کانگو وائرس کیا ہے، بچاﺅ کیسے ممکن (ڈاکٹر صدف اکبر)

کانگو وائرس کیا ہے، بچاﺅ کیسے ممکن (ڈاکٹر صدف اکبر)

کانگو وائرس جسے دماغی بخار کہا جاتا ہے، اس کا سائنسی نام کریمین کانگو بخار ہے۔ اس کی مزید 4 اقسام ڈینگو، ایبولا، لاسا اور فٹ ویلی وائرس ہیں۔ یہ وائرس سب سے پہلے 1944ءمیں کر یمیا میں دریافت ہوا جس کی وجہ سے اسے کریمین ہیمرجک بخار بھی کہتے ہیں۔ یہ مرض جانوروں خصوصاََ بھیڑ، بکریوں ، گائے ، بھینسوںاور اونٹ وغیرہ کی جلد پر پائے جانے والے ایک خاص قسم کے چیچٹر Ticks کے کاٹنے سے پھیلتا ہے جو جانور کی کھال سے چپک کر خون چوستا رہتا ہے۔ اگر یہ چیچڑکسی انسان کو کاٹ لے یا وائرس زدہ مریض یا جانور کے خون اور دیگر جسمانی رطوبتوں مثلاً خون، پیشاب، فضلے او ر تھوک وغیرہ سے متا ثر ہو جائے تو بہت حد ممکن ہے کہ متاثرہ شخص کم وبیش سات دن تک بیماری کی حالت میں رہنے کے بعد دم توڑ جاتا ہے۔ اس بیماری کی سب سے خطرناک اور تشویش دہ بات یہ ہوتی ہے کہ یہ مریض کو چھونے یا اس کے استعمال شدہ اشیاکو بھی استعمال کرنے سے ایک فرد سے دوسرے میں با آسانی منتقل ہو سکتی ہے۔

کانگو بیماری کی اہم علامات میں شدید تھکاوٹ، بخار، الٹی، بے چینی، بے ہوشی، پٹھوں میں شدید کھینچائوں اور قوت مدافعت میں کمی شامل ہیں۔ متاثرہ شخص سب سے پہلے بخار میں مبتلا ہوتا ہے اور پورے جسم میں درد کے ساتھ ساتھ سرمیں بھی شدید درد شروع ہو جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ الٹیاں بھی شروع ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے مریض شدید تھکاوٹ اور کمزوری محسوس کرتا ہے ۔یہ کیفیت 5 سے 6 روز تک برقرار رہتی ہے ۔ اس دوران مریض کی بھوک بالکل ختم ہو جاتی ہے ۔ بخار کی شدت میں عموماََ 3 سے 4 روز میں کمی آجاتی ہے لیکن اس کے بعد بخار دوبارہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔ چہرے سمیت پورے جسم میں چھوٹے چھوٹے سرخ رنگ کے دانے نکل آتے ہیں۔ پورا منہ چھالوں سے بھر جاتا ہے اور پھر یہ چھالے پھٹنے کی وجہ سے خون رسنے لگتا ہے۔ اس کے بعد ایک یا 2 روز میں جسم کے مختلف حصوں میں جلد کے نیچے خون جمنے لگتا ہے ۔آہستہ آہستہ جسم کے مختلف حصوں مثلاََ مسوڑوں اور ناک سے خون بہنے لگتا ہے۔

خون کے اس شدید ضیاع سے جسم میں خون کے ذریعے شدید کمی کے باعث خون جسم میں ٹھیرتا نہیں ہے اس طرح مریض کی حالت بگڑنے لگتی ہے اور مریض کے دل کی دھٹرکن بھی کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور بلڈ پریشر انتہائی کم ہو جاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ مریض غنودگی کی حالت میں چلا جاتا ہے۔ کچھ ہی عرصے میں اس کے پھیپھڑے تک متاثر ہو جاتے ہیں جبکہ جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور پھریہ بیماری جان لیوا ثابت ہوتی ہے مگر ڈاکٹرز کے مطابق اگر مرض کا بر وقت علا ج کروا لیا جائے تو متاثرہ شخص دوبا رہ صحت مند ہو سکتا ہے۔ چیچٹریوں کے کاٹنے کے بعد علامات تقریباً 1-3 دن میں ظاہر ہو نا شروع ہو جاتی ہیں جبکہ متاثرہ جانور یا انسان کے خون سے متاثر ہونے کی صورت میں یہ علامات 5-7 دن میں ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ بیماری عموماََ وائرس زدہ مریض یا جانور کے خون اور دیگر جسمانی رطوبتوں مثلاً خون، پیشاب، فضلے اور تھوک وغیرہ سے پھیلتی ہے۔ اس کے علاوہ وائرس زدہ سرنج یا اشیا کے استعمال اور جانوروں میںپائے جانے والے کیڑوں کا خون انسانی جسم سے چھو جانے یا اس کیڑے کے کاٹنے سے بھی یہ بیماری لگ سکتی ہے۔

کانگو وائرس کی ابتداء میں ہی تشخیص ہو جانے کے سبب مریض کے بچنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ مریض کی زندگی کو چونکہ خون کے ضیاع سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے لہٰذا مریض کو زیادہ سے زیادہ خون لگوانے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ جسم کو اس کی مطلوبہ مقدار میں خون کی فراہمی جاری رہے۔ کانگو وائرس عموماََ ایسے علاقوں میں زیادہ عام ہوتا ہے جہاں بھیڑ، بکریاں اور مویشی زیادہ پالے جاتے ہیں۔ اس کی احتیاطی تد ابیر میں سب سے زیادہ اہم ہے کہ مویشیوں کو شہری آبادی سے دور باہر ایسے علاقوں میں رکھا جائے جہاں انسا نی آبادی موجود نہیں ہو۔

جانورں میں اس بیماری کی علامات بظاہر نظر نہیں آتی ہیں اس لئے چیچٹریوں سے بچائو ں کے لئے جانوروں پر اسپرے کرنا چاہیے۔ ان کے رہنے کی جگہوں کو بھی چیچڑوں سے پاک رکھنے کے لئے کیڑے مار اسپرے کرنے چاہیے۔ ماحول اور جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھتے ہوئے متاثرہ جانوروں کو فوراََ تلف کر دینا چاہئے۔ جو لوگ مذبحہ خانوں اور باڑوں میں کام کرتے ہیں انہیں خاص طور پر احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص طور پر چھوٹے بچوں، بزرگ افراد اور خواتین کو بلاوجہ مویشی منڈی جانے سے گریز کرنا چاہیے اور ہلکے رنگ کے لمبی ا ٓستینوں وا لے لباس میں مویشی منڈی جائیں تاکہ چیچڑوں کی موجودگی ہلکے رنگ کے سبب واضح ہوسکے اور پھر گھر آنے کے فوری بعد اپنے جسم پر Ticks کا معائنہ کریں اور فوراََ نہا ئیں ۔ Ticks نظر آنے کی صورت میں کپڑے ، چمٹی یا ٹشو کی مدد سے جلد کے بہت قریب رکھتے ہوئے پکڑیں اور خالی ہاتھوں سے نہ چھوئیں اور نہ ہی انہیں ہاتھ سے مسلنے کی کوشش کریں ۔چھوٹے بچوں کو جانوروں کے ساتھ کھیلنے سے روکیں اور مویشیوں سے دور رکھیں ۔ جانور ذبح کرنے کے بعد خون اور آلائشوں کو احتیاط سے تلف کردیں اور انہیں زمین میں دبادیں ۔ اور صفائی کا خاص خیال رکھیں۔

خدا نخواستہ ا گر کسی فرد کو یہ بیماری ہو جائے تو اس کے علاج کے دوران گھر والوں ، تیمارداروں اور ڈاکٹرز کو سخت ا حتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کانگو بیماری میں مبتلا مریض کے پاس ہمیشہ ماسک ، گائون اور دستانے پہن کر جائیں۔ انجکشن لگاتے وقت اس بات کا خاص طورپر خیال رکھنا چاہیے کہ ہاتھ سرنج پر نہ لگے ۔ متاثرہ مریض کے پاس جانے کے بعد دستانے اور گائون ضائع کردیں اور مریض کے استعمال کی چیزیں بھی جلا دینا زیادہ بہتر ہے ۔ جن علاقوں میں مویشی پائے جاتے ہیں ان علاقوں میں خاص طور پر صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔ کانگو وائرس چونکہ مچھر اور مکھیوں کے علاوہ مو یشیوں کے فضلے سے بھی انسانوں تک پہنچ سکتا ہے اس لئے مکھیوں اور مچھروں سے بچائو کے لئے بھی اسپرے کرنے چاہیے اور فضلے کے اخراج کا مناسب انتظام کرنا چاہیے کیونکہ جانورں کے فضلے سے اٹھنے والا تعفن بھی اس مرض میں مبتلا کر سکتا ہے۔

مذبحہ خانوں میں کام کرنے والے افراد مکمل دستانے اور گائون پہنیں تاکہ ان کا متاثرہ جانوروں کے خون سے بچائو ممکن ہوسکے۔ ابھی تک کانگو وائرس کی کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہوئی ہے لہٰذا احتیاط ہی اس بیماری کا واحد علاج ہے۔ ابتدا میں ہی اگر مرض کی تشخیص ہو جائے تو مرض پر قابو پایا جاسکتا ہے لہٰذا جہاں تک ممکن ہو احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہم سب کی ذمے داری ہے کہ اس جان لیوا مرض سے تحفظ کے لئے صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں اور کسی بھی علامت کے ظاہر ہوتے ہی فوراََ کسی قریبی معالج سے رابطہ کریں کہ بروقت اور مناسب طبی امداد ہی اس مہلک بیماری سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔

بدعنوانی (کرپشن) کیا ہے؟ (شیخ خالد زاہد)

بدعنوانی (کرپشن) کیا ہے؟ (شیخ خالد زاہد)

یوں تو لفظ بدعنوان اردو میں ہونے کی وجہ سے ہمیشہ سے ہی غیر اہم رہا (جسکا مقامی سیاستدانوں نے خوب فائدہ اٹھایا) جبکہ لفظ کرپٹ یا کرپشن جو انگریزی میں بدعنوان کیلئے استعمال ہوتا ہے کافی عام فہم ہے اور بخوبی جاناپہچانا جاتا ہے، ہم اردو کی ترویج کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے لفظ بدعنوان استعمال کرینگے۔اس لفظ کو بھی انگریزی میں عام کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انگریزی میں کچھ بھی کہا جائے اسے احترام بھلا ناہی سنا جائے کسی پر کوئی فرق نہیں پڑتا، یعنی سانپ بھی مر جاتا ہے اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹتی، معاشرے اپنی زبان میں پرورش نا پائیں تو بے زبان اور بے عنوان رہتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انگریزی کا تو ہر لفظ ہی متاثر کن ہے چاہے وہ ہتک عزت ہی کیوں نا کر رہا ہو۔ پاکستانی عوام کو جو سمجھنا تھا وہ آج تک سمجھنے کی کوشش نہیں کررہی اورجو کچھ غیر ضروری ہے وہ سب سمجھ کر بیٹھی ہوئی ہے۔ قومی زبان کے نفاذ کو ہمیشہ کیوں پسِ پشت رکھا گیا ہے اسکی وجوہات جہاں اور بہت ساری ہیں، ان میں سے ایک اہم ترین وجہ یہ بھی ہے کہ اسطرح سے قوم کو بیوقوف بناکے رکھا جائے۔ ہم ہر مضمون میں اپنی قومی زبان کی ترویج کیلئے اپنی سی کوشش کرتے رہتے ہیں اور ہینگے، یہاں تک کہ ہمارا معاشرہ اپنی زبان سمجھنا نا شروع کردے۔

ہمیشہ صحیح راستے پر رکاوٹیں کھڑی ہوتی ہیں جسکی وجہ سے ہم متبادل راستہ نکالتے ہیں۔ ایک طرح سے دیکھا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ راستہ بدل کر منزل پر پہنچا جائے۔ سوال یہ ہے کہ صحیح راست صحیح کیوں نہیں رکھا جاتا؟کیوں عوام کو مشکل میں دھکیل دیا جاتا ہے؟کیوں انہیں متبادل راستہ دیکھایا جاتا ہے؟ایک طرف تو ہم قطار میں کھڑا ہونا نہیں چاہتے اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ لمبی قطار سے ہوتا ہوا ایک شخص متعلقہ کھڑکی یا فرد تک پہنچتا ہے تو وہاں اسے کسی نا کسی ایسے اعتراض کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسکے کیلئے متبادل طریقہ استعمال کرنا ہی پڑتا ہے۔دنیا نے ترقی کیلئے قطاروں سے جان چھڑائی یعنی سب کچھ ڈیجیٹلائز (معذرت اردو میں بہت مشکل ترجمہ ہے اس لفظ کا)کردیا۔ انسانی ہاتھ کا استعمال سوائے پلاسٹک کے کارڈز کو سوائپ کرنے کہ اور کچھ نہیں رہا ہے اس طرح سے وہاں بدعنوانی یا متبادل راستے کے چناؤ کا معاملہ ہی ختم کردیا ہے۔

آخر ہم کیوں قطار میں کھڑا ہونا نہیں چاہتا جبکہ بغیر صف بندی کے رب کی رضابھی نہیں ملتی۔پیسے والے اس لئے قطار میں نہیں لگتے جہاںغریب کھڑے ہوں۔ بہت چھوٹی چھوٹی بدعنوانیاں ہمارے معاشرے میں عام ہیں ۔راستے میں چلتے پھرتے کہیں بھی کچرے کا پھینک دینا، گھرپر ہوتے ہوئے بچوں سے کہلوادینا کہ گھر پر نہیں ہیں، اسکول کی چھٹی کیلئے بہت پیار سے بچے کو کہہ دینا کہ ہماری نانی اسپتال میں تھیں تو دیکھنے گئے ہوئے تھے ۔بدعنوانی کا بیج معصوم بچوں کے ذہنوں میں بو دیا جاتاہے۔

یہ ہم سب جانتے ہیں کہ قطار کا بد عنوانی سے گہرا تعلق ہے، ٹرین کا ٹکٹ لینے جائیں ایک لمبی قطار دیکھ کر فوراً کسی دوسرے ذرائع کی تلاش میں نظریں ادھر ادھر گھومنا شروع ہوجاتی ہیں اور شکر میسر آہی جاتی ہے کچھ اضافی رقم دے کر بغیر قطار میں لگے کچھ کم وقت میں ٹکٹ ہوجاتی ہے اور بڑے فخر سے وہاں سے نکل جاتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم نے بدعنوانی میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ دراصل بدعنوانی قطار میں نا کھڑے ہونے والوں کی وجہ سے ہی پھلتی پھولتی ہے۔ قطار کو لمبا رکھنے میں اس عملے کا بھی کچھ ہاتھ ہوتا ہے جو اندر بیٹھا کام کررہاہوتا ہے، جو بدعنوانی کے اسباب پیدا کررہا ہوتا ہے۔

ہمیں اپنے اسکولوں مدرسوں اور تمام تعلیمی اداروں میں چھوٹی چھوٹی بدعنوانیوں کے متعلق اپنی نئی نسل کو آگاہ کرنا ہوگااور عملی طور پر ان سے بچتے رہنے کا ثبوت بھی پیش کرنا ہوگا۔ اللہ کے نزدیک بدعنوانی بدعنوانی ہے چھوٹی یا بڑی نہیں۔ ہمیں ان بدعنوانوں سے کچھ نہیں لینا جو اپنے کئے کی سزا بھگت رہے ہیں اور اگلے جہان میں بھی بھگتیں گے۔

ارطغرل غازی عظیم مجاہد (ملک سعادت نعمان)

ارطغرل غازی عظیم مجاہد (ملک سعادت نعمان)

مسلمان جب سے ہدایت و جہاد کے راستے سے دور ہوئے تو غلامی اور ذلت ان کا مقدر بن گئی۔ ہمارا تابناک ماضی ہماری پہچان ہے تاریخ اسلام میں خلفاے راشدین کے بعد بہت سے مجاہد سلاطین گزرےجو بہت مشہور ہیں جنہوں نے صلیبیوں کے دانت کھٹے کیے۔ ان میں سلطان صلاح الدین ایوبی، سلطان نورالدین زنگی، سلطان رکن الدین بیبرس، سلطانِ الپ ارسلان وغیرہ شامل ہیں۔ میں تاریخ اسلام سے ایک ایسے عظیم مجاہد کا ذکر کرنے جا رہا ہوں جن کے نام سےبہت کم لوگ واقف ہیں۔ جنہوں نے مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد کے لیے جہاد کا راستہ اپنایا اوربہت سی قربانیاں دیں اور اس طرح مسلمانوں کے لیے ایک روشن دورکا آغاز ہوا۔خلافت عباسیہ کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ اس وقت تمام ترک قبیلوں کی صورت میں رہتے تھے۔ یہ تمام قبیلے خانہ بدوش تھے یہ سفر کرتے اور جہاں سر سبز علاقہ دیکھتے وہاں پر آباد ہو جاتے۔ ان میں ایک قائی قبیلہ تھا جو افراد کے لحاظ سے کافی مضبوط اور طاقتور تھا۔

سلیمان شاہ قائی قبیلہ کے سردار تھے جو سچے مسلمان نڈر اور رحمدل انسان تھے۔ان کے مقاصد میں اسلام کی اشاعت اور انصاف کا بول بالا کرنا شامل تھا کیونکہ یہی وہ وقت تھا جب مسلمان ہر جگہ کمزوری کا شکار تھے۔ منگول ہلاکو خان کی سربراہی میں بڑھتے چلے آ رہے تھے اور خلافت عباسیہ کے بعد سلجوق سلطنت انکی منزل تھی۔ بازنطینی سلطنت کےصلیبی اپنی سازشوں کے جال بن رہے تھے۔ مسلمانوں کی مضبوط اور طاقتور سلجوک سلطنت اب زوال کے قریب تھی۔ ان حالات میں ضروری تھا کہ مسلمانوں کی تعداد کو بڑھایا جائے۔ سردار سلیمان شاہ کے چار بیٹے تھے جو بہت بہادر اور جنگجو تھے۔ سلمان شاہ تمام ترک قبائل کو متحد کرنا چاہتے تھے۔ تاکہ مسلمانوں کو صلیبیوں کی ریشہ دوانیوں سے بچایا جا سکے شام کے علاقے پر سلطان صلاح الدین ایوبی کے پوتے سلطان ملک العزیز ایوبی کی حکومت تھی جبکہ انا طولیہ میں سلجوق سلطان علاؤالدین کیقباد کی حکومت تھی۔ صلیبی دونوں سلطانوں کو آپس میں لڑانا چاہتے تھے تاکہ اس خطے میں مسلمانوں کو کمزور کر کے ان کا خاتمہ کرسکیں۔

سردار سلیمان شاہ نے ان سازشوں کو ختم کرنے میں بڑا کردار ادا کیا جس کی وجہ سے ایوبی سلطان قائی قبیلے کے دوست بن گئے۔ اور سلجوق سلطان کی بھتیجی حلیمہ سلطان کی سلیمان شاہ کے بیٹے ارتغرل سے شادی ہوگئی۔سردار سلیمان شاہ کی وفات کے بعد ارتغرل قائی قبیلہ کے سردار بنے وہ بہت ذہین اور بہترین جنگجو تھے۔ جہادی سوچ ورثہ میں ملی تھی۔ انہوں نے سردار بننے کے بعد صلیبیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ان کی سازشوں کو ناکام کیا اوران کے مشہور قلعے کارہ چاہسار کوفتح کیا۔بہادری شجاعت اور وفاداری کی وجہ سے سلطان علاؤالدین کیقباد نے ارطغرل غازی کو تمام اغوض قبائل کا سردار اعلیٰ اور اناطولیہ کے سرحدی علاقے، جو بازنطین کے قریب تھے، کا نگران بنا دیا۔

ارطغرل غازی کے ہاں تین بیٹے گندوز، ساوچی اور عثمان پیدا ہوئے۔ عثمان سب بھائیوں میں چھوٹے تھے۔ ارطغرل غازی نے ان کی دینی اور جنگی تربیت کی اور وہ بڑے ہو کر والد کے شانہ بشانہ جہاد میں شامل ہوتے رہے۔ارطغرل غازی ایک مقصد کے لیے لڑ رہے تھے انہوں نے منگولوں کے بڑے بڑے سپہ سالار قتل کیے جن میں نویان اور آلنچک مشہور ہیں۔سلجوک سلطنت منگولوں کے ہاتھوں ختم ہوچکی تھی۔ اور ارطغرل نے تمام ترک قبیلوں کو سوگوت میں اکٹھا کیا۔ صلیبیوں سے چھینے گئے علاقوں کوایک ریاست کی شکل دی اور تعلیم و تربیت کے لیے درسگاہیں تعمیر کی گئیں تاکہ لوگ جدید علوم سے بہرہ ور ہوں اور اس طرح مضبوط اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔

ارطغرل غازی نےمنگولوں کا خاتمہ کرنے کے لیے فیصلہ کن جنگ کا ارادہ کیا اور اس مقصد کے لیے منگول سلطان برکا خان جو مسلمان ہو چکے تھے اورمصر کے سلطان رکن الدین بیبرس کو آمادہ کیا اور طے پایا کہ ایک بڑی فوج تیار کی جائے جس میں تمام ترک قبائل بھی شامل ہوں۔ اناطولیہ میں فیصلہ کن جنگ کا آغاز کیا گیا۔ اس جنگ میں منگولوں کو عبرتناک شکست ہوئی اور مسلمان فتح یاب ہوئے۔شکست کے غم کی وجہ سے چند ماہ کے بعد ہلاکو خان مر گیا۔

غازی ارطغرل صلیبیوں اور منگولوں کو اس علاقے سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ سوگوت اب ایک ریاست بن چکی تھی غازی ارطغرل کی وفات کے بعد ان کے چھوٹے بیٹے عثمان قائی قبیلہ کے سردار بنے اور ریاست سوگوت کو مضبوط کرتے رہے۔ وہ اب ریاست سوگوت کے سلطان کہلائے جاتے تھے۔ 1299ء میں خلافت قائم کی جو خلافت عثمانیہ کے نام سے مشہور ہوئی۔

سلطان عثمان غازی اپنے والد غازی ارطغرل کی طرح دلیر اور باصلاحیت مجاہد تھے انہوں نے اس خلافت کو مضبوط کیا۔ غازی ارطغرل کی اولاد سے سلطنت عثمانیہ کے ساتویں سلطان محمد ثانی جنہوں نے قسطنطنیہ کو فتح کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارت کے حقدار ٹھہرے اور سلطان محمد الفاتح کے نام سے مشہور ہوئے۔
اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھیں۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔

سلطنت عثمانیہ پر 1299سے 1922 تک 623 سالوں میں 36 سلاطین نے فرماروائی کی۔ مسلمانوں کو ایک پرچم تلے جمع کیا۔ بلاشبہ یہ دور مسلمانوں کی عظمت اور عروج کا دور تھا اس دور میں مسلمان جہاد کرتے رہے۔ یہودی اور صلیبی سلطنت عثمانیہ کے جاہ و جلال اور عظمت سے لرزاں رہتے تھے۔ اللہ پاک عظیم مجاہد غازی ارطغرل اور سلطان عثمان غازی پر اپنی رحمتیں فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔

لبرل بیان بمقابلہ مذہبی بیان (علی عبداللہ)

لبرل بیان بمقابلہ مذہبی بیان (علی عبداللہ)

تبت کے جلاوطن بدھ رہنما اور مذہبی شخصیت ٹینزن یاٹسو نے برطانیہ کے نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں خواتین کے بارے اپنے بیان پر معذرت کا اظہار کیا ہے۔ تبت بدھوں کے یہ 14ویں دلائی لامہ آج کل ہندوستان میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ دلائی لامہ نے عوام سے معذرت کی ہے اور کہا کہ ان کا بیان ہرگز کسی منفی رخ کا حامل نہ تھا۔

انہوں نے کیا بیان دیا تھا اس سے پہلے ایک واقعے پر غور کیجیے۔دو بدھ ایک شام اپنی خانقاہ میں جا رہے تھے، بارش ہونے کی بنا پر راستے کیچڑ سے لت پت اور جگہ جگہ پانی کے چھوٹے چھوٹے جوہڑ بنے ہوئے تھے۔ ان بدھوں میں سے ایک نوجوان اور دوسرا ادھیڑ عمر تھا ۔ ایک جگہ گزرتے ہوئے اچانک انہوں نے دیکھا کہ ایک نوجوان خاتون گلی سے نکل کر سڑک پر آنا چاہتی ہے، مگر بیچ میں موجود پانی اور کیچڑ کے چھوٹے جوہڑ کو عبور نہیں کر پا رہی۔ یہ منظر دیکھ کر ادھیڑ عمر بدھ اس جانب گیا اور اس عورت کو اٹھا کر دوسری جانب لا کھڑا کیا تاکہ وہ سڑک پر جہاں جانا چاہے جا سکے۔

اس کے بعد دونوں واپس اپنی خانقاہ میں چلے گئے۔ شام ہوئی تو نوجوان بدھ اپنے اس ادھیڑ عمر ساتھی کے حجرے میں آیا اور پوچھا کیا ہمارے مذہب میں عورت کو چھونا منع ہے؟ اس کے ساتھی نے جواب دیا، ہاں بالکل منع ہے۔ تو نوجوان نے کہا، کہ پھر آپ نے آج راستے میں اس عورت کو اٹھا کر دوسری جانب کیوں لا کھڑا کیا جبکہ یہ تو منع تھا؟ ادھیڑ عمر بدھ مسکرایا اور بولا، میں نے تو اسے دوسری جانب لا کر چھوڑ دیا تھا مگر تم تو ابھی تک اسے ہی تھامے ہوئے ہو۔ یہ سن کر وہ نوجوان چپ چاپ اپنے حجرے کی جانب چل دیا کیونکہ اسے اس کی بات کا بہترین جواب مل چکا تھا۔

84 سالہ دلائی لامہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا، اگر اگلی دلائی لامہ خاتون ہو تو اسے نہایت خوبصورت اور دلکش ہونا چاہیے، ورنہ اس کا کوئی فائدہ نہیں اور لوگ اس کی صورت بھی نہیں دیکھیں گے۔ یعنی بدھوں کے مذہبی رہنما عمر کے اس حصے میں بھی غالباً نسوانیت کا سحر محسوس کرنا چاہتے تھے۔ ان کے خیال میں خاتون دلائی لامہ صرف اپنی ظاہری خوبصورتی سے ہی لوگوں کو متوجہ کر پائے گی۔ وہ بدھا کی حقی قی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر ابھی تک عورت کو ہی تھامے ہوئے ہیں جس کی اجازت بدھا نے نہیں دی تھی۔

یاد رہے کہ بدھا نے جہاں مردوں اور عورتوں کی تعلیم و تربیت کے لیے خانقاہ بنائی تھی، وہاں چند قوانین بھی لاگو کیے تھے جن میں واضح لکھا تھا کہ، کسی عورت کو اجازت نہیں کہ وہ اکیلی دریا کے پار جائے، کہیں رات ٹھہرے یا اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہے۔ شام کے وقت یا بنا روشنی کے، کسی عورت اور مرد کا اکیلے ایک دوسرے سے گفتگو کرنا منع تھا اور اسی طرح کوئی بھکشو تنہائی میں کسی عورت سے کسی بھی قسم کا کھانا لے کر نہیں کھا سکتا تھا۔

اب ایک بدھا کا پیروکار خواتین کے بارے ایسے بیان دے گا تو لازماً عوام اس پر برسے گی۔ یہاں بھی یہی ہوا، بیان کے کچھ روز بعد ہی دلائی لامہ کو عوام سے معافی مانگنا پڑی اور اپنے بیان پر وضاحت دینا پڑی۔ حالانکہ دلائی لامہ خواتین کے حقوق کے بہت بڑے علمدار سمجھے جاتے ہیںلیکن خواتین کے حقوق کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ عورت کو اس کے حقوق کے نام پر باہر نکالا جائے اور ایسی دنیا دکھائی جائے کہ پھر وہ اپنے حقوق سے زیادہ اپنی فکر کرنے لگے۔ خیر دلائی لامہ نے دل کی بات کا برملا اظہارکر کے اپنا موڈ بھی بتا دیا ہے اور پھر اس پر معافی بھی مانگ لی۔

دوسری جانب زائرہ وسیم، دنگل گرل نے بھی فلم انڈسٹری کو اسی بنا پر چھوڑا ہے کہ اس کے ایمان کو خطرہ تھا۔ بالی وڈ کی چکا چوند روشنیوں اور آئیڈیل نظر آنے والی زندگی کو الوداع کہنے کا فیصلہ اور اس کی بنیاد مذہب کو بنانا، سیکولر طبقہ کو بہت چبھ رہا ہے۔ چونکہ یہ فیصلہ زائرہ نے اپنی مرضی سے کیا ہے، لہٰذا لبرل طبقہ نہ اسے ہضم کر پا رہا ہے اور نا ہی اسے اگلنے کی حالت میں ہے۔ اسی لیے کئی سینئر اداکار بھی چھپے ڈھکے لفظوں میں اس کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں۔ شاید وہ چاہ رہے تھے کہ کوئی می ٹو کی مہم چلتی، کئی چہرے بے نقاب ہوتے، کچھ ہلچل پیدا ہوتی تب انڈسٹری سے علیحدگی اختیار کی جاتی، مگر یہاں تو علیحدگی کی وجہ ہی مذہب بن گیا جو اب دیگر خواتین پر بھی منفی اثر ڈالے گا۔

شاید وہ افسوس کر رہے ہوں گے کہ شکار ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ ایسے طبقے کا کہنا ہے کہ مذہب کو انڈسٹری میں نہیں لانا چاہیے، جو آپ کی پسند ہے اسے اختیارکرنا چاہیے اور کسی بھی دباومیں نہیں آنا چاہیے۔ نیتیوں سے خدا ہی واقف ہے اور اگر زائرہ نے واقعی کسی دبائو یا کسی دنیاوی مطلب سے ہٹ کر یہ فیصلہ لیا ہے تو پھر یہ قابل تحسین ہے اور یقیناً یہی اس کی اصل کامیابی ہے۔ ایسے فیصلوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ کل کو کوئی بھی می ٹو مہم کا حصہ یا حسین خواتین کو تلاش کرنے والوں کا شکار نہ بن پائے۔