اسکاﺅٹنگ اور تفریح (انصر محمود بابر)

اسکاﺅٹنگ اور تفریح (انصر محمود بابر)

آج کل موسم گرما بھی اپنے عروج پہ ہے اور عیدکی تعطیلات بھی آنے والی ہیں۔ تو ان مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اکثردوست احباب چھٹیاں گزارنے شمالی علاقہ جات یادیگرصحت افزاءپہاڑی مقامات کارخ کرتے ہیں۔ یہ ایک بہت اچھی اور صحت مندسرگرمی ہے لیکن نوآموزحضرات شائد اس چیزسے آگاہی نہ رکھتے ہوںکہ تمام سیاحتی مقامات پہ ہوٹل والوں کابھی یہ سیزن ہوتاہے اوراس دوران وہ اپنے من چاہے کرائے وصول کرتے ہیں۔ ایسے میںخصوصاً اسکول اورکالج (سرکاری اورپرائیویٹ دونوں) کے طلباءوطالبات کو میںمشورہ دوں گا کہ اگر آپ سیر و تفریح کے ساتھ ساتھ کچھ سیکھنے کے بھی خواہش مند ہیں تو اسکاﺅٹنگ آپ کے لیے بہترین رہے گی۔

طالبات کے لیے گرلز گائیڈ کا ادارہ موجود ہے۔ جہاں سے تربیت لے کر ہمارے تعلیمی اداروں کی بچیاں بھی بہت ساری مثبت سرگرمیوں کو اپنے ماحول اور معاشرے میں فروغ دے سکتی ہیں۔ اسکاﺅٹنگ ہو یا گرلز گائیڈ، ہر ایک کا یہ تربیتی ٹور ایک ہفتہ پر مشتمل ہوتاہے۔ یہ تربیتی کیمپ مری کی خوشگوار فضاﺅں اور تازہ ہواﺅں کے حامل انتہائی خوبصورت اور تاریخی مقام گھوڑا گلی میں واقع ہے۔ جہاں پر حکومت پاکستان نے ایک وسیع علاقہ براعظم ایشیاءکے سب سے بڑے اس گرمائی تربیتی کیمپ کے لیے وقف کررکھاہے۔ وہاں کی صاف ستھری آب و ہوا اور قدرتی چشموں کا انتہائی ٹھنڈا اور میٹھا پانی ایک ایسی نعمت ہے کہ جو آپ کوہمیشہ یادرہے گی۔ ہمارے میدانی علاقومیں جون، جولائی اور اگست کے مہینوں میں جھلسا دینے والی گرمی کا وہاں تصور بھی نہیں ہے۔

گرد و غبار اور پسینے سے دور یہ سہانا موسم آپ کو خوابوں اور تخیلات کی وادی کا مسافر بنا دے گا۔ وہاں پر فطرت آپ کے اتنے قریب ہوتی ہے کہ رنگ، ترتیب، شوخیاں، گنگناہٹ اور شاعری آپ کے مزاج کا حصہ بن جاتے ہیں۔ آپ کی آنکھوں میںقوسِ قزح کے سارے رنگ اترآئیں گے۔ وہاں کے رومان پرور ماحول میں آنکھیں بندکرکے انگڑائی لیں تو پردہ تصور پہ بھولی بسری کئی الف لیلوی داستانیںابھرنے لگتی ہیں۔ یہ آپ کے لیے معقول اخراجات میں ایک ایسی شاندار تفریح ہے کہ جس کا آج کی مہنگائی کے دور میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

قارئین کرام! اسی کیمپ میں مختلف کورسز بھی کروائے جاتے ہیں جیسے ”اسکاﺅٹ ماسٹر“ اور”وڈ بیج“ وغیرہ۔ ان کورسز کے کامیاب اختتام پر حکومت پاکستان کی جانب سے آپ کو سرٹیفیکیٹ بھی دیے جاتے ہیں اور آپ کی ڈیوٹی سرکاری سطح پر حاجی کیمپ میں بھی لگ سکتی ہے اور خوش نصیبی سے بذریعہ قرعہ اندازی آپ کو حکومت پاکستان مفت حج کی سہولت بھی دیتی ہے۔ چنانچہ آپ اس قیمتی وقت کا بھر پور فائدہ اٹھائیں اور اپنی ذہنی و جسمانی آسودگی کی خاطر کچھ وقت اپنے لیے ضرور نکالیں اور خوب انجوائے کریں۔ اگر آپ اپنا کاروبارکرتے ہیں یا کہیں جاب کرتے ہیں توبھی میں سمجھتا ہوںکہ پھر تو آپ پہ یہ ٹور لازم ہے۔ اس لیے کہ آپ کی فٹنس اور کارکردگی کو بہتر بنا نے کے لیے سالانہ ٹورز اکسیر کا درجہ رکھتے ہیں۔ جیسا کہ بعض سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں ریفریشر کورس کروائے جاتے ہیں اسی طرح سیر و تفریح بھی آپ کی زندگی اور کاروبارکا لازمی جزو ہونا چاہیے۔

اسکاﺅٹنگ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے کہ جہاں آپ کو اپنی چھپی ہوئی اور خوابیدہ صلاحیتوں کا پتا چلتا ہے اور ان تمام پوشیدہ اور مثبت سر گرمیوں کو ایک نئی زندگی ملتی ہے۔ یہ وہاں کے ماحول اور آب و ہوا کا اثر ہے کے آپ کے اندرکا جو بچہ ہے وہ اپنی تمام تر شرارتوں اور بچپنے کے ساتھ بھر پورانگڑائی لے کر بیدار ہو جاتا ہے اور آنے والے کم از کم ایک سال کے لیے آپ کوتازہ دم اور چاق وچوبند رکھتا ہے یہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔

اسی ایک ہفتہ کے دوران آپ چاہیں تو پنڈی پوائنٹ والی چئیرلفٹ کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ مال روڈ اور کشمیر پوائنٹ کی رونقیں انجوائے کرسکتے ہیں۔ بلند و بالا پہاڑوں سے اترتے دھواں دھواں سے بادلوں کے پس منظر میں بھاپ اڑاتی خوش ذائقہ چائے آپ کے اس وقت کو خوش گوار بنادے گی۔ ان ہی سات دنوں میں سے وقت نکال کر آپ ایوبیہ چلے جائیں جو اس ریجن کا بلندترین مقام ہے اور خیبر پختون خواہ میں واقع ہے۔ ایوبیہ میں بھی چئیر لفٹ لگی ہوئی ہے۔ یہاں کے چپلی کباب بہت مشہور ہیں۔ یہاں سے کچھ ہی آگے نتھیا گلی کا مشہور مقام ہے۔ کسی اور دن وقت نکالیں اور نیو مری کے لیے عازمِ سفر ہو جائےں۔ یہاں پر ایشیاءکی سب سے بڑی چئیر لفٹ اور کیبل کار ہے۔ ملک کے طول و عرض سے لوگ جوق درجوق یہاں آتے ہیں اور ایک بھر پور اور شان دار دن گزار کر لوٹتے ہیں۔ مال روڈ کے نشیب و فراز پہ موجود ڈرائی فروٹس کی خوبصور ت اور شاندار دکانیں دیکھ کر خواہ مخواہ منہ میں پانی بھر آتا ہے۔ الغرض آپ مری کے کسی بھی پوش علاقے میں ہوں، مری کی صاف ستھری اور کشادہ سٹرکوں پہ موجود خوب صورت اور زندہ دل لوگوںکا دل میں اترتا ہوا شوخ انداز اور بے فکر قہقہوں کا جلترنگ آپ کے دل کے تار ہلا دے گا۔ آپ ایسے مناظر کے سحر سے مدتوں نکل نہیں پائیں گے۔ ایک طرف انواع و اقسام کے پکتے ہوئے کھانوں کی اشتہا انگیز مہک اور دوسری جانب رنگین آنچلوں سے پھوٹتی دل فریب خوشبو کے حصار میں آپ خود کو پرستان میں محسوس کریں گے۔ مال روڈ پہ سجے تازہ پھلوں کا سرخ و سفید رنگ وہاں آنے والے حسین سیاحوں کی آنکھوں سے پھوٹتی شفق کے آگے ماند پڑتا نظر آتا ہے۔

اسکاﺅٹنگ میں مندرجہ ذیل سہولیات سے آپ بھر پور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ معیاری تفریح۔ کم خرچ بالا نشیں۔ گروپ ٹورز۔ فرسٹ ایڈ کی تربیت۔ ٹریفک رولز کی تربیت ۔ قدرتی آفات سے نپٹنے کی تربیت۔ حالت جنگ کے حوالے سے خصوصی تربیت۔ ہائیکنگ۔ ٹریکنگ۔ کیمپ فائر۔ علوم و فنون کی مشہور شخصیات سے ملاقات کا موقع۔ فوٹوگرافی۔ کوکنگ اینڈ پریزنٹیشن۔ خیمہ لگانے کی تربیت۔ خالص علمی اور تفریحی ماحول۔ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ سیکھنے اور سکھانے کو ملتا ہے۔ اس دوران آپ دوسروں کے تجربات سے اور دوسرے لوگ آپ کے تجربات سے استفادہ کرتے ہیں۔

بوائے اسکاﺅٹس اور گرلز گائیڈ میں رجسٹریشن کروانے کا طریقہ کار یہ ہے کہ اپنے متعلقہ تعلیمی اداروں کے فزیکل انسٹرکٹرز سے رابطہ میں رہیں یا اپنے ڈسٹرکٹ اسپورٹس سیکرٹری سے بات کرلیں اور جیسے ہی گرمیوں کی چھٹیاں قریب آئیں اپنا نام لکھوادیں۔ نیزاپنے”EDO“ آفس سے بھی رابطہ میں رہیں تاکہ اس سمرکیمپ میں جانے کے وقت اور تاریخ سے آپ آگاہ رہیں۔ اگر تو آپ طالب علم ہیں تو پھر تو کوئی مشکل ہی نہیں ہے لیکن اگر آپ تعلیمی دور سے فارغ ہوچکے ہیں توبھی آپ اس کیمپ میں جانے والے اپنے قریبی ادارے کے ساتھ منسلک ہوسکتے ہیں اور اگر آپ کا اپنا دوستوں کا گروپ ہے تو آپ اپنے گروپ کی رجسٹریشن کروا کر لیٹر بنوالیں اور وہاں جا کر انجوائے کریں۔

یہ تمام کام انتہائی آسانی سے ہوجانے والے ہیں اس لیے بے دھڑک ہو کر اسکاﺅٹنگ کی تربیت حاصل کریں اور ملک و قوم کے لیے ایک مفید اور کار آمد شہری ثابت ہوں۔ ایک گروپ 9 افراد پر مشتمل ہوتا ہے جس میں آٹھ اسکاﺅٹ اور نواں اسکاﺅٹ لیڈر یا گروپ لیڈر ہوتا ہے۔ ایک گروپ کو ایک خیمہ الاٹ کیا جاتاہے۔ آپ چاہیں تو اپنی سہولت کے لیے ساتھ ہی کمرہ بھی کرایہ پرلے لیں۔ اسی ترتیب سے گروپ بنا کر آپ رجسٹریشن کروا سکتے ہیں اور خیمے حاصل کرسکتے ہیں۔ آپ ان کے طریقہ کار کے مطابق وہاں رہیں اور ایک ہفتے کے ٹور کے اختتام پرکیمپ انتظامیہ کی جانب سے گورنمنٹ آف پاکستان کے جاری کردہ سرٹیفکیٹ بھی حاصل کریں۔

موبائیلے (عظمی ظفر)

موبائیلے (عظمی ظفر)

پہلے زمانے میں بچے یا تو ننھیال پرجاتے تھے یا ددھیال پر۔ فی زمانہ تو آپ کو ایسے بچے ملیں گے جو نہ ننھیالی ہیں نہ ددھیالی اب تو وہ بس موبائیلے ہیں۔ اب نوملود کی گھٹی میں اسمارٹ فون ملا ہوتا ہے۔ ادھر بچے نے آنکھ کھولی کلک، کھچھک اورسیلفیوں سے منہ دکھائی ہوجاتی ہے۔ اچھا بھلا معصوم سے گل گوتھنا فلٹر ہو ہو کر مانو بلی کےکان موچھوں بندر، بھالو اورطرح طرح کے جانوری شکل میں کیوٹ دکھتا ہے اصلی شکل میں بس ایویں سا لگتا ہے۔

پہلے پہل شیر خوار اللہ ہو اللہ! اور لوریاں سن کر سوتے تھے پھر اللہ بابا، بھوت!! اور چڑیل!! کے ڈر سے مائیں سلانے لگیں۔ اب اول تو بچے سوتے ہی نہیں یا پھر موبائل ہاتھ میں ہو تو اس سے کھیلتے کھیلتے سوجاتے ہیں۔ یہی حال بچوں کو کھلانے کے وقت آتا ہے ایک معرکہ ہے جو مائیں سر انجام دیتی ہیں کہ کسی طرح بچہ کھالے یہ مشکل بھی مارننگ شوز اور گوگل بابا کے مفت مشوروں کی طرح موبائل نے چٹکی بجاتے بلکہ اسکرین چھواتے ہی حل کردی ہے۔

اب ادھر اسکرین آن ہوتی ہے ادھر بچوں کا منہ کھل جاتا ہے جو مرضی جتنا مرضی ریڈی میڈ فوڈ بھر دیں بچے کھانا نگلتا جاتا ہے۔ ماں بھی اپنی ادھوری قسطیں مکمل کرلیتی ہے بعد میں بچے کو کھڑا کرکے ایک دو ٹھمکے لگوادیے جاتے ہیں ٹک ٹاک کی طرح لیں جی! کھانا ہضم نہ گرائپ واٹر کی ضرورت نہ ہی کسی پھکی کی۔بچہ جیسے جیسے طفلانہ مراحل طے کرتاجاتا ہے موبائل کو چھپا دوں گی اور توڑ دوں گی کی دھمکیاں زیادہ ملتی ہیں۔ بچوں کو بھی پتا ہوتا ہے ماں خود پر آئی مصیبت تو برداشت کرسکتی ہے مگر موبائل پر آنچ آنے نہیں دے گی کیوں کہ اگرایک بھی واٹس ایپ پڑھنے سے رہ جائے یا نیکی کے طور کوئی پوسٹ شئیر نہ کیا تو کتنوں کا نقصان ہوجائے گا اورتو اور آن لائن شاپنگ، ایزی لوڈ والوں کا نقصان الگ ہوگا۔

پہلے جوان بچے بچیوں کی ماوں کی نیندیں کسی اور وجہ سے اڑا کرتی تھیں اب وہ کوڈڈ اور لاک موبائل دیکھ کر ہولتی رہتی ہیں۔ بچوں کی نت نئے اسٹائل اتنے گھر میں نظر نہیں آتے جتنا فیس بک پر نظر آتے ہیں۔ سارے تہوار موبائل پر ہی منالیے جاتے ہیں۔گھر میں لاکھ ایک دوسرے سے جنگ و جدل، تو تو میں میں چل رہی ہو مگر موبائیلی دنیا میں پیار ہی پیار نظر آتا ہے۔ لائیک اور کمنٹس کی بہار ہوتی ہے۔ بہن بھائی ہفتوں ایک دوسرے کا منہ چاہے نہ دیکھیں اسٹیٹس گھڑی گھڑی ضرور چیک کرتے ہیں۔نوجوانوں کی فرمائیشیں چاکلیٹ، گھڑی، کھلونے، پرفیومز، کاسمیٹیکس اور جیولریز سے ہٹ کر اب صرف نت نئے ماڈلز کے اسمارٹ فون کی ہوگئی ہے۔ پہلے ولایتی باپ، مامے چاچے، محبتوں کے طفیلے ہوتے تھے اب سب ساری لگاوٹیں موبائیلے کے طفیلے ہیں۔

شوہر الگ موبائل مں گم بیوی الگ مصروف ایک ہاتھ سے کام ایک ہاتھ سے سرچنگ بائیں ہاتھ کا کھیل۔ شاید اسے ہی کہتے ہیں جہاں وائی فائی کنکشن نہ ہو اس گھر میں جانا بھی بورنگ لگتا ہے۔ پہلے کسی کے گھر رکنے جاو تو کزن خوش آمدید کہتے تھے اب کہتے ہیں جب آو تو اپنا چارجر ساتھ لانا۔ گویا اب رشتے داری بھی تاروں سے جڑی رہ گئی ہے۔ ایک جگہ جمع ہو کر بھی سب الگ لگ دنیا میں مصروف ہیں فقط موبائیلے ہیں، موبائیلے۔

قلم، نظریوں کی حفاظت کا پاسبان (شیخ خالد زاہد)

قلم، نظریوں کی حفاظت کا پاسبان (شیخ خالد زاہد)

ہمارے گھنٹوں گھر سے باہر کرکٹ کھیلنے پر دادا دادی نے ہمیں شاید کبھی کچھ نہیں کہا لیکن ہمیشہ ہمارے والدین کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے کہ بچوں کو زیادہ آزادی نہیں دینی چاہیے۔ ہم ہمیشہ دل ہی دل میں یہ سوچتے رہے کہ بھلا ہمارے کرکٹ کھیلنے سے آزادی کا کیا تعلق ہے؟ آج ہم اپنے بچوں کو باہر جانے سے روک رہے ہیں اور بہت شدت سے اس عمل کے درپے ہیں، آخر کیوں؟ کیا ہم نے گھر سے باہرکھیل کود میں وقت نہیں گزارا، کیا ہم گھر سے باہر دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے نہیں گئے خصوصی طور پر عید کی خوشیاں منانے، جاگنے والی راتیں مسجدوں اور گھومتے پھرتے گزارنا اور اس طرح مختلف مواقعوں پر اپنی خود ساختہ آزادی کا جشن نہیں منایا کرتے تھے؟ بھرپور طریقے سے تفریح کیا کرتے تھے۔ کبھی کبھی اس رویے کو بغاوت کے درجے میں رکھ کر جو کچھ بدن برداشت کرتا تھا اسے لفظوں میں بیان نہیں کرسکتے۔

درحقیت آزادی کو اس وقت کے بڑے کبھی سرد اور کبھی گرم کے طور پر لیتے تھے یعنی کبھی پکڑ ہوگئی اور کبھی نظر انداز کردیا گیا لیکن بڑوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ اب حالات شدید نہیں ہوسکتے یعنی مکمل بغاوت کے جو جراثیم تھے ان کا قلع قمع کردیا گیا ہے۔ معلوم نہیں یہ سب جان بوجھ کر ہوتا تھا یا پھر خدائی فوج داری اس عمل کی جانب دھکیل دیتی تھی۔ جو لوگ اس عمل سے گزرے وہ بالکل کسی سدھائے ہوئے جانور کی طرح اپنی اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں جب کہ جنہوں نے بغاوت کی تو وہ آج تک بھاگ رہے ہیں۔ اس سارے معاملے کو ایک جملے میں بے ادب بدنصیب، با ادب خوش نصیب، کہتے ہیں۔ اتنی جانکاری اور حفاظتی حصاروں کے باوجود آج اس مہذب اور ترقی کرتی دنیا میں جو کچھ بچوں اور بچیوں کے ساتھ ہو رہا ہے وہ شاید جب انسان غار کے دور میں رہتا تھا جب بھی نہیں ہوتا ہوگا۔ یہ ہے وہ اہم ترین وجہ بچوں کو گھروں میں ہی ہر قسم کی سہولت فراہم کرنے کی، کہ وہ کسی بھی طرح سے غیرضروری اور بغیر اجازت گھر سے باہر نہ نکلیں۔

بڑی بڑی بے ضابطگیاں یا نافرمانیاں ایک دن میں نہیں ہوتیں، یہ ایک مسلسل کارگزاری کے عمل سے گزر کر کسی خاص مقام پر پہنچتی ہیں۔ جھوٹ کو چھوٹا یا غیر ضروری سمجھ کر چھوڑ دینا پہلی اور آخری غلطی ہوتی ہے ۔ جھوٹ بولنے والے کوہمیشہ یہ احساس دلانا ایک مہذب اور ذمے دارمعاشرے کی ذمے داری ہے اگر ایسا نہ کیا جائے گا تو نہ صرف اس جھوٹے کو تقویت ملے گی بلکہ آس پاس موجود لوگوں پر بھی یہ تاثر پڑے گا کہ یہاں جھوٹوں کو بھی عزت مل جاتی ہے اور آہستہ آہستہ جھوٹوں کی ایک فوج تیار ہوجاتی ہے۔ جو معاشرے کو اپنی مرضی سے جبری ترتیب دینا شروع کردیتے ہیں۔ پھر پھیر ی والے سے لے کر ملک کے صدر تک سب جھوٹ بولنے کو فن کا لبادہ پہنا دیتے ہیں اور اس طرح سے بربادی کو اپنے گھر کی بربادی کا راستہ خود دکھا دیتے ہیں۔ ایسے معاشرے سے تربیت پانے والی نسلیں جھوٹے اور سچے میں فرق کرنے کے سلیقے سے محروم ہوجاتے ہیں اور جھوٹ خوب پھلتا پھولتا چلا جاتا ہے ۔ بے ضابطگیوں کی بنیادی وجہ اختیارات سے تجاوز کرنا یا پھر رائج طریقہ کار کو نظر انداز کرنا ہوتا ہے ، جوکہ عام آدمی کرتا ہے تو فوری پکڑ میں آجاتا ہے لیکن اگر یہی کام کوئی نامی گرامی کرے تو (جوکہ اکثر ہوتا ہے) اربابِ اختیار کسی اپنے جیسے سے نمبرد آزما ہونے کی صلاحیت سے محروم پائے جاتے ہیں۔ یہ ہے بنیادی معاشرتی بگاڑ کا سبب۔

دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں، طے شدہ حدود سے باہر نکلنے والے کو اس کی نافرمانی کی قرار واقع سزا دی جاتی ہے۔ طے شدہ حدود سے مراد وہ قوانین ہیں جو معاشرے کو حیوانیت سے انسانیت کی طرف دھکیل کر رکھتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان حدوں کو وسعت بھی دی جاتی ہے اور کبھی ان کے دائرے کو کم بھی کیا جاتا ہے۔ حدود کے دائرے کو بڑھانے یا گھٹانے کے لیے جن افراد کا انتخاب کیا جاتا ہے وہ انتہائی قابل اور زمانے پر بہت حد تک عبور رکھتے ہیں انہیں اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ زمانے میں رائج اقدار کن وجوہات کی بناءپر ردو بدل کا شکا ر ہیں۔ اس بات کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہوتا ہے کہ ثقافتی جھول پیدا نہ ہوجائے یا پھر ہمارے رہن سے مطابقت نہ رکھنے والے حصے کو بھی ہم اپنی حدود میں داخل کرلیں۔ در حقیقت یہ انتہائی اہم نوعیت کے امور ہوتے ہیں جو قوموں کو آباد یا برباد کرنے کے راستے پر ڈالتے ہیں۔ کسی کے لیے معاشرہ آزاد ہے اور کسی کو معاشرہ قید خانہ محسوس ہوتا ہے۔ معاشرے میں ثقافت یا اقدار کی تفریق کا ایک اہم سبب مذاہب ہیں۔ معاشرہ تو ایک ہوتا ہے لیکن اس میں رہنے والے مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں (معاشرتی حدود مذاہب ہی کی بنیاد پر رکھتے جاتے ہیں )۔ یہ بھی طے شدہ امر ہے کہ اکثریت کا ہی غلبہ ہوتا ہے۔ اس طرح سے جدید معاشرے میں سب کو سب کچھ دینے کی کوششوں میں اقدار اور ثقافت مسخ ہوتی جار ہی ہیں خصوصی طور پرایسا تیسری دنیا کے ممالک میں ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔

بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی بات کرنے والے اداروں اور ان کے قوانین مرتب کرنے والے کیا اس امر سے واقف نہیں کہ کون کہاں تک ان قوانین کو اپنی حدود میں آنے کی اجازت دے گا۔ یقینا آج جتنے ممالک بھی عتاب میں ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے یا ان کے معاشرے میں، ان کی ثقافت میں اتنی گنجائش نہیں تھی کہ وہ کسی بھی قسم کہ قانون کو اپنی حدود میں آنے کی اجازت دیں۔ عبوری طور پر کہیں جانا وہا ں رہنا، گھومنا پھرنا اور واپس چلے جانا ایک رسمی سی چیز ہے لیکن اس کی آڑمیں وہاں کے لوگوں کو اکسانا یا ورغلانہ کہ یہاں تو بہت محدود حدیں ہیں، کسی بھی طرح سے ریاست کے لیے قابل برداشت نہیں ہوسکتا ۔

ایک وہ دور تھا جب ریاست کے سربراہ اور دیگر اعلی حکام کے بارے میں معلومات حاصل کرنا اور ان تک کوئی بات یا مسلئہ پہنچانا نا ممکن سمجھا جاتا تھا اور کوئی ایسا سوچتا بھی نہیں تھا۔ دنیا اس وقت میڈیا کی زد میں ہے ہر طرف سماجی میڈیا کا شور ہے لوگ چلتے پھرتے، سفر کرتے غرض یہ کہ گھروں میں بیٹھی خواتین بری طرح سے اس کی لپیٹ میں ہیں، جیسے کہتے تھے کہ اسکو تو جن چمٹ گیا ہے تو آج پورے معاشرے کو جن چمٹا ہوا ہے۔ آج تقریباً دنیا کے سربراہان اور اعلی حکام باقاعدہ سماجی میڈیا کا حصہ ہیںاور دنیا میں رونما ہونے والے واقعات پر اپنے تاثرات کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ معاشرے کی ذہنیت اور اس کے تعلیم یافتہ ہونے کا پتا بھی آج سماجی میڈیا سے لگایا جا رہا ہے ۔ یہ سمجھ لینا آسان ہوگیا ہے کہ ساری حدیں پھلانگتا ہواہر کسی کی حدوں میں درانداز ہو چکا ہے ۔

آخر کیا وجہ ہے کہ یہ لکھنے والے کسی حدود و اربع کو خاطر میں رکھے بغیر لکھتے ہی چلے جاتے ہیں اور دور حاضر میں تو سرحدوں کے محافظوں کی طرح یہ لکھنے والے بھی نظریات کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی زندگیا ں قربان کر رہے ہیں۔ ایسا ممکن نہیں کہ سب ہی بغیر کسی معاوضے کے اپنے قلم سے قرطاس کو روشنائی بخش رہے ہوں۔ رزق کی فراہمی اور امور ے معاشرت بھی تو چلا نے ہیں۔ یہ تو طے ہے کہ یہ لکھنے والے خصوصی طور پر جن کا تعلق گردش کرتی خبروں اور خبروں کی زینت بننے والوں سے ہو، کسی کی حدود کا کسی کے نظریے کی سرحدوں کی حفاظت کر ہی رہے ہوتے ہیں۔ شہرت، قدر و منزلت سب دنیا میں رہ جائے گا کوئی اگر ہاتھ اٹھا کر دعا دے گا تو کوئی ہاتھ اٹھا کر دہائی بھی دے سکتاہے۔

آج جب ہم میڈیا کے دور میں قید ہیں، آج جب معاشرتی سرحدوں کا تقدس پامال ہوچکا ہے، آج جب عزت اور ذلت کا فرق ختم ہونے کو ہے، آج مذاہب مسجد ، مندر اور کلیساءمیں قید ہوکر رہ گئے ہیں تو ایسے میں صرف قلم ہی ہے جو ایک بار پھر حقیقی انسانیت کی بقاءکی جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انسان نے گولے اور بارود سے دنیا کو رہنے کی قابل بنانے کی ہر ممکن کوشش کر کے دیکھ لی لیکن دنیا کی کیا حالت ہوچکی ہے یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ اب قلم ہی اس ہچکیاں لیتی دینا کی آخری امید ہے، قلم ہی حق اور سچ کو محبت سے عام کرسکتا ہے۔ جو علاقائی سرحدوں کی حرمت اجاگر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو پھر سے حدود کی پاسداری کو یقنی بنا سکتا ہے اور جو پھر امن و محبت کے گیت فضاﺅں میں بکھیر سکتا ہے۔ اب قلم ہی سرنظریوں کی حفاظت کا حقیقی پاسبان ہے۔

کیا حق کے لیے بولنا جرم ہے؟( راحت جبین)

کیا حق کے لیے بولنا جرم ہے؟( راحت جبین)

آج ایک وڈیونظر سے گذری، جس میں بیرون ملک مقیم ایک شخص کہہ رہا تھا کہ پاکستان میں مثبت خبریں نہیں چلائی جاتیں بلکہ منفی پروپیگنڈا زیادہ ہے۔ جیسا کہ قتل کا تناسب اور دہشت گردی کا تناسب وغیرہ وغیرہ۔ ایک جگہ تو ان صاحب نے یہ بھی کہا کہ ہم بند گٹر کی تعریف نہیں کرتے بلکہ کھلے گٹر کی فوری نشاندہی کرتے ہیں۔ جب کہ امریکہ، سنگاپوراور دبئی میں منفی خبروں کے برخلاف مثبت خبروں کا پرچار کیا جاتا ہے۔

ویسے سننے میں یہ بھی بڑا اچھا لگتا ہے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے۔ یہاں قرضہ نہیں لیا جاتا۔ یہ ایک صاف ستھرا ملک ہے۔ یہاں چوری اور ڈکیتی کا نام و نشان بھی نہیں۔ یہاں کے نوے فیصد بچے اسکولوں میں جاتے ہیں۔ یہاں لوگوں کو بجلی، صحت، پانی اور گیس کی سہولیات میسر ہیں۔ یہاں سڑکوں کا عمدہ نظام ہے۔ یہاں دہشت گردی نہ ہونے کے برابر ہے۔مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملکی مسائل میں دہشت گردی کے ساتھ ساتھ کئی اور بھی پیچیدہ مسئلے مسائل ہیں جو کہ توجہ طلب ہیں۔ میری ناقص رائے کے پیش نظر وہاں کے نظام کا یہاں سے موازنہ کرنا بالکل ہی نا انصافی کے مترادف ہے۔ اگر دیکھا جائے تویہاں کے اکثر علاقوں کے لوگ بنیادی سہولیات زندگی کے لیے ترس رہے ہیں۔کیا امریکہ، سنگاپور اور دبئی میں ایسا ہی ہے؟

یہاں کے زیادہ تر لوگوں کو میڈیا خاص کر سوشل میڈیا کے آنے کے بعد ہی اندازہ ہوا کہ ان کے کیا حقوق ہیں۔ ورنہ پہلے تو”سب اچھا ہے“ کا راگ الاپ کر لوگوں کو ملک کی گھمبیر صورتحال سے لا علم رکھا جاتا تھا۔ اب بحث یہ بھی ہے کہ اگر لوگوں کو آگاہی ہو ہی رہی ہے تو کیوں اس کو چھپانا چاہیے۔ یہاں کے گورنمنٹ اور متعلقہ ذمے دار محکموں کے ساتھ ساتھ کچھ باثرعوام کی ناقص کارکردگیوں پرکیوں پردہ ڈالنا چاہیے۔یہاں کے لوگوں کو سوشل میڈیا کے آنے کے بعد ہی اندازہ ہوا کہ ہمارا تعلیمی نظام کتنا ناقص ہے اور خود پاکستان کاحکمران طبقہ بجائے تعلیمی اصلاحات لانے کے اپنے بچوں کو باہر تعلیم دلا رہے ہیں۔ ہمارا صحت کا نظام کتنا خراب ہے مگر حکمران طبقہ اس کو ٹھیک کرنے کے بجائے اپنا علاج کروانے باہر کے ملکوں میں جا رہے ہیں۔ ہمارے دیہی علاقوں کی سڑکیں جو سفر کے قابل نہیں ہیں، ان کو صحیح کروانے کے بجائے خود جہاز اور ہیلی کاپٹر پر سفر کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ہمارے غریب عوام جن کو ایک وقت کی بھی روٹی میسر نہیں۔ ان کو روٹی مہیا کرنے کے بجائے یہ تلقین کی جارہی ہے کہ دوکے بجائے ایک روٹی کھاو اور خود ماشاءاللہ ایک ایک دن کے عشائیوں پر کروڑوں روپے لٹائے جارہے ہیں۔ منرل واٹر پینے والے عوام کو یہ تلقن کررہے ہیں کہ زندگی بھر جوہڑوں کا پانی پیو مگر حرف شکایت زبان پر مت لاو۔

بجلی، پانی، گیس اور دوسری انفراسٹرکچر جیسی بنیادی سہولیات تو کچھ علاقوں میں ناپید ہی ہیں۔ وڈیو میں کچھ بات گٹر کی بھی چلی تھی۔ تو زیادہ تر دیہی علاقوں میں بلکہ اگر ان میں شہری علاقے بھی شامل کردیے جائیں تو بعید نہیں کہ یہاں گٹر جیسے لوازمات ضروری ہی نہیں سمجھے گئے۔ شایداس لیے بھی ضروری نہیں سمجھے گئے کہ یہاں غریب عوام کی کوئی اوقات ہی نہیں۔ ان کے حقوق، حقوق نہیں ان کی ضروریات، ضروریات نہیں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ غریب عوام کی کبھی کسی کی بھی نظر میں کوئی حیثیت ہی نہیں رہی ہے۔ پھر وہ چاہے آمریت کا دور ہو یا جمہوریت کا۔

لوگوں کو امریکہ، دبئی اور سنگا پور کی مثالیں دینے والے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو حب الوطنی کا لبادہ اوڑھے پاکستان چھوڑ کر باہر ممالک میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور باہر ممالک کی قومیت لینے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ میری ان لوگوں سے گزارش ہے کہ اپنے بنیادی حقوق کی جنگ کے لیے لوگوں کی راہ میں روڑے نہ اٹکائیں۔ نصیحت کرنے کے بجائے ان تمام عوامل کی جانب نشاندہی کریں اور ان کو ٹھیک کروانے کی ہر ممکن کوشش کریں جن کی وجہ سے منفی خبریں بنتی ہیں۔ ان منفی خبروں کو مثبت پہلو سے دیکھ کر مثبت اصلاحات لائیں تاکہ ایسی خبریں کو جنم لینے کا موقع ہی نہ ملے۔ لوگوں کی زبانوں کو لگام دینے کے بجائے عملی اقدامات سے جواب دیں تو اس طرح کی خبریں آنا خود بخود بند ہوں گی کیوں کہ دھواں وہاں اٹھتا ہے جہاں چنگاری ہوتی ہے تو اس چنگاری کو اٹھنے کا موقع ہی نہ دیں۔

پاکستانی حکومت نے ڈالر مہنگا کرکے جہاں بیرون ملک مقیم افراد کو مالی و معاشی فائدہ پہنچایا ہے، وہیں غریب پاکستانی عوام کو مہنگائی اور اضافی ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا دیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک مقیم افراد پاکستان سے کوسوں دوربیٹھ کر ان پاکستانیوں کوس رہے ہی جو اچھے برے کسی بھی حال میں پاکستان سے جڑے ہوئے ہیں مگر ان کی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔ خدارا اب ان سے اپنے حقوق کی جنگ کا حق تو مت چھینیے۔ کیامندرجہ بالا سب مسئلوں کا حل لوگوں سے انصاف کی زنجیر چھیننا رہ گیا ہے؟ یا پھر مثبت اقدامات کی جانب پیش قدمی کرنا بھی ایک ممکنہ حل ہوسکتا ہے؟

سنت کے مطابق حج ادا کیجیے (مولاناجہان یعقوب)

سنت کے مطابق حج ادا کیجیے (مولاناجہان یعقوب)

حج کی تعریف

لغت حجِ عرب میں کے معنی” کسی عظیم الشان چیز کی طرف جانے کا ارادہ کرنے“ کے ہیں۔ اصطلاح شریعت میں حج سے مراد اسلام کے بنیادی پانچ فرائض، جن پر اسلام کی پوری عمارت قائم ہے، میں سے پانچواں فریضہ ہے ۔ جس میں احرام باندھ کر خانہ کعبہ کا طواف، سعی اور وقوف عرفات کے فرائض ایک مخصوص ترتیب سے بجالائے جاتے ہیں۔

حج تمام صاحب استطاعت مرد و عورت پر پوری زندگی میں صرف ایک بار ادا کرنا فرض ہے۔ اس میں بلاوجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ مبادا کب سانسوں کی ڈور کٹ جائے اور یہ فرض ذمے میں باقی رہ جائے۔ اس لیے اس فریضے کو جلد از جلد ادا کرلینا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے ”جو مسلمان استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتا تو وہ یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر، اللہ تعالیٰ کو اس سے کوئی سروکار نہیں“۔ (ترمذی شریف، دارمی)

آج کل بدقسمتی سے سفر حج کوبھی اسٹیٹس اور نمائش کا ذریعہ سمجھ لیا گیاہے۔ سفر پر روانگی سے پہلے اور واپسی پر بڑی بڑی دعوتیں اور پروگرامات ہوتے ہیں لیکن اصل مقاصد کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔ حج پر روانہ ہونے سے پہلے تمام عزیز و اقارب کے حقوق اور دل آزاری پر بالخصوص معافی تلافی کرلیں۔ کسی کا حق ذمے میں باقی ہوتو اسے ادا کرلیں۔ کیامعلوم دوبارہ واپسی نصیب ہو یا نہ ہو۔ مخلوق کے حقوق تو اللہ تعالیٰ بھی اس وقت تک معاف نہیں کرتے، جب تک صاحبِ حق ادانہ کردے۔

یہ بات بھی یادرکھیے کہ حج کاسفر عاشقانہ سفرہے، محبوب کی راہ میں پیش آنے والی ہر مشکل عاشق کے لیے نہ صرف سہل وآسان بلکہ لذیذ و پرلطف ہوتی ہے۔ اس لیے سفرحج کے دوران کسی قسم کی مشقت اور تکلیف کو بخوشی برداشت کیجیے۔ آپ کایہ عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑے اجر اور ثواب کا باعث ہوگا۔

حج کی تین اقسام ہیں

حج افراد اس میں حاجی صرف حج کا احرام باندھے گا اور عمرہ نہیں کرے گا۔

حج قران: اس میں حاجی عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھے گا۔ مکہ پہنچ کر صرف طواف اور سعی کرے گا لیکن بال نہیں منڈوائے گا۔ جب حج پورا ہوجائے گا تو بال منڈوائے گا اس حج میں ساراوقت احرام اور احرام کی پابندیاں جاری رہیں گی۔

حج تمتع: اس طریقے میں حاجی اگر پہلے مکہ جائے گا تو احرام باندھ کر عمرہ ادا کرے گا اور بال منڈواکر احرام کھول دے گا اور حج کے لیے مکہ میں کسی جگہ دوبارہ احرام باندھ کر حج کرے گا۔ پہلے مدینہ جانے کی صورت میں بھی جب مکہ جائے گا تو احرام باندھ کر مکہ جائے گا اور عمرہ کرے گا۔ اس طرح کے حج کو حج تمتع کہتے ہیں اور زیادہ تر پاکستانی اسی طرح حج کرتے ہیں۔

حج کے تین فرائض ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی رہ جائے تو حج سرے سے نہیں ہوگا۔ فرائض حج یہ ہیں: احرام (احرام باندھنا)، وقوفِ عرفات، طوافِ زیارت، ان میں سے کون سے دن کون سا رکن اداکیاجاتاہے۔ ذیل میں اس کی تفصیل درج کی جارہی ہے

ایامِ حج 8 ذی الحجہ سے شروع ہوتے ہیں۔ قیام ِ منیٰ 7 ذی الحجہ کو رات شروع ہونے پر8 ذی الحجہ ہوجاتاہے۔ آپ منیٰ جانے کی تیاری رات میں ہی کرلیں۔ سنت کے مطابق غسل کرلیں اور اگر سہولت نہیں تو وضو کرلیں۔ پھر احرام کی نیت کرکے احرام باندھ لیں اور دو رکعت نفل برائے احرام پڑھ لیں۔ اس وقت سر کو ڈھک لیں اور نماز ختم ہوتے ہی سر کو کھول دیں۔ اب حج کی نیت کرلیں اورتین دفعہ تھوڑی بلند آواز میں تلبیہ پڑھیں۔ درود شریف پڑھیں، دعا کریں۔

صبح 8 ذی الحجہ ہے اور فجر کی نماز کے بعد منٰی روانہ ہونا ہے۔ سارا وقت تلبیہ۔ درود شریف اور دعاءکرتے رہیں۔ (منٰی جانے اور قیام کا بندوبست وغیرہ معلم حضرات کرتے ہیں) آپ دوپہر تک منٰی پہنچ جائیں گے۔ یہاں آپ کو ظہر، عصر، مغرب اور عشاءکی نماز پڑھنی ہے اور رات منیٰ میں ہی گزارنی ہے۔

صبح 9 ذی الحجہ ہے۔ آج مغفرت اور عرفہ کا دن ہے۔ فجر کے وقت فجر کی نماز پڑھیں۔ فجر کی نماز کے بعد تکبیرات تشریق شروع ہوجاتی ہے اور تھوڑا انتظار کریں جب سورج کی روشنی سفید ہوجائے تو عرفات کے لیے روانہ ہوجائیں۔ (یہ انتظام اور وقت کا تعین بھی معلّم کرتے ہیں) آپ تلبیہ، درود شریف اور کلمہ چہارم کا ورد کرتے رہیں۔آپ دوپہر تک عرفات پہنچ جائیں گے۔

وقوفِ عرفات حج کا رکنِ اعظم ہے اور اس کے بغیر حج نہیں ہوتا ہے وقوف کی نیت کرنا شرط نہیں لیکن مستحب ہے۔ ظہر کے وقت ظہر کی نماز خیمہ یا جماعت سے پڑھیں۔ اسی طرح عصر کی نماز پڑھیں۔ (یہاں لیٹنا مکروہ ہے) اور عصر کی نماز کے بعد دھوپ میں کھڑے ہوکر وقوف کی نیت کریں۔ اپنی زبان میں دعائیںاور ثنائ، تکبیر، تحلیل اورتلبیہ پڑھتے رہیں۔ تلبیہ تین تین بار پڑھیں۔ کثرت سے درود شریف پڑھیںاور سب کی بھلائی اور مغفرت کی دعا کریں۔ عرفات میں دعاءقبول ہوتی ہے۔ مغرب تک یہ عمل جاری رکھیں اور اگر دھوپ میں مشکل ہو تو سائے میں آجائیں۔ یہاں مغرب کی نماز نہیں پڑھنی ہے۔

نو ذی الحجہ کی شام غروبِ آفتاب کے بعد مزدلفہ روانہ ہونا ہے۔ (یہ بھی معلم حضرات کی نگرانی میں ہوگا) مزدلفہ پہنچ کر عشاءکے وقت ایک تکبیر سے پہلے مغرب پھر عشاءکی نماز پڑھیں یہاں ساری رات عبادت میں مصروف رہیں۔ رمی (شیطان کو کنکریاں مارنا) کے لیے کھجور کی گٹھلی کے برابر تقریباً ساٹھ (60) ستر(70) کنکریاں جمع کرلیں اور ان کو دھوکر صاف کرلیں۔ یہاں آرام اور سونا منع نہیں ہے۔

آج 10 ذی الحجہ ہے اور نماز کے بعد منیٰ جانا ہے۔ فجر کی نماز کے وقت حسبِ معمول فجر کی نماز پڑھیں اور نماز کے بعد تھوڑی دیر تک مزدلفہ میں وقوف کی نیت سے ٹھہریں۔ (یہ واجب ہے) اور وقوفِ مزدلفہ کہلاتا ہے۔ یہاں تکبیر تحلیل اور تلبیہ پڑھتے رہیں اور سب کی خیر کی دعائیں کریں۔ منی میں آج صرف بڑے شیطان کی رمی کرنی ہے یعنی کنکریاں مارنی ہیں۔ رمی سے قبل تلبیہ پڑھنا بند کردیں۔ رمی کے بعد قربانی کرنی ہے۔ آج کل قربانی بھی معلم یا اس کا نمائندہ آپ کی طرف سے کرے گا جو کہ ایگریمنٹ میں لکھاہوتا ہے اور اس کی رقم پیکج میں شامل ہوتی ہے۔ قربانی کے بعد جس کی اطلاع آپ کو نمائندہ دے گا۔ آپ کو پورے سر کے بال منڈوانے ہیں اور افضل ہے کہ استرا پھروا لیں اگر چے آپ کے سر پر پہلے ہی استرا پھرا ہو (عمرہ کا) یہ واجب ہے۔ اب آپ غسل کرلیں اور میل کچیل کو صاف کرلیں اور احرام کھول کر روز مرہ کے کپڑے پہن لیں۔ احرام کی پابندیاں ختم ہوچکی ہیں۔ سوائے بیوی کے حلال ہونے کے۔

طوافِ زیارت آج (10 ذی الحجہ) کا سب سے اہم کام ہے اور اس کے بغیر بیوی حلال نہیں ہوگی۔ اگر آج طواف زیارت نہیں کرسکے تو 12 ذی الحجہ غروب آفتاب سے قبل تک ضرورکرلیں (ورنہ بیوی کی پابندی لازم رہے گی) طوافِ زیارت کے بعد سعی کریں جو دراصل حج کی سعی ہے۔ یہ سب آپ روز مرہ کے کپڑوںمیں کرےں گے۔

آج 11 ذی الحجہ ہے۔ آج دوسری رمی کرنی ہے۔ راستے میں سب سے پہلے جمرہ اولیٰ (چھوٹا شیطان) آتا ہے۔ پہلے اس کو سات کنکریاں الگ الگ ماریں اور ہر کنکری پر ”بسم اللہ اللہ اکبر“ پڑھ کر ماریں۔ پھر ذرا ہٹ کر دعا کریں۔ اسی طرح درمیان میں جمرہ وسطی (درمیانی شیطان) آئے گا، ”بسم اللہ اللہ اکبر“ کہہ کر اس کی بھی رمی کریں اور ذرا ہٹ کر دعا کریں۔ پھر آخر میں جمرہ عقبیٰ (بڑا شیطان) آئے گا، اس کی بھی ”بسم اللہ اللہ اکبر“ کہہ کر رمی کریں۔ یہاں دعا نہیں کرنی ہے۔

الحمدللہ اب آپ کے حج کے ارکان پورے ہوگئے ہیں۔ صرف واپسی سے قبل آپ نے طواف وداع کرنا ہے۔ یہ بھی واجب ہے۔ (یہ پاکستان سے آنے والے کے لیے واجب ہے) اس کے علاوہ آپ نفلی عمرہ کرتے رہیں اور حرم شریف میں وقت گزاریں۔

نوٹ: پاکستان سے جانے والے حضرات عام طور پر حج تمتع کریں گے، اس کے لیے عمرہ اور حج کا احرام الگ الگ باندھا جائے گا۔ پاکستان سے روانگی یا سفر کے دو طریقے ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

 پہلے مدینہ منورہ جانا: مدینہ جانے والے افراد اپنے عام کپڑوں میں مدینہ جائیںگے اور روضہ رسول ﷺ کی زیارت اور مسجد نبوی میں چالیس وقت کی نماز (اگر وقت ہو) ادا کریں گے۔ پھر مدینے سے احرام باندھ کر مکہ کے لیے روانہ ہوجائیں گے۔

احرام باندھنے کے لیے غسل کریں یا صرف وضو کر لیں اور احرام کی نیت کریں دو رکعت نفل پڑھیں اور تلبیہ پڑھیں، تلبیہ کے بعد احرام کی پابندیاں شروع ہوجاتی ہیں (جن کی تفصیل آگے آرہی ہے)۔

 براہ راست مکہ مکرمہ جانا: براہ راست مکہ مکرمہ جانے والے افراد کے لیے بہتر یہ ہے کہ گھر سے غسل کرکے نکلیں اور وضو کرکے ایئر پورٹ پر عمرے کی نیت کرکے احرام باندھیں اور دو رکعت نفل پڑھ کر تلبیہ پڑھ لیں۔ تلبیہ کے بعد احرام کی ساری پابندیاں شروع ہوجائیں گی۔

گھر سے احرام باندھنا بھی جائز ہے لیکن اس میں کئی قسم کی قباحتوں کا خطرہ ہے۔ مثلاً: فلائٹ نکل جائے اور قریب کے دنوں میں کوئی امکان بھی نہ ہو، تو ایسے شخص کو لامحالہ احرام کھولنا پڑے گا اور اس کے ذمے دم واجب ہوجائے گا۔ کیوں کہ وہ ”محصر“ کے حکم میں ہوگیا ۔ دونوں قسم کے پاکستانی حجاج کرام مکہ مکرمہ پہنچنے پر خانہ کعبہ کا طواف کریں اور دو رکعت واجب الطواف ادا کرکے سعی کریں۔ پھر حرم شریف سے باہر نکل کر پورے سر کے بال کٹوائیں (اسے قصر کہتے ہیں) یا استرا پھروائیں (اسے حلق کہتے ہیں)۔ اس کے بعد احرام کھول دیں اور طواف کریں (اس طواف کو، طواف قدوم کہتے ہیں) اب آپ پر سے احرام کی ساری پابندیاں ختم ہوگئیں اور وہ تمام کام جائز ہوگئے جو احرام کے بغیر کیے جاتے ہیں۔