محبت کے سوداگر ( ثنا نقوی)

محبت کے سوداگر ( ثنا نقوی)

بھاری بھرکم تالا اس بوسیدہ دروازے پر لگا تھاجو ہمیشہ دوسروں کے لیے کھلا رہتا تھا۔ دل بوجھل تھا اور آنکھیں نم، میں نے حلق سے بمشکل نکلنے والی بھاری سی آواز میں ملازم سے تالا کھولنے کوکہا۔ اس نے دو سے تین بارچابی الٹی سیدھی کر کے گھمائی اور زنگ آلود تالے کو کھول کر دروازے کو ہلکا سا دھکا دے کر کھول دیا۔

قدم اندررکھتے ہی مشکل سے اپنا وجود قائم رکھنے والی چھتوں سے ماضی کی یادوں کی بارش برسنے لگی۔
جہاں روشنیوں کا بسیراتھا وہاں اب اندھیرے حاکم تھے، قہقہوں کی صدائیں سناٹوں کے زنداں میں قید ہو چکی تھیں۔ جہاں گھر کا ساز و سامان بڑی نفاست سے سجا ہوتا تھا وہاں اب بے ترتیبی براجمان تھی۔ بائیں جانب کے کمرے میں رکھا شیشے کا مرتبان جس میں مختلف رنگ و نسل کی مچھلیاں بستی تھیں اس کا پانی سوکھ چکا تھا۔ مکینوں کے نہ ہونے سے مکان میں زندگی کے تمام آثار ختم ہوچکے تھے۔ دائیں طرف کو مڑنے والی راہداری میں گہرے نیلے رنگ کے گلدان جن میں لگے مصنوعی پھول اب جالوں کی نذر ہو چکے تھے اب بھی  موجود تھے۔ ان گلدانوں سے بڑی حسین یادیں جڑی تھیں، ان کو سجانے کے لیے ہم نے کتنی محنت کی تھی۔ کچے چاولوں کو رنگوں میں بھگو کر ان سے گلدانوں پر نقش و نگاری کی تھی اور بعد میں گھر میں پالاہوا مرغا وہ ایلفی زدہ چاول کھا کر مر گیا تھا۔ مرغے کے مالک نے نئے آرٹسٹ کے جان لیوا آرٹ کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ کئی دن یہ قصہ اس گھر میں ہونے والی ہر محفل میں بیان ہوتا رہا اور قہقہوں کا سبب بنا تھا۔ بہتے ہوئے آنسوؤں کے بیچ میرے چہرے پر تھوڑی سی دیر کے لیے مسکراہٹ بکھر گئی۔

 آنسوپونچھتے ہوئے میں کمرے کی جانب بڑھی جہاں میری نظر دیوار پر گولڈن فریم میں لٹکی ہوئی درمیانے سائز کی تصویر پر پڑی جوگرد سے اٹی تھی۔ میں نے ایڑیاں اٹھا کرتصویر تک رسائی حاصل کی اور دیوار سے اتار کرفریم کو اپنے دوپٹے کے پلو سے صاف کیا۔ گرد صاف ہوتے ہی خوبصورت نقوش والا چہرہ نمایاں ہو گیا۔ بڑی بڑی گہری آنکھیں جن میں محبت اور خوشی ہمیشہ جھلکتی رہتی تھی اس تصویر میں بھی بالکل ویسی ہی نظرآرہی تھیں۔ مجھے یوں لگا وہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہی ہیں۔ دبلی پتلی سی دلہن سرخ جوڑے میں بہت حسین لگ رہی تھی، اس شادی کے پیچھے بھی بہت سی تلخ اور شیریں یادیں تھیں۔ محبت کی شادی کرنے والے شاید محبت کے حقیقی معنی سے واقف تھے اسی لیے زندگی کے تمام نشیب و فراز میں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہے او ر محبتیں ہی بانٹتے رہے۔

گھر کی دیواروں کا ہلکا گلابی رنگ جو گھروالوں کی زندہ دلی کا ثبوت تھا بارشوں کے پانی سے دھل کر کہیں کہیں سے سفید ہو چکاتھا۔ دیواروں کا اڑا ہوا رنگ بچھڑ جانے کے کرب کی نشاندہی کر رہا تھا۔ گھر کا سامان جو دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث بوسیدہ ہو چکا تھا یہ گواہی دے رہا تھا کہ جان دار ہو یا بے جان خیال رکھنے والے پیاروں کے چلے جانے کے بعد کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔

کمروں کی زیارت کے بعد میں لان میں آگئی۔ زیارت کا لفظ یہاں اس لیے لکھا کیوں کہ مجھے لگتاہے ہروہ جگہ مقدس ہے جہاں ہر آنے والے کی قدر کی جائے، جہاں ہرخاص و عام سے ایک جیسا سلوک رکھا جائے۔ ہر کسی کو اس کے اصل میں قبول کیا جائے، کسی بے آسرا یا مصیبت زدہ کے لیے درد وا کر دیے جائیں، دوسروں کے لیے خوشیوں کا سامان کیا جائے۔
لان میں لگے پودے ان شفیق ہاتھوں کے لمس کے پیاسے لگ رہے تھے اوربارش کے پانی کے مرہون منت جینے کی بھرپورسعی کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ موتیا کا پودا جس پر ایک دو پھول ہی موجود تھے اور وہ بھی دھوپ سے آدھے جل چکے تھے انہیں دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ وہ کتنی خوش لباس تھیں، سجنے اور سنورنے کا بہت شوق تھا ان کو، اکثر وہ موتیے کے پھولوں کو بندوں کی جگہ کانوں میں سجا لیتی تھیں، گہرے رنگ کی لپ اسٹک لگاتی تھیں۔ کوئی کچھ بھی کہتا رہے وہی کرتی تھیں جس سے ان کو خوشی ملتی تھی اور شوہر سے ملنے والی پذیرائی سے مزید با اعتماد ہو جاتی تھیں۔ ان کے شوہر بھی خوشبوؤں کے دلدادہ تھے۔ دونوں کے پاس پرفیومزکی بڑی کولیکشن تھی ہر نئی خوشبو خرید تے اوردوسروں کو بھی تحفے میں دیتے رہتے تھے۔رشتوں اور محبت کو نبھانے کی درس گاہ کے صحن میں کھڑے میں نے نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور دوسروں کے دلوں میں گھر کر کے اپنا گھر ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلے جانے والے اس زندہ دل جوڑے کے لیے دعا کی، جن کے دم سے یہاں رونقیں تھیں، جو امن پسند تھے وہ وہاں بھی امن اورسکون میں رہیں۔

اس مختصر سے دورے کے بعد میں میرے قدم پاس ہی موجود اپنے گھر جی جانب رواں تھے اورمیں یہی سوچ رہی تھی کہ جہاں سے ہمیشہ خوشیاں اور پیار ملتا تھا آج بھی میں وہاں سے خالی ہاتھ نہیں آئی تھی بلکہ ایک درس ملا تھا کہ لوگ مکینوں سے ملتے ہیں مکانوں سے نہیں۔ اگر مکانوں سے ملا جاتا تو آج بھی یہاں ویسی ہی رونقیں ہوتیں، ویسی ہیں محفلیں سجتیں، مکان تو وہیں موجود تھا مکین جا چکے تھے۔ قیمتی انسان ہوتے ہیں چیزیں نہیں، چیزوں کی معیاد ختم ہو جاتی ہے لیکن انسان کی معیاداس کے چلے جانے کے بعد بھی اس کے کردار اس کے اخلاق کی صورت میںقائم رہتی ہے۔ در و دیوار روشن ہونے سے بہترہے کہ دل و دماغ روشن ہو جہاں ہر کسی کو ہر حال میں قبول کیا جائے، گھروں کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ خود کو بھی سنواریں لوگوں کے ساتھ ایسے رہیں کہ ہمیشہ کے لیے چلے جانے کے بعد بھی دوسروں کے دلوں سے کہیں نہ جائیں۔ ان کے دلوں، یادوں اور دعاو ¿ں میں ہمیشہ زندہ رہیں۔

پردہ عورت کا حسن ہے

پردہ عورت کا حسن ہے

اسلام نے عورت کو ایک عزت اور مقام دیا ہے ۔ اگر ایک عورت مجبوری کے تحت گھر سے باہر نکلتی ہے تو اس کو بھی وہی مقام اور عزت دینی چاہئے جو ہم اپنی ماں، بہن اور بیٹی کو دیتے ہیں۔ دور جدید میں عورت پرہونے والی نا انصافیوں کودیکھیں تو اسلام سے پہلے کا دور جہالت یاد آ جاتا ہے۔

دورِ جہالت میں عورت کی کوئی قیمت نہ تھی اور اسے اپنی زندگی گزارنے کا کوئی اختیار نہ تھا۔ جیسے کوئی بھیڑ یا بکری پالنے والا جب چاہے باند دھ دے۔ جب چاہے اسے فروخت کر دے اور جب چاہے زندہ دفن کر دے۔
 عورت دورِ جہالت میں عرب اور یونانی معاشرے کا مظلوم ترین طبقہ تھی ایک مرد جتنی عورتوں سے چاہے شادی کر لیتا تھالیکن سوال یہ ہے کہ موجودہ دور میں بھی عورتوں کے حقوق میں ہر قانون سازی کے باوجود عدم تحفظ اور جنسی زیادتی کا خوف مسلسل برقرار ہے۔ دنیا بھر میں نوجوان لڑکیوں کی اکثریت جنسی زیادتی کے خوف کی وجہ سے ڈری اور سہمی زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور لڑکیا ں یہ محسوس کرتی ہیں کہ انھیں دنیا میں آزادی کے ساتھ اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا کوئی حق نہیں اور دیکھنے میں جو نتائج اور حقائق سامنے آتے ہیں۔

 ان کے مطابق شاید یہی وجہ ہے کہ غریب ترین عورتوں میں رہنے والی لڑکیاں دنیا کی کم ترین مخلوق خیال کی جاتی ہیں اور جن کو صرف عورت ہونے کی وجہ سے اپنی زندگی اورترقی کے لئے سخت ترین رکاوٹوں کا سامنا ہے اور عورت کو کئی مراحلوں سے گزرنا پڑتا ہے انھیں اپنی زندگی میں چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے میں اس قدر مشکلات در پیش ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے اٹھ بیٹھ بھی نہیں پاتیں ۔ یہاں تک کہ شادی کے بعد جس گھر میں جاتی ہیں شادی سے پہلے ان کے بارے میں ان کو کوئی علم نہیں ہوتا ان کی شادی کے بعد زندگی بدل جاتی ہے اور دبے سہمے ماحول میں پرورش پا کر جوان ہونے کے بعد ایک نیا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے اور زیادہ لڑکیاں اسکول جانے سے بھی گھبرائی رہتی ہیں اور اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔ جنسی زیادتی کے ڈر سے بیت الخلاءاستعمال کرنے سے بھی ڈرتی ہیں بلکہ ہر اس عورت کی کہانی ہے جس کو کسی نہ کسی مجبوری کے تحت گھر سے باہر جانا پڑتا ہے۔

مثال کے طور پر جب گھر سے اس کے سربراہ کا سایہ اٹھ جائے اور گھر والوں کی ذمے داری اٹھانے کے لیے کوئی اور مرد بھی موجود نہ ہو تو پھر سب ضروریات پوری کرنے کے لئے عورت کو مجبور اٰٰ گھر سے باہر نکلنا پڑتا ہے اور جس کی اجازت ہمارے مذہب میں بھی ہے، مگر ہمارے معاشرے میں خاص کر جس طرح ملازمت پیشہ خواتین کو عزت کی نگا ہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے ان کے بارے میں طرح طرح کی فضول باتیں کی جاتی ہیں ہمارے معاشرے کا کلچرکچھ اس طرح بن چکا ہے اگرمعاشرے میں کسی مرد کو اکیلی عورت کا پتا چل جائے کہ یہ ملازمت پیشہ ہے اور ان کا کوئی ولی وارث نہیں بری نظروں سے گھورنا اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں۔

اسلام میں عورت کو ایک بہت بڑا مقام حاصل ہے مگر ہمارے مرد حضرات یہ عزت اور احترام صرف اپنی ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کو دیتے ہیں مگر ہمارے معاشرے میں ایک ادھیڑ عمر کا مرد بھی اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکی کو حریصانہ نظروں سے دیکھتا ہے اور ملازمت پیشہ خواتین چاہے وہ ڈاکٹر ہوں یا ٹیچر ہوں یا کسی بینک میں ہوں یا اسپتال کے اندر ہوں یا گھر میں کام کرنے والی سب ہی ایک جیسے حالات کا شکار ہیں۔ ایسی خواتین جن کا کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں ہے ان کو اکثر ان سب حرکتوں ۔باتوں کا سامنا اپنی ہی گلی محلے کے مرد حضرات سے ہوتا ہے۔ان میں بہت سی خواتین ایسی ہوتی ہیں جو بیچاری جاب کرتی ہیں۔انہیں تنخواہ کے معاملے میں تنگ کیا جاتا ہےاور کم تنخواہ میں زیادہ کام لیا جاتا ہے اگر تنخواہ بڑھانے کی بات کریں تو تنخواہ بڑھانے کے بدلے ان کو کس طرح کی آفر ملتی ہیں اور ان آفرز کو ٹھکرانے پر ان کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کچھ اور ٹائم لیا جاتا ہے تو بعض اوقات انکی مزید تنخواہ کم کر دی جاتی ہے۔

ہمارے ہاں گھریلو ملازموں کو بھی سخت ترین حالات سے بھی گزرنا پڑتا ہے جہاں وہ ملازمت کرتی ہیں ان گھروں میں رہنے والے مرد حضرا ت ا ن کو دیکھنا اور فحش باتیں کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اکثر ملازمیں جنسی شکار کا شکار ہوتی ہیں اور زیادتی بننے والی خاتون کو ڈرا دھما کر چُپ کرا دیا جاتا ہے۔ اگر یہ خواتین ہمت کر کے پولیس تک پہنچ جائیں تو پولیس ان کی رپوٹ درج کرنے کی بجائے اُلٹا ان پر ہی شک کرتی ہے۔ اکثر خواتین اپنی عزت پر حرف آنے کی وجہ سے تھانوں کا رُخ بھی نہیں کرتیں۔ ہمارئے ہاں با پردہ خواتین جب مجبوری کے تحت گھر سے ملازمت کے لئے باہر نکلتی ہیں تو قابلیت اور جاب کے معیار کے مطابق ہونے کے باوجود ان کو صرف اس لیے ملازمت نہیں دی جاتی کیونکہ وہ حجاب لیتی ہیں ۔

 اکثر گھروں میں کام کرنے کی یہ بھی شرط رکھی جاتی ہے کہ وہ باپردہ ہو کر نہ آئیں۔ اگر حجاب کر کے آ ئیں گی تو ملازمت نہیں ملے گئی۔ اگر دیکھا جائے تو اسلام کی رُو سے بھی پردہ بہت اہم ہے۔ بہت سی عورتیں ایسی ہوتی ہیں جو مجبوری کے تحت کام کر رہی ہوتی ہیں مگر لوگ اُن کے بارے میں ایسی شرمناک گفتگو فرما رہے ہوتے ہیں کہ اگر وہ خود بھی ایسی باتیں کسی اور کے منہ سے سُن لیں تو ان کے سر شرم سے جھک جائیں ۔

اسلام نے عورت کو ایک مقام اور عزت دی ہے اس لئے عورت کو وہی مقام دینا چاہئے جو اپنے گھر میں ہم اپنی ماں،بہن اوربیٹی کو دیتے ہیں اگر ہم تھوڑی دیر کے لئے سوچیں کہ اگر ہم کسی کی عزت کے ساتھ کھیلیں گے اور پھر اس کے برعکس اگر ہمارئے گھر میں ہماری عزت کے بارئے میں کوئی بات کرے گا تو ہم پر کیا گزرے گی۔

اسلام نے نہ صرف اپنے گھر کی عورت کی عزت کا حکم دیا ہے بلکہ یہ حکم دوسری عورتوں کے لئے بھی دیا ہے۔ بحثیت انسان اور مسلمان ہمیں ایسی خواتین کی مجبوریوں کو سمجھنا چاہیے۔ عورتو ں کے مسائل حل کرنا چایئے ان کومعاشرے میں آگے بڑھنے کی ہمت دینی چاہیے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کیونکہ ان خواتین کو بھی معاشرے میں جینے کا حق حاصل ہے۔

قارئین محترم یہ کتنے ظلم کی بات ہے، تین سال پہلے ایک بھائی نے اپنی بہن کو ووٹ کاسٹ کرنے سے قتل کر دیاتھا۔ کیا ہمارا مذہب اسلام ایک عورت کو ووٹ ڈالنے اور اپنی مرضی کرنے سے روکتا ہے۔ یہ انتہا پسندی کی انتہاہے۔ جیسا کہ اس سخت پھتر دل بھائی نے اپنی بہن کو بے گناہ ابدی نیند سلا دیا۔اس وقت اس کے خلاف حکومت کو کاروائی کرنی چاہیئے تھی اور ایسے شخص کو کڑی سزا دینی چاہیئے تھی اور عورتوں کے حقوق کا ہمیشہ خیال کرنا چاہیئے۔اور عورتوں کے ساتھ خوش اسلوبی کے ساتھ سلوک کرناچاہیئے۔

کتاب زندگی ہے (رمشا افتخار)

کتاب زندگی ہے (رمشا افتخار)

کتابیں ہماری زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کہا جاتا ہے، “اگر ایک کتاب،ایک قلم،ایک استاد اور ایک شاگرد مل جائے تو دنیا بدل سکتی ہے” ساری زندگی انسان کتابوں سے جڑا رہتا ہے۔چند اوراق کو جوڑ دیا جائے تو کتاب بن جاتی ہے۔

ہر کتاب کی اپنی ایک دنیا اور ایک کہانی ہوتی ہے۔بچپن کا بھی عجیب دور تھارات کو اماں اور دادی کا گھٹنا نہ چھوڑنا جب تک وہ کہانی نہ سنا دیں۔

جادو کی دنیامیں رہنا اور خود کو شہزادہ اور شہزادی سمجھنا۔ جب ہوش سنبھالاتو معلوم چلا کہ ایسی کوئی دنیا ہی نہیں۔ زبردستی ہمارا ٹانکا کتابوں سے جوڑ دیا گیا لیکن پھر یہ ٹانکا کب دل سے جڑ گیا ہمیں معلوم بھی نہ ہوا۔

کتابوں سے زیادہ کوئی بھی وفادار دوست ثابت نہیں ہو سکتا اگر آپ کی دوستی کتابوں سے ہے تو آپ کبھی بھی تنہا نہیں ہوں سکتے۔ کتابیں پڑھنے سے انسان کے علم میں اضافہ ہوتا ہے اسے کے حوصلے بلند ہوتے ہیں وہ کائنات کے بارے میں تجسس سے جاننا شروع کرتا ہے۔  کتانیں علم،معلومات،غم،خوف،واقعات ،تجربات،تاریخ، پیار،کہانیوں ،نصیحتوں اور دعاؤں سے بھرپور ہوتی ہیں۔ کتابوں سے انسان کو نئی چیزیں،نئی نئی معلومات اور مشکلات کو حل کرنے کے نئے نئے طریقے ملتے ہیں۔ ہم دنیا کو زیادہ اچھے اور بہتر طریقے سے سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ انسان گھر بیٹھے کتابوں کے ذریعے پیرس کے ایفل ٹاور، آگرہ کے تاج محل،پیسا کے جھکے مینار، سان فرا نسکو کے گولڈن گیٹ برج اور روم کے Colosseum کی سیر کر سکتا ہے۔

جب ہم کتاب پڑھتے ہیں تو ہمیں ایسا لگتا ہے جیسے ہم اپنے دوست سے بات کر رہے ہواور جب ہم کتاب کا آخری صفحہ پلٹتے ہیں تو ہمیں انجانی خوشی کے ساتھ دکھ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنا دوست کھو رہے ہیں۔ اچھی کتابیں،اچھے دوست اور خوشگوار نیند یہی تو آئیڈیل زندگی ہے۔ ہمیں کتابوں کا چناؤ عقلمندی سے کرنا چاہیے کیونکہ بعض کتابیں سانپ سے زیادہ زہریلی اور بچھو سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔ ہمیں اچھی،معیاری اور معلوماتی کتابیں پڑھنی چاہیے۔جیسے اشفاق احمد کی کتاب زاویہ،بانو قدسیہ کا راجہ گدھ اور ہاشم ندیم کا بچپن دسمبر وغیرہ۔

کتابیں ہماری ٹینشن کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جب ہم کتاب پڑھتے ہیں تو ہم پرسکون ہو جاتے ہیں ہمارے مسلز ریلکس ہو جاتے ہیں دل ایک انجانی خوشی سے سرشارہوجاتاہےاور بلڈ پریشر بھی نارمل رہتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں بل گیٹس سو فٹ وئیر کمپنی کا ٹائیکون کیسے بنا۔یہ سب معلومات ہم کتابوں کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں اور ان معلومات کو ہم اپنے اندر ذخیرہ کرسکتے ہیں جس سے وہ اس صدی کا عظیم انسان بنا۔ آج سے ہم عزم کرتےہیں کہ ہم بھی کتابوں سے دوستی کریں گےاور ان سے استفادہ حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔

حکومت وقت اور ملکی سیاست (شیخ خالد زاہد)

حکومت وقت اور ملکی سیاست (شیخ خالد زاہد)

ہمارے ملک میں ہمیشہ آل پارٹیز کانفرنس ہوئی ہیں، آج تک کل جماعتی مذاکرہ نہیں ہوسکا، شاید یہی ایک وجہ رہی ہوگی کہ کامیابی نصیب نہیں ہوئی کیونکہ یہ جس زبان میں ہوتی ہے و ہ تو سمجھ یہی کسی کسی کو آتی ہے اور جسے سمجھ آتی اسے دوسری کوئی بات سمجھ نہیں آتی۔

افسوس صد افسوس کہ اردو کو قومی زبان کا درجہ دلوانے والوں کو خود ہی اردو نہیں آتی، بات تناظر سے تناظر کے درمیان ہی گھوم پھر کر چائے کی چسکیوں تک محدود اپنے اختتام کو پہنچ جاتی ہے اور جانے والے جاتے ہوئے یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ آخر اس چائے میں ایسی کیا خاص بات تھی کہ جس کیلئے آل پارٹیز کانفرنس رکھی گئی۔گزشتہ روز یعنی بروز بدھ (26جون 2019ء ) کو ہمارے ملک کے انتہائی معزز اور ہر دلعزیز مولانا فضل الرحمن صاحب کی خواہش پر ایک بار پھرآل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی۔ بظاہر اس کامذاکرے (کانفرنس) کا مقصد حکومت وقت کو یہ پیغام پہنچانا تھا کہ ہم مخالفین آپس میں متفق ہیں اور ایک ہیں جب چاہیں حکومت کو ختم کرسکتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ پیغام نہیں تھا بلکہ اس بات پر ایک دوسرے کو راضی کرنا تھا کہ اگر میرے معاملات عوام کے سامنے آجائیں تو ذرا میری پشت پناہی کرنا۔ یہ ہمارے ملک کے نام نہاد سیاستدانوں کی بیٹھک تھی جسے سماجی میڈیا پر کن کن لفظوں سے پذیرائی دی جارہی ہے۔ ایک انتہائی غیر سنجیدہ ماحول ملکی سیاست دانوں نے بنا رکھا ہے جس کی سب بڑی وجہ جھوٹ ہے جو یہ تمام کہ تمام تواتر سے بولے ہی چلے جا رہے ہیں۔

حکومت وقت سے قبل، حکومتی اراکین سوائے سرکاری فائدے اٹھانے کہ اور کیا کرتے تھے، ان عوامی نمائندگان کی اکثریت انتخابات میں جیسے تیسے منتخب ہوکر ایوان کی زینت اسی لئے بنتے رہے ہیں کہ وہ سرکار کے فراہم کردہ اور خود ساختہ سہولیات سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنے پانچ سال خوب مال بنانے میں گزاریں انہیں اس بات کی بھی پروا نہیں ہوا کرتی تھی کہ انہیں کس بات کیلئے عوام نے ایوان میں بھیجا ہے۔

ہمارے لوگوں کی سیاسی تربیت، سیاست کو طاقت سمجھنے کی جیسی ہوتی ہے اور وہ جب ایوانوں تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں تو اپنی تربیت کہ عین مطابق کیا کچھ کرتے ہیں کسی پاکستانی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ موروثی سیاستدان عام آدمی کی طرز زندگی سے قطعی واقف نہیں ہوسکتے، انہیں یہ تو بتایا جاتا ہے کہ ملک کا قانون ہے لیکن تربیت میں اس قانون کی پاسداری کا کوئی سبق نہیں دیا جاتا اسلئے یہ نہیں جانتے قانون کیا ہوتا ہے۔

ایک سوال جوکہ حکومت تشکیل پانے سے بہت سارے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا حکومتِ وقت سیاست کر رہی ہے یا پھر ملک کو ٹھیک کرنے کی حتی الامکان کوشش؟ جبکہ دوسری طرف دیکھیں تو جو گزشتہ تیس سالوں سے ایوانوں کے مزے لوٹتے رہے ہیں اور ایوانوں میں بیٹھ کا سیاست سیاست کھیلتے رہے ہیں آج بھی سیاست کرتے بڑے واضح دیکھائی دے رہے ہیں، قدرت نے انہیں ایسا واضح کردیا ہے کہ جیسے دودھ میں مکھی۔ بلاشبہ حکومت کینسر زدہ جسم کا ہر ممکن علاج کرنے میں پہلے دن سے مصروف ہے اور یہ ساری دنیا کو دیکھائی دے رہا ہے شاید سیاسی سچ بولنے والے مورخین یہ بتا سکیں کہ کبھی اس سے پہلے بھی کوئی ایسی حکومت آئی ہے یا کوئی ایسا وزیر اعظم آیا ہے جو بیرونِ ملک کے دوروں کو اسلئے خاطر میں نہیں لا رہے کیونکہ انہیں ملک کا، ووٹ دینے والوں کا شدید احساس ہے۔انہیں معلوم ہے عوام کو کبھی کچھ پتہ چلنے ہی نہیں دیا گیا کہ انکے پیسے کیساتھ کیا ہو رہا ہے ان کے دئے گئے ووٹوں کو کس طرح سے بیچا جاتا رہا ہے۔

بڑھتی ہوئی ہوشربا مہنگائی سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہے، حکومت کو خود اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ مہنگائی اپنی حدوں کوپھلانگتی جا رہی ہے، عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوتی محسوس کی جارہی ہے، اس سب کے باوجود کیا وجہ ہے کہ عوام نے اپنے آپ کو حکومت وقت کو سونپا ہوا ہے کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ عوام اسطرح سے شکوہ کرتی نہیں سنائی دے رہی جیسی کہ ماضی میں سنی اور دیکھی جاتی رہی ہے۔ آج عوام کے سامنے وہ سب واضح ہوچکا ہے جو انکے اور ان سے پچھلی نسلوں کیساتھ ہوتا رہا ہے۔ آسان بات جو سمجھ آرہی ہے وہ یہ کہ سیاست کرنے والے آج بھی سیاسی رونقیں لگانے میں مصروف ہیں اور حکومت پاکستان کی بھرپور مرمت میں دن رات برسر پیکار ہے اور بہت جلد پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہوگا اور دنیا ہمارے ساتھ کھڑے ہونے میں فخر محسوس کریگی۔ انشاء اللہ

 

میموریز (علی عبداللہ)

میموریز (علی عبداللہ)

کچھ کتب ایسی ہوتی ہیں جو نہایت سادہ اور عام فہم انداز میں لکھی گئی ہوتی ہیں، مگر ایک دفعہ ان کا مطالعہ شروع کر دیا جائے تو پھر احساس ہوتا ہے کہ انھیں مکمل کیے بغیر اٹھنا ممکن ہی نہیں۔ یہ کتابیں بظاہر بہت زیادہ گہرائی، فلسفے اور دقیق نکات پر مشتمل نہیں ہوتیں مگر یہ آپ کو ایک خوابی دنیا میں ضرور لے جاتی ہیں۔ انسانی احساسات اور جذبات کی جھیل میں ہلچل پیدا کرنے کی صلاحیت سے بھرپور ایسی ہی ایک کتاب “میموریز” ہے جو اپنے انداز اور اسلوب میں شاعری اور نثر کا ملغوبہ ہے مگر پڑھنے والے کو ایک خیالی دنیا میں لے جاتی ہے۔

تھائی لینڈ کے ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہونے والی لینگ لیو، جو کہ ایک شاعرہ اور ناول نگار بھی ہیں کو قنتس سپیرٹ آف یوتھ ایوارڈ، چرچل فیلو شپ اور گڈ ریڈز ریڈرز چوائس ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔نیوزی لینڈ میں رہائش پذیر لینگ لیو کی پہلی کتاب “لو اینڈ مس ایڈوینچرز” اور ان کا ناول “سیڈ گرلز” دنیا بھر میں بیسٹ سیلررہ چکا ہے۔ 

لینگ کی تحاریر نثر اور شاعری کا ملاپ ہونے کی بنا پر ایک منفرد اور دلچسپ تخلیق کا روپ دھارتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر دو ملین سے زائد فالورز رکھنے والی یہ مصنفہ، محبت، بے وفائی اور خواتین کو با اختیار بنانے جیسے موضوعات پر لکھنے کی بنا پر دنیائے ادب میں اپنے بے شمار شائقین کی صورت گونج رہی ہیں۔

“میموریز” لینگ لیو کی تیسری کتاب ہے جو 2015ء میں شائع ہوئی۔ مختصر نظموں اور تحاریر پر مشتمل یہ کتاب ایک ذاتی ڈائری کی مانند دکھائی دیتی ہے، جہاں لکھنے والے نے بے ساختہ اپنی محبت اور اس میں چبھنے والے نشتر، گزری یادوں اور جذبات کا بلا تکلف اظہار کر دیا ہے۔

” what was it like to love him? Asked Gratitude.
It was like being exhumed, I answered. And brought to life in a flash of brilliance.
What was it like to be loved in return? Asked Joy.
It was like being seen after a perpetual darkness, I replied. To be heard after a lifetime of silence.
What was it like to lose him? asked Sorrow.
There was a long pause before I responded:
It was like hearing every good-bye ever said to me, said all at once”

لینگ لیو کا انداز تحریر اور الفاظ کا چناؤ قاری کو مکمل طور پر اپنے حصار میں لے کر اسے بے خود کر دیتا ہے۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے مجھے محسوس ہوا, کہ رات کی تنہائی میں اس کے لفظ لفظ کو محسوس کرتے ہوئے مطالعہ کرنا انسان کو خوابوں اور خیالوں کے ان سلسلوں تک رسائی دیتا ہے، جہاں سے تقریباً ہرشخص اپنی عمر کے کسی نہ کسی حصے میں گزرا ہوتا ہے۔ وہ پہلی محبت ہو یا وہ پہلا چہرہ جسے دیکھنے پر آپ کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئی تھیں۔ وصل تھا یا ہجر، وفا کا درس تھا یا بے وفائی کی داستان، قاری چاہے جس سلسلے سے بھی گزرکر آیا ہو، یہ کتاب اسے کسی نہ کسی موڑ پر یاد ماضی کے جلتے الاؤ کی تپش ضرور محسوس کرواتی ہےاور یہی اس کتاب کی اہم خوبی ہے۔ دوران مطالعہ، بعض جگہوں پر مجھے یوں بھی محسوس ہوا جیسے کوئی “پروین شاکر” محبوب کی بے وفائی پر تڑپتی ہو اور اپنی محبت کی صدائیں بلند کر کے محبوب کی سنگ دلی کو پگھلانے کی کوشش کر رہی ہو۔

“Why do you write? he asked.
So I can take my love for you and give it to the world, I reply.
Because you won’t take it from me.”

“میموریز” آپ کی میموری میں چھپی کئی “میموریز” کو نکال لانے کی صلاحیت رکھنے کے ساتھ ساتھ آپ کی سوچ کو ایک نئی جدت اور چاشنی بخشتی ہے۔ یہ کتاب شاعروں اور ان لوگوں کو لازمی پڑھنی چاہیے جو” تیرے خواب نہ دیکھیں تو گزارا نہیں ہوتا” کی صدائیں دیتے ہیں، یعنی یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے باعث دلچسپی ہے جو تخیلاتی دنیا سے وابستہ ہے۔ گو کہ اس کتاب کو شاہکار تو نہیں کہا جا سکتا لیکن منفرد اور تخیلاتی مواد کے شائقین کے لیے یہ ایک تحفے سے کم نہیں ہے۔

“Have you ever loved a rose,
and bled against her thorns;
and swear each night to let her go,
then love her more by dawn.”

کتاب کی پرنٹ کوالٹی نہایت شاندار ہے۔ سرورق اور فونٹس بھی کافی دلکش دکھائی دیتے ہیں۔243 صفحات پر مشتمل یہ کتاب چائینہ میں “Andrews MCMeel Publishing” کے زیر اہتمام شائع ہوئی ہے۔ اس کی قیمت 19.99 امریکی ڈالر ہے۔ بقول مصنفہ،

“It was words that I fell for. In the end, It was words that broke my heart”

لیکن میرا خیال ہے کہ یہ کتاب اپنے الفاظ، اسلوب اور معیار سے آپ کو شاید جھومنے پر تو مجبور کرے لیکن اس کا مطالعہ آپ کو وقت کے ضیاع کا احساس دلا کر آپ کی دل شکنی ہرگز نہیں کرے گا۔