میرے ہمسفر (فری ناز خان)

میرے ہمسفر (فری ناز خان)

میرے ہمسفر میرے ہمنشیں

مجھے چین دے تو قرار دے

کہ تیرے بنا میں نہ جی سکوں

میری زندگی یوں سنوار دے

پریشان ہیں زلفیں تیری

حیران ہیں آنکھیں میری

سنسان ہیں راہیں میری

میری راہوں کو بہار دے

میری سانسوں کو تو نکھار دے

میرے ہمسفر میرے ہمنشیں

مجھے چین دے تو قرار دے

تیرے رنگ میں ہی رنگ لوں

تو جہاں چلے تیرے سنگ چلوں

مجھے اپنے چمن کی بہار دے

میرے ہمسفر میرے ہمنشیں

مجھے چین دے تو قرار دے

تجھے دیکھ کر میں بس جیوں

تیرے ہجر سے ڈرتا رہوں

ہنسی تھوڑی تو مجھ کو ادھار دے

میرے ہمسفر میرے ہمنشیں

مجھے چین دے تو قرار دے۔

تو کہاں چلا مجھے چھوڑ کر

سارے وعدے ِقسموں کو توڑ کر

تو جہاں ہے مجھ کو پکار لے

میرے ہمسفر میرے ہمنشیں

مجھے چین دے تو قرار دے

کسی ٹوٹے شیشے کی تقدیر ہوں

کوئی بھولی ہوئی سی تصویر ہوں

مجھے آئینے میں اتار دے

میرے ہمسفر میرے ہمنشیں

مجھے چین دے تو قرار دے

الجھی سی ہیں سانسیں میری

ویران ہیں راہیں میری

تقدیر بھی حیراں میری

میری راہوں کو آکے سنوار دے

میرے ہمسفر میرے ہمنشیں

مجھے چین دے تو قرار دے

وہ ایک شخص (بنت عبدالغفور)

وہ ایک شخص (بنت عبدالغفور)

 
میرے جینے کی اب سے وجہ وہ ایک شخص
جسے چاہا، مانا جو میرا ہے بس وہ ایک شخص
اللہ نے لکھ دیا اسے میرے مقدر میں
جو نرالہ ہے پیارا ہے بس میرا ہے وہ ایک شخص
میرے لیے کیا ہے؟میرا مان میری جان 
میرا سب کچھ بس وہ ایک شخص
جسے روز ستاتی ہوں روز تڑپاتی
ہوں
روٹھتا نہیں مان جاتا ہے بس وہ ایک شخص
میری زندگی میرے سامنے جو ہو دل کا سکون
دور اگر وہ ہو تو میری دعاؤں میں شامل بس وہ ایک شخص
دور ہو کر بھی دور نہ ہو پاو عاجزہ
ایسی یاد، ایسی حقیقت، ایسی دعا
ہے بس وہ ایک شخص