کالم کیسے لکھیں؟ (مریم صدیقی)

کالم کیسے لکھیں؟ (مریم صدیقی)

اگرقدرت کی جانب سے آپ کو لکھنے کی صلاحیت سے نوازا گیا ہے تو اپنے قلم کو معاشرے کی ا صلاح، لوگوں کے مسائل لکھنے اور ان کے حل کی جانب توجہ مبذول کروانے کے لیے استعمال کیجیے۔ تحریر لکھنے سے قبل اس کے مقصد کا تعیین کیجیے۔ بنا مقصد کے لکھنا کاغذ پر چند آڑھی ترچھی لکیریں کھینچنا جیسا ہے۔ بامقصد تحریر قارئین کو نہ صرف متاثر کرتی ہے بلکہ پڑھنے والوں کے ذہن پر دیر پا اثرات چھوڑ جاتی ہے۔ تحریر لکھنے سے قبل خود سے چند سوالات ضررو کریں۔

 

آپ کے لکھنے کا کیا مقصدہے؟ کیوں لکھنا چاہتے ہیں؟
آپ جس مقصد کے لیے لکھنا چاہتے ہیں اس کا تعلق زندگی کے کس شعبے سے ہے؟
جن افراد یا معاشرے کے لیے آپ لکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ کس حد تک مفید ہے؟
آپ جس مقصد کے لیے لکھ رہے ہیں کیا وہ قابل عمل ہے؟
کیا قارئین آپ کی بات باآسانی سمجھ سکتے ہیں؟

 

لکھنے کے مقاصد
معاشرے کی اصلاح، معلومات کی فراہمی، د وسروں کی مدد، ان کے مسائل کو اجاگر کرنا، تفریح مہیا کرناوغیرہ۔ تحریر کے مقصد کا تعیین کرنے کے بعد اس کی صنف کا تعیین کیا جانا بھی نہایت ضروری ہے کہ آپ مضمون لکھ رہے ہیں یا فیچر، کالم لکھ رہے ہیں یا افسانہ۔ صنف کا تعیین کرنے کے لیے تمام اصناف کے بارے میں بنیادی معلومات کا ہونا لازمی ہے۔ ہم تحریر کی جس صنف کے بارے میں آج بات کریں گے وہ ہے کالم۔

 

کالم
کالم ایسی تحریر ہے جس میں حالات حاضرہ پر اظہار خیال کیا جائے۔ کالم مزاحیہ بھی ہوسکتا ہے اور سنجیدہ بھی۔ صحافتی اصطلاح میں کالم ایسی تحریر ہے جس میں موجودہ حالات و واقعات (کرنٹ ایشوز) پر دلائل سے اظہار خیال کیا جائے۔

 

کالم اور مضمون میں فرق
مضمون سدا بہار قسم کی تحریر ہوتی ہے، جس پر جب چاہا لکھ لیا جائے اس کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔ جیسے تعلیم وتربیت، والدین کا احترام، سوشل میڈیا کے فوائد یا صحت کے حوالے سے چند اہم باتیں۔ یہ موضوع ہمیشہ سے اہم ہیںان پر لکھا جاتا رہا ہے اور لکھا جاتا رہے گا اور جب جب لکھا جائے گا وہ لکھا ہوا مضمون کہلائے گا۔ جب کہ کالم ایسی تحریر ہے جو صرف تازہ حالات کو سامنے رکھ کر لکھی جائے۔ جیسے اگر مسئلہ کشمیر پر لکھا جائے گا تو وہ مضمون کہلائے گا لیکن اگر کسی کی شہادت یا حالیہ دہشت گردی پر لکھا جائے گا تو کالم کہلائے گا۔
کالم لکھنے کے لیے وسیع مطالعہ، مشاہدہ ، مصدقہ اور تازہ ترین معلومات کا ہونا بے حد ضروری ہے۔

 

لکھتے وقت ان باتوں کا خیال رکھیں
مطالعہ: لکھنے کے لیے مطالعہ کرنا بے حد ضروری ہے۔ ایک بہترین لکھاری مطالعے سے کبھی غافل نہیں ہوتا، وہ مطالعے کی عادت کوکبھی ترک نہیں کرتا۔ اچھا ادب تخلیق کرنے کے لیے اچھا ادب پڑھنا بے حد ضروری ہے۔ کالم نویس کا وسیع المطالعہ ہونا بے حد اہم ہے۔ اسے ادب، سائنس، نفسیات، فلسفہ، سیاسیات، اقتصادیات غرض یہ کہ ہر شعبے کے متعلق ضروری معلومات ہونی چاہیے۔ مطالعہ کرتے ہوئے طرز تحریرکو بغور دیکھیے، زبان و اسلوب کیسا ہے؟ الفاظ و تراکیب کا استعمال کیسا ہے؟ جملوں کی ساخت کیسی ہے؟ کسی کا طرز تحریر پسند آئے تواس سے متاثر ہوکر اس کی نقل نہ کیجیے بلکہ اسے بار بار پڑھ کر اس جیسا اپنے الفاظ میں لکھنے کی کوشش کریں۔ کثرت مطالعہ اورلکھنے کی مشق کرتے رہنے سے آپ کی تحریرکے معیار میں بہتری آئے گی۔

 

تحقیق: جب آپ لکھنے کے لیے موضوع کا انتخاب کرلیں تو اب اگلا مرحلہ اس موضوع سے متعلق مواد اور معلومات کے حصول کا آتا ہے۔ کتب، جرائد سے، رسالوں سے اور انسائیکلو پیڈیا سے معلومات کا وسیع ذخیرہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جس قدر مفصل معلومات فراہم ہوں گی، تحریر اس قدر جامع اور مکمل ہو گی۔ ناکافی یا غلط معلومات کی بنیاد پر لکھی جانے والی تحریر ناقص ہوگی۔

 

مشاہدہ: لکھنے کے لیے مطالعے کے ساتھ ساتھ مشاہدے کا ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔ ایک لکھاری حساس دل کا مالک ہوتا ہے جو اپنے ارد گرگرد کے لوگوں کے مسائل اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کرتا ہے اور انہیں محسوس کرکے لکھتا ہے۔ مشاہدہ اور تجزیہ اکثر اوقات ان بند گرہوں کو کھولنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے جو سامنے ہونے کے باوجود جن پر پردہ پڑا رہتا ہے۔

 

زبان و بیان: لکھتے وقت اس بات کاخصوصی خیال رکھیں کہ اخبار پڑھنے والے عام اور سادہ لوگ ہوتے ہیں، تحریر کا اسلوب نہایت سادہ، آسان اور واضح ہونا چاہیے۔ تحریر کی پیچیدگی قاری کی دلچسپی ختم کر دے گی اور جو پیغام قاری تک پہنچانا مقصود تھا وہ نہیں پہنچ پائے گا۔ کوشش کریں کہ جملے مختصر اور سادہ ہوں، انگریزی زبان کے استعمال سے حتی الامکان گریز کریں۔ جہاں تک ممکن ہو تحریر کو مختصر رکھیں۔

 

تحریر لکھنے کے بعد نظر ثانی ضرور کریں۔ اپنی تحریر کو قاری اور ناقد کی نظر سے پڑھیں، غلطیاں درست کریں۔ دوبارہ سہہ بارہ پڑھ کر ضروری ترامیم کرکے اسے اشاعت کے لیے بھیج دیں۔

 

سبق سے متعلق سوالات کمنٹ باکس میں پوچھے جاسکتے ہیں۔

 

(نوٹ: تحریر رائٹرز کلب کےسلسلہ وار اسباق سےلی گئی ہے۔ مزید اسباق جاننے کے لیے رائٹرز کلب کا سوشل میڈیا فالو کریں۔ اگر آپ ہمارے ممبر بننا چاہتے ہیں تو لنک پر جا کر آن لائن فارم فل کر کے ممبر بن سکتے ہیں۔

 

رائٹرز کلب آن لائن فارم

اسلام کے سپہ سالار (محمد ارسلان رحمانی )

اسلام کے سپہ سالار (محمد ارسلان رحمانی )

ایک مرتبہ حضرت جعفر طیارؓ ایک قلعہ کو فتح کرنے کے لیے تنہا اس قوت سے حملہ آور ہوئے کہ معلوم ہوتا تھا گویا وہ قلعہ ان کے گھوڑے کے تالو کے سامنے ایک کھونٹ کے برابر ہے۔ یہاں تک کہ قلعے والوں نے خوف سے قلعہ کا دروازہ بند کرلیا اور کسی کی تاب نہ ہوئی کہ مقابلہ کے لیے ان کے سامنے آئے۔ بادشاہ نے وزیر سے مشورہ کیا کہ اس وقت کیا تدبیر کرنی چاہیے، وزیر نے کہا کہ تدبیر صرف یہی ہے کہ آپ جنگ کے تمام منصوبوں اور ارادوں کو ختم کرکے اس باہمت شخص کے سامنے تلوار اور کفن لے کر حاضر ہوجائیے اور ہتھیار ڈال دیجیے۔

بادشاہ نے کہا آخر وہ تنہا ایک شخص ہی تو ہے ، پھر ایسی رائے مجھے کیوں دی جاتی ہے؟ وزیر نے کہا کہ آپ اس شخص کی تنہائی کو بے وقعتی کی نگاہ سے نہ دیکھیے، ذرا آنکھیں کھولیے اور قلعہ کو دیکھیے کہ سیماب (پارہ) کی طرح لرزاں اور کانپ رہا ہے اور اہل قلعہ کو دیکھیے کہ بھیڑوں کی طرح گردنیں نیچی کیے، سہمے ہوئے ہیں۔ یہ شخص اگرچہ تنہا ہے لیکن اس کے سینہ میں جو دل ہے وہ عام انسانوں جیسا نہیں ہے۔ اس کی عالی ہمتی دیکھیے کہ اتنی بڑی مسلح اکثریت کے سامنے تنہا ننگی تلوار لیے کس ثابت قدمی اور فاتحانہ انداز میں اعلان جنگ کررہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مشتق و مغرب کی تمام فوجیں اس کے ساتھ ہیں، وہ تنہا بمنزلہ لاکھوں انسانوں کے ہے۔

کیا آپ نہیں دیکھتے کہ قلعے سے جو سپاہی بھی اس کے مقابلہ کے لیے بھیجا جاتا ہے وہ مقتول ہوکر اس کے گھوڑے کی ٹاپ کے نیچے پڑا نظر آتا ہے۔ جب میں نے ایسی عظیم الشان انفرادیت دیکھ لی تو پھر اے بادشاہ ! آپ کی اس اکثریت سے کچھ بھی نہ بن پائے گا، آپ کثرت عدد کا اعتبار نہ کریں، اصل چیز جمعیت قلب ہے اور یہ قوت اس شخص کے قلب میں بے پناہ اور بہت زیادہ موجود ہے۔ یہ نعمت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب اللہ تعالی کے راستے میں اپنے نفس کے گناہوں والی خواہشات کو کچلنے کے بعد اللہ تعالی کا محبت و عظمت بھرا تعلق حاصل ہوجاتا ہے اور اس نعمت کو تم حالت کفر میں ہرگز حاصل نہیں کرسکتے۔ لہذا تمھارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس جانباز مردمومن کے سامنے ہتھیار ڈال دو اور قلعہ کا دروازہ کھول دو کیونکہ یہ اکثریت بالکل بے کار ہے۔