رہا، شور شرابا، ہنگامہ آرائی اور اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر سےمتعلق آرٹیکل 370 ختم کرنے کا اعلان کیا۔

بھارتی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل وزیر داخلہ امیت شاہ کی طرف سے پیش کیے جاتے ہی ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی۔ کانگریس سمیت کئی پارٹیوں نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق مودی سرکار کے فیصلے کو مسترد کردیا۔ کانگرس رہنما اورسابق وزیر داخلہ چدم برم نے حکومتی اقدام کو غیرآئینی قرار دیا۔ کانگریس کے رکن غلام نبی آزاد نے ایوان میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ سیاہ حروف میں لکھا جائے گا۔ یہ فیصلہ بھارتی آئین کا قتل ہے، سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ بی جے پی یہاں تک جائے گی۔ اس دوران اپوزیشن کے شدید احتجاج نے وزیر داخلہ امیت شاہ کو پریشان کیے رکھا۔ امیت شاہ کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد سے بولنے کی اجازت طلب کرتے رہے مگر غلام نبی آزاد نے بی جے پی کے اس متنازعہ فیصلے کے خلاف اپنا خطاب جاری رکھا۔ اپوزیشن ارکان نے چیئرمین کے ڈائس کے سامنے بھی احتجاج کیا، مودی سرکاری کی اتحادی جماعت جنتا دل یونائیٹڈ نے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے احتجاجاً اجلاس سے واک آوٹ بھی کیا۔

مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے نذیر احمد اور ایم ایم فیاض نے بھی بھارتی آئین کو پھاڑنے کی کوشش کی۔ ایم ایم فیاض نے تو اپنا کرتا بھی پھاڑ دیا۔ ہنگامہ آرائی کرنے پر دونوں ارکان کو ایوان سے نکال دیا گیا۔ ایک ایسا متنازعہ علاقہ جسے قدرت، وہاں کی عوام، عالمی برادری اور خود بھارتی عوام بھارت کا حصہ نہیں سمجھتی اسے زبردستی ‘”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ کے مقولے کے مطابق بھارت کا حصہ قرار دے دیا گیا۔

ستر سال سے اقوام متحدہ کی قراردادیں بھارت نے ردی کی ٹوکری میں ڈال رکھی ہیں، عالمی برادری کے لیے مقبوضہ کشمیر ایک نو گو ایریا بنا ہوا ہے۔ ہر روز کشمیریوں کے جنازے اٹھتے ہیں، ہر روز کشمیریوں کے خون سے اسپتال بھر جاتے ہیں۔ وہ کشمیری جھکے نہیں، کشمیری بے بس نہیں ہوئے بلکہ چشمِ فلک نے انوکھا منظر دیکھا کہ گولیوں کی بوچھاڑ، پیلٹ گن کے مہلک وار اور بھارتی فوج کی ہر ممکن کوشش کے باوجود کشمیری آزادی کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ ایسے منظر میں امریکی ثالثی کی پیشکش نے بھارت سرکار کے ہوش اڑا دیے اور مودی حکومت نے کشیری کی جداگانہ حیثیت ختم کرکے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔

بھارتی حکومت کو اپنے کٹھ پتلیوں سے ڈر لگنے لگا اور محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ سمیت درجنوں سیاست دانوں کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ بھارتی حکومت کے اس نامنصفانہ فیصلے پر مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلی مجبوبہ مفتی بھی پھٹ پڑیں۔ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت جموں و کشمیر کو غزہ کی پٹی کی طرح بنانا چاہتی اور کشمیر کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہتی ہے جو اسرائیل فلسطین کے ساتھ کر رہا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو انڈین آئین میں دیے جانے والے خصوصی درجے اور اختیارات کو ختم کرنے کے اعلان کے بعد بی بی سی کے لیے ناول نگار اور مصنف آتش تاثیر سے خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ”آج کا دن انڈیا کی جمہوریت کے لیے سیاہ ترین دن ہے“۔

بھارتی وزیرِ داخلہ کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے اعلان پر ان کا کہنا تھا کہ انھیں یہ سن کر بہت دھچکا لگا ہے۔ دوسری جانب بھارت کو اپنے ملک میں شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ سابق وزیر داخلہ اور بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما پی چدم برم نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخی کو تاریخی غلطی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی آنے والی نسلیں اس غلطی کو محسوس کریں گی جو آج پارلیمان میں کی جا رہی ہے۔ پارلیمان کے آج کے اقدام سے بھارت کی تمام ریاستوں کو غلط پیغام جائے گا۔ بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھی اس فیصلے سے ناراض دکھائی دیے۔ امرندر سنگھ نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ غیر آئینی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پرچیوں کے ذریعے فیصلہ کیا گیا اور اس حوالے سے صلاح مشورہ بھی نہیں کیا گیا اس لیے یہ فیصلہ غیر آئینی ہے۔ امرناتھ سنگھ نے بھارتی پنجاب میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کی خوشی میں ریلیاں نکالنے پر پابندی لگا دی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کی بڑی سیاسی جماعت کانگرس نے بھی آرٹیکل 370 کا خاتمے کوبھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا آغاز قرار دے دیا ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ مقبوضہ کشمیر میں ناکامی کا اعتراف کر چکے ہیں۔ امیت شاہ نے ”آدھا سچ“ بولتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ ایک تہائی مقبوضہ جموں و کشمیر ہمارے ساتھ نہیں ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے ذمے دار نہرو اور کانگریس ہیں۔ بھارت کے اس فیصلے کے خلاف کشمیری پوری دنیا میں سراپا احتجاج ہیں، اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت تقریبا تمام عالمی ادارے بھارتی فیصلے کی مذمّت کر چکے ہیں۔ عالمی برادری بھارت سے فیصلہ واپس لینے جا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کا کردار انتہائی مایوس کن نظر آتا ہے۔ جس جسم کی شہہ رگ کو الگ کیا جا رہا ہو اسے کیسے سکون میسر آ سکتا ہے۔ بھارتی فیصلے کے خلاف پاکستان حکومتی عہدیداروں نے سوائے بیان بازی کے کوئی عملی قدم نہیں اٹھائے۔ اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کے بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا۔ پاکستان نے بھارتی فیصلے کے خلاف عالمی عدالت میں جانے یا بھارت کو سخت پیغام دینے کی ضرورت نہ سمجھتے ہوئے اقوام متحدہ سے فی الحال رجوع کرنے کا صرف فیصلہ کیا ہے۔

کشمیریوں کے لیے زندگی موت کا مسئلہ بنا ہوا ہے لیکن بھارتی فیصلے کے بعد حکومتی پویلین کی جانب سے خاموشی ہی نظر آئی۔ کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانے کے جرم میں پہلے حافظ سعید کو گرفتار کرکے مقدمات اور جماعت کو کالعدم قرار دیا جا چکا ہے، شاید کی اسی فیصلے کے خلاف حافظ سعید کو روکنے کے لیے یہ اقدامات کیے گئے۔ او آئی سی کی کمیٹی برائے مقبوضہ جموں کشمیر کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا۔ دوسری جانب مقبوضہ وادی کی صورتحال انتہائی نازک دکھائی دے رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر بھر میں دفعہ 144 کے تحت کرفیو نافذ ہے جب کہ انٹرنیٹ اور فون سروس بھی غیر معینہ مدت کے لیے معطل ہے۔ ایک ہفتے میں 50 ہزار فوجی تعینات کرکے بھی بھارت کو سکون نہ ملا تو مزید 70 ہزار فوجی تعینات کرنے کا اعلان کر دیا۔
اس سے قبل اس چھوٹے سے خطے میں 9 لاکھ سے زائد فوج تعینات ہے۔ صرف بارڈر پر تعینات فورس ہاتھ میں ہاتھ ڈال مکمل لائن آف کنٹرول کو کور کر سکتی ہے۔ اتنی بھارتی تعداد میں فورسز کی تعیناتی کے باوجود اگر بھارت کشمیری مجاہدین کو نہیں روک سکا تو کیسے ممکن ہے کہ وہ طاقت کے بل بوتے پر کشمیریوں کو دبا سکے۔ ان شاءاللہ یہ فیصلہ بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا سبب بنے گا۔

سجا دوست (بلال شیخ)

سجا دوست (بلال شیخ)

ایک دم کوئی وزنی چیز میرے ذہن کو آ کر ٹکرائی اور میرے دماغ میں گھس گئی اور میرا ذہن بوکھلا گیا مجھے سمجھ نہ آئی یہ کیا چیز تھی مگر میرا سر بہت بھاری ہو گیا تھا۔ میں اس وزن کو اٹھائے دیوانہ ہو گیا تھا اب ہر چیز میرے سمجھ سے باہر ہوتی جا رہی تھی خیالوں کا سمندر میرے ذہن میں ٹھاٹھے مار رہا تھا۔ اپنے محل نما گھر میں بھی اس چیز کو رکھنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی۔ میری دیوانگی کو دیکھ کر گھر والے پوچھتے تجھے کیا ہو گیا ہے اور میں خاموش ان کا چہرہ دیکھتا رہتا مجھے نہیں علم تھا اس بیماری کا کیا نام ہے پتا نہیں شاید مجھے پہلے کبھی اتنا وزن محسوس ہوا ہی نہیں تھا۔ میں اس بیماری سے خوف زدہ رہنا شروع ہو گیا تھا۔ میں کھانے پر آتا تو پاگلوں کی طرح کھائے جاتا اور اگر بھوک مر جاتی تو پانی بھی حلق سے اترنے کو تیار نہ تھا پتا نہیں مجھے کیا ہو گیا تھا۔

میرے سر پر جو وزن تھا اس سے میرے کندھے گرنا شروع ہو گئے تھے۔ میری آنکھیں سب سے سوال کرتی تھی کہ مجھے کیا ہو گیا ہے مگر کسی کو میری آنکھیں پڑھنے کا فن نہیں آتا تھا۔ جب کسی کا دل کرتا تو طرح طرح کے مولویوں کے پاس لے جاتے وہ دم کرتے اور واپس بھیج دیتے مگر میرے مرض کی تشخیص نہ کر پاتے۔ سب نے مجھ سے بولنا چھوڑ دیا تھا اور میں نے سننا۔ ایک دن ڈاکٹر نے کہا آپ نمک نہیں کھائیں گے آپ کو بلڈ پریشر ہو گیا ہے اور کھانا بھی زندگی کی طرح پھیکا ہو گیا تھا۔ سب کے لیے یہ معمہ بن گیا تھا کہ مجھے کیا ہو گیا ہے۔ میں نیند کو چیخ چیخ کر پکارتا مگر وہ میری آواز کو نہیں سنتی تھی شاید وہ میرے سر کا وزن کم کرنے میں میری مدد کرنے کو تیار نہیں تھی۔ پھر مجھے دوائی دی جاتی اور میری آنکھیں خود بہ خود بند ہو جاتیں اور میرا سر ہلکا ہو جاتا اور جیسے ہی آنکھیں کھلتیں تو وہی جن میرے سر پر آ کر سوار ہو جاتا۔ میں شیشے کے سامنے جا کر کھڑا ہو جاتا، اپنے سر کی طرف دیکھتا مگر کچھ نظر نہ آتا اور مایوس ہو جاتا تھا۔

جب بھی ڈاکٹر سے ملتا مجھے ایک نصیحت کے ساتھ میری زندگی سے ایک چیز کم کر دیتا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا، ”اب آپ میٹھا نہیں کھا سکتے آپ کو شوگر ہو گئی ہے“ اور زندگی کی مٹھاس ختم ہو چکی تھی مطلب اب کھا بھی نہیں سکتا تھا۔ سب نے مجھے کمرے میں قید کر دیا تھا میں سب کو کیا کہتا مجھے کیا ہو گیا ہے کیوں کہ میں خود نہیں جانتا تھا۔ سب ہنستے تھے تو میں نہیں ہنستا تھا۔ سب روتے تھے تب میں نہیں روتا تھا کیا کرتا یہ سر کا بوجھ ہلکا ہوتا تو کچھ کرتا۔ دل چاہتا کوئی مجھے آ کر کہے اپنا بوجھ مجھے دے دو اور جاو تم آزادی سے جیو۔ میں کمزور ہو گیا تھا میری آنکھیں تھی مگر نظر نہیں آتا تھا، زبان تھی بولتی نہیں تھی، دل تھا مگر دھڑکتا نہیں تھا اور دماغ تھا جو صرف سوچوں میں گم تھا۔

سب کے درمیان باتیں ہونے لگی میری حالت ٹھیک نہیں ڈاکٹر بھی میرا چہرہ دیکھتے تو منہ بنا لیتے تھے۔ میں سمجھ گیا کہ میرا انتظار کا وقت شروع ہو گیا ہے اور میں کمرے میں اندھیرا کر کے لیٹ جاتا تھا اور روز انتظار کرتا تھا کہ اب کب آئے گا اور مجھے لے جائے گا اور اس قید سے آزادی مل جائے گی کئی دن اس انتظار میں گزر گئے مگر کوئی نہ لینے آیا اور میری آزادی کی تڑپ بڑھ گئی تھی۔ ایک دن دھڑام سے دروازہ کھلا اور میں سمجھا آ گیا مجھے لینے میں جا رہا ہوں اس بوجھ سے میری جان چھوٹ جائے گی مگر وہ نہیں تھا جس کا میں انتظار کر رہا تھا۔ باہر سی آتی روشنی میں ایک جانا پہچانا سا چہرہ نظر آ رہا تھا وہ کوئی اور نہیں میرے بچپن کا دوست تھا۔

اس کا چمکتا چہرہ اس کی آنکھیں میری آنکھوں کو دیکھ رہی تھیں۔ وہ مجھے اٹھا کر اپنے ساتھ باغ میں لے گیا۔ میں نے اس سے کچھ نہیں کہا میں نے اس کے چہرے کو دیکھا اور وہ میرے سوال کو جان گیا اور بولا، ”بادشاہو تم کمائے کمائے کھو بیٹھے ہو، بھول گئے بچپن میں سائیکل پر گھومتے گر جاتے تھے تو اٹھ کر کپڑے جھاڑ لیا کرتے تھے اور پھر سائیکل چلانے لگ جاتے تھے مگر تونے زندگی کی سائیکل سے گر کر جھاڑنا چھوڑ دیا ہے۔ بادشاہو جب جھاڑنا چھوڑ دو تو گرد جسم کو لگ جاتی ہے اور پھر وہ جسم کا حصہ بن جاتی ہے پھر وہ کسی صابن سے اتنی آسانی سے صاف نہیں ہوتی۔ دوسروں کے لیے جیتے جیتے اپنے لے جینا چھوڑ دیا ہے۔ تیرے اندر وفاوں کے بدلے وفاوں کا بھوت سوار ہے۔ جانی تجھے ڈپریشن ہو گیا ہے“۔ اس نے بتایا کہ میں ڈپریشن کا شکار ہوں وہی بتا سکتا تھا مجھے کیوں کہ اس نے ہی تنہائی میں میرے دل کو اندر سے جھانک کر دیکھا تھا۔ ”جانی چل میرے ساتھ میں تجھے بتاتا ہوں اس وزن کو کیسے اتارنا ہے“ اور پھر میں اس کے ساتھ واپس بچپن میں چلا گیا۔ میں نے وصیت لکھ دی میری قبر میرے دوست کے ساتھ بنانا ہو سکے تو ایک ہی قبر میں دفنانا۔ سچے دوست کی صحبت کبھی بڑھا نہیں ہونے دیتی۔

اے امتِ مسلمہ جاگ ذرا (فاطمہ خان)

اے امتِ مسلمہ جاگ ذرا (فاطمہ خان)

اے امتِ مسلمہ جاگ ذرا
اب وقت کٹھن آ پہنچا ہے
تنہا ہے وطن اب جاگ ذرا
ماضی میں پل بھر جھانک ذرا
بھائی جو بے گناہ مارے تھے
وہ ماوں کے تڑپتے لاشے تھے
عصمت دری کے ہزار قصے تھے
ننھی کلیوں کی پتیاں چن ذرا
قربانی تو سنتِ انبیاءتھی
وہ بس جذبے کی سچائی تھی
نبی کی محبت کی قربانی تھی
تو جا اسلام کا کر پرچار ذرا
کشمیر تو میری شہ رگ ہے
میرے پرچم کا ہرا رنگ ہے
اسلام کی یہ نئی امنگ ہے
اس امنگ کو تو سنبھال ذرا
تو بت کفرکے توڑ دے
دریاوں کے رخ موڑ دے
باتوں کو اب تو چھوڑ دے
اب تو دشمن کو للکار ذرا
یہ عید، آزادی، جشن منانا نہیں
کشمیر میں آگ برسانا نہیں
روح کو کفر کا قیدی بنانا نہیں
عَلم آزادی کا وہاں لہرانا ذرا
اے امتِ مسلمہ جاگ ذرا
اسلام کا پرچم اب تھام ذرا
کفر کو دے دے تو لگام ذرا
الہی!کشمیر کو لکھ آزاد ذرا

آئیے قربانی کیجیے (میمونہ رحمت)

آئیے قربانی کیجیے (میمونہ رحمت)

جانور خرید کر اس کا لہو بہانے کے بجائے اتنی رقم غریبوں اور مسکینوں میں بانٹ دینی چاہیے۔ الفاظ ایسے تھے کہ میں لرز کر رہ گیا۔ میں اخبار کا مطالعہ کر رہا تھا جب ایک نامور لکھاری کے قربانی کے بارے میں لکھے گئے الفاظ پڑھ کر حیران رہ گیا۔ سوچ کا دھارا بہنے لگا اور میں آج سے کئی ہزار برس پہلے سرزمینِ عرب کی سیر کرنے لگا۔ کیا دیکھتا ہوں ایک شفیق باپ اپنے بیٹے سے کہہ رہا ہے، ”اے پیارے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، بتا تیری کیا رائے ہے؟“ (سورة الصفٰت)جب باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں اور بیٹا حضرت اسماعیل علیہ السلام ہوں تو ان سے فرمانبرداری اور رب کی اطاعت کے علاوہ کیا امید کی جا سکتی ہے تو انہوں نے کہا، ”ابا جان! آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالیے، آپ ان شاءاللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے“۔ (سورة الصفٰت)

پھر آسمان نے وہ رقت آمیز منظر دیکھا کہ اطاعت خداوندی میں باپ نے آنکھیں بند کر کے چھری حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر پھیر دی۔ آنکھیں کھولیں تو بیٹا کھڑا مسکرا رہا تھا اور مینڈھا ذبح ہوا پڑا ہے پتا چلا کہ یہ تو آزمائش تھی اور وہ اس آزمائش میں پورا اترے مینڈھا کا ذبح ہونا اسی بات کی علامت تھا۔ اللہ تعالٰی کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ فرمانبرداری کی ادا اس قدر پسند آئی کہ قیامت تک کے آنے والے ہر صاحب استطاعت مسلمان کے لیے واجب قرار کر دی گئی۔

یہی تو فلسفہ قربانی ہے کہ اللہ کے حکم کی تعمیل میں کوئی دلیل نہیں چاہیے ہوتی۔ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے کہ ”یوم النحر یعنی (دس ذی الحجہ) قربانی کے دن بندے کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک قربانی سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور قربانی کا جانورقیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے نزدیک قبولیت کے درجے کو پہنچ جاتا ہے پس چاہیے کہ قربانی بہت خوشدلی سے دیا کرو“ (ترغیب)

سورةالحج میں اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے، ”اللہ کو نہ ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون لیکن اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے“۔ بہت سے گھرانوں کو سال بعد عیدالاضحٰی کے موقع پر ہی گوشت کھانا نصیب ہوتا ہے۔ اس لیے کوشش کیجیے ہر صاحب نصاب اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کی راہ میں خلوص نیت سے قربانی کرے اور قربانی کے تین حصے کیجیے یعنی ایک حصہ مستحقین، دوسرا عزیز و اقارب اور تیسرا حصہ اپنے لیے رکھیے۔ اگر ہر فرد اس طرح کرے تو عیدالاضحیٰ کے موقعے پر کسی گھر میں چولہے پر دال نہیں پک رہی ہوگی اور تمام چہروں پر مسکراہٹ ہوگی۔