دنیا کے منصفو! (انیلہ افضال)

دنیا کے منصفو! (انیلہ افضال)

دنیا کے منصفو! سلامتی کے ضامنو
کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے لہو کا شور سنو

اللہ اللہ! یہی دیکھنا باقی رہ گیا تھا کہ امت مسلمہ اپنی بقا کے لیے اغیار پر تکیہ کیے ہو ہے ہے۔ پون صدی ہونے کو آئی! کسی نے کشمیر کی وادی میں بہتے ہوئے لہو کا شور نہیں سنا۔ پہلے تو چلو میڈیا اتنا طاقتور نہیں تھا یا رسائی اتنی آسان نہ تھی مگر اب! آج کے اس سوشل میڈیا کے دور میں جہاں کوئی پھسل جائے تو بھی ساری دنیا کو خبر ہو جاتی ہے۔ تو کیا کشمیر میں جو ہو رہا ہے نہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ، جو کیا جا رہا ہے، دنیا اس سے بے خبر ہے؟ آج انٹر نیٹ کے اس دور میں آپ ایک ننھی منی سی ایپ بھی ڈاو¿ن لوڈ کرتے ہیں تو اس کے ٹرم اینڈ کنڈیشن میں واضح طور پر آپ سے آپ کے ڈیٹا تک رسائی طلب کی جاتی ہے۔ مطلب دنیا بھر سے آپ پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ آپ کی کالز اور میسجز کو مانیٹر کیا جاتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دنیا کشمیر کے حالات سے بے خبر ہے۔ اس لیے ”دنیا کے منصفوں“ سے امید مت لگائیں اور ہمارا شکوہ دنیا سے تو ہے بھی نہیں۔ ہمارا گلہ تو اپنوں سے ہے۔

دنیا تو غیر ہے، ہماری سنی کو ان سنا کرے گی ہی مگر کیا امت بھی بہری ہو گئی ہے؟ امت کیوں خاموش ہے؟ امت مسلمہ اس روئے زمین پر موجود آبادی کا ایک بڑا حصہ ہے مگر ہر جگہ رذیل! ہر پلیٹ فارم پر خوار! مقام حیرت تو یہ ہے کہ برطانیہ یا فرانس میں کوئی حادثہ ہو جائے تو سوشل میڈیا پر ڈی پیاں لگا دی جاتی ہیں۔ اور مسلم امہ کے لیے ”یا اللہ رحم!“ کے ایک کمنٹ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ کیوں کہ ہم نے طاقتور کے سامنے جھکنے کو سکون و نجات کو ذریعہ سمجھ لیا ہے۔ میرا پیٹ بھرا ہوا ہے تو مجھے کسی بھوک سے بلکتے آنتوں کی پرواہ کیوں ہو گی۔ میرا گلہ دنیا سے یا اقوام متحدہ سے نہیں، اس خاموش امت سے ہے۔ یاد رکھیں! اب بھی نہ بولے تو دلی زیادہ دور نہیں۔ آج ان کی تو کل ہماری باری ہے۔ بھیڑیے کے منہ کو خون لگ چکا ہے اور مسلم خون تو خوشبو دار ہوتا ہے۔ اس میں سے، کمزور ہی سہی، ایمان کی مہک آتی ہے جو اس بھیڑیے کو بہت بھاتی ہے۔

کشمیر ہی کیوں! غزہ، فلسطین، برما اور ہندوستان، ہر جگہ مسلمان بیٹیاں محمد بن قاسم کو پکار رہی ہیں، عمر کو صدائیں دے رہی ہیں، طارق بن زیاد کی راہیں تک رہی ہیں مگر وہ اب نہیں آئیں گے کیونکہ اب ماو¿ں نے محمد بن قاسم، صلاح الدین ایوبی اور نور الدین زنگی پیدا کرنے چھوڑ دیے ہیں۔ جب مائیں اپنے بچوں کو صدیق کی صداقت، بلال و اویس کی محبت، عثمان کی سخاوت اور حیا، علی اور عمر کی دلیری اور انصاف کی بجائے سپائیڈر مین کی کہانیاں سنائیں گی تو ایسی ہی قوم تیار ہو گی جیسے آج ہم ہیں۔ بریان وانی کا نام تو سب نے سن رکھا ہے۔ کون تھا وہ؟ ایک کشمیری مجاہد! جیسے بھارتی فوج نے شہید کر دیا مگر وہاں تو روز ہی شہریوں کو اور مجاہدوں کو شہید کیا جارہا ہے تو پھر برہان وانی! چہ معنی وارد؟ وہ ایک پڑھا لکھا نوجوان تھا۔ وہ کوئی گولی بندوق لے کر بھارتی افواج پر حملہ آور نہیں ہوا تھا۔ وہ تو ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ تھا۔ دنیا کو کشمیر کی سچائی دکھا رہا تھا بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر رہا تھا۔ کشمیریوں میں نیا جوش اور ولولہ پیدا کر رہا تھا۔ بس! شہید کر دیا گیا مگر اس کا لہو جہاں جہاں گرا وہیں
وہیں سے ایک برہان وانی پیدا ہوا۔

میں جانتا ہوں دشمن بھی کم نہیں ہے
لیکن ہماری طرح ہتھیلی پہ جان تھوڑی ہے

اب دیکھیں وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے انٹر نیٹ سروس بند کر دی گئی ہے۔ ہندوستان نے اپنے آئین سے آرٹیکل 370 ختم کر کے کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے دیا ہے۔ اس کے بعد پورے بھارت سے بھارتی شہریوں کو کشمیر کی سرزمین پر رہائش اختیار کرنے کا حق حاصل ہو گیا ہے۔ اب سکون سے پورے بھارت سے ہندوو¿ں کو کشمیر میں بسایا جائے گا اور مسلم آبادی کو مسلم اقلیت میں بدل دیا جائے گا تاکہ کل کلاں کو اگر کسی وجہ سے استصواب رائے کرانا بھی پڑے تو ہندو اکثریت بھارت کے حق میں فیصلہ کرے۔ آہ! آج اقوام عالم اس بات کی گواہ ہیں کہ شہہ رگ کٹ جانے کے باوجود ایک قوم نہ صرف زندہ ہے بلکہ کچھ ہی دنوں میں 14 اگست پر گاڑی پر پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے انڈین گانے بھی سنے گی۔ باقی رہ گئے ہم! ہم کچھ نہیں کریں گے، ہم کچھ نہیں کر سکتے. آئیے! ڈی پیاں بدلتے ہیں۔

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

کے الیکٹرک کا ظلم کب تک سہنا ہوگا؟ (عنایت کابلگرامی)

کے الیکٹرک کا ظلم کب تک سہنا ہوگا؟ (عنایت کابلگرامی)

دنیا ترقی پر ترقی کرتی جارہی ہے اور ہم آج بھی زوال کی جانب گامزن ہیں۔ دنیا بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور آنکھ مچولی مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے مگر ہمارے ہاں روز بروز بڑھتی جارہی ہیں۔ ہم جس شہر میں رہتے ہیں اس کو پاکستان کا معاشی حب کہاجاتا ہے، اس کے ساتھ غریب و کمزور طبقے کے لیے ماں کا درجہ بھی رکھتا ہے شہر کراچی۔ کراچی ایک عالمی شہر ہے، دو کروڑ سے زائد آبادی ہے اس کی۔ پاکستان کے خزانے کو سب سے زیادہ نفع بھی کراچی سے ہی جاتا ہے لیکن گزشتہ دو دھائی سے کراچی کے ساتھ مختلف طور طریقوں سے زیادتی کی جارہی ہیں۔ ان ہی زیادتیوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نمایاں ہے۔

بجلی جو اب صرف روشنی و ہوا کے لیے استعمال نہیں ہوتی بلکہ روز مرہ زندگی کے کئی شعبہ جات ایسے ہیں جو بجلی کے بغیر اب نہیں چل سکتے۔ موبائل جو زندگی کا ایک اہم ستون بن گیا ہے وہ بھی بجلی سے چارج ہوتا ہے، فیکٹری میں کام پر جاو لائٹ نہیں ہے، دیہاڑی نہیں لگتی اور جب دیہاڑی نہ لگے تو ایک روز مرہ دیہاڑی والے شخص کے گھر میں فاقوں کی نوبت آتی ہے۔ کراچی کے باسی جن کی اکثریت ملک دیگر شہروں سے رزق حلال کمانے کے لیے شہر کراچی میں آباد ہوئے گزشتہ 2 دھائی سے کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی نجی کمپنیوں کی وجہ سے دہرے عذاب میں مبتلا ہیں۔ پہلے (کے ای ایس سی) کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن اور اب کے الیکٹرک والے کراچی کے عوام کا خون چوس رہی ہے۔

بجلی کی اہمیت و ضرورت سے یوں تو ملک کے کسی بھی علاقے کو علیحدہ نہیں کیا جاسکتا لیکن کراچی جیسے شہر کا معاملہ ان سب سے مختلف ہے۔ کراچی کی ترقی یا پسماندگی کا تعلق پورے ملک سے ہے کیوں کہ یہ پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی و تجارتی شہر ہے۔ قومی محاصل میں سب سے زیادہ حصہ لینے کے علاوہ شہر کی بندرگاہ اور ائیرپورٹ دنیا کی مصروف ترین آمدو رفت اور سامان کے نقل و حمل کا مرکز ہیں۔ ملک کے دیگر شہروں کی طرح بجلی یہاں کی بھی اشد ضرورت ہے۔

کراچی کے بزرگ شہریوں کو یہ اچھی طرح یاد ہوگا کہ ایک زمانہ ایسا بھی تھا کہ کراچی میں ایک لمحے کے لیے بھی بجلی نہیں جاتی تھی اور اگر کوئی فنی خرابی بھی آجاتی تو کچھ گھنٹوں میں ہی اس خرابی کو دور کردیا جاتاتھا اور بجلی کی سپلائی بحال رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی تھی۔ اس کے ساتھ اوور بلنگ کا تو سرے سے نام و نشان تک نہیں تھا، جس کو وجہ سے بجلی چوری بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ پھر اچانک نوئے کی دھائی میں کراچی کے شہریوں کو بجلی فراہم کرنے کی ذمے داری ایک نجی کمپنی کے ای ایس سی کو دیدی گئی، وہی سے شروع ہوا کراچی کے عوام کے ساتھ ظلم۔

ابتدا میں کچھ عرصہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن صحیح چلنے کے بعد آہستہ آہستہ لوڈ شیڈنگ شروع ہوئی ساتھ ہی ساتھ فنی خرابیاں اور آگے چل کر اوور بلنگ بھی شروع کردی گئی، 2009ئ میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن پرانے کرتا دھرتاوں نے کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کو متحدہ عرب امارت کے ایک نجی گروپ (ابراج گروپ) کو فروخت کردی۔ جس کے ساتھ حکومت پاکستان کے بھی کچھ معاہدے ہوئے جس میں ایک معاہدہ یہ بھی تھا کہ اوور بلنگ ختم ہوگی اور جلد ہی لوڈشیڈنگ پر قابو پانا ہوگا۔ ابراج گروپ نے شروع شروع میں اسی پرانے نام کے ساتھ بجلی کی فراہمی جاری رکھی کچھ عرسے کے بعد نام تبدیل کرکے کراچی الیکٹرک رکھ دیا گیا۔

جب سے کراچی کی بجلی نجی کمپنیوں کے حوالے ہوئی تب سے عوام کو دہرے عذاب میںمبتلا کیا ہوا ہے۔ ایک طرف لوڈ شیڈنگ تو دوسری طرف اوور بلنگ نے شہریوں کا جینا حرام کیا ہوا ہے۔ 3 سال قبل کراچی الیکٹرک کو چائنا کے ایک نجی گروپ (شنگھائی گروپ) کو دینے کا اعلان ہوا جس کے لیے کراچی میں لگے تمام پرانے تانبے کے تاروں کی جگہ نئے تانبے کے کیبل لگانے کے معاہدے ہوئے۔ ساتھ ہی پرانے میٹر کی جگہ نئے ڈیجیٹل میٹر لگانے کا اعلان ہوا، جس کے بعد ایک نہ ختم ہونے والی کرپشن کی لہر نے جنم لیا جو تاحال جاری ہے۔ شنگھائی گروپ کو کراچی الیکٹرک میں حصہ تو نہیں ملا مگر موجودہ کراچی الیکٹرک کے کرتا دھرتاوں کو کرپشن کا نیا فارمولا ضرورملا۔ کراچی الیکٹرک کے کرپشن پر نظر ڈالتے ہے کس طرح وہ کراچی کے باسیوں کی کمائی کو ہڑپ کرنے میں مصروف ہے۔

نئے میٹرز پورانے میٹرز سے تیس فیصد تیز چلتے ہیں جو مختلف لوگوں مختلف اوقات میں ثابت کیے ہے۔ ساتھ ہی کراچی الیکٹرک کا عملہ بھی آف دی ریکارڈ اقرار کرتا ہے۔
جب بل تیار کیا جاتا ہے تو اگر کسی صارف کے 280 یونٹ چلے ہوں تو اسے یہ لوگ 301 یونٹ کردیتے ہیں کیوں کے 3 سو تک یونٹ دس روپے کا اور اس سے ایک یونٹ بھی بڑھ جائے تو 15 روپے پر یونٹ پڑتا ہے جس کے بعد بل جو 280 یونٹ کا 2800 آنا ہوتا ہے وہ 301یونٹ کا ساڑھے 4 ہزار سے بھی زیادہ آجاتا ہے۔ اگر کوئی شکایت بھی کرنا چاہے تو بھی نہیں کرپائے کیوں کہ میٹر چیک کرنے کے 15 دن بعد بل آتے ہیںاور کسی کی پاس اتنا وقت نہیں کہ انتظار کریں کہ کب میٹر چیک ہو تاکہ ہم بھی ریڈنگ لے سکیں۔ اگر کوئی یہ سب بھی کرتا ہے تو اس کو مختلف اقسام کی دھمکیاں لگائی جاتی ہیں۔

کے الیکٹرک پابند ہے کہ صارف کو 220 وولٹ بجلی فراہم کرے۔ کے الیکٹرک اس بات کی بھی پابند ہے کہ وہ صارفین کو فلٹر ہوئی بجلی فراہم کرے جو نقصانات سے بچاتی ہے مگرہوتا برعکس ہی ہے۔ کراچی کے شہریوں کو کبھی 220 وولٹ فراہم نہیں کیاجاتا، نہ ہی فلٹر کی ہوئی بجلی فراہم کی جاتی ہے جس کا نقصان صارفین کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جب وولٹج دو سو بیس وولٹ سے کم آتے ہیں تو اس کے ”امپیئر“ بڑھ جاتے ہیں، جب امپیئر بڑھ جاتے ہیں واٹ زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ اگر وولٹ دو سو بیس ہو، ہمارا لوڈ ایک ہزار واٹ ہو اور مسلسل ایک گھنٹے بجلی چلے تو ایک یونٹ بنتا ہے، اسی طرح اگر وولٹ 180 ہو ہمارا لوڈ ایک ہزار واٹ ہو اور ایک گھنٹہ مسلسل چلے توڈیڑھ یونٹ بنتا ہے یعنی پانچ سو واٹ بجلی زیادہ استعمال ہوئی۔ اس مسئلے کی سمجھ کے لیے بجلی کا کاریگر ہونا شرط ہے۔

چوتھی کرپشن کے الیکٹرک نے یہ شروع کی ہے کہ پورے شہر سے تانبے کے تار اتار کر سلور وائر ڈال رہی ہے۔ نئے میٹر کے لیے جو صارفین ڈیمانڈ نوٹ کے ساتھ پیسے بینک میں جمع کراتے ہیں۔ اس میں صارفین سے مین لائن سے میٹر تک آنے والی جو تار استعمال ہونی ہے اس کے پیسے لیے جاتے ہیں اور وہ پیسے تانبے کے تار کے لیے جاتے ہیں مگر لگایا سلور وائر جاتا ہے اور اگر میٹر تبدیل کرنے آتے ہیں تو صرف میٹر تبدیل نہیں کرتے بلکہ جو تانبے کا تار ڈالا ہوا ہوتا ہے اس کو بھی سلور وائر سے تبدیل کردیتے ہیں۔ جب کہ اس تانبے کے تار کے پیسے پہلے ہی صارف سے لیے جاچکے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی راستے ہے ان کے پاس کرپشن کے۔ آئے روز مختلف اخبارات وٹی وی چینلز کراچی الیکٹرک کے کرپشن پر اسٹوریاں منظر عام پر آتی ہیں۔

باجود تمام کرپشن کے جو الیکٹرونک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جو کراچی الیکٹرک کررہی ہے حکومت اور کرپشن کو پکڑنے والے ادارے خاموش ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔ اس خاموشی سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان اداروں کو بھی حصہ ملتا ہوگا اس کرپشن سے۔ کراچی کے باسی حکومت سے یہ سوال کرہے ہیں کہ ہمیں ”کب تک کے الیکٹرک کا ظلم وکرپشن سہنا پڑے گا؟“

الحمدللہ کہنے کی فضیلت (ام محمد عبداللہ)

الحمدللہ کہنے کی فضیلت (ام محمد عبداللہ)

دادا جی دادا جی! کاشف جوش سے بھاگتا سارے گھر میں دادا جان کو آوازیں دے رہا تھا۔ ”کیا ہوا کاشف میاں؟“ دادا جان ڈرائنگ روم میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ اب اخبار ایک طرف رکھ کر کاشف کی طرف متوجہ ہوئے۔ ”دادا جان آپ کا بڑا مسئلہ حل ہوگیا“، جوش کے مارے کاشف کا سانس پھولا ہوا تھا۔ ”وہ کیا بھلا؟“ دادا جان حیران ہوئے۔ ”وہ کل آپ بابا جانی سے کہہ رہے تھے ناں کہ روز قیامت میرے پاس کیا ہوگا؟ میری میزان کہیں خالی نہ ہو؟ اگر ایسا ہوا تو کیا ہوگا؟ اور آپ رو بھی پڑے تھے“، کاشف دکھی ہوا۔ ”دادا جان پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہماری ٹیچر نے آج ہمیں بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں، الحمد للہ میزان کو بھر دیتا ہے۔ بس اب آپ جلدی سے کہہ دیں الحمد للہ تاکے آپ کا میزان بھر جائے“، کاشف نے جلدی جلدی حدیث سنا کر گہرا سانس لیا۔

الحمد للہ، الحمد للہ، الحمد للہ میرا پوتا تو بہت ہونہار ہے، دادا جان کاشف کی بات سن کربہت خوش ہوئے تھے۔ ”ایک بات اور دادا جان یہ جومیزان ہے ناں اس کے دو پلڑے ہوں گے، اگر ان میں سے ایک پلڑے میں آسمان و زمین اور ان میں جو مخلوقات ہیں، ان سب کو رکھ دیا جائے، تو وہ ان کو اپنے اندر سمالے، الحمد للہ کہنے سے یہ سارا بھر گیا اب ہم جنت میں جائیں گے“، کاشف خوشی سے دادا جان سے لپٹ گیا۔

ارے دادا پوتا کس بات پر خوش ہو رہے ہیں، کاشف کے ابا کمرے میں داخل ہوئے۔ ”ابا جان ہمیں حدیث معلوم ہوئی ہے کہ الحمد للہ کہنے سے میزان بھر جاتا ہے بس اسی بات پر خوش ہو رہے ہیں کاشف نے خوشی خوشی ابا کو بتایا“۔”یہ تو بہت اچھی بات ہے ابا جان بھی سن کر بہت خوش ہوئے اور صوفے پر بیٹھتے ہوئے کاشف سے پوچھنے لگے کیا تمہیں معلوم ہے الحمد للہ کے کیا معنی ہیں؟“ ”جی نہیں“، کاشف نے منہ لٹکایا اسی دوران سائرہ چائے لے کر کمرے میں داخل ہوئی تو خوشی سے بولی، ”بابا جانی مجھے معلوم ہے کہ الحمد للہ کے کیا معنی ہیں کیا میں بتاو¿ں؟“ ”جی بالکل“، اباجان سائرہ کی طرف متوجہ ہوئے الحمد للہ کے معنی ہیں سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“۔ ”اس کے علاوہ الحمداللہ کے ایک معنی اور بھی ہیں“، سلمان جو ابھی کمرے میں داخل ہوا تھا گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہنے لگا، ”الحمدللہ کے معنی ہیں تمام شکر اللہ کے لیے ہے“۔ ”شاباش بچو! دادا جان نے خوش ہو کر بچوں کو شاباش دی“۔

تمام تعریف اللہ کے لیے ہے لیکن ہم توسارا دن مختلف لوگوں اور چیزوں کی تعریف کرتے ہیں۔ بات کچھ سمجھ نہیں آئی، کرن کچھ سوچتے ہوئے بولی۔ ”دیکھو کرن بیٹا! جب ہم کہتے ہیں کہ یہ پرندہ، پھول یا منظر بہت خوبصورت ہے۔ یہ انسان بہت حسین، ذہین یا قابل ہے تو غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ان سب کا خالق کون ہے۔ اس حسن، اس ذہانت کو تخلیق کس نے کیا؟“ ”اللہ تعالی نے“ کاشف نے جلدی سے جواب دیا۔ ”بس توپھر سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے“۔ ”یعنی ہمیں اور اس کائنات کو عطا کردہ ہر خوبی ہر خوبصورتی اللہ تعالی کی تخلیق کردہ اور ودیعت کردہ ہے۔ ہمیں ان خوبیوں اور خوبصورتیوں پر غرور نہیں کرنا بلکہ الحمدللہ کہنا ہے“، سلمان نے بات سمجھتے ہوئے دادا جان کی تائید چاہی۔ ”جی بالکل“، دادا جان نے محبت سے جواب دیا۔

سب شکر اللہ کے لیے ہے۔ اس کا مطلب کون بتائے گا؟ دادا جان نے پوچھا۔ ”بابا جانی“، کرن نے ہنس کر بابا جانی کی طرف اشارہ کیا۔ ”پیارے بچو! اگر کوئی ہم پر احسان کرے ہمیں کوئی نعمت دے تو ہم پر اس کا شکر واجب ہو جاتا ہے۔ ہم پر سب سے بڑھ کر احسان تو اللہ تعالی کا ہے کہ اس نے ہمیں پیدا کیا۔ ہمیں ان گنت نعمتیں عطا کیں۔ تو ہمیں اللہ کاشکر ادا کرنا ہے۔ شکر کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ نعمت کو نعمت دینے والے کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا“، بابا جانی نے بات کو آگے بڑھایا۔ جیسے اللہ نے زبان کی نعمت دی تو اس کا شکر یہ ہے کہ اس سے ہم اچھی بات کہیں اوربری بات نہ کہیں۔ اگر ہم زبان کی نعمت پر زبانی تو الحمدللہ کہیں اور جب بولیں تو جھوٹ بھی بولیں گالی بھی دیں اور چغلی بھی کھائیں تو یہ شکر نہیں بلکہ ناشکری ہو گی۔

اچھا بچو! یہ بتاو ہمارے پاس اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت کونسی ہے؟ دادا جان نے پوچھا۔ ”میرے خیال میں آنکھیں“، کرن نے کہا ”اور میرے خیال میں دماغ“ سائرہ سوچتے ہوئے بولی۔ کاشف کہنے لگا، ”میرے خیال میں تو امی ابو اور ہمارا یہ پیارا سا گھر“۔ ”دادا جان میں بتاو¿ں ہمارے پاس سب سے بڑی نعمت کونسی ہے“، سلمان کچھ سوچتے ہوئے کہنے لگا۔ ”کہو سلمان بیٹے“۔ ”دادا جان ہمارے پاس سب سے بڑی نعمت اسلام کی ہے اللہ تعالی نے ہمیں انسان بنا کر بہترین ساخت پر پیدا کیا پھر اس نے ہمیں دین اسلام عطا کر کے اعلی ارفع کردار اپنانے کی نعمت عطا کی“۔ ”شاباش سلمان بیٹے تم نے بہت اچھی بات کہی“، دادا جان خوش ہو کر بولے، ”لیکن یہ تو بتاو¿ اس نعمت کا شکر ہم کیسے ادا کریں گے؟“ بابا جان نے پوچھا۔

میرے خیال میں اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ ہم دین اسلام کو سمجھیں اور اس پر عمل کی کوشش کریں بندر بن کر غیر اقوام کی نقل نہ اتاریں بلکہ خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی کو ذہن میں رکھتے ہوئے دین اسلام کو سمجھیں اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں صحابہ کرامؓ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہواوں کے رخ موڑ دیں۔”اپنے زور بازو سے اپنے آپ کو اور اپنے معاشرے کو اس پیارے وطن کو اور اس پوری دنیا کو اللہ تبارک و تعالی کی شریعت کے تابع کریں یہ ہے ہمارے شکر کی عملی صورت“، سلمان جو اسلامی تاریخی کتابیں پڑھنے کا شوقین تھا جوش سے بولا۔

شاباش بچو! آپ لوگوں نے الحمدللہ رب العالمین کو بہت اچھا سمجھا میری دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کو اپنے شکر گزار بندوں میں شامل فرمائے اور روزِ قیامت ہم سب لوگوں کا میزان الحمدللہ کی برکت سے بھرا ہوا ہو۔ آمین ثم آمین سب بچوں نے مل کر کہا۔