زکوٰۃ کی فرضیت اور آداب(آصف اقبال)

زکوٰۃ کی فرضیت اور آداب(آصف اقبال)

قرآنی احکامات اور تعلیمات پیغمبر سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ انسان نہ تو اپنی جان کا خود مالک ہے اور نہ اموال کا  بلکہ یہ سب اللہ کی عطا کردہ ہیں، جس میں رب تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تصرف کا اختیار دے رکھا ہے۔ اسلام یہ باور کروانا چاہتا ہے کہ نہ تو مال دار از خود مال دار ہوااور نہ غریب از خود غریب، بلکہ یہ مالک دو جہاں کی مرضی ہے، جب چاہے کسی کو مال دار کردے اور جب چاہے کنگال کردے ۔ جیسا کہ رب تعالیٰ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ : ” اللہ رب العزت رزق کشادہ کر دیتے ہیں جس کے لیے چاہیں اور تنگ کردیتے ہیں( جس کے لیے چاہیں) (سورۃ الرعد)، معلوم ہوا کہ غنا اور فقر اللہ کے اختیار میں ہے ، نہ تو مال دار کو اپنی مال داری پر اترانے کا حق ہے اور نہ غریب کو اپنی غربت پر ناشکری کا۔ سب اسی رب کی قدرت میں ہے،اگر وہ چاہے تو پیسہ غریب کے لیے اوڑھنا بچھونا بنادے اور اگر وہ چاہے تو مال دار کو ایک رات کی روٹی کے لیے بھی محتاج کردے۔
اب ہر مسلمان کو یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ جو بھی مال و ثروت اسے حاصل ہے ،اس میں کسی درجہ میں بھی،اس کو کوئی اختیار نہیں۔ اس حقیقت سے آشنائی کے بعد اگر رب تعالیٰ اپنے بندوں کو یہ حکم دیتا کہ اپنا سارا مال میری راہ میں خرچ کر ڈالو ، تو یہ ذرہ بھی ظلم نہیں ہوتا ،لیکن احسان کریم ہے اس رب کریم کا کہ اپنے بندوں کے ساتھ نہایت شفقت کا معاملہ فرمایا کہ جب بھی انفاق کا حکم دیا تو” کُل  میں کچھ” کا حکم دیا یعنی ایک طرف تو مال و متاع پر انسانی اختیار کچھ نہیں ،سب کچھ اسی کا دیا ہوا ہےاور دوسری طرف مالک ہونے کے ناطے حکم میں بھی اتنی خفت کہ کل مال میں ” کچھ کا حکم۔
قرآن میں جہاں کہیں بھی انفاق کا حکم دیا گیا تو من کے لفظ کے ساتھ، جس سے رب تعالیٰ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگرچہ تمھارا سارا مال ہماری ملکیت ہے،تمھارا کچھ بھی نہیں مگر اس کے باوجود ہم تم سے تھوڑا مطالبہ کررہے ہیں تاکہ بوجھ محسوس نہ ہو، ارشادخداوندی ہے: “ومما رزقنھم ینفقون”، ان جیسی دیگر آیات کا مطمح نظر محض یہ ہے کہ انفاق خواہ وہ زکوٰۃ کی صورت میں ہو یا صدقات کی صورت میں، ہم کوئی ٹیکس نہیں مانگ رہے بلکہ اپنی امانت سے کچھ مطالبہ کررہے  ہیں۔
پھر غور کیجیے!جہاں تک زکوٰۃ کا تعلق ہے، پورے مال میں صرف چالیسواں حصہ۔۔۔اور وہ بھی کئی شرائط کے ساتھ جیسے:
1)مال بقدر نصاب ہو 2)ملکیت تام ہو( یعنی وہ مال اپنے قبضے میں ہو) 3) ضرورت اصلی سے زائد ہو(استعمالی سازو سامان پر زکوٰۃ نہیں)۔ 4) نصاب قرض سے خالی ہو۔ 5) مال بھی وہ جو اپنی خلقت اور عمل کے اعتبار سے بڑھنے والا ہو جیسے: سونا، چاندی اور مال تجارت۔
ان تمام ممکنہ صورتوں کے پائے جانے کے بعد 40 روپوں میں 1 روپیہ زکوٰۃ فرض فرمایا، اس قدر انعام کے باوجود بھی اگر کوئی شخص زکوٰۃ کی ادائیگی سے انحراف کرے تو اس سے زیادہ بد نصیب شخص اور کون ہو سکتا ہے!
زکوٰۃ اسلام کا ایک رکن اور نماز ،کی طرح ایک فرضی عبادت ہے جس کا ادا کرنا ہر صاحب نصاب مسلمان بہت ضروری ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے،” جس کو اللہ نے مال دیا اور اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی ،تو قیامت کے دن اس کا مال، بڑا زہریلا گنجا سانپ(بن کر) اس کی گردن میں لپٹ جائے گا، پھر اس کے دونوں جبڑے نوچے گا،اور کہے گا” میں ہی تیرا مال ہوں،میں ہی تیرا خزانہ ہوں “(بخاری)
زکوٰۃ پچھلی تمام امتوں میں بھی فرض تھی مگر اس کی ادائیگی کا طریقہ مختلف تھا۔ مال کو کسی اونچے مقام پر رکھ دیا جاتا،آسمان سے بجلی آکر اس خاکستر کر دیتی۔ اس طرح وہ چیز جل کر راکھ بن جاتی اور وہ کسی کے کام نہ آسکتی مگر قربان جائیے اس رب پر کہ امت محمدیہ کے لیے اس کا حکم مختلف رکھا کہ مال صدقات و زکوٰۃ انہی کے مال داروں سے لے کرانہی کے ضرورت مند کو دے دیے جاتے ہیں۔ جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ” مال داروں سے لے کر فقیروں کو دیا جائے گا “(مشکوۃ شریف)
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے زکوٰۃ کے آداب سے متعلق فرمایا: ” جو کوئی چاہتا ہے کہ میری عبادت زندہ رہے اور ثواب دوگنا ملے تو اس چاہیے کہ سات آداب اپنے اوپر لازم کرلے۔۔۔۔۔۔
1۔ زکوٰۃ دینے میں جلدی کیا کرے اور واجب ہونے سے پہلے بھی سال بھر میں کبھی دے دیا کرے۔
2۔ زکوٰۃ ایک بار دینا ہو تو محرم کے مہینے میں دے کہ بزرگ مہینہ ہے اور سال کا شروع ہے، یا رمضان المبارک میں دے کہ دینے کا وقت جتنا بزرگ ہوگا ثواب اتنا زیادہ ملے گا۔
3۔زکوۃ چھپا کر دے، برملا نہ دے ،تاکہ ریا سے دور اخلاص کے نزدیک رہے۔
4۔اگر ریا کا بالکل اندیشہ نہ ہو، تو دوسروں کی ترغیب کی خاطر برملا دینا بہتر ہے۔
5۔ احسان جتلا کر اور لوگوں کو سنا کر صدقہ ضائع نہ کرے۔
6۔ احسان نہ رکھے کہ یہ امید لگائے کہ جس کو زکوٰۃ دی وہ میرے ہر کام میں مستعد رہے ،مجھے سلام کرے، مجھے زیادہ عزت دے۔
7۔اپنے مال میں جو بہت اچھا اور بہتر اور حلال ہو، وہ فقیر کو دے اس لیے کے جس مال میں شبہ ہو ،وہ رب کی قربت حاصل کرنے کے لائق نہیں۔
اس کے بعد امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کے مستحقین میں سے جس کو زکوٰۃ دے رہا ہے، اس میں اس بات کا لحاظ رکھے کہ کس کو صدقہ و زکوٰۃ دینے سے اس کا صدقہ بڑھتا رہے گا تو اس کا اہتمام ایسے لوگوں کو دے کر کیا جاسکتا ہے  جن میں یہ صفات موجود ہوں

 ایسے لوگوں کو صدقہ دیں،جومتقی اور پرہیز گار ہوں۔ اپنا صدقہ اہل علم کو دیں ،اس سے آپ بھی علم کے حصول اور نشر و اشاعت میں تعاون کرنے والے بن جائیں گے۔~ جس کو صدقہ دیا جائے وہ اپنےتقوی اور عمل میں مخلص اور موحد ہو۔ ایسے آدمی کو صدقہ دے، جس حاجت مند ہونے کے باوجود اپنی حاجت کا اظہار نہ کرے۔ ایسے آدمی کو صدقہ دیا جائے جو غریب اور عیال دار ہو یا کسی بیماری میں مبتلا ہو۔ جس کو صدقہ دیا جائے وہ عزیز و اقارب میں سے ہو تاکہ صدقہ کا ثوب بھی ملے اور صلہ رحمی کا اجر بھی۔

             حضرت علی کرم اللہ    وجہہ کا فرمان ہے: “کسی اجنبی کو دس درہم دینے سے بہتر ہے کہ میں اپنے کسی بھائی کو ایک درہم دے دوں” 

زکوٰۃ و صدقات کی ادائیگی میں اگر ان تمام باتوں کا لحاظ رکھا جائے تو یہ آخرت کا بہت بڑا ذخیرہ اور غنیمت کبریٰ ثابت ہوگا۔

پاکستان آئی ایم ایف کے نرغے میں (عنایت کابلگرامی)

پاکستان آئی ایم ایف کے نرغے میں (عنایت کابلگرامی)

  محض 6ارب ڈالر قرضہ حاصل  کر نے کےلئےملک کو عملاً گروی رکھ دیا گیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی تمام کڑی شرائط کو تسلیم کرتے ہوئے مہنگائی کا سونامی لایاجارہاہے۔ اس وقت آئی ایم ایف اور حکومتی ذرائع میں چند شرائط پر مذاکرات جاری ہے جنہیں ایک دو روز میں مکمل ہونے کے بعد اسے حتمی شکل دیئے جانے کا امکان ہے ۔ ایک طرف وزیراعظم عمران خان صاحب کہہ رہے ہیں کہ موجودہ مہنگائی کا طوفان سابقہ حکومتوں کی جانب سے لیئے گئے قرضوں کو ختم کرنے کے لیے برپا کیا گیا ہے ۔ ان کا مزیدکہنا ہے کہ ہمیں بھی احساس ہے مگر سابقہ حکمرانوں کی عیاشیوں کی وجہ سے ملک کا برا حال ہے اس لیئے ہمیں نت نئے ٹیکس لگا کر عوام پر اضافی بوجھ ڈالنا پڑرہاہے ، دوسری جانب یہ کہا جارہاہے کہ سابق حکمرانوں کے لادے گئے قرضوں کو اتار نے کے لیے نئے قرضے لینے پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کے درمیان مذاکرات میں جہاں کئی اور شرائط طے پائے وہاں آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کے درمیان یہ بھی طے ہوا کہ حکومت پاکستان آئندہ دوسال کے لیے7 کھرب روپے کا ٹیکس استثنیٰ ختم کرے گا ، اس شرط کو پورا کرنے کے لیے حکومت آئندہ کو ماہ جون کے آخر میں پیش کیے جانے والے نئے مالی سال کے بجٹ میں سیلز ٹیکس،انکم ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی پرعائد ٹیکس استثنیٰ کو ختم کرنا پڑے گا۔ حکومت پاکستان نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(FBR)کو راوں مالی سال میں 39کھرب پچاس ارب روپے ٹیکس وصول کرنے کا ہدف دیا تھا جس کو آئی ایم ایف کے کہنے پر بڑا کر56 کھرب پچاس ارب کردیا گیا ۔ چو نکہ سابق چیئر مین ایف بی آر حکومت کے بتائے ہوئے ہدف پورا کرنے میں ناکام نظر آئے تو حکومت نے ایف بھی آر کاچیئرمین ہی بدل ڈالا ،فیڈرل بورڈ آف ریونیو(FBR)کے نئے چیئر مین شبیرزیدی کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ حکومت کے بتائے ہوئے ہدف کو پورا کریں۔پاکستان آئی ایم ایف کا سب سے پرانا مقروض ملک ہے ۔پاکستان کو آزاد ہوئے 72واں سال جاری ہے ، ان72 سالوں میں ماسوائے ضیاءالحق کے تمام ادوار میں پاکستان کی معشیت کو بچانے کے نام پر بیرونی قرضے لیئے گئے ہے ۔”پاکستان آئی ایم ایف کے نرغے میں“پہلی مرتبہ ایوب خان کے دور میں پھنسا ،آئی ایم ایف سے سب سے پہلے قرضہ سابق صدر جنرل ایوب خان کے دور میں لیا گیا جو 1965ءکو 32ملین ڈالر تھا اور 1968ءکو 75ملین ڈالر لیا گیا تھا ، اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے جمہوری دور حکومت نے1973-74ءمیں75.75 ملین ڈالر قرضہ لیا اور اس کے پونے تین سال بعد 9مارچ 1977ءکو ایک بار پھر ذوالفقار علی بھٹو کے جمہوری دورحکومت نے آئی ایم ایف سے 80ملین ڈالر کا قرضہ لے کر قوم کو گروی رکھ دیا ، جنرل ضیاءالحق کے دور میں سکون رہا۔2دسمبر 1988ءکو بے نظیر بھٹو نے حکومت سنبھالی ، حکومت سنبھالتے ہی 26دن کے اندر آئی ایم ایف سے کامیاب مذاکرات کیے اور 28دسمبر 1988ءکو آئی ایم ایف نے حکومت پاکستان کو ساڑھے ستائس ملین ڈالر کا قرضہ جاری کیا ، بے نظیر بھٹو دوسری مرتبہ وزیر اعظم بنی تو اس نے اس وقت کے ملک کے تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ لیا جو 985.7 ملین ڈالر تھا ۔ نوازشریف کے پہلے دور میں تو انہوں نے قرضے ختم کیے ،مگر دوسرے اور تیسرے دور میں انہوں نے بھی آئی ایم ایف کے سامنے قوم کو گروی بنا کر پیش کیا ، 1997کو1.3بلین ڈالراور 4دسمبر 2014ءکو 4.3بلین ڈالر قرضہ لیا۔ سابق ڈیکٹریکٹر پرویز مشرف نے سن 2000ءمیں 465ملین اور2001ءمیں ایک بلین کا قرضہ حاصل کیا تھا ۔ سابق صدر آصف علی زرداری بھی کسی سے کم نہیں تھے انہوں نے بھی پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ لیا جو 7.2بلین ڈالر تھایعنی سات ارب بیس کروڑ ڈالر۔ ان تمام لیے گئے قرضوں سے (ماسیوائے ایوب خان کے دور کے جہاں ملک میں کئی ڈیم بنے )ملک میں کو کیا فائدہ ہوااور حکمرانوں کو کیا فائدہ ہوا آج سب کو پتا ہے ۔
موجودہ حکمراں جماعت نے اقتدار سنبھالنے سے قبل یہ واضح طور پر کہا تھا کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، ہماری لیے آئی ایم ایف کے پاس جانا خود کشی کے مترادف  ہوگا ، مگر اب حکومت میں آتے ہی اپنے وعدے بھول گئے ۔جیسے کہ میں نے پہلی ہی عرض کیا کہ موجودہ حکومت ایک طرف مہنگائی کرکے قرض اتارنے کی بات کررہی ہے تو دوسری جانب آئی ایم ایف میں عوام کوگروی رکھ کر 6بلین ڈالر قرضہ لیکر قرضوں کے اقساط اداکرنے کی باتیں کر رہی ہیں۔ کیاان کو پاکستانی عوام دماغ سے فارغ نظر آتی ہے ؟
آئی ایم ایف دنیا بھر کے کئی ممالک کو قرضہ فراہم کرتا ہے  مگر جن شرائط پر وہ پاکستان کو قرضہ فراہم کرتاہے وہ بھی اپنے آپ میں ایک مثال ہے ۔ ہر بار آئی ایم ایف نے حکومت پاکستان سے اپنے اور اپنے آقاؤں کے مطالبات منواکر ہی سود پر قرضہ دیا اورموجودہ حکومت تو سابقہ حکومتوں سے ایک قدم آگے کو نکل گئی قرضہ حاصل کرنے میں ، موجودہ دور کے سابق وزیر خزانہ اسد عمر کے دور میں آئی ایم ایف کی جانب سے شرائط ومطالبات ابھی صحیح طورپیش بھی نہیں کیئے گئے تھے کہ ان میں بیشتر مان بھی لیئے گئے ۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کامزید مطالبات ماننے کے لیے دباؤبڑھتا گیا جس کو اسد عمر نے وزیراعظم عمران خان کی مرضی کے خلاف یکدم قبول کرنے سے انکار کیا تو اسے ہٹا کر غیر منتخب مشیر خزانہ حفیظ شیخ کو ائی ایم ایف سے درآمد کرلیا گیا ۔ آئی ایم ایف کے ایجنڈے کی راہ میں اسٹیٹ بینک کے گورنر طارق باجوہ بھی رکاوٹ نظر آئے تو ان کو بھی ہٹا کر ان کی جگہ آئی ایم ایف کے لیے مصر میں خدمات انجام دینے والے رضا باقر کو تین سال کے لیے اسٹیٹ بینک کا گورنر بنا دیا گیا ۔یہ حقیقت بلکل مسلم ہے کہ عمران خان صاحب کی کابینہ ایک درجن کے قریب لوگ پیپلز پارٹی اور مشرف دور کے ہے ، اب اس میں کچھ آئی ایم ایف کے بھی شامل ہوئے تو کیا کہہ سکتے ہیں ۔
آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے لیے کچھ شرائط ایسی بھی ہوتی ہیں، جو آئی ایم ایف کے آقاؤں کی مرضی سے مرتب کی جاتی ہیں، یہی شرائط اس ملک کو مزید معاشی بد حالی کی جانب گامزن کررہی ہیں، اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ آئی ایم ایف قرضہ دے کر حکومت کو اس کے خرچ میں اس قدر احتیاط پرمجبور کرتاہے کہ اس سے مالیاتی امور پر جمود طاری ہوجاتا ہے اور ترقی کی رفتار سست اور سود میں اضافے سے ملک ناختم ہونے والے مالی بحران میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔ موجودہ معاشی بحران میں آئی ایم ایف کے پاس جانا شایدعمران خان کی حکومت کے پاس واحد آپشن ہو ، مگر اس کے علاوہ اور بھی آپشن موجود تھے جس کو اپنا کر ملک کو اس معاشی بدحالی سے نکالا جاسکتا ہے  اگر چے وہ تھوڑا مشکل ضرور ہیں مگر ناممکن نہیں ۔جیسے کہ حکومت میں آنے سے پہلے عمران خان صاحب اور انکے دیگر رہنما کہا کرتے تھے۔ “پاکستان آئی ایم ایف کے نرغے میں ہے “اس کو نکالنے کے لیے نا چاہتے ہوئے کچھ سخت و گرم فیصلہ جات کی ضرورت ہے لیکن یہ حوصلہ مجھے موجودہ حکومت میں نظر نہیں آرہا۔