نسل نو تباہی کے دہانے پر (شافعہ افضل)

نسل نو تباہی کے دہانے پر (شافعہ افضل)

انسان اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق میں سب سے زیادہ حیرت انگیز اور باصلاحیت ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کا درجہ اسی لیے عطا کیا کیونکہ یہ سوچ سمجھ سکتا ہے اور اپنے اور دوسروں کے فوائد اور نقصانات کا اندازہ کر سکتا ہے۔ ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہم کسی بھی حالت میں وہ کام نہ کریں جو ہمارے اور ہم سے وابستہ لوگوں کے لیے باعثِ آزار اور نقصان دہ ہو کیوں کہ اس سے معاشرے اور ماحول پر برا اثر پڑتا ہے اور نئی نسل بھی ان ہی باتوں کی تقلید کرتی ہے جو ہم کر رہے ہوتے ہیں۔ 
سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال ہماری نئی نسل کو تباہی کے دہانے تک لے آیا ہے اور ہم جانتے بوجھتے ہوئے انھیں تباہ ہوتے دیکھ کر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کی ذہنی و جسمانی صلاحیتیں بھی سوشل میڈیا کے کثرتِ استعمال سے متاثر ہو رہی ہیں۔ وہ خود سے سوچنے اور سمجھنے کے قابل نہیں رہے بلکہ وہ وہی سوچ، سمجھ اور کر رہے ہیں جو سوشل میڈیا انھیں سکھا رہا ہے۔ ان کی تخلیقی صلاحیتیں پروان ہی نہیں چڑھ پا رہیں کیوں کہ ان کا صحیح استعمال نہیں ہو رہا۔ آج کے دور میں اگر آپ کسی بچّے سے کہیں کہ وہ کسی موضوع پر کچھ لکھے یا تصویر بنائے تو وہ اپنی تخلیقی اور ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے بجائے گوگل سے مدد لینے کو ترجیع دے گا۔ وہ ذہن جو انتہائی زرخیز اور باصلاحیت ہیں انہیں استعمال میں نہ لانے کی وجہ سے وہ کمزور اور بے کار ہوتے جا رہے ہیں۔ 
جسمانی طور پر بچے اس لیے کمزور ہیں کے وہ اس طرح کھیلتے، کودتے اور ورزش نہیں کرتے جیسے پہلے کے دور کے بچّے کرتے تھے۔ آج کے دور کے بچّے اپنا بیشتر وقت موبائل، ٹی وی اور کمپیوٹر پر صرف کرتے ہیں۔ ایک ہی جگہ گھنٹوں بیٹھے بیٹھے وقت گزار دیتے ہیں۔ اس طرح ان کا آپس میں وہ تعلق نہیں بن پاتا ہے جو پہلے کے دور کے بچّوں کا ہوا کرتا تھا۔
پہلے کے دور میں مائیں سوتے وقت یا کھانا کھاتے وقت بچّوں کو سبق آموز کہانیاں یا بزرگانِ دین کے واقعات سنایا کرتی تھیں جس سے وہ بہت کچھ سیکھتے تھے۔ آج کے دور کی مائیں ان کے ہاتھ میں موبائل پکڑا کر اپنے فراض سے بری الذّمہ ہو جاتی ہیں۔ آپس میں تعلق نہ ہونے کی وجہ سے بچّوں میں برداشت اور تحمّل بھی پیدا نہیں ہوتا اور نہ انھیں یہ سمجھ میں آتا ہے کہ مختلف لوگوں اور مسائل سے کس طرح نمٹنا ہے۔ اسی لیے آج کے دور کے بچّے آگے بھی مضبوط رشتے قائم نہیں کر پاتے۔ تعلقات کو نبھا نہیں پاتے۔ طلاق اور علحیدگی کی شرع میں اضافے کی بھی یہی وجوہات ہیں۔ 
سوشل میڈیا کے اثرات اس قدر
دیرپا اور شدید ہیں کہ بچّوں کی زندگیاں تبدیل ہو کر رہ گئی ہیں۔ پہلے کے دور میں جس عمر میں بچّے بے فکری کی زندگی گزارتے تھے اور گھریلو معاملات اور سیاستوں سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا تھا اب وہ ہر معاملے اور مسئلے میں شامل ہوتے ہیں۔ چھوٹی عمر میں ہی ان کی سوچ پختہ اور ذہن الجھ جاتے ہیں۔ وہ ذہنی تناؤ کا شکار رہتے ہیں۔ غرض یہ کہ بچّوں سے ان کی معصومیت اور بچپن چھن گیا ہے اور یہ انتہائی افسوس ناک صورتِ حال ہے۔ نامناسب باتیں دیکھنے اور سیکھنے کی وجہ سے ان کے رویّوں، سوچ اور اعمال میں جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ان کی وجہ سے معاشرے میں برائیاں اور جرائم میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ کم عمر بچّے وہ باتیں اور حرکتیں کرتے ہیں جن کے بارے میں پہلے کے دور کے بڑے بھی نہیں سوچ سکتے تھے۔ خاندانی وقار، رکھ رکھاو اور تہذیب کے محض نام باقی رہ گئے ہیں حقیقت میں یہ اب کہیں نہیں ملتیں۔ 
ہم معاشرتی طور پر جس تنزلی کا شکار ہو چکے ہیں اس کو روکنا ہمارے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ اس کا حل صرف یہی ہے کہ ہم اپنے اصل اور اپنے دین کی طرف واپس لوٹیں اور اپنے بچّوں کو صحیح اور غلط کا فرق سمجھائیں۔ جب ہم خود کو تبدیل کریں گے تب ہی اپنی نئی نسل کو تبدیل کر پائیں گے اور ان کی بہتر تربیت کر سکیں گے ورنہ ہمیں مکمل برباد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ 
میں صحافی ہوں! (عارف رمضان جتوئی)

میں صحافی ہوں! (عارف رمضان جتوئی)

حقیقت سے پرے مصنوعی سماجی شہر (سوشل میڈیا) کی دیوار پر لکھا تھا ”نامعلوم مسلح ڈاکوشہری کو لوٹ کر نامعلوم سمت میں فرار ہوگئے“۔ تفصیلات میں شہری بھی نامعلوم رہا اور ذرائع بھی نامعلوم رہے۔ جس کے بعد خبر کچھ یوں بن گئی ”نامعلوم مسلح ڈاکو نامعلوم شہری سے نامعلوم رقم لوٹ کر نامعلوم سمت فرار ہوگئے“۔ ایک اور خبر اسی دیوار کے نیچے پھر دیکھی ”۔۔۔ لڑکی کو اس کے بچے کے سامنے قتل کردیا گیا“۔ پھر کچھ روز بعد پھر وہاں سے گزر ہوا تو ایک اور خبر کی سرخی چسپاں تھی ”15برس کے بچے کی لاش برآمد“۔

مصنوعی سماجی شہر تھا اس لیے سوچا اس پر کیا بات کرنی، میں واپس دھول مٹی والے اپنے حقیقی شہر میں لوٹ آیا۔ نظریں نیچی رکھنے کی تاکید کے باوجود دل کے بالغ رویوں سے مجبور ادھر ادھر تاڑتے ہوئے سڑک کنارے لگے اسٹال پر منہ لٹکے اخبار کی ایک سرخ دکھائی دی۔ مہان اخبار کے عظیم سب ایڈیٹر نے بڑی مہارت سے سرخی جمائی ہوئی تھی۔ ”دفاعی بجٹ سے متعلق فوج کے ”سپاہ سالار“ کا بڑا اعلان“۔ سرخی پڑھ کر پہلی بارنظریں نیچی رکھنے والی تاکید پر سختی سے عمل کرنے کا احساس جاگا۔ اگر میں خود اخبار سے منسلک نہ ہوتا تو شاید مجھے اس وقت سرخی پر ندامت نہ ہورہی ہوتی۔ یہ تو میرے اپنے ہی پیٹی بھائی کی قائدانہ صلاحیتیوں کا ثمر تھا۔

پھر مجھے احساس ہوا کہ شاید میں غلطی پر ہوں، دراصل حقیقت کا ادراک ہوتے ہی ندامت کی جگہ میرا سینہ چوڑا ہوگیا۔ سب ایڈیٹر کو سلام پیش کرنے کو دل چاہا۔ موصوف کی ماہرانہ صلاحیتیں مجھ پر آشکارہ ہوچکی تھیں۔ ”سپاہ سالار کا اعلان اس قدر بڑا تھا کہ انہیں ایک بار فوج لکھنا کم لگا، فوج اور سپاہ سے اعلان میں وزن بڑھ گیا“۔ اتنی سی بات میری سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سربراہ پاک فوج کا بجٹ میں اضافہ نہ لینے کا اقدام قابل تحسین ہے۔ یہاں تو ہم اپنے سب ایڈیٹر کی ماہرانہ صلاحیتوں پر دکھی ہوئے بیٹھے ہیں۔ فوج عربی کا، سپہ فارسی کا لفظ ہے، لیکن مطلب دونوں کا ایک ہی ہے۔

مجھے مصنوعی سماجی شہر کی دیواروں پر لکھی سرخیوں پر اعتراض ہرگز نہیں تھا۔ کل ملا کر بات اتنی تھی کہ ”اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں“۔ جب گلی محلے میں ہر شخص صحافت کی اپنی برانچ کھول لے گا تو تھوک کے بہاﺅ رپورٹر مل ہی جائیں گے۔ اسی تعداد میں سب ایڈیٹر اور ایڈیٹر بھی دستیاب ہوں گے۔ ایسے میں بچے کے سامنے قتل ہوتی ماں لڑکی ہی دکھائی دے گی، نامعلوم سے نامعلوم تک کا یہ سفر ایسے طے ہوجائے گا کہ سڑک سے پرنٹنگ تک سب کچھ نامعلوم ہی رہے۔ اخبار کے ادارے کو سیکورٹی کے نام پر رپورٹر چار روپے زیادہ دے کر آئے تو اسے اپنے جوان لڑکے کی طرح ہر 15برس کا لڑکا معصوم بچہ ہی لگتا ہے۔ میرے جیسے جمعہ جمعہ 8 دن والے صحافی اخبار کی فیلڈ میں بھرے پڑے ہیں۔ جب ایسا ہو تو پھر سرخیاں ”گرمی کے ستائے شہری ساحل سمندر کے کنارے نکل آئے“ ہی ملتی ہیں۔ ورنہ تو سمندر کا کنارہ اور ساحل کچھ الگ نہیں ہیں۔

علی احمد ساگر کی تحریر میں ایک دلچسپ واقعہ پڑھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”ایک صحا فی تانگے پر سفر کر رہا تھا جب وہ اپنی منزل پر پہنچا اور”کوچوان“ نے کرا یہ مانگا تو صحافی نے اپنا پریس کارڈ نکال کرپیش کردیا اور ساتھ ہی کہا کہ ”میں تو رپوٹر ہوں“۔ ”کوچوان“ نے اپنے گلے میں لٹکا کارڈ نکالا اور پیش کرتے ہوئے ”تم صرف رپورٹر ہو میں تو بیورو چیف ہوں“۔

یہ واقعہ فرضی بھی ہوسکتا ہے مگر حقیقتیں بھی کئی گھوم رہی ہیں۔ اس سے دو باتیں سمجھ میں آتی ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ پہلی بات تو یہ کو کوچوان بیوروچیف بن بیٹھا یا پھر بیور و چیف مشکل حالات سے تنگ آکر کوچوان بھی بن گیا۔ جو بھی ہے دونوں صورتوں میں نقصان تو صحافت ہی کا ہورہا ہے۔ ایسے کئی لوگ ہیں جن کا پیشہ کچھ اور ہے (اس اور میں بہت کچھ ہے) مگر وہ عظیم صحافی بنے ہوئے ہیں چونکہ وہ ادارے کو کما کر دے سکتے ہیں تو اچھے صحافی بن چکے ہیں۔

موجودہ حالات نے بھی صحافت میں مجھ جیسے ایسے کئی صحافی اور ایڈیٹر پیدا کیے ہیں جن کی حیثیت خود ایڈیٹر، سب ایڈیٹر یا انچارج کے چپراسی جیسی ہے۔ مالکان پیسے دیتے نہیں، ایڈیٹر کو مجبورا انچارج کو لمبی رخصت پر بھیجنا پڑتا ہے۔ ایڈیٹر کے جاتے ہی اس کرسی پر سب ایڈیٹر تشریف فرما ہوتا ہے۔ پیج انچارج کے جاتے ہی پیج میکر اور کمپوزر انچارج بن جاتا ہے۔ ادارہ بڑی رقم سے بچ جاتا ہے اور یوں صحافت میں میرے جیسے نااہل فرد کو نمایاں جگہ مل جاتی ہے۔ بعد ازاں متعلقہ جگہ اور اس کی حیثیت کا جو حشر ہوتا ہے وہ مذکورہ سرخیوں میں نمایاں ہے۔ یہ تو معمولی غلطیاں ہیں یہاں ایسی بے شمار غلطیاں اور بھی ہوتی ہیں جن کو ذکرکرتے صحافت بیچاری شرما جائے۔ حواس باختہ کی جگہ حیا باختہ چلا جائے تو یقینا منہ چھپانے کی جگہ ڈھونڈنی پڑے مگر کبھی اس نوعیت کی غلطی کو سنجیدہ لینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی۔ اس سنجیدگی کے لیے بھی تو اہل دل ہونا چاہیے ہے۔

آخر میں میرے عزیز صحافی دوستو۔۔
یہ پیشہ عظیم ہے اس کی تعظیم کیجیے۔ یہ اتنی بڑی ذمے داری ہمارے کمزور کندھوں پر ہے تو اس کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کیجیے۔ مانا نااہل ہیں مگر کیا ہوا اب سنبھالنا بھی تو ہم ہی کو ہے۔ ادارہ نہیں پوچھتا نہ پوچھے مگر صحافتی رویوں کا خیال رکھنا ہماری ترجیح ہونی چاہیے۔ جس غلطی کو ہونا ہے وہ تو ہوگی چاہیے کتنے ہی پروف ریڈر بٹھا لیے جائیں مگر ایسی غلطی نہ ہو جس سے اپنی نااہلی کا پردہ فاش ہو۔ کوشش کر کے ان باتوں پر دھیان دیجیے کہ لفظ خود بہت کچھ بولتے ہیں۔ مانا ماں کے پیٹ سے سب سیکھ کر نہیں آتے مگر لکھنے سے پہلے پڑھنے کا رجحان بڑھانا ہوگا۔ جو سمجھ میں نہیں آرہا وہ پوچھ لینے میں حرج نہیں، بجائے اس کے کہ وہ جگ ہنسائی کا سبب بنے۔

میں اپنے استاد کی ڈانٹ سے بہت ڈرتا ہوں مگر جانتا ہوں ان کابتایا ہوا ان کے نہیں میرے کام کا ہے۔ آپ کے اردگرد کوئی ایسا شخص موجود ہوگا جس سے آپ یہ سب وصول کرسکتے ہیں۔ اپنی صحافت کو معیاری بنائیں۔ غلطی ہونا اور جان بوجھ کر غلطی کرنے میں فرق ہے اور وہ فرق آپ خود ختم کرسکتے ہیں۔ ذیل میں کچھ چیزیں دے رہا ہوں۔ یہ میرے اپنے لیے ہیں کہ شاید میں خود ان کو سمجھ سکوں۔ آپ بھی لازمی ان باتوں کو اپنائیں۔ یہ اطہر ہاشمی کے کالم ”خبر لیجیے زبان بگڑی“ سے پیش کیے جارہے ہیں۔

سب سے زیادہ رائج غلطی ”سوااور علاوہ“ کے استعمال میں کی جا رہی ہے ۔ دونوں الفاظ کا اصل مفہوم ایک دوسرے کے الٹ ہے۔ اگرچہ ”سوا“ کے بجائے ”علاوہ“ کا لفظ استعمال کرنے سے بعض اوقات کام چل جاتا ہے لیکن اصل میں یہ غلط ہوتا ہے۔ مثلاً اس جملے کو دیکھئے ”اسلام کے علاوہ دیگر تمام نظام کفر و شرک کی دعوت دیتے ہیں“۔ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ نعوذ باللہ اسلام بھی کفروشرک کی دعوت دیتا ہے۔ صحیح عبارت یوں ہونی چاہیے تھی ”اسلام کے سوا دیگر تمام نظام کفرو شرک کی دعوت دیتے ہیں۔ علاوہ میں سب شامل ہیں، سوا میں اسثتنا ہو جاتا ہے۔

ارسال اور روانہ کی غلطی۔ اکثر سنا ہوگا خط روانہ کرنے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ارسال کا لفظ کسی غیرمتحرک یا بے جان چیز کو بھیجنے کے لیے استعمال کرنا صحیح اور روانہ کا لفظ جاندار یا متحرک چیز کو بھیجنے کے لیے استعمال کرنا صحیح ہے۔ مثلاً خط ارسال کیا جاتا ہے جبکہ قاصد روانہ کیا جاتا ہے۔ لفظ ”عوام“ کا بطور مونث استعمال کرنادرست نہیں ہے۔ ”عوام بولتی نہیں“ یا ”عوام فیصلہ کرے گی“۔ لفظ عوام کو مذکر کے طور پر جمع کے صیغے میں استعمال کرنا صحیح ہے۔
افشا بھی عام غلطی ہے۔ ”راز افشاں ہوگئے“۔ افشا اور افشاں میں فرق ہے۔ درست لفظ افشا ہے، الف بالکسر کے ساتھ۔ ت اور ط کے استعمال میں بھی غلطی ہوتی ہے۔ ”وتیرہ“ کو وطیرہ لکھا جاتا ہے۔ یہ عام غلطی بن چکی ہے۔ اسی طرح سے ”ناتا“ کو ”ناطہ“ لکھنا بھی غلط ہے۔ وتیرہ اگرچہ عربی کا لفظ ہے مگر پھر بھی ”ت“ کے ساتھ لکھا جائے گا۔ ”ناتا“ ہندی کا لفظ ہے اور ہندی میں ”ط“ کا استعمال نہیں ہے۔

بیزار آنا بھی لکھا جاتا ہے۔ بیزار فارسی کا لفظ ہے اور اس کو ہونا چاہیے۔ یعنی بیزار ہونا لکھا جانا چاہیے۔ اسی طرح ”لاپروائی یا بے پروا“ اس کو بھی غلط لکھ کر آخر میں ”ہ“ لگا دیا جاتا ہے۔ یعنی پرواہ لکھ دیا جاتا ہے جو کہ غلط ہے۔ ایسے کئی الفاظ ہیں جنہیں صحافی اور قلم کار حضرات و خواتین بے دھڑک لکھے جارہے ہیں۔ لکھیے ضرور مگر پڑھیے بھی اور اچھا پڑھیے تاکہ اچھا لکھ سکیں۔

یہ میرا دکھڑا تو تھا اپنے جیسے پرنٹ میڈیا کے نااہلوں کا، ایک بڑی روشن دنیا بھی ہے جسے الیکٹرونک دنیا کہا جاتا ہے۔ وہ پڑھنے لکھنے سے زیادہ بولنے پر توجہ دیتے ہیں۔ بڑے لوگ بڑی باتیں مجھ جیسا ناکارہ بندہ کیا کہہ سکتا ہے۔ حیدر علی آتش صاحب کا شعر سنانے کو دل مچل رہا ہے۔ یہ تو ویسے سنارہا ہوں اپنے دل ناداں سے مجبور ہوکر، کوئی دل آگاہ اس پر دل گرفتہ ہرگز نہ ہو، وہ کہتے ہیں کہ

لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا۔۔۔!

اب ایک پرانہ واقعہ بھی سن لیجیے۔ جس زمانے میں اردو اخبارات میں خبریں انگریزی آتی تھیں اور سب ایڈیٹرز ترجمہ کرتے تھے۔ ایک خبر یوں شائع ہوئی، ”12سال کی بوڑھی لڑکی حادثے کا شکار ہوگئی“۔ نیوز ایڈیٹر نے پوچھا کہ یہ کیا لکھا ہے۔ تو اس نے انگریزی کی خبر دکھا دی جس میں صاف لکھا تھا

”Twenty years old girl”

اب ہم نے تو اولڈ   کا ترجمہ بوڑھی یا بوڑھا ہی پڑھا تھا۔

بچہ آپ سے سیکھتا ہے (آصف اقبال)

بچہ آپ سے سیکھتا ہے (آصف اقبال)

ہمارے بڑے بوڑھے ایک جملہ کہا کرتے تھے، ”اولاد کو کھلاو سونے کا نوالہ مگر دیکھو شیر کی آنکھ سے“۔ اس کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ اولاد کو ہر ہر آن، ہر گھڑی ایک نظر سے نہ دیکھا جائے، جب سختی کا موقع ہو تو اس پر سختی کی جائے اور جب بہلانے پھسلانے کا موقع ہو تو اس کے مطابق رویہ اختیار کیا جائے۔ اگر خلاف موقع رویہ اختیار کیا گیا تو یقینا اولاد والدین کے گرفت سے باہر ہو چکی ہوگی۔

دنیا میں اللہ کہ جتنی نعمتیں ہیں، ان میں ہر نعمت اپنی جگہ گراں قدر اور قیمتی ہے۔ اگر بندہ ساری زندگی سر بسجود رہے، تب بھی اس رب لم یزل کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر بجا لانے سے قاصر رہے گا لیکن ان تمام نعمتوں میں ایمان اور زندگی کے بعد سب سے بڑی جو نعمت ہے وہ ”اولاد کی نعمت ہے“۔ اولاد انسان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا قرار ہوتی ہے، اسی سے خاندانی سلسلہ باقی رہتا ہے۔

اولاد کی چاہت ایک فطری خواہش ہے، جو اللہ رب العزت نے انبیاءعلیہم السلام کے اندر بھی رکھی ہے۔ جیسا کہ سورة الصافات میں اللہ رب العزت نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت ذکر کیا کہ، ”سیدنا ابراہیم علیہ السلام بڑھاپے کی عمر میں ہیں، بظاہر اولاد کی کوئی امید نہیں لیکن دل میں آرزو لیے رب کی بارگاہ میں اپنی فریاد رکھ رہے ہیں اور یہ فریاد سنی جارہی ہے اور بالآخر ”وبشرنہ باسحاق“ کہہ کر اولاد کی نعمت سے نوازا جا رہا ہے۔دوسری طرف حضرت زکریا علیہ السلام ہیں، بوڑھے ہوچکے ہیں۔ بظاہر اولاد کا کوئی امکان نہیں مگر جب حضرت مریم علیہا السلام کے پاس بے موسم پھل نظر آئے تو امید کی کرن پیدا ہوئی اور بارگاہ خدا میں تمنا ظاہر کی تو حضرت یحییٰ علیہ السلام سے نوازے گئے۔ معلوم ہوا کہ اولاد کی خواہش تقوی اور للہیت کے خلاف نہیں ہے مگر اس نعمت کے حصول کے بعد اس نعمت کی حفاظت یہ بنیادی مقصد ہے۔

یاد رکھیں! والدین کے لیے اولاد کے مزاج کو سمجھنا نہایت ضروری ہے وگرنہ ایک ہی لاٹھی سے سب کو ہنکایا جائے تو سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ اگر اولاد جائز خواہشات رکھتی ہے تو اسے ضرور پورا کرنے کی کوشش کریں، اپنی سہولت کی خاطر اس کے جذبات کو مجروح نہ ہونے دیں۔ اگر ایسا نہ کیا اور ہر بات کا جواب ”نہیں“ سے دیا تو سوچ لیں کہ وہ آپ کے جذبات اور احساسات کے وقت آپ کے سوالوں کا جواب ”نہیں“ سے دینے کا عادی ہوتا جائے گااور اگر اولاد ناجائز مطالبات منوانے کی ٹھان لے، تو فورا انکار کی راہ اختیار نہ کریں بلکہ اس کی آرزووں اور تمناوں کو اس طرح دبادیں کہ آپ کی اولاد یہ ہرگز محسوس نہ کرے کہ میری بات نہیں مانی جاتی، میرا خیال نہیں رکھا جاتا۔

ایک دوسری اہم بات یہ ہے کہ ”بچہ آپ سے سیکھتا ہے“ یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب آپ اس کو سکھانے کے لیے تیار ہوں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ اولاد کو وقت دیں۔ ان کے پاس بیٹھیں، ان کو اپنے پاس بٹھائیں، حتی الامکان بچوں کو اپنے سے دور نہ رکھیں ۔ اگر آپ اپنے بچوں کو خود سے دور کریں گے، تو وہ دوسری چیزوں میں انسیت تلاش کرے گا کیوں کہ بچے کی فطرت یہ ہوتی ہے کہ وہ ممانست چاہتا ہے۔ وہ کسی کا ساتھ چاہتا ہے۔ اگر اچھوں کا ساتھ میسر نہ آئے تو بروں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے، اس طرح وہ دوسرے کے ہاتھوں کا کھلونا بن سکتا ہے۔ جیسا کہ موجودہ دور میں بچے ٹی وی، نیٹ، اس سے آگے اب فیس بک اور دوسری ایسی سرگرمیوں کو اپنا مسکن سمجھتے ہیں، جو ان کے عمر کے مناسب نہیں ہوتی۔ اس کی بنیادی وجہ والدین کا اپنے بچوں کو وقت نہ دینا ہے، اس لیے اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو کہ موجودہ معاشرے میں بچوں کی صحیح تربیت کا کریڈٹ جہاں والدین کو جاتا ہے تو وہیں ان کے بگڑنے کی ایک بہت بڑی وجہ خود والدین ہوتے ہیں۔

کتاب سبق آموز کہانیاں (ملک شفقت اللہ)

کتاب سبق آموز کہانیاں (ملک شفقت اللہ)

انسانی دماغ ترقی کر رہا ہے، انسان آگے بڑھ رہا ہے اور روح تنزلی کی جانب گامزن ہے۔ ہنوز کے سارے فلسفے اور کتابچے مل کر بھی روح کی غذا نہیں بن پا رہے۔ علم کے حصول کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی، معاشرتی توازن برقرار رکھنے کیلئے فطری تقاضوں کو اہمیت اور فوقیت دینی چاہئے۔ وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے جو فطرت سے دور ہونے کی کوشش کرے یا فطرت کے مقابل سوچے۔جیسے اللہ کی قدرت لا محدود ہے ویسے ہی انسان کی کمزوری اور بے بسی بھی لا محدود ہے۔ انسان اللہ کا نائب ہے، لیکن اس کے ہاتھ خالی ہیں۔ انسان کو اپنی سوچوں پر نظر رکھنی چاہئے، کوشش کرنی چاہئے کہ اس کی سوچیں درست ہوں۔ کوشش ایک کھلونا ہے، انسان کو بہلانے کا، اس کو اعتماد عطا کرنے اور اس پر ایک بڑا بھید کھولنے کا۔ یہ بھید انسانیت سے آدمیت کا سفر طے کرنے کے بعد کہیں جا کر کھلتا ہے، جہاں گماں اور شکووں کے اندھیرے تجسس اور علم کی روشنی سے مٹ جاتے ہیں۔ بے شک آدمیت کی منزل پر پہنچنے کے بعد ہی اسرار کائنات و آگہی کسی پر کھل سکتے ہیں۔

ایسے لو گ اللہ کے بہت پیارے ہوتے ہیں۔ بہت خوش نصیب ہوتے ہیں جو قدرت کی طرف سے چنے جاتے ہیں۔ جنہیں پہلے ایک صلاحیت دی جاتی ہے، پھر جب اس کا دل نرم اور محبت سے لبریز ہو جائے تو اس صلاحیت سے اسے روشناس کروانے کے ساتھ ساتھ اسے نکھارا جاتا ہے۔اور پھر ایک انجانے سفر پر چلانے کے بعد قدرت خود ہاتھ تھام لیتی ہے۔ میرے ہاتھ میں ”سبق آموز کہانیاں 2“کے عنوان سے کتاب ہے جو میرے زیر مطالعہ ہے۔ اسکے مصنف عارف محمود کسانہ ہیں۔ عارف محمود کسانہ کی ذات، ان کے دل میں شفاف محبت، ان کا ملی جذبہ مجھ پر کبھی عیاں نہ ہوتا اگر یہ کتاب مجھ تک نہ پہنچی ہوتی۔ عارف محمود کسانہ بیک وقت صحافی، کالم نگار، سویڈش صحافتی تنظیم کے سر گرم کارکن ہیں۔
سبق آموز کہانیاں کی کتاب پہلے بھی شائع ہو چکی ہے جسے دنیا بھر میں بے حد پذیرائی ملی یہاں تک کہ متعدد زبانوں میں اس کا ترجمہ کیا جا چکا ہے جبکہ سبق آموز کہانیاں 2 کے تراجم بھی ہو رہے ہیں اور کئی زبانوں میں مکمل بھی ہو چکے ہیں۔ اس کتاب کی اشاعت میں نگرانی بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیبوں، دانشوروں اور مصنفوں نے کی ہے جو اس کتاب کے حوالوں اور نثر کے صحیح ہونے کی سند ہے۔ دو ر جدید سائنسی، مادی، فرقہ بندی و مسلکی، تہذیبی و ثقافتی، لبر ل ازم کے الحاد، سیکو لر ازم کی جنگ اور کمیونزم جیسی لعنت کے مسائل سے دو چار ہے۔ دینی ثقافتی اور قومی تشخص کے سوالات اٹھتے ہیں! ان سب سے بڑا اور پریشان کن مسئلہ بچوں کی اس وقت اسلامی طرز پر تربیت کا ہے۔

عارف کسانہ بچوں کیلئے نبی مکرم ﷺ کی سنت پر محبت سے سرشار ہیں۔مصنف فرقہ بندی، رنگ و نسل اور ذات برادری سے ہٹ کر قصص الانبیا کے حوالوں سے انتہائی سلیس زبان میں بچوں کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔قرآن پاک انتہائی ممتاز، نا قابل تردید اور آخری ذریعہ ہے جو تمام زندگی پر محیط ہے اور انفرادی اجتماعی مسائل کیلئے بھرپور ہدایت فرماتا ہے۔مشاہدات اور تجربات سے اخذ کیا گیا ہے کہ ابتدائی سال بچوں کی ذہنی، جذباتی، نفسیاتی اور جسمانی نشو نما کیلئے انتہائی اہم ہیں۔ دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے اور اس گلوبلائزیشن میں عالم فانی کے مسلمان اپنی تہذیب و تمدن کے غماز ہیں۔ دین کے اصل مفہوم اور حسن و کشش کو فرقہ وارانہ اختلافات، تنگ نظری اور اسلام دشمن ماحول نے بری طرح مسخ کیا ہے۔ مصنف انگریزی میں تعلیم حاصل کرنے، انگریزی اداروں کے ساتھ منسلک ہونے اور گوروں کے درمیان رہنے کے باوجود باکمال اردو دان ہیں۔

کتاب کی نثر با معنی، سلیس اور ہر خاص و عام کو سمجھ آنے والی ہے۔انشا ئیہ کا انداز ایسا ہے کہ قاری سمجھتا ہے جیسے مصنف خود اس کے ساتھ متکلم ہے۔یہ انداز تحریر مصنف کے معلم ہونے اور بہترین مبلغ ہونے کا عکاس ہے۔قاری اپنے کان، زبان اور آنکھوں سے لفظوں کو اپنے دل میں اترتا ہوا محسوس کرتا ہے۔کوئی بھی نقطہ ایسا نہیں رکھا گیا جو کسی بحث میں الجھاتا ہو یا بحث طلب بن جائے، جو ان کی عقل و فہم کی ایک عمدہ مثال ہے۔ان کی دانش کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہر کہانی کے آخر میں انتہائی نرمی اور محبت سے منصفانہ پیغام سبق کے انداز میں دیا گیا ہے۔ اس تبلیغ و ترغیب کے عمل میں جہاد باالقلم کرنے پر میں مصنف کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ ان کیلئے اللہ سے دعا گو بھی ہوں کہ اس عمل میں انہیں استقامت عطا فرمائیں اور قبولیت کا شرف بھی بخشے۔اس سائنسی و ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں بچے کتابوں سے دور بھاگتے ہیں وہیں مصنف نے بچوں کو کتابوں سے جوڑنے کیلئے انشائیہ کو کہانیوں کی صورت میں اختصار سے رقم کیا ہے، ان کہانیوں کی تعداد بیس ہے لیکن یہ کہانیاں سماجت، دین، معاشرت نیز زندگی کے کئی بیشتر پہلوؤں کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

مکالماتی انداز نے تحریروں میں متاثر کن صفت رکھی ہے۔جہاں ہماری نوجواں اور نوزائیدہ نسل لبرل معاشرے اور مغربی تہذیب و ثقافت کی طرف راغب ہورہے ہیں اور اسے اپنے وجود میں ڈھال کر اسلام کے فرائض پر بے ہودہ اور لا یعنی سوالات اٹھاتے ہیں وہیں مغرب میں رہتے ہوئے،پنپتے ہوئے ان سوالوں کا جواب مصنف نے انتہائی شائستگی سے لکھے ہیں جو ان کی قلبی وسعت اور مثبت سوچ و فکر کے غماز ہیں۔ان کی یہ سوچ ہر کہانی میں صاف جھلکتی ہے۔ مصنف اپنی کہانیوں کی اس کتاب میں موجودہ دور کا سب سے اہم مسئلہ زیر بحث لائے ہیں اور اس بارے میں نو مولود ذہنوں میں اٹھتے ہوئے سوالات کا مدلل جواب دیا ہے۔ انہوں نے لفظ جہاد اور دہشتگردی میں تمیز کر کے دکھائی ہے۔ کس طرح دہشتگردی انتہائی ابتر اور جہاد اللہ کے نزدیک بالا تر حیثیت کا حامل ہے۔ جہاد کا مطلب انتہائی احسن طریقے سے سمجھایا ہے اور ساتھ اس دنیا کو پیغام بھی پہنچایا ہے جو جہاد کی وجہ سے اسلام کے ساتھ دہشتگردی کا لفظ نتھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی اہم موضوع تھا جسے زیر بحث لا کر اس خوبصورت انداز میں وضاحت کرنا وقت کی اہم ضرورت تھی۔ کتاب میں موجود جہاد کے متعلق کہانی کے پڑھنے کے بعد ہر وہ بچہ اور بڑا جو لبرل اور الحادی معاشر ے میں پروان چڑھ رہا ہے اسلام کے معنی کو مسخ کرنے والوں کے ہر سوال کا جواب دے سکتا ہے اور ساتھ ہی اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان بھی کامل کرتا ہے۔

اس دیدہ دلیری پر میں عارف محمود کسانہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کروں گا۔یہ میڈیا کا دور ہے، الحادی طاقتیں اس میڈیا پر حاوی ہو چکی ہیں اسی لئے وہ بچوں کے دماغوں سے کھیلتی ہیں۔ ابتدائی عمر کے ذہن جو دیکھتے اور سنتے ہیں اس پر سوال اٹھاتے ہیں جن کے جواب میں جہاں والدین کو مشکل ہوتی تھی وہیں سبق آموز کہانیاں اپنے دامن میں جوابات کا سمندر رکھتی ہے اور ہر سوال کے جواب کیلئے معان و ممدو ثابت ہو گی۔اس کہانیوں کے مجموعے میں ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ جہاں مصنف نے اسلاف کی شان اور ان کی ترقی و کامرانیوں کے بارے میں انتہائی جامع بحث کی ہے وہیں دور حاضر میں مسلمانوں کی تنزلی اور ذلت و رسوائی کی وجوہات کیا ہیں کو بھی زیر بحث لائے ہیں۔ظالم و جابر مسلمان حکمرانوں اور دین میں بدعتیں شامل کروانے والے حکمرانوں کے بارے میں وہ باتیں بتائیں ہیں پڑھنے کے بعد بچے تاریخ کرنے والے لوگوں اور جابر و ظالم حکمرانوں کو جو مسلمانوں کا ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے کا مدلل جواب دے سکتے ہیں۔اور کسی بھی ایسی فرقہ وارانہ مذہبی تعصب کے جال میں پھنسنے سے بچ سکتے ہیں، عصر حاضر میں دین کی ایسی خدمت بے حد ضروری تھی۔سبق آموز کہانیاں 2 کتاب کو نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد نے شائع کیا ہے اور ان کے تمام ڈیلرز کے پاس یہ کتاب جو 170 صفحوں پر مشتمل ہے صرف 150 روپے کی تعارفی قیمت میں دستیاب ہے۔ یہ قیمت ہر طبقے کی رسائی میں ہے اور میں تمام والدین سے کہوں گا کہ وہ اس کتاب کو ضرور اپنے گھر میں رکھیں، ہے تو بچوں کیلئے لیکن ہر عمر کے افراد اس سے بھرپور مستفید ہو سکتے ہیں۔ آخر میں مصنف عارف محمود کسانہ کیلئے ڈھیروں خیرو برکت کی دعائیں۔