قرض (قیممصری)

قرض (قیممصری)

رات کافی ہو چکی تھی اور پروفیسر شاہد کو گھر پہنچنے کی جلدی تھی کیونکہ انہیں صبح جلد کالج پہنچنا تھا۔ ویسے تو پروفیسر صاحب ایسی تقریبات میں جانے سے گریز ہی کرتے تھے مگر اس تقریب میں جانا ضروری تھا ۔ وہ چوہدری صاحب کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔ آخر یہ چوہدری صاحب ہی تھے کہ جن کی بدولت ان کی بڑی بڑی بد عنوانیاں چھپی ہوئی تھیں۔ آج وہ اسکول ٹیچر سے پروفیسر کے عہدے تک انہیں کی وجہ سے تو پہنچے تھے۔ پروفیسر صاحب کا 25 سالہ ریکارڈ ہمیشہ صاف رہا تھا اگرچہ ان کی بد عنوانیاں جیسے امتحانی نتائج کو تبدیل کرنا، امتحانی پرچہ جات کی تبدیلی، پرچےکو وقت سے پہلے آؤٹ کرنا، امتحانی مراکز پر طلبہ سے رقم لے کر نقل کروانا یہ تمام کارنامے زباں زد عام تھے۔ ان کے خلاف ثبوت نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ انہیں چوہدری صاحب اور ان جیسے کئی دوسرے لوگوں کی سر پرستی حاصل تھی۔ راستے میں پروفیسر صاحب مستقبل میں ملنے والی مراعات کے بارے سوچ سوچ کر خوش ہو رہے تھے کہ پیچھے سے شور مچاتی، تیزی سے چلتی ایک موٹر سائیکل پر سوار ایک نوجوان ان کے سامنے آکر رکا اور اپنی جیب سے پستول نکال کر ان سے رقم کا مطالبہ کرنے لگا۔ ساتھ ہی مزاحمت اور رقم ادا نہ کرنے کی صورت انہیں جان سے مار دینے کی دھمکی بھی دے دی۔
ایسے حالات سے وہ پہلے کبھی نہیں گزرے تھے، یہ ان کے ساتھ پیش آنے والا پہلا واقعہ تھا۔ چند ساعتوں تک تو وہ صدمے کی کیفیت میں رہے، وہ زبان سے کچھ ادا کر پا رہے تھے نہ جسم کو حرکت دے پارہے تھے مگر جیسے ہی ان کی نظر اس لٹیرے پر پڑی تو ان کا دماغ تیزی سے کام کرنے لگا اور ان کی زبان سے بے اختیار ادا ہوا، حمزہ! وہ اگرچے بوڑھے ہوچکے تھے۔ ان کی یاداشت بھی کمزور ہوچکی تھی مگر یہ چہرہ وہ کیسے بھول سکتے تھے!حمزہ کو انہوں نے آٹھویں جماعت میں پڑھایا تھا۔حمزہ ایک ذہین اور قابل لڑکا تھا۔ ہر امتحان میں امتیازی نمبروں سے کامیاب ہوتا۔وہ پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بننا چاہتا تھا۔اس کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔
باپ موٹر مکینک تھا۔اسےحمزہ کے پڑھنے لکھنے سے شدید اختلاف تھا۔اس کا ماننا تھا کہ پڑھائی لکھائی، آسائشیں غریبوں کے لیے نہیں ہوتیں ،دنیا کی اچھی چیزیں اور حاکمیت امیروں کے لیے ہی ہوتی ہیں۔اس کے باپ نے اس کی آگے کی پڑھائی اس بات سے مشروط کردی تھی کہ اگر وہ آٹھویں اچھے نمبروں سے پاس کر لیتا ہے تو صحیح ورنہ اسے پڑھائی چھوڑ کر اس کے ساتھ مزدوری کر نی ہوگی۔حمزہ قابل تھا اس کے لیے کیا مشکل تھالہٰذاوہ مان گیا۔
حمزہ کا ہم جماعتی سیف پروفیسر صاحب کا بیٹا تھا۔ وہ بھی قابل اور پڑھائی میں حمزہ کا حریف تھا۔ پورا سال دونوں کے درمیان مقابلہ چلتا،کبھی حمزہ آگے تو کبھی سیف کامیاب۔ وہ دوست تھے۔پورا سال تو بس حمزہ اور سیف کے درمیان مقابلہ یوں پہی چلتا رہامگرسالانہ امتحان کے لئے حمزہ پر عزم تھا۔وہ کسی بھی حال میں وظیفہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔اس نے پوری محنت اور ایمانداری سےامتحان دیے تھے اوراب وہ نتیجہ کامنتظر تھا۔تیسری، دوسری اور پہلی پوزیشن کا اعلان ہوا تو حمزہ اپنی نشست سے کھڑا ہوا ہی تھا کہ اب میرا نام پکارا جائے گا مگر اسے جھلملاتی آنکھوں کے ساتھ واپس اپنی جگہ پر بیٹھنا پڑاکیونکہ سیف، سیف شاہد پہلی پوزیشن کاحقدار ٹھہرا تھا۔سر میں نے کوئی پوزیشن حاصل نہیں کی؟تقریب کے ختم ہوتے ہی وہ شاہد صاحب کے پاس جا پہنچا ۔نہیں،سس سر۔۔کوئی چوتھی یا پا۔۔نہیں۔۔ایک دفعہ کہہ دیا نا نہیں۔سمجھ نہیں آتا کند ذہن۔
اچھاسرمیرانتیجہ دے دیجئے۔وہ اب دل ہی دل اس بات پر افسوس کر رہا تھا کہ اس نے ابا کی شرط کیوں مان لی، یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ تعلیم تو جاری رہے گی چاہے نتیجہ اچھا ہو یا برا۔۔اس نے سالانہ رپورٹ ہاتھ میں تھامی اور گھر کی طرف چل دیا۔حمزہ کو فیل کردیا گیا تھا۔صدمے میں وہ 3دن تک بخارمیں تڑپتارہا ۔اگلی صبح وہ پرانا اورمیلا لباس پہنے، اپنے کاندھے پربھاری بستہ ڈالے کھڑا اپنے باپ کوجگا رہا تھا۔قلم کی جگہ اب اوزاروں نےلےلی تھی۔اس کا باپ اسے دیکھ خوش سے زیادہ حیران ہوا تھا۔
سیف نے نویں اور دسویں وظیفے پر پاس کی۔ اس کا نتیجہ بہترین رہا تھا۔اس کا داخلہ بہترین سرکاری کالج میں ہوگیا۔شروع شروع میں تودل لگاکرپڑھتارہااوراس کا نتیجہ بھی اچھامگرسال کےآخر میں اس کی دوستی چند اوباش اورامیر لڑکوں سے ہوگئی۔پہلے جہاں اس کاواحدٹھکانہ کالج کی لائبریری ہوتا تھااب وہیں وہ کئی کئی مہینے کالج ہی نہ جاتا۔پروفیسر صاحب سیف کی اس حالت کے لیے فکر مند ہوگئے تھے۔ان کے کالج اور یونیورسٹی کےاساتذہ سے جان پہچان تھی اورتعلقات بھی اچھے تھے۔ان تعلقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اپنے بیٹے کوان کارناموں کا انعام دلواتے گئے جن کا وہ کبھی حقدار ہی نہ تھا۔ سیف نے اب اپنی ڈگری مکمل کرلی تھیں اور اپنے والد ہی کی طرح درس و تدریس کا شعبہ اپنا یا تھا۔
شیروبھی اسی ورکشاپ میں کام کرتاتھا جہاں حمزہ کام کرنے آیا تھا۔شیرو چوریاں کرتا تھا۔ایک دن استاد نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑا تو اس نے الزام حمزہ پر لگا دیا۔حمزہ اپنی صفائیاں پیش کرتا رہامگراستاد کو یقین نہیں آیا۔ دونوں کو خوب مارا اور مہینے بھر کی تنخواہ روک کر کام سے نکال دیا۔حمزہ ایک دن بخار میں رہا پھر وہ اگلے روز شیرو کے پاس پہنچ گیا۔شیرو حمزہ کو دیکھ کر ڈر گیا مگر حمزہ نے اس سے ہاتھ ملایا اور شیرو گینگ میں شامل ہوگیا۔ شروع شروع میں دونوں چھوٹی موٹی چوریاں کرتے تھے، آہستہ آہستہ گھروں کو لوٹنا شروع کیا اور اب راہگیروں کو لوٹنا توان کا معمول بن گیا۔شیرو اب چور کے سا تھ ساتھ قاتل بھی بن چکا تھا۔حمزہ وہ تو صرف لوگوں کو ڈرانےدھمکانےاورلوٹنے پر ہی اکتفا کرتا تھا۔حمزہ کی ماں اس دن دل کے دورے سے انتقال کر گئ جب پہلے روز پولیس ان کے گھر آ ئی۔
حمزہ۔۔حمزہ۔۔پرو فیسر صاحب یہ لفظ ادا کرنا چاہ رہے تھے مگر ادانہ کرپارہے تھے۔ ان کی خاموشی اور بےحسی پر نوجوان طیش میں آگیا۔ دیتے ہو یا اتاردوں گولیاں تمہارے دماغ میں۔اس وقت پروفیسر صاحب کی نظروں کے سامنے وہ دھندلا سا منظر تھا جس روز انھوں نے حمزہ شوکت کا نتیجہ سیف شاہد سے تبدیل کیا تھا ۔ اتنے سالوں بعد زندگی اور موت کے درمیان کھڑے انھیں یہ احساس ہو ہی گیا کہ انھوں نے دو جانوں پر ظلم کیا۔انھیں اچھی طرح اندازہ ہورہا تھا کہ اقرباءپروری میں اٹھائے گئے ان کے اس قدم نے کس طرح ڈاکٹر حمزہ کو ڈاکو بنادیا تھا۔اب انھیں سیف کا خیال بھی آرہا تھا کہ انھوں نے اپنے اکلوتی اولاد کو دھوکے بازی اور بے ایمانی وراثت میں دی ہے۔
میں تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں مظلوم لڑکے!وہ یہ کہنا چاہتے تھے۔حمزہ بیٹے۔۔ وہ صرف اتنا ہی کہہ پائے تھے کہ ہوامیں ایک دھماکے کی سی آواز گونجی اور گولی پروفیسر صاحب کے زرخیز ذہن سے آر پار ہوگئی۔گولی بوکھلاہٹ میں خوف کے مارے چلی تھی کیونکہ نوجوان اپنانام سن کرگھبرا گیا تھاکہ کہیں میں پکڑا نہ جاؤں اور یوں پروفیسر صاحب حمزہ کو قاتل بناکردوجانوں کا قرض اپنی جان سے دے کر ادا کرگئے۔مگر نہیں قرض ادانہ ہوا ، حساب توابھی باقی ہے۔اب یہ حساب اورتول اس کے ترازو میں ہو گی جو کسی پر بھی ذرہ برابر زیادتی نہیں کرتا۔ یہ حساب بہت کٹھن ہے ۔۔بہت زیادہ !کیونکہ یہاں سفارش کام آتی ہے نہ نام اور ہر ایک کو اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جاتا ہے۔