دماغ کھانے والا امیبا(ڈاکٹر صدف اکبر)

دماغ کھانے والا امیبا(ڈاکٹر صدف اکبر)

 نگلیریا فاﺅلیری جسے دماغ کھانے والا امیبا بھی کہتے ہیں ایک ایسا یک خلیاتی امیباہے جو صرف آلودہ پانی میں پرورش پاتا ہے اور یہ جھیلوں ، تالابوں ، چشموں ، سوئمنگ پولز اور نلکوں کے پانی میں پائے جاتا ہے۔جہاں یہ جرثومہ کائی اور مختلف جراثیموں پر گزارہ کرتے ہیں یہ جرثومہ نرم مرطوب مٹی اور تازہ پانی طفیلی ہے اور موسم گرما میں درجہ حرارت کے اضافے کے ساتھ ساتھ ان کی افزائش کی رفتار بھی تیز ہو جاتی ہے ۔

نگلیریا فاﺅلیری انسانی جسم میں ناک کے راستے انسانی دماغ میں داخل ہو تا ہے اور ناک کی جھلی سے گزر کر یہ طفیلی امیبا قوتِ شامہ سے منسلک اعصاب کو نقصان پہنچاتے ہوئے دماغ کے اندر داخل ہو کر دماغی خلیات کو اپنی غذا بناتے ہیں اسی بناءپر انہیں دماغ کھانے والا امیبا کہتے ہیں ۔امیبا کے ناک میں داخل ہونے کے 2 سے 15 دن میں علامات ظاہر ہو نا شروع ہو جاتی ہیں جو مریض اس انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں ان میں سب سے پہلے گردن میں اکڑاﺅ ، سر میں شدید درد ، اور بخار کی شکایت ہو جاتی ہے ۔ اس کے بعد مریض کی دماغی حالت میں بگڑاؤں کی علامتیں ظاہر ہو نا شروع ہو جاتی ہیں ۔
 مریض مختلف وہموں اور وسوسوں کا شکار ہونے لگتا ہے اور مریض کے رویے میں عجیب و غریب تبدیلیاں بھی دیکھنے میں آتی ہیں ۔جسے Primary Amebic Meningoencephalitis (PAM) بھی کہتے ہیں ۔ اس حالت میں دماغ کی جھلی میں سوزش ہو جاتی ہے ۔ اس امیبا کے انفیکشن کے شکار زیادہ تر مریضوں میں شرح اموات زیادہ ہوتی ہے ۔ ابتدائی انفیکشن کے دو ہفتوں کے اندر اندر مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے ۔ مگر اگر ابتداءمیں ہی انفیکشن کا علاج شروع کر دیا جائے تو مریض کے بچنے کے امکانات ہو سکتے ہیں ۔ اس مرض میں چونکہ قوتِ شامہ سے منسلک اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے تو مریض کے سونگنے اور چھکنے کی حس میں تبدیلی آجاتی ہے جس کے فوری بعد بخار ، سردرد، بھوک میں کمی اور متلی کی شکایت کے بعد مریض نیم بے ہوشی کی حالت سے ہوتا ہوا ٓخر کار کوما کی حالت میں چلا جاتا ہے ۔
نگلیریافاﺅلیری سب سے پہلے 1965 ءمیں آسٹریلیا میں دریافت کیا گیا تھا اور نگلیریا کی مختلف انواع موجود ہیں مگر صرف نگلیریا فاﺅلیری ہی انسانی جسم میں انفیکشن پیدا کرتی ہیں ۔ یہ جرثومہ 115ڈگری فارن ہائیٹ تک پانی میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ بیماری ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل نہیں ہوتی ہے ۔ اس کے پھیلنے کی وجہ آلودہ پانی کے ذخائر ہیں ۔ حالیہ ریسرچ کے مطابق اس دماغ کھانے والے امیبا کے پھیلاﺅں میں سوئمنگ پولز ایک نمایا ں کردار ادا کرتے ہیں ۔ سوئمنگ پولز میں کلورین کی مقدار کا نامناسب استعمال اس انفیکشن کی وجہ بنتا ہے ۔ تازہ پانی کے تمام ذخائر سے اس جرثومہ کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن تو نہیں ہے مگر پانی میں کلورین کی مناسب مقدار کی آمیزش سے اسے کافی حدتک کنٹرول کیا جاسکتا ہے ۔
ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق اس جرثومے کے پھیلنے کی وجہ درجہ حرارت میں اضافہ ، گھریلو استعمال والے پانی کا آلودہ ہونا اور فراہمی آب کے نظام میں مختلف خرابیاں ہو سکتی ہیں لہذا ہمیں چاہیے کہ صاف پانی کے استعمال کو یقینی بنائیں اور جراثیم سے پاک پانی استعمال کریں ۔
وضو کرتے ہوئے صاف پانی استعمال کریں کیونکہ وضو کے دوران ناک میں پانی اندر تک جاتا ہے تو پانی میں اس امیبا کی موجودگی اس بیماری میں مبتلا ہونے کا باعث بن سکتی ہے ، اسی طرح سوئمنگ کرتے ہوئے زیادہ گہری ڈبکی لگانے سے گریز کریں اور گرمیوں کے موسم میں صاف اورمناسب کلورین کی مقدار رکھنے والے سوئمنگ پولز کو ہی ترجیح دیں اور کسی بھی علامت کے ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے ورنہ کچھ دنوں میں ہی مریض کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے ۔
نگلیریا فاﺅلیری پانی سے ہونے والی بیماری ہے جس کا علاج ابھی تک درست طور پر موجود نہیں ہے لہذا اس بیماری سے بچنے کا واحد حل یہی ہے کہ سوئمنگ کے دوران مختلف احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے پانی کو ناک میں داخل ہونے سے روکا جائے اور گھر وں میں فراہم کیے جانے والے نلکوں کے پانی کی بھی فلٹریشن اور کلورینیشن پر توجہ دی جائے ۔ کیونکہ پینے کے پانی کی لائن میں گٹرلائن کے پانی کے شامل ہونے سے پیدا ہونے والے حالات بھی اس امیبا کو پھلنے پھولنے کا موقع دیتے ہیں لہذا اس بات کو یقینی بنائیں کہ جو پانی استعمال کر رہے ہیں وہ جراثیم سے پاک ہو۔

علم عرفان و ہدایت کا چراغ (ام محمد عبد اللہ)

علم عرفان و ہدایت کا چراغ (ام محمد عبد اللہ)

تا حد نگاہ پھیلا ایک چٹیل میدان تھا۔ دریا، پہاڑ، کھائی، ٹیلے، سمندر، جنگل کچھ بھی نہ تھا۔ نہ کوئی نشیب نہ فراز۔ فقط ایک چٹیل میدان اور آگ اگلتا آسمان۔ کوئی جائے پناہ نہ تھی۔ برہنہ بدن، حسرت و یاس لیے ایک ہجوم تھا جو چیخ رہا تھا چلا رہا تھا۔ تڑپ اور سسک رہا تھا۔ لیکن آہ و فغاں سننے والا کوئی نہ تھا۔ اسی بھڑکتی آگ اور شعلوں کی حدت سے بے دم ہوتے وہ ہجوم کے بیچوں بیچ آہستہ آہستہ چلنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ایک ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کے ساتھ ہی منظر بدل سا گیا تھا۔

یہ معصوم بھولے بھالے نوعمر بچے تھے۔ کستوری کی مہک ان کے چاراطراف بکھری ہوئی تھی۔ بمثل خورشید نور کے تاج تھے جو انہوں نے سروں پر پہن رکھے تھے۔ آج جب سب بے لباس تھے۔ ان کا لباس اور آن بان دیدنی تھی۔ خوشی اور نور ان کے چہروں سے پھوٹ رہا تھا۔ لیکن ابھی کہاں۔ معزز اور اطاعت گزار نورانی فرشتے انہیں سلامتی اور بلند درجات کی خوشخبریاں سنا رہے تھے کہ اچانک منادی کرنے والے نے صدا لگائی۔ سانحہ پشاور اور سانحہ قندوز کے مجرموں کو بھیڑ میں سے الگ کر لیا جائے کہ آج بدلے کا دن آن پہنچا ہے۔مجرموں کی چیخ و پکار، دہکتے شعلوں کی حدت، آسمان کی سرخی غرض ہر چیز میں یکدم اضافہ ہوا تھا۔ بھڑکتے الاو کی شدت سے بےحال ہوتے انہوں نے پلٹ کر دیکھا۔ آتش فشاں جیسی آگ تھی جو بس انہیں چھونے کو تھی۔ وہ ڈر کے مارے آگے کو دوڑنا شروع ہوئے تو دو کرخت چہروں والے فرشتوں نے انہیں آلیا۔

سانحہ قندوز اور سانحہ پشاور کے مجرموں کو پکڑا جائے۔ نہیں نہیں میرا ان سانحات سے کوئی تعلق نہیں۔ میں تو ایک عام سا پاکستانی تھا۔ میں دہشت گرد نہیں تھا۔ یہ دہشت گرد نہیں تھا۔ اس کو پروردگار عالم نے چار بچوں کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ جب پشاور میں امت کے معصوموں کا لہو بہایا گیا۔ جب قندوز میں حفاظ کے قرآن خون سے تر تھے۔اس وقت اس کے گھر میں قرآن پاک الماری میں سجا تھا اور اس کے بچے موبائل پر گیم کھیلنے اور ٹی وی پر کارٹون دیکھنے میں مصروف تھے۔ اس نے اپنی غفلت سے چار امتی ضائع کر دیے۔ اس کے لیے آگ ہے آگ۔ پیچھے دہکتی ہوئی آگ تھی۔ دائیں بائیں آگ تھی۔ آگے آگ تھی۔ اے میرے رب۔ آج شدت سے رب یاد آیا تھا۔

آہ میرے بچو! آہ میری رعیت! آہ میں نے تمہیں دنیا میں کیا سکھایا۔ ان کے بیوی اور بچے سوالیہ نشان بنے انہیں چاروں جانب سے گھیرے ہوئے تھے۔ نہیں نہیں کی تکرار کرتے احمد صاحب ہڑا بڑا کر اٹھ بیٹھے تھے۔ دیوار گیر گھڑی رات کے ڈھائی بجا رہی تھی۔ قریب ہی پرسکون نیند سوئی ہوئی ان کی رعیت ۔ میری بیوی، میرے بچے، میرے گھر والے۔ کیسا استحقاق تھا ناں اور یہ استحقاق کچھ تقاضے کرتا تھا۔ معاشی سہولیات سے بلند تر تقاضے، تعلیم و تربیت کے تقاضے، نفع بخش علم و عمل کے تقاضے۔ جس کے سر پر ایسی بھاری زمے داری رکھی ہو وہ کیونکر سو پائے گا۔وہ اٹھ گئے تھے، رات کا پچھلا پہر، ہر طرف پھیلا سکوت، ستاروں سے جھلملاتا آسمان۔ میرا رب آسمان دنیا پر ہے۔ مجھے پکار رہا ہے۔ ایک خیال روشنی بن کر ذہن میں کوندا۔ روز پکارتا ہے۔ جب تم سوئے ہوتے ہو۔ کسی نے کان میں گویا سرگوشی کی۔ ایک آنسو رخسار پر ڈھلک آیا تھا۔ ”اے اللہ تو ہی میرا رب ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں“۔

وضو مضطرب اعضا کو سکون بخش رہا تھا۔ میری رعیت۔ انہوں نے خود کلامی کی۔ ”زینب اٹھیے“۔ گہری نیند ہی میں زینب نے کروٹ بدل لی تھی۔پانی کا ایک نرم سا چھینٹا۔ انہوں نے آنکھیں کھول کر شوہر کی جانب دیکھا۔ ہمارا رب آسمان دنیا پر ہمیں پکار رہا ہے۔ روز پکارتا ہے آج اٹھ جائیے۔ انہوں نے جیسے التجا کی کہ اگر وہ نہ اٹھیں تو آگ تو بس ان کے پاو¿ں تلے دہک ہی رہی تھی۔ تہجد کے نوافل میں وہ قرات کر رہے تھے۔ زینب ان کے ہمراہ تھی۔ زینب! رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں شب قدر ہے اور اسی شب کی مبارک و منور ساعتوں میں اللہ تعالی کے مقرب فرشتے جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالی کا یہ پیغام تمام نوع انسانی کے لیے لے کر ہمارے پیارے و محترم نبی آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تھے۔ ”پڑھو اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا۔ جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا اور انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا“۔

آئیے زینب مل کر اپنی غلطیوں کا جائزہ لیں۔ ان پر اللہ تعالی سے معافی مانگیں۔ اپنی اصلاح کریں۔ قرآن پاک اور اسوہ رسول حسنہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رہنمائی اور اکتساب فیض کے لیے کوئی پروگرام ترتیب دیں۔ ”آئیے زینب کہ قرآن پاک کا ہم پر حق ہے کہ اسے پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ ہم اس گھر کے، ان بچوں کے نگراں اور زمے دار ہیں۔ میں اس گھر کا نگراں اور جوابدہ ہوں۔ جوابدہی کے خوف سے زباں لڑکھڑا سی گئی تھی۔ خوف آنکھوں سے جھلک رہا تھا۔ آپ ان بچوں پر نگراں اور جواب دہ ہیں“۔ زینب بنا پلکیں جھپکائے یک ٹک انہیں دیکھے جا رہی تھیں۔
یہ گھر جہاں خاندان رہتا ہے ناں بہت بابرکت جگہ ہے۔ کیوں نہ ہم قرآن پاک سے عملی تعلق کی بحالی کا پروگرام اپنے گھر سے شروع کریں۔ کبھی میں نگران بنوں اور آپ معاون۔ کبھی آپ نگران اور میں معاون ہم دونوں مل کر اپنے اور اپنے بچوں کو قرآن کے نور سے، تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نور سے منور کرنے میں لگ جائیں کہ اس دن جب کہیں جائے اماں نہ ہوگی۔

جب سانحہ پشاور اور سانحہ قندوز کے مجرموں کو کٹھہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ جب ہر طرف زمین آگ اگل رہی ہوگی آسمان آگ برسا رہا ہو گا اس روز، اس روز۔ وہ دونوں ہچکیوں سے رونے لگے تھے۔ مالک! آقا اس روز ہمارا شمار قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں میں کرنا۔ آمین تم میں سے بہتر وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور سکھایا۔

شعبان کے مہینے میں وہ رمضان کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار تھے۔ کرن سورة العلق کی تلاوت کر رہی تھی۔ کاشف ترجمہ پڑھ کر سنا رہا تھا۔ ابا جان بچوں کو بتا رہے تھے۔ اللہ تعالی نے اپنی ہر مخلوق کو حسب ضرورت علم عطا کیا۔ جیسے مچھلی کو تیرنے کا علم، پرندوں کو اڑنے کا علم۔ فرشتوں اور جنات کو بھی علم عطا ہوا لیکن انسان کو بہت زیادہ علم عطا کر کے تمام مخلوقات پر فضیلت عطا کی گئی۔ اللہ تعالی کا عطا کردہ یہ علم جسے علم الاسماءکہا جاتا ہے کی بدولت ہی انسان کو اللہ کا نائب او مسجود ملائک ہونے کا شرف ملا۔امی اور بابا جانی بچوں کو سورة العلق کی تفسیر سکھا رہے تھے۔ ننھے اذہان علم کی قدر وقیمت سمجھنے لگے تھے۔

ہمیں حکم ربانی ہے کہ سیکھیں، وہ علم جو منتشر گروہوں کو ملت واحدہ میں بدلتا ہے، جو اضطراب کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں سکون کی کرنیں بکھیرتا ہے۔ وہ علم جو تفکر کائنات کی دعوت دے کر ستاروں پر کمند ڈالتا ہے۔ نافع تخلیقات اور ایجادات کی راہیں کھولتا ہے۔ وہ علم جو خالق کی رضا اور مخلوق کے لیے امن و سلامتی بنتا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم اس قابل نہیں کہ قرآن پاک پڑھنے اور پڑھانے کا حق ادا کر سکیں لیکن تیری رحمت پر نظر رکھتے ہوئے ہم اس فریضہ عظیم کو ادا کرنے کا ارادہ کر چکے اور ہم نے تجھ پر توکل کیا اور تو ارادوں کو پورا کرنے والا، راہ ہدایت دکھانے والا، اس پر چلانے والا اور منزل تک پہچانے والا ہے۔ ہم نے تجھ پر بھروسہ اور تجھ پر توکل کیا۔ تو ہماری نیتوں کو خالص اور ہمارے اعمال کو قبولیت بخش دے۔ اس رمضان میں ہمارے ہر گھر کو اصحاب صفحہ کا چبوترہ بنا دے۔ بے شک ہم تیرے ہیں۔ تیری جانب ہی ہمیں پلٹنا ہے۔ ہمیں، شہداءاور ان کے لواحقین کو اجر و ثواب عطا فرما۔ آمین ثم آمین

آمدِ رمضان (فاطمہ خان)

آمدِ رمضان (فاطمہ خان)

آج یہ نفس پھر سے مرنے والا ہے
وہ ماہِ مبارک پھر سے آنے والا ہے
مسلمان پھر سے روزے رکھ کر
عبادت کا شوق کمانے والا ہے
ہم غرباءمیں کھانا بانٹیں گے
وہ رب ہے پاک ہمت دینے والا ہے
مفلس بھی یہ عید منائیں گے
اک معجزہ برپا ہونے والا ہے
اونچ نیچ کے رنگ اب بکھریں گے
بھائی چارے کا رنگ نکھرنے والا ہے
بھوک میں جل کر کندن بنے گا
نفس بھی پاکیزہ ہونے والا ہے
سن لے یا ربِ کریم یہ دعا فاطی
کامل بنا دے تو کامل بنانے والا ہے