عدم مطالعے کا رجحان و کراچی کتب میلہ (انشال راو)

عدم مطالعے کا رجحان و کراچی کتب میلہ (انشال راو)

کتاب حصول علم، ترسیل علیم اور فروغ علم کا ذریعہ ہے۔ اسے مردوں کی زبان اور زندوں کی آواز کا درجہ حاصل ہے۔ کتاب بیک وقت وفادار ساتھی، استاد اور ایک مفید غمگسار دوست ہے۔ اکیسویں صدی میں جہاں الیکٹرانک میڈیا نے بہت ترقی کی ہے تو وہیں اِی۔بک کی صورت میں دنیا جہان کی کتب تک رسائی بھی آسان ہوگئی ہے۔ اس کے باوجود مطبوعہ کتب کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے۔

کتب بینی علم میں اضافے اور پریشانیوں یا مسائل سے چھٹکارے کا بہترین نسخہ ہے جو انسان کو تنہائی یا اکتاہٹ کا شکار ہونے سے بھی بچائے رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ مطالعے کے بے شمار فوائد ہیں، جن میں معاملہ فہمی، فصاحت و بلاغت، خیالات میں پاکیزگی کے ساتھ ساتھ مطالعہ کرنے والے کے حافظہ و یادداشت میں بھی وسعت پیدا ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مطالعے کی عادت انسان کے وقت کو قیمتی بناکر وقت کے ضیاع سے بچاتی ہے۔ آسمان اور زمین کے درمیان مہر و ماہ، کواکب و سیارات، شفق، قوس قزح، ابر و باد، کوہ و صحرا، سمندر، دریاوں، وادیوں اور میدانوں نے ایسے خطوط کھینچے ہیں جن میں فکر کرنے والی نگاہ اپنے لیے بہت کچھ حاصل کرلیتی ہے۔

قوموں کی تاریخ ہو یا مختلف انواع و اقسام کے علوم ان سب کے لیے مطالعہ ہی اہم ترین ماخذ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں مطالعے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے بچپن سے ہی مطالعے کا شوق و عادت پیدا کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ یورپ میں دوران سفر بھی لوگ کتاب ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں مطالعے کی عادت و ذوق کی صورتحال مایوس کن ہے۔ 23 اپریل 2019 کو دنیا بھر میں مطالعے کا عالمی دن منایا جاتا ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ سوائے چند ایک کے پاکستان میں لوگوں کو یہ تک معلوم نہیں کہ مطالعے کا عالمی دن بھی ہوتا ہے۔

حالیہ گیلپ اور گیلانی رسرچ فاونڈیشن سروے کے مطابق پاکستان میں ہر چار میں سے تین افراد مطالعے کے پاس سے بھی نہیں گزرتے یعنی ہماری 75 فیصد آبادی مطالعہ نہیں کرتی۔ صرف 9 فیصد لوگ مطالعہ کرنے کا شوق رکھتے ہیں جن میں سے اکثریت بمشکل ایک گھنٹہ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں شعور و آگہی کا فقدان ہے اور شدت پسندی کی جڑیں بہت گہری ہیں خواہ وہ لسانی ہو یا علاقائی، گروہی ہو یا مذہبی شدت پسندی۔ یہ ہمارے معاشرے کا اہم جُز بن کر رہ گئی ہے لیکن المیہ تو یہ ہے کہ سرکاری سطح پر کبھی بھی اس کے لیے کوئی خاطرخواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے اور یہ اہم پہلو عدم توجہی کا شکار رہا۔ مطالعے کا شوق و عادت نہ ہونے کی کئی وجوہات ہیں جن میں مقامی زبان میں معیاری کتب کا فقدان، کتب کی عدم ترسیل، عوام کی قوت خرید کا نہ ہونا، مہنگائی، لائبریریوں کا فقدان، اسکول و کالج کی سطح پر لائبریریوں پر عدم توجہی اور سب سے بڑھ کر یہ پرائمری و مڈل لیول پر بچے کو مطالعے کی عادت نہیں ڈالی جاتی۔ جس کی وجہ سے مطالعے کرنے والوں کی تعداد میں آہستہ آہستہ کمی واقع ہورہی ہے۔

اس ضمن میں سندھ کے وزیر تعلیم سردار شاہ کی کوشش قابل تحسین ہے کہ وہ اپنی نئی بھرتی کردہ ٹیم کی حوصلہ افزائی کررہے جس کی بدولت نئے بھرتی آئی بی اے ہیڈ ماسٹرز نے پرائمری اسکولوں کی سطح پر لائبریریز متعارف کروا کر بچوں کے لیے مطالعے کے اوقات نافذ کیے۔ یہ کوشش یقیناً مستقبل میں ضرور کار آمد ثابت ہوگی امید ہے کہ حکومت پاکستان و چاروں صوبائی حکومتیں پرائمری لیول پر مطالعے کی عادت کو یقینی بنانے کے اقدامات کریں گی۔ مطالعے کو شوق کو بڑھانے اور معاشرے کی ترقی میں حصہ ڈالتے ہوئے لاہور کے کامیاب کتب میلے کے بعد اب بگ بیڈوولف بک سیل کی جانب سے کراچی میں 26 جولائی تا 5 اگست تک گیارہ روزہ عالمی کتب میلے کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں 50 سے 90 فیصد تک قیمت میں ڈسکاونٹ رکھا گیا ہے جوکہ مطالعہ کرنے والوں کے ذوق اور مطالعے کی طرف رجحان میں اضافے کا باعث
ثابت ہوگا۔

حکومت پاکستان و چاروں صوبائی حکومتوں کو اس قسم کے میلوں کے انعقاد کی سرپرستی کرنی چاہیے اور ملک کے دیگر چھوٹے شہروں میں بھی اس قسم کے کتب فیسٹیولز کا انعقاد کرانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ کتابوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے لیے فوری اقدامات اٹھانے چاہییں۔ مختلف شعبہ جات کی معیاری کتب کا فوری اور بڑے پیمانے پر اردو تراجم کرواکر انتہائی کم قیمت پر پورے ملک میں ترسیل کو فروغ دینا چاہیے اور پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے بھرپور آگاہی و بیداری مہم سازی کرنی چاہیے تاکہ لوگوں میں مطالعے کا شوق زور پکڑے۔

پیغام حج و قربانی (مریم صدیقی)

پیغام حج و قربانی (مریم صدیقی)

حج

ماہ ذو الحج اسلامی سال ہجری کا بارہواں اور آخری مہینہ ہے۔ اس میں دنیا بھر سے مسلمان اسلام کے اہم رکن اور فریضے کی ادائیگی کے لیے بیت اللہ شریف کا رخ کرتے ہیں۔ حج کا بلاوا ملتے ہی عازمین حج رخت سفر باندھ لیتے ہیں، سفر کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں اور بالآخر بیت اللہ شریف حاضری دیتے ہیں۔ حج کی فرضیت کے متعلق ارشاد ربانی ہے، ”لوگوں پر فرض ہے کہ اللہ کے لیے خانہ کعبہ کا حج کریں جس کو وہاں تک راہ مل سکے اور جو نہ مانے ( اور باوجود قدرت کے حج کو نہ جائے ) تو اللہ سارے جہاں سے بے نیاز ہے۔ (سورہ ال عمران)۔

حج کے لغوی معنی قصدیا ارادہ کرنے کے ہیں۔ جب کہ اصطلاح میں بیت اللہ شریف کا اعمال مخصوصہ کے ساتھ قصد کرنا حج کہلاتا ہے۔

فضائل حج

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا“۔ پھر عرض کیا گیا کہ ”اس کے بعد کون سا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا“۔ پھر عرض کیا گیا کہ ”اس کے بعد کون سا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”حج مقبول“۔ (بخاری ومسلم)

نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے، ”حج و عمرہ محتاجی اور گناہوں کو ایسے دور کرتے ہیںجیسے بھٹی لوہے، چاندی اور سونے کے میل کو دور کرتی ہے اور حج مبرور کا ثواب جنت ہی ہے“۔ ( ترمذی، ابن ماجہ)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ”فریضہ حج ادا کرنے میں جلدی کرو کیونکہ کسی کو نہیں معلوم کہ اسے کیا عذر پیش آجائے“۔ (مسند احمد)ارکان حج کی ادائیگی کے لیے خاص دن مقرر ہیں جو آٹھ ذی الحجہ سے شروع ہوتے ہیں اور تیرہ ذی الحجہ پر ختم ہوتے ہیں۔

اللہ تعالی نے شعائر اسلام اور اپنے محبوب بندوں کے اعمال و افعال کو رہتی دنیا تک زندہ رکھنے کے لیے زندگی میں ایک بار حج کو فرض قرار دیا۔ اسلام کے اس رکن خامسہ پر غور کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ یہ اخوت و مساوات کی عمدہ نظیر ہے، جہاں ہر چھوٹا بڑا، امیر غریب، بادشاہ و فقیر بغیر کسی امتیاز کے بارگاہ الہی میں موجود ہوتے ہیں۔ سفید احرام میں ملبوس ہر شاہ و گدا اس کے سامنے سر جھکاتا ہے۔ جہاں نہ کوئی رتبے میں ادنی ہوتا ہے نہ اعلی۔ دنیا کے بیش قیمت ملبوسات چھوڑ کر فقط دو سفید کپڑوں میں حج کے مکمل فرائض ادا کیے جاتے ہیں جو انسان کو یہ بتلاتے ہیں کہ یہ شان و شوکت، یہ بینک بیلنس، یہ ٹھاٹ باٹ سب یہیں رہ جائے گا۔ ان سب کی حقیقت کچھ نہیں، حقیقت یہی ہے جو سامنے ہے، اس رب کائنات کے آگے سب اتنے ہی عاجز و بے بس ہیں جتنا ایک کٹیا میں رہنے والا فقیر۔

قربانی کا مقصد راہ خدا میں اپنی محبوب ترین چیز، اپنی افضل ترین چیز کی قربانی دینا ہے، جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لخت جگرکو قربان کرنے کا ارادہ کیا تو پھر ان کے ارادے کو کوئی تدبیر، کوئی شے متزلزل نہ کرپائی۔ یہی جذبہ قربان ہونے والے میں بھی موجود تھا اس لیے ان دونوں کی قربانی راہ خدا میں مقبول ہوئی اور ان کی صداقت نیت کے پیش نظر اس سنت کو تا قیامت تک مسلمانوں کے لیے زندہ کردیا گیا کہ وہ اسی جذبہ ابراہیمی و اسماعیلی کے تحت بارگاہ الہی میں قربانی کریں۔ قربانی کا مقصد نیت کی پرکھ ہے۔

حج و قربانی کی اصل تقوی ہے۔ اللہ تبارک و تعالی انسان کے اعمال کا بدلہ اس کی نیتوں کو دیکھتے ہوئے عطا فرماتا ہے۔ اگر کارخیر بھی نمود و نمائش اور دنیا دکھاوے کے لیے کیا جائے تو یقینا ریا کاری کے زمرے میں آئے گا۔ احکامات الہیہ کی بجا آوری کے لیے جس چیز کا ہونا لازمی ہے وہ نیت صالحہ اور تقوی ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے آج کل حج و قربانی بھی فقط دنیا دکھاوے کے لیے کیے جارہے ہیں۔ عازمین حج و عمرہ بیت اللہ شریف پہنچ کر، ان مقدس مقامات کی زیارت کرکے ان لمحات کو، ان لطیف احساسات کو محسوس کرنے کے بجائے ویڈیوز بنانے اور سیلفیز بنانے میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں۔

گزشتہ زمانے میں جب لوگ حج و عمرے سے واپس آتے تھے تو ان کے چہروں سے ان کی کیفیات، ان کے رقت انگیز لمحات کا اندازہ لگا لیا جاتا تھا۔ ان کے چہرے پر نوراور ان کی آنکھوں میں ان مقدس مقامات کی شبیہہ دیکھی جاسکتی تھی۔ جب کہ آج کل حج و عمرہ سے واپس آنے والے لوگ ا ن کیفیات سے یکسرمحروم ہیں۔ صحن حرم میں بیٹھ کر رقت انگیز دعا مانگنا، مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز نفل ادا کرنا، شہر مکہ کی گلیوں میں اس سوچ کے ساتھ جانا کہ یہ وہ شہر ہے جو میرے نبی اکرم ﷺ کی جائے پیدائش ہے، جس سے نبی اکرم ﷺ بے انتہا محبت کرتے تھے۔ گنبد خضری کے سائے میں بیٹھنا اور تصور کرنا کہ نبی اکرم ﷺ کیسے اصحا ب صفہ کو درس دیا کرتے تھے، میرے نبی ﷺ امامت کروایا کرتے تھے ار صحابہ کرامؓ مقتدی ہونے کا شرف حاصل کرتے تھے۔ مکہ شریف اورمدینہ طیبہ کے گلی کوچوں میں بجائے ویڈیو بنانے اور سیلفیز لینے کے ان سوچوں کے ساتھ زیارت کی جائے تو یقینا ہم حج و عمرے کی اصل کو پالیں گے۔ اگر ہم یہ سوچ لیں کہ یہ چند دن ہی ہمیں میسر ہیں ان پاک شہروں میں تو ہمیں حقیقتا لمحہ بھر کے لیے بھی کسی اسٹیٹس اپلوڈ کرنے لکا خیال تک نہیں آئے گا۔

ان مقدس مقامات پر جاکر خصوصا بیت اللہ شریف میں تو بس یہی ایک خیال ہر خیال پر غالب رہنا چاہیے کہ اب جب یہاں آئے ہیں، اس موقع سے نوازے گئے ہیں تو رب کے حضور بخشش کروا کر ہی جائیں۔ اپنے گناہوں پر نادم ہوکر، معافی کے خواستگار ہوکر رب العالمین کی بارگاہ میں حاضر ہوں۔ اپنے جرم و عصیاں کو ذہن میں رکھتے ہوئے حج کا ایک ایک رکن ادا کریں۔ ہمیں تو یہ سوچنا چاہیے کہ کہیں یہ زندگی کا آخری حج نہ ہو، کیا معلوم کہ ہم دنیاوی امور میں مصروف رہ کر اپنی بخشش کاموقع ہی گنوا بیٹھیں۔

کوشش کیجیے جب رخت سفر باندھیں تو ہر لایعنی سوچ، ہر دنیاوی مصروفیت کو ذہن سے فراموش کرکے عازم سفر ہوں۔ ذہن میں یہ سوچ رکھیے کہ یہ رحمت خداوندی سے کئی لاکھوں کڑوڑوں لوگوں میں سے مجھے بیت اللہ شریف کی حاضری کایہ موقع عطا کیا گیا ہے۔ مجھے ا سے ریا کاری اور نمود و نمائش کی نذر نہیں کرنا بلکہ اس حج کو اس کی اصل روح کے ساتھ ادا کرنا ہے کیوں کہ حج مبرور بھی ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتا۔ وہاں جاتے تو بہت لوگ ہیں لیکن وہاں سے بدل کر کوئی کوئی آتا ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کا حج قبول فرمائے آمین۔

انگریزی اور ہم (انعم توصیف)

انگریزی اور ہم (انعم توصیف)

انگریزی زبان دور حاضر کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔ اس کی ضرورت و اہمیت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ اس زبان سے کچھ لوگ اس قدر متاثر نظر آتے ہیں جو قومی زبان بولنا توہین سمجھتے ہیں اور اردو زبان بولنے والوں کو کم علم و کم عقل گردانتے ہیں۔ ہم نے انگریزی زبان کو صلاحیتوں کو ناپنے کا آلہ سمجھ لیا ہے۔ جو جتنی اچھی انگریجی میرا مطلب ہے انگریزی بولتا ہے وہ اتنا ہی سیانہ لگتا ہے چاہے اس کی بات بے وزن ہی کیوں نہ ہو۔

ہمارے آس پاس ہمیں اکثر لوگ ایسے نظر آتے ہیں جو فقط اپنی برتری جتانے کے لیے اس زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ جو منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں چاہے ان کی بات کسی کو سمجھ آئے یا نہ آئے۔ کسی کو ان کی بات سمجھ میں نہ آئے پھر تو یہ ان کے نزدیک مزید کمال کی بات ہوتی ہے کہ وہ بالکل انگریزوں کے لب و لہجے میں بات کرنے لگے ہیں جو سیدھے سادہ لوگوں کی سمجھ سے ہی باہر ہے۔ حالاں کہ یہ بات اخلاقیات کے خلاف ہے۔ جو لوگ انگریزی نہیں سمجھ سکتے جیسے بڑی عمر کے افراد ہوں یا کم تعلیم یافتہ ہوں یہ ان کی توہین ہے۔ تعلیم انسان کو تواضع سکھاتی ہے نہ کہ دوسروں کی تذلیل کرنا۔ ایسے لوگ احساس تفاخر میں اخلاقیات کا درس بھول بیٹھتے ہیں۔ لوگ ایسے لوگوں سے کترانے لگتے ہیں۔ ان کے پیٹھ پیچھے مذاق ان کا الگ اڑایا جاتا ہے۔

جب کہ کچھ لوگ آپ کو ایسے بھی نظر آئیں گے جو ان لوگوں کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار ہو کر ”انگلش“ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر بے چارے سیکھ نہیں پاتے۔ چند الفاظ سیکھ کر اردو کے ساتھ ملا کر بولتے ہیں۔ اس طرح وہ اردو کی ٹانگ اور انگریزی کے بازو توڑ کر اپنے شوق کو پورا کرلیتے ہیں۔ غیروں کی نقل میں ہمارا حال آدھا تیتر آدھا بٹیر جیسا ہوجاتا ہے۔

زندگی اتنی مصنوعی اشیاوں کے درمیان جیتے جیتے ہم نے اپنی زبان میں بھی ملاوٹ کر ڈالی ہے۔ اپنے احساس و جذبات اپنی زبان سے بہتر ہم کسی بھی زبان میں اپنوں تک نہیں پہنچا سکتے۔ چاہے وہ جذبہ محبت کا ہو، اپنائیت کا ہو، ناراضی کا ہو یا درد کا۔ اردو کا استعمال کیجیے جب گھر میں ہوں، دوستوں کے درمیان ہوں یا اپنوں کے ساتھ ہوں چاہے آپ کو کتنی ہی اچھی انگریزی کیوں نہ آتی ہو۔ گفتگو کو تکلفانہ بنا کر زندگی کو مزید مشکل نہ بنائیں۔ انگریزی اگر کامیابی کی ضمانت ہوتی تو آج انگریزوں میں کوئی بھی خاکروب، مزدور یا بھکاری نہ ہوتا۔