غلامی اور اس سے جڑے چند حقائق (وجیہہ مرزا)

غلامی اور اس سے جڑے چند حقائق (وجیہہ مرزا)

غلامی ایک ایسا لفظ ہے جسے نہ صرف صدیوں بلکہ قیام دنیا سے ہی حقارت اور تنزلی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ روایت نہ صرف دیہی علاقوں بلکہ شہری اور اکثر ماڈرن علاقوں سے وابستہ ہے، جہاں ہر غلام کو انسانی لحاظ سے نیچے رکھا جاتا ہے۔ غلامی کا رواج امریکی ریاست سے چلتے چلتے دنیا کے ہر کونے میں جا بسا ہے۔ جہاں نہ صرف اس پیشے کو سرانجام دینے والے افراد کو مصیبتوں کا سامنا ہوتا ہے بلکہ ان کے خاندان کے کئی افراد نسل در نسل حیوانیت پر مبنی سلوک کی زد میں رہتے ہیں۔ ہم صدیوں سے یہ لفظ غلامی تو بہت سنتے آ رہے ہیں لیکن! یہ کن اہم مراحل سے گزر کر وجود میں آیا اس سے ہم سب غافل ہیں۔

قدیم تہذیبوں میں جیسا کہ عرب ہیں وہاں غلامی رائج تھی۔ غلاموں کے لیے عربی زبان میں لفظ ”عبد“ استعمال کیا جاتا تھا۔ جس کا استعمال اپنے حقیقی مفہوم میں خدا کے مقابلے پر اس کے بندے کے لیے کیا جاتا تھا۔ مجازی طور پر آقا کو اس کے غلام کا خدا تصور کیا جاتا تھا۔ مالک کے لیے مجازی طور پر ”رب“ کا لفظ بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ ان غلاموں کی خریدو فروخت جانوروں، بے جان اور بے معنی اشیاءکی طرح کی جاتی تھی۔ مالک کو اپنے غلام پر مکمل حقوق حاصل تھے۔ ملکیت کا یہ حق مقدس سمجھا جاتا تھا۔ غلام کی کسی بھی غلطی پر مالک اسے موت کے گھاٹ اتار سکتا تھا۔ جیسا کہ وڈیرے ٹائپ کلچر میں اکثر دیکھنے کو ملتا ہے جہاں مالک کے آگے اس کے غلام کا سر ہلکا سا بھی اٹھے تو پورے علاقے میں ایک وبالی صورتحال نافذ ہو جاتی ہے۔ ایک غلام جو کہ ایک انسان بھی ہے اس کو ایک جانور تصور کیا جاتا ہے اور مالک جب کہ وہ بھی ایک انسان ہے اسے خدا تصور کیا جاتا ہے۔

گزرے زمانے میں ”غلامی“ کا ایک طویل چکر تھا اس چکر کے مطابق  یہ بیان اکثر منسوب کیا جاتا ہے کہ،  ”دنیا کی بڑی تہذیبوں کی اوسط عمر دو سال رہی ہے۔ ایسی ہر قوم چند مخصوص مراحل سے گزرتی ہے۔ پہلے غلامی سے مذہبی عقائد تک، پھر مذہبی عقائد سے عزم اور پھر حوصلے تک۔ پھر عزم اور حوصلے کے سہارے آزادی حاصل کرنے تک۔ پھر آزادی سے خوشحالی اور پھر خوشحالی سے خودغرضی تک۔ خود غرضی لاتعلقی کا سبب بنتی ہے اور جس سے قوم بے حس ہوجاتی ہے۔ بے حسی انحصار لاتی ہے اور انحصار دوبارہ غلامی تک پہنچا دیتا ہے اور غلامی ہمارے معاشرے کا بدترین دور رہا ہے جس کا نتیجہ صرف تذلیل ہے“۔ پچھلی تاریخ کے مطابق 1986 سے لے کر اب تک، 2 دسمبر انسداد غلامی ”یونائٹیڈ نیشنز انٹرنیشنل ڈے“ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ لفظ ”سلیو“ یعنی غلامی اصل میں ایسٹرن یورپ کے ایک سلیونک آبادی سے قیام میں آیا تھا۔ جو اکثر درمیانی عمروں میں ہی غلامی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے تھے۔ایک درمیانی آمدنی کے لحاظ سے1850میں امریکہ میں ایک غلام کی ماہانہ تنخواہ400 ڈالر یعنی (12000 ڈالر آج کل کے روپے کے حساب سے) تھی۔

غلامی انسداد1833 ءمیں برٹش امپائر کے دور میں وجود آیا تھا لیکن دور جدید کے لحاظ سے بوجھ پرستی اور انسانوں کو گدھے کی طرح استعمال کرنے کے خلاف بل پاس ہوا۔ لفظ ”غلامی“ کنگ جیمس بائبل (King James Bible) کے دور میں قائم ہوا تھا۔ امریکی خبر رساں کے مطابق آج کے دور میں بھی تقریبا 30,000 سے زائد غلام محنت اور مشقت کی تکالیف برداشت کرتے ہیں جو کہ گزرے زمانے سے بھی کئی زیادہ ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ایسا زیادہ تر بیرون ممالک میں بہت زیادہ ہے۔  قوموں کی غلامی تین طرح کی ہوتی ہے۔ کسی قوم کو غلام بنانے کا سب سے کارگر طریقہ جنگ رہا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ نا کام ہو جاتا ہے کیونکہ لوگ اپنے آقاوں سے نفرت کرتے ہیں اور موقع ملتے ہی انہیں مار بھگاتے ہیں۔ ایسی حکمرانی میں فوجی اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

حکمرانی کا دوسرا طریقہ مذہب ہے جہاں لوگوں کو قائل کر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ معبود یا پیر کی خوشنودی کے لیے خرچ کریں اس طریقے میں کمزوری یہ ہے کہ کوئی فوجی طاقت اسے اکھاڑ پھینک سکتی ہے یا کوئی فلاسفر لوگوں کو گمراہ کر سکتا ہے۔ غلام بنانے کا تیسرا طریقہ معاشی حکمرانی ہے اس میں بظاہر کوئی زبردستی نہیں کی جاتی اور لوگوں کو غلامی کا احساس نہیں ہوتا۔ ان سے ٹیکس یا سود قانونی طریقے سے وصول کیا جاتا ہے اور لوگ یقین رکھتے ہیں۔ یہ طریقہ اگرچے سست رفتار ہے مگر دیر پا ہوتا ہے۔ لوگوں پرنہ مذہبی پابندی ہوتی ہے نہ سفر کرنے کی اور نہ ہی آزادی خیال کی۔ وہ الیکشن میں چناو کی بھی آزادی رکھتے ہیں انہیں یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ انہیں غلام بنایا جا چکا ہے اور ان ہی کے اپنے لوگ عوام کی دولت آقاوں تک منتقل کرتے ہیں۔ غرض یہ ہے کہ دور غلامی چاہے جیسا بھی ہو، کچھ عیاں ہوتا ہے اور کچھ خفیہ، آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں شائد یہ خفیہ ہے کیونکہ  حکمرانی ایک ایسا دور ہے جس میں شاید غلام کو اس چیز کا احساس نہیں ہوتا کہ وہ غلام ہے لیکن وہ ضرور کسی نہ کسی شش و وپنج کا شکار ہوتا ہے۔

یہاں غلامی اور اس کے مقاصد کا بیان کرنا صرف یہی تھا کہ کیسے غلامی کا چکر زیر منظر آیا اور کن طریقوں سے گزر کر غلامی اپنے وجود میں آئی۔ غلامی کا مقصد یہ نہیں ہے کہ انسان کو انسان سمجھنے کے بجائے اس کے ساتھ جانوروں کا سا سلوک کیا جائے۔ اپنی پہچان ایسے بنائیں کہ ہمیں کوئی خفیہ طریقے سے بھی غلام نہ بنا پائے کیونکہ غلامی موت سے بدتر ہے۔

گرمی کے فوائد (طیبہ شہزادی)

گرمی کے فوائد (طیبہ شہزادی)

گرمیوں کے شروع ہوتے ہی ہمیں یہ کلمات عام سننے کو ملتے ہیں کہ ”آج بہت گرمی ہے“، ”آج تو سورج آگ برسا رہا ہے“۔ ”اف! یہ گرمیاں تو نہ ہی ہوتیں“۔ کچھ تو گرمی کی درگت بنانے کے ساتھ ساتھ منہ سے کفریہ کلمات ادا کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور گرمی کی شدت سے ہر وقت نالاں ہی نظر آتے ہیں۔ ایسے لوگ حقیقتاً موسم گرما کے مثبت اثرات اور فوائد و ثمرات سے بے بہرہ ہوتے ہیں لیکن اگر دیکھا جائے تو موسم گرما اپنے اندر بہت سے مثبت پہلو بھی رکھتا ہے جن کا ذکر ہم قرآن و حدیث اور سائنسی تحقیقات کی روشنی میں کریں گے اور جانیں گے کہ اللہ تعالیٰ کی دوسری بہت سی نعمتوں کی طرح یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے جس کا شکر بجا لانا ہم پر واجب ہے۔

قرآن وحدیث کی روشنی میں

قرآن مجید میں گرمی (الحر) کا ذکر تقریباً چھ مقامات پر آیا ہے جس طرح سورة النحل آیت :81 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، ”اللہ ہی نے تمہارے لیے اپنی پیدا کردہ چیزوں میں سے سائے بنائے ہیں اور اسی نے تمہارے لیے پہاڑوں میں غار بنائے ہیں اور اسی نے تمہارے لیے کرتے بنائے ہیں جو تمہیں گرمی سے بچائیں اور ایسے کرتے بھی جو تمہیں لڑائی کے وقت کام آئیں۔ وہ اسی طرح اپنی پوری پوری نعمتیں دے رہا ہے کہ تم حکم بردار بن جاو“۔ پھر سورة القریش آیت: 2 میں فرمایا، ”انہیں سردی اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے لیے“۔ سورة التوبہ آیت:81 میں فرمایا، ”انہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرنا ناپسند کیا اور انہوں نے کہا کہ اس گرمی میں مت نکلو، کہہ دیجئے کہ دوزخ کی آگ بہت ہی سخت گرم ہے، کاش کہ وہ سمجھتے ہوتے“۔

آپﷺ سے بھی گرمی اور خاص طور پر جہنم کی گرمی کے متعلق بہت سی احادیث مبارکہ صحیح سند سے ہم تک پہنچتی ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا، ”جب گرمی کی شدت ہو تو اسے نماز سے ٹھنڈا کرو، پس بے شک جہنم کی گرمی اس سے کہیں شدید ہے“۔ احادیث کی کتب کے مطالعے سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین بھی کبھی کبھار اس گرمی کی شدت سے نالاں ہوتے تو آپ ﷺ سے اس کی شدت کا ذکر کرتے تو آپ ﷺ انہیں جہنم کی آگ کی گرمی کی یاد دلاتے تو ان کا دل جہنم کی آگ کی گرمی کی شدت اور ہیبت سے بھر جاتا اور دنیا کی گرمی انہیں اللہ کی نعمت لگنے لگتی کہ یہ انہیں جہنم کی آگ کی یاد دلاتی ہے۔

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک دفعہ انہوں نے لوہا آگ(بھٹی) میں سے نکالا تو اس کی حدت کو دیکھتے رہے اور پھر رونے لگے اور اتنا روئے کہ ان پر غشی طاری ہو گئی۔ ان آیات اور احادیث کی روشنی میں اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے طرز عمل سے یہ پتا چلتا ہے کہ گرمی کی شدت ہمیں جہنم کی آگ کی یاد دلاتی ہے اور اس سے پناہ بھی مانگی گئی ہے اور بہت سی دعائیں حدیث کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ جہنم کی آگ سے پناہ مانگنے کی یہ دعا سکھائی گئی، ”اللھم اجرنی من النار“۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں گرمی کے موسم کے مختصرا ذکر کے بعد ہم اس کے سائنسی ترقی سے ثابت شدہ اور اپنی زندگی میں ہونے والے اس کے مثبت اثرات پر مختصرا جائزہ لیں گے۔

سائنسی حقائق

اگر ہم سب سے پہلے موسم گرما کے انسانی جسم پر مثبت اثرات کا جائزہ لیں تو ہم جانیں گے کہ ہمارے جسم میں موسم گرما کی وجہ سے ہونے والی سب سے بڑی تبدیلی جسم سے پسینے کا اخراج ہے۔ جس سے ہم جی بھر کر کوفت کا شکار ہوتے ہیں۔ جسم سے پسینے کا اخراج دراصل ہمارے جسم میں موجود سوئٹ گلینڈز کی بدولت ہے جن کی انسانی جسم میں تعداد تقریباً 2-4 ملین ہوتی ہے۔ جو کہ جسم کے مختلف حصوں سے پسینے کے خارج ہونے کا سبب بنتے ہیں مثلاً ہتھیلیوں، بغلوں، پاوں کے تلوے پیشانی اور ٹھوڑی وغیرہ پر پسینہ آنا۔ پسینے کا یہ اخراج سردیوں کے مقابلے میں گرمیوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ پسینے کا اخراج انسان کے جسم کے لیے کس قدر ضروری ہے سائنس اس بارے میں ہماری یوں رہنمائی کرتی ہے کہ پسینا آنے سے انسان کے جسم میں پانی کی کمی واقع ہو جاتی اور اس کمی کو پورا کرنے کے لیے جب پانی پینے کی مقدار کو بڑھایا جاتا ہے تو اس سے انسان کے جسم کے

اعضاءجن میں جگر، گردے اور معدہ کی وقتا فوقتاً صفائی ہوتی رہتی ہے جس سے ان کے کام کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔  سٹین فورڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کے مطابق ”زیادہ پانی پینا آپ کے گردوں کو صحیح طور پر کام کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے اور گردے جو کہ جسم کی صفائی اور جسم سے فالتو اور زہریلے کیمیکلز کو نکالنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

پسینے میں نمکیات کی کافی تعداد کے اخراج کے ساتھ پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم، کلورائیڈ اور ٹریس کیمیکلز جن میں زنک، سلفر اور کاپر کی بھی کافی مقدار پائی جاتی ہے اور ان کیمیکلز کا جسم میں ایک خاص مقدار سے زیادہ پایا جانا نقصان دہ ہے۔ ریسرچرز کی ایک اور تحقیق کے مطابق سجن کینسر کا باعث ایک پروٹین ہے جس کا اخراج بھی پسینے کے ذریعے عمل میں آتا ہے جس سے انسان سکن کینسر سے محفوظ رہتا ہے۔

موسم گرما کے اس کے علاوہ اور بہت سے فوائد انسانی جسم پر مرتب ہوتے ہیں جن کا احاطہ اس مختصر سی تحریر میں ممکن نہیں۔ اب اگر ایک اور رخ سے موسم گرما کے فوائد کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ ہے کہ گرمی کے موسم میں کپڑے جلد خشک ہو جاتے ہیں جس کی وجہ گرمیوں میں درجہ حرارت کا سردیوں کے مقابلے میں زیادہ ہونا ہے اس لیے پانی تیزی سے بخارات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح گرمیوں میں سمندروں، دریاو¿ں، ندی نالوں، تالابوں اور برف سے ڈھکی پہاڑوں کی چوٹیوں سے بخارات کا یہ عمل تیز تر ہو جاتا ہے۔ یہ بخارات اوپر بادلوں میں اکٹھےں ہو جاتے ہیں اور پھر یہ بادل جب پانی سے بوجھل ہو جاتے ہیں تو بارش کا سبب بنتے ہیں اس عمل کو واٹر سائیکل کہتے ہیں۔ اس کا ذکر قرآن مجید میں چودہ سو سال پہلے کر دیا گیا تھا جب کہ سائنس نے یہ عمل کچھ صدیوں پہلے ہی دریافت کیا ہے۔

قرآن مجید میں اس کا ذکر اللہ تعالٰی اس طرح فرماتے ہیں: ”اللہ تعالٰی ہوائیں چلاتا ہے وہ ابر کو اٹھاتی ہیں پھر اللہ تعالٰی اپنی منشا کے مطابق اسے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور اس کے ٹکرے ٹکرے کر دیتا ہے پھر آپ دیکھتے ہیں کہ اس کے اندر سے قطرے نکلتے ہیں اور جنہیں اللہ چاہتا ہے ان بندوں پر پانی برساتا ہے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں“۔سائنسی تحقیق سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ واٹر سائیکل زمین کی بقا کے لیے اور اس میں پانی کی مقدار کو پورا رکھنے کے لئے بہت ضروری ہے۔ واٹر سائیکل کے ذریعے زمین پر برسنے والا پانی بخارات بننے والے پانی سے نہ صرف مختلف ہوتا ہے بلکہ یہ پانی صاف شفاف اور زمین میں پائی جانے والی ہر مخلوق کے لیے زندگی کی نوید ہوتا ہے۔

گرمیوں کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ ہم اس موسم میں پھلوں کے بادشاہ آم کا نہ صرف دیدار کرتے ہیں بلکہ ہم اس کے رنگ وبو اور اس کے مختلف ذائقوں سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر کئی پھل جو کہ خاص اسی موسم کی ہی پیداوار ہیں اپنے خوشگوار رنگ وبو اور خوش ذائقوں سے جلوہ افروز ہوتے ہیں۔ ان تمام پھلوں کا پکنا خوش ذائقہ اور خوش شکل ہونا دراصل سورج کے ہی مرہون منت ہے۔ سائنس سے یہ بات پتا چلتی ہے کہ پھلوں کو پکنے کے لیے 65-77F ٹمپریچر کی ۔ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے اگر پھل روشنی کو ڈائریکٹ وصول کریں تو ان میں پکنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔

قرآن و حدیث اور سائنسی تحقیقات کے مختصر جائزے کے بعد یقیناً گرمی کے متعلق ہماری پہلی سوچ میں تبدیلی آئی ہوگی اور ہم اسے مصیبت سمجھنے کے بجائے اگر اس کے ثمرات پر نگاہ دوڑائیں تو زبان بے اختیار الحمد للہ کہنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، ”پس تم رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاوگے“۔ پس گرمی کے مثبت اثرات پر غور کیجیے اور اپنے خالق کا شکر بجا لائیں۔

بھکارن (علی عبد اللہ)

بھکارن (علی عبد اللہ)

میں بس کے انتظار میں برائے نام بنی ایک برآمدہ نما انتطار گاہ میں آن بیٹھا۔ یہاں دھول مٹی، چند سٹیل کی کرسیوں اور ایک چھوٹی سی ٹک شاپ کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ ٹک شاپ پر کھڑے ایک صاحب سر پر ٹوپی اور چہرے پر خوبصورت داڑھی سجائے چپس اور نمکو کے پیکٹوں پر پڑنے والی دھول کو صاف کرنے میں مگن تھے۔ اکا دکا بھیک مانگنے والے جن میں کچھ بچے اور چند جوان خواتین تھیں، ادھر سے گزرتے عادتاً ہاتھ پھیلاتے اور پھر خالی ہاتھ لیے ہی آگے بڑھ جاتے تھے۔ ان میں اکثر پیشہ ور بھکاری تھے جنہیں چند ٹکوں کے عوض اس نیچ کام پر لگا دیا گیا تھا۔

یہ ایک پرانا بس اڈہ تھا جس کی خستہ حالی عہد رفتہ کو پکارتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ ایک جانب چند افراد آپس میں گتھم گتھا تھے، غالباً ان کے تنازعے کی وجہ وہ مسافر تھا جسے دونوں فریقین اپنی اپنی لاری میں بٹھا کر اپنی دیہاڑی پکی کرنا چاہتے تھے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، ہر بس اڈے پر ایسے بیسیوں واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں، میں نے سوچا۔ کیونکہ یہ لوگ جنہیں ہاکر کہا جاتا ہے، سواریوں کے بدلے بس مالکان سے معمولی دیہاڑی وصول کرتے ہیں جن سے ان کے گھر کا چولہا جلتا ہے۔ برآمدے کے بائیں جانب قطار در قطار کھڑی بسیں جو کچھ روانگی کے لیے تیار تھیں اور کچھ کی ابھی صفائی ستھرائی جاری تھی جب کہ اس برآمدے کے دائیں جانب ایک سڑک تھی جہاں بے ہنگم ٹریفک دھول اڑاتی اور بلا ضرورت ہارن بجاتی گزر رہی تھی۔ سڑک کنارے چند ریڑھی والے جو مختلف کھانے کی اشیائ، جن میں زردہ پلاو¿، سموسے اور بھنے ہوئے چنے وغیرہ تھے، لیے ہوئے آوازیں لگا رہے تھے تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ ان کی جانب متوجہ ہو سکیں۔ غربت زدہ چہرے اور حسرت بھری آنکھیں لیے یہ لوگ قریب سے گزرنے والے ہر شخص کو یوں دیکھتے جیسے ان کا رزق اس شخص کے ہاتھوں پر لکھا ہو۔ خدا نے رزق کی تقسیم بھی عجیب رکھی ہے، نہ حسن دیکھتا ہے نہ خاندان اور نہ ہی ذہانت، بس بے نیازی سے تقسیم کرتا چلا جاتا ہے۔

بس کی روانگی میں ابھی کچھ وقت باقی تھا، سو میں اسی طرح کرسی پر بیٹھا گردوپیش پر ہی غور کر رہا تھا کہ اچانک مجھے ان سٹیل کی کرسیوں کے پاس ہی ایک بھکارن فرش پر ایسے سوئی ہوئی نظر آئی جیسے یہ فرش نہ ہو کوئی مخمل کا بستر ہو۔ جوانی کی سرحدوں کو پار کرتی ہوئی یہ ادھیڑ عمر عورت، گردوپیش سے بے نیاز گہری نیند میں تھی۔ میں نے سوچا کہ کیسی عجیب دنیا ہے، کسی کو مخملی بستر پر بھی نیند نہیں آتی اور کوئی ہے کہ گندے فرش پر بھی بنا بستر کے محو استراحت ہے۔ اس دوران پاس سے گزرنے والے لوگ اس سے یوں بچ کر گزر رہے تھے جیسے وہ کوئی اچھوت ہو یا کوئی ایسا نجس جانور، جس سے ان کی پاکیزگی پر داغ لگنے کا خدشہ ہو۔ یہ لوگ اسے بس ایک نظر حقارت سے دیکھتے اور بعض تو کچھ فقرے بھی اس پر کستے اور پھر ہنسنے لگتے۔ نجانے کیوں لوگ صاف ستھرے کپڑے اور جیب میں رکھے چند ٹکوں کی بنیاد پر ہی خود کو اشرف سمجھنے لگتے ہیں؟ وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جیب میں رکھے چند کاغذ کے نوٹ اور اجلے کپڑے کسی کو اشرف بنانے کے ضامن نہیں بلکہ خلوص نیت، احساس اور انسانیت کی خدمت ہی وہ عوامل ہیں جن کی بنیاد پر انسان دیگر انسانوں سے اشرف بنتا ہے مگر مادیت پسندی کے اس دور میں بھلا یہ سب کہاں سے ڈھونڈا جائے؟

گنڈیری والے….، گنڈیری والے….! اچانک ایک کمزور سی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ دیکھا تو وہی بھکارن نیند سے جاگ کر پاس سے گزرنے والی گنڈیریوں کی ریڑھی کو پکار رہی تھی۔ ریڑھی والے نے اسے یوں گھور کے دیکھا جیسے وہ گنڈیریوں پر بیٹھنے والی کوئی مکھی ہو جو اس کی گنڈیریوں کو گندا کرنے لگی ہو لیکن جوں ہی بھکارن نے اسے دس روپے کی گنڈیریاں دینے کو کہا تو ریڑھی والے کے غربت زدہ چہرے پر امید کی کرن لہرائی۔ یہ ایک عجیب حقیقت ہے کہ انسان کے رزق کا وسیلہ کوئی بھی بن سکتا ہے۔ چاہے وہ یہ بھکارن ہو جو دس روپے کے بدلے ریڑھی والے کے چولہے کو جلانے میں اپنا کردار ادا کر رہی تھی یا پھر وہ ریڑھی والا جو اس بھکارن کی بھوک کو مٹانے کا سبب بن رہا تھا۔ فرش پر بیٹھے بیٹھے ہی اس نے ایک میلی پوٹلی سے دس روپے نکالے اور گنڈیری والے کو دیے تو اس نے کچھ منہ بناتے ہوئے دور سے ہی اسے چند گنڈیریاں ایک شاپر میں ڈال کر پکڑا دیں۔ بھکارن اب ایک کرسی کے مزید قریب ہو گئی تھی اور میلے ہاتھوں کے ساتھ گنڈیریوں والا شاپر ٹٹول رہی تھی۔ ٹک شاپ پر بیٹھے دو آدمی اس بھکارن کے جسم کو مسلسل عجیب نظروں سے گھور رہے تھے جیسے وہ میلا کچیلا ہونے کے باوجود ان کے لیے دلچسپی کا باعث ہو۔ جنس مخالف کی کشش جب ہوس میں بدلتی ہے تو پھر وہ ظاہری میلاپن اور حسب نسب نہیں دیکھتی بلکہ اسے تو بس اپنے مذموم مقصد کی کسی بھی طریقے سے تکمیل چاہیے ہوتی ہے مگر بھکارن ان سب سے بے پروا گنڈیریوں کی جانب متوجہ تھی۔

اچانک کہیں سے ایک چھوٹا سا سفید کتا آن نکلا اور اس بھکارن کے پاس دم ہلاتا ہوا آیا اور اسے سونگھنے لگا۔ پھر اس نے گنڈیریوں والے شاپر کی طرف منہ بڑھایا اور انہیں سونگھنے لگا۔ بھکارن نے اس سفید کتے کو اپنی جانب کھینچا اور پھر اسے اپنی گود میں یوں بٹھا لیا جیسے وہ کوئی چھوٹا سا بچہ ہو۔ ٹک شاپ والے صاحب سمیت وہاں بیٹھے دو تین لوگ اس منظر سے لطف اندوز ہوکر قہقہے لگانے لگے۔ کتا جو اب بھکارن کی گود میں بیٹھا تھا مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وہ اس کی اپنی بچھڑی ہوئی اولاد ہو جو اب بھکارن کو آن ملی ہو۔ بھکارن نے، جو گنڈیریوں کو چھوڑ کر اس کتے کی گردن اور کمر سہلا رہی تھی، اچانک کتے کو چومنا شروع کر دیا اور اس کے سر پر یوں انگلیاں پھیرنے لگی جیسے کسی چھوٹے بچے کے بال بنا رہی ہو۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جسے اس عورت کی اولاد کو اس سے جدا کر دیا گیا ہو، اب اس کی مامتا کسی بھی مخلوق کے بچے کو دیکھ کر جاگ جاتی تھی یا شاید وہ عورت اولاد سے ہی محروم تھی۔ میں اس کے قریب جا کر اس سے یہ سب پوچھنا چاہتا تھا مگر اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے اور سامنے بیٹھے ان لوگوں کی وجہ سے اس پر عمل نہ کر سکا۔ میں نے وہیں بیٹھے بیٹھے اس بھکارن کو غور سے دیکھا، جو اب اس کتے سے باتیں کرنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے سر اور گردن کو بھی چوم رہی تھی۔

بھکارن کا چہرہ نہایت پرسکون اور اس کی آنکھیں روشن تھیں مگر اس روشنی میں اس کی حسرتیں اور تلخ ماضی صاف چمک رہا تھا۔ میں حیرت سے کبھی اس بھکارن کو دیکھتا جو کتے کو گود میں بٹھائے چومتی چلی جا رہی تھا اور کبھی ان ہنسنے والوں پر افسوس کرتا، جو ٹک شاپ کے سامنے پڑی کرسیوں پر بیٹھے آپس میں کچھ جملوں کا تبادلہ کرتے اور پھر قہقہ لگا کر ہنسنے لگ جاتے۔ کاش وہ بھی جان لیتے کہ وقت بڑا ظالم ہے، جب پلٹتا ہے تو شاہ کو گدا اور گدا کو شاہ بنا دیا کرتا ہے۔ شاید اب وقت سے عبرت حاصل کرنے والے دانا بہت کم رہ گئے ہیں، میں نے خود کو بتایا۔

وہ بھکارن کچھ دیر یونہی کتے کو چومتی رہی اور پھر کتا اس کی گود سے نکل کر ادھر ادھر گھومنے لگا۔ اس دوران بھکارن نے گنڈیریوں والا شاپر کھولا اور ابھی آدھی گنڈیری ہی کھائی تھی کہ وہ کتا پھر سے اس کے پاس آن بیٹھا۔ شاید کتا بھی بھوکا تھا اور وہ شاپر کی آس پر اس کی جانب پھر سے آن بیٹھا تھا۔ بھکارن نے گنڈیریوں والا شاپر اٹھایا اور کتے کے آگے رکھ کر خود چپ چاپ اسے دیکھنے لگی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی ماں اپنے بھوکے بچے کے سامنے کھانا رکھ کر اسے دیکھ رہی ہو۔ وہ اپنی بھوک بھول کر اس بچے کی بھوک کو محسوس کر رہی تھی۔ ہر ماں کی بھوک اس کے بچے کی بھوک مٹنے پر ہی مٹ جایا کرتی ہے چاہے وہ خود ایک نوالہ بھی نہ کھائے۔ کتے نے شاپر کو پہلے چاٹا اور پھر اس میں موجود دو ایک گنڈیریوں کو بھی کاٹنے کی کوشش کی لیکن پھر اچانک سے اٹھ کے چل دیا جیسے کوئی بچہ من پسند کھانا نہ پا کر روٹھتا ہو۔ بھکارن اس کے جانے کے بعد اسے دیر تک دیکھتی رہی اور پھر شاپر اٹھا کر اس میں موجود گنڈیریوں کو دوبارہ کھانے لگی۔ وہ اس بات سے بے پرواہ تھی کہ ایک کتا اس کی گنڈیریوں کو چبا کر گیا ہے۔

کیسا عجیب منظر تھا، بھکارن کتے کا جھوٹا کھا رہی تھی، شاید واقعی بھوک کا کوئی مذہب اور کوئی اخلاق نہیں ہوا کرتا۔ ٹک شاپ والے صاحبان جو اس سارے منظر کو بغور دیکھ رہے تھے، بھکارن پر خوب ہنسے اور کچھ نازیبا جملے بھی اس پر کسنے لگے لیکن وہ بھکارن خود میں مگن اپنی بھوک ان گنڈیریوں سے مٹانے میں محو تھی۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ یہاں صرف وہی بھکارن ہی اصل انسان تھی، باقی سب انسانوں کے روپ میں کچھ اور ہی مخلوق دکھائی دے رہے تھے جو اجلے لباس میں اپنے من کے ننگے اور بھوکے پن کو چھپائے ہوئے تھے۔ جو انسانیت کے دعویدار اور احساس و جذبات کے داعی تھے مگر اس لمحے ان سے کئی گنا زیادہ وہ بھکارن انسانیت سے بھرپور اور دکھاوے سے دور نظر آ رہی تھی۔ جس نے ایک بھوکے کتے کی بھوک کے لیے اپنی بھوک کو ایک طرف کر دیا تھا اور پھر واپس اسی کتے کے جھوٹے کو صاف کر کے کھانے لگی تھی کیونکہ اسے معلوم تھا، ارگرد کے اشرف المخلوقات اسے نفرت کے سوا کچھ دینے کے قابل نہیں۔