پروفیشنل کتے (شاہ زمان شمسی)

پروفیشنل کتے (شاہ زمان شمسی)

اکیسویں صدی کے اس دور پرآشوب میں صنعتی انقلاب کا اثر نسل نو کی زندگیوں پر کیا ہو رہا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب نہایت نا گزیر ہے اور جو اثرات انڈسٹریل زندگی نے ہماری عملی زندگی میں مرتب کیے اس کا اثر و نفوذ ہماری زبان و بیان اور تعمیری زندگی کی تشکیل میں کیسا رہا؟

آخر کار ایک یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے طالب علم کو پروفیشنل مقام پر ملازمت کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ایک دانش گاہ یا پھر تدریسی جگہ انسانی کردار اور رویے پر گہرا اثر پیدا کرتی ہے اس کی روشن خیالی شعوری اور اخلاقی سطح کی بلندی کے لیے مختلف علمی و ادبی حلقے اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہیں لیکن جب وہ کسی پروفیشنل ادارے کے ساتھ وابستہ رہ کے اس ادارے کی دی گئی ہدایات پر عمل پیرا ہوتا ہے تو وہ پروفیشنل ادارہ ٹریننگ دینے کے بعد شعور و ادراک، فکر کی بلندی، اور اخلاقی رویوں کو زائل کر کے ایک ایسا پروفیشنل کتا بنا دیتا ہے جس کا مقصد دوسروں کو کاٹ کھانا ہو۔

پروفیشنل کتے زیادہ تر مینیجرز اور ڈائریکڑوں کی شکل میں مختلف فیکٹریوں اور صنعتی جگہوں پر پائے جاتے ہیں ان کا مقصد نئے سے نئے رنگ برنگے کتے تیار کرنا ہوتا ہے کچھ کتے ان میں پالتو اور وفادار ہوتے ہیں جنہیں اپنے تلوے چٹوانے کے لیے مخصوص کر لیتے ہیں اور یہ وہ کتا ہوتا ہے جو تلوے چاٹنے اور بھونکنے کے فن میں اتنا ماہر ہوتا ہے کہ اسے بعد میں کتوں کی رعایا کا حکمران بنا دیا جاتا ہے۔

پروفیشنل کتوں کی اقسام

کھوجی کتے

یہ وہ کتے ہیں جنہیں افسران بالا نے کھوج لگانے کے لیے معمور کیا ہوتا ہے۔ سوائے بھونکنے کے یہ خود تو کوئی کام نہیں کرتے لیکن دوسروں کی کھوج کچھ اس طریقے سے کرتے ہیں کہ دوسروں کو خبر نہیں ہوتی۔

چغل خور کتے

یہ وہ کتے ہیں جو کھوج لگانے کے ساتھ ساتھ محنت مزدوری کرنے والے افراد کی کمزوریوں اور ان کی جائز و نا جائز باتیں اگلوانے کا فن رکھتے ہیں اور تمام باتیں سن کر اپنے ظل سبحانی کے گوش گزار کر دیتے ہیں تا کہ مشقت کرنے والے لوگوں پر ترقی کے دروازے بند ہو جائیں۔

منافق کتے

یہ وہ کتے ہیں جو کبھی کسی کے مخلص نہیں ہو سکتے۔ منافقت کرنے کے فن سے بخوبی واقف ہوتے ہیں دوسروں کی محنت کا کریڈٹ خود لے کر ترقی کی راہ اپنے لیے ہموار کرتے ہیں۔

سفارشی کتے

یہ وہ نسلیں ہیں جو کسی پروفیشنل جگہ پہ چند سال کام کر کے بھید حاصل کر لیتے ہیں پھر یہ اپنی بڑی سفارش کے زعم میں کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتے۔

کام چور سیاسی کتے

ان تمام کے سونگھنے کی حس بہت تیز ہوتی ہے۔ بسا اوقات یہ سونگھتے سونگھتے افسران کی خلوت نشینی میں جا گھستے ہیں، جہاں کوئی مینیجر کسی پری پیکر کی زلف کا اسیر ہوتا ہے پھر یہ اپنے حکمران کو کانا کر کے کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتے۔

شکایتی کٹاوٹ کتے

یہ چرب زبان کتے ہیں اور ان کے لیے اسپیشل ہڈی کا انتظام ہوتا ہے۔ ان کا کام زیادہ سے زیادہ شکایتیں لگانا ہوتا ہے یہ فن شکایت میں اپنی مثال آپ رکھتے ہیں اور اکثر افسران کی رال ٹپکنا اس وقت ختم ہوتی ہے یہ جب کوئی دلچسپ شکایت لے کر ان کے سامنے جاتے ہیں۔

آوارہ کتے

کتوں کے طبقے میں یہ مظلوم طبقہ ہے ان کا ایک الگ جھنڈ ہے۔ یہ کتے ڈر پوک ہوتے ہیں اور محنت کرنے کے ساتھ ساتھ ساتھی کتوں میں بھونک کر اپنا غبار ختم کر لیتے ہیں۔ یہ موخر الذکر تمام کتوں سے نالاں ہوتے ہیں کیونکہ وہ تمام کتے ان پر مسلط ہوتے ہیں اور ڈیوٹی ٹائم تک ان تمام کتوں کی آوازوں کو حلق سے چھین لیا جاتا ہے۔

یہ ہیں پروفیشنل کتوں کی کچھ اقسام اگر آپ میں فن کتا گری کی یہ تمام اوصاف موجود ہیں تو آپ ایک بہترین پروفیشنل کتے ہیں جو محض اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے اپنے اندر کی انسانیت کو مسخ کر چکا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے راستے ہموار ہوتے رہتے ہیں ۔بھونکنے والوں کو سپورٹ ملتی رہتی ہے اپنی روایات سے بغاوت کرنے والا ایک باغی کتا ہی اس دور میں کامیابی کی سیڑھیاں چڑھ سکتا ہے۔

جاب (سارہ عمر)

جاب (سارہ عمر)

تم جاب کیوں نہیں کرتی؟ گھر کیوں بیٹھی ہو؟ جب پتا بھی ہے کہ گھر کے حالات اچھے نہیں ہیں، بڑی بی نے اسے نصیحت کرتے ہوئے کہا۔ آنٹی حالات تو ایسے ہی ہیں ہمیشہ سے، سادگی سے جواب آیا تھا۔ پھر بھی گھر کے حالات کی بہتری کے لیے ہی کر لو جاب، دوبارہ سے مشورہ آیا تھا۔ ان شاءاللہ ہو ہی جائیں گے حالات بھی ٹھیک۔ دعا تو کرتے ہیں، اس نے متانت سے جواب دیا۔ دعا کے ساتھ دوا بھی تو کرنی پڑتی ہے ناں! بڑی بی جوش سے بولیں۔ آج وہ بہت موڈ میں تھیں۔ جی بالکل! امید تو کبھی نہیں چھوڑی، وہ اب بھی دھیما سا بولی۔ جب پتا ہے میاں بے روزگار ہے تو کم از کم بیوی ہی ہاتھ بٹا دے۔ کیا حرج ہے بھلا! نصیحت کی پٹاری میں سے ایک کے بعد ایک نصیحت حاضر تھی۔اگر میاں بے روزگار ہے تو یہ مطلب تو نہیں کہ عورت اپنے گھر اپنی چادر چار دیواری کو چھوڑ دے، اس نے کچھ سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
دیکھو! تمھارے بھلے کی بات ہے ایسے تو گزارا نہیں ہوتا ناں! آنٹی عورت کے گھر سے نکلے بغیر بھی گزارا ہو سکتا ہے، اس نے پھر سے ان کا مشورہ ماننے سے انکار کیا تھا۔ تمھیں بھلا اتنا پڑھنے کا کیا فائدہ ہوا؟ جب گھر میں بیٹھ کے چولہا ہانڈی ہی کرنی تھی؟ بڑی بی جلال میں آ گئیں تھیں۔ آنٹی یہ چولہا ہانڈی تو عورت کا مقدر ہے بھلا جو گھر سے باہر نکلتی ہے سارا دن کھپ کے آتی ہے کیا وہ چولہا ہانڈی نہیں کرتی؟ وہ لاجواب ہوئیں تھیں۔ بھئی تمھیں تو سمجھانے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے۔ بس آج کل تو نیکی کا زمانہ ہی نہیں۔ بچے یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں عقل ہی نہیں۔ دھوپ میں بال سفید کیے ہیں، بڑی بی نے اپنا شٹل کاک برقع سر پہ رکھ کر باہر نکلنے میں ہی عافیت جانی تھی۔
آنٹی! اس نے پکارا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ میری امی کی جاب نے ہم سے ماں کی ممتا چھین لی اور میری جاب نے مجھ سے والدین کی خدمت کا وقت چھین لیا۔ کیا مطلب؟ وہ نہ سمجھی سے اسے دیکھنے لگیں۔ جی جب میں چھوٹی تھی تب سے بڑے ہونے تک میری امی گورنمنٹ جاب کرتیں رہیں۔ ساری زندگی دوسروں کے بچوں کو پڑھا پڑھا کے ڈاکٹر انجینئر بنواتی رہیں مگر اپنے بچوں کے لیے ان کے پاس وقت نہ تھا۔ اسکول میں بچوں کے ساتھ دماغ کھپا کر آتیں تو گھر آ کر ہانڈی روٹی میاں، بچوں، ساس، سسر کے کام۔ ایک چھٹی لوگوں کے آنے جانے ملنے ملانے یا کپڑے دھونے میں نکل جاتی۔ جب میں بڑی ہوئی تو پاس کے پرائیویٹ اسکول میں نوکری مل گئی۔
جو وقت میں نے اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کرنی تھی وہ سارا وقت میں نے جاب کو دے دیا۔ بچوں کو پڑھا پڑھا کےگھر آؤ تب بھی آدھا کام گھر لاؤ۔ کبھی کوئی چارٹ بنانا ہے، کبھی کاپیاں چیک کرنی ہیں، کبھی رجسٹر مکمل کرنے ہیں تو کبھی کچھ اور کام۔ آج شادی ہو کر سسرال آئی ہوں تب بھی میاں اور ساس سسر کو چھوڑ کے کام پہ نکل جاؤں؟ تاکہ میرے سر پہ گھر اور باہر کی دوہری ذمہ داری پڑ جائے۔ بتائیے کے کیا میرا رویہ غلط ہے کہ صحیح ہے؟اس نے آنسووں کی جھڑی میں بات مکمل کی اور بڑی بی کو دیکھا۔ انہوں نے خاموشی سے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا اور اسے اپنے گلے سے لگا لیا۔ ہاں بیٹی تو سچ کہتی ہے اصل نوکری تو یہی ہے، اپنا گھر اور بچے۔