رحمتوں کی برسات (رانیا میر)

رحمتوں کی برسات (رانیا میر)

رمضان کا مہینہ شروع ہوتے ہی اللہ کی رحمتوں  کا نزول شروع ہو جاتا ہے۔ یہ رحمتیں کسی بھی صورت میں ہوسکتی ہیں۔یہ کبھی سحری و افطاری کی صورت میں بھی ہمارے سامنے آتی ہیں ۔آپ نے کبھی غور کیا ہو کس طرح ہر گھر میں چاہے وہ کسی امیر کا ہو یا غریب کا سب کے دسترخوان پر سحری و افطاری کےوقت رونقیں لگی ہوتی ہیں ،یہ سب کس کی برکت سے ہوتا ہے؟
رمضان المبارک کے مبارک و مقدس مہینے کی وجہ سے اللہ کی رحمت جوش مار رہی ہوتی ہے۔ اللہ رب العزت ہم سے مخاطب ہوتے ہیں کوئی جو مجھے سے سوال کرے ؟
جو مجھے سے مانگے اور میں اُس پر اپنی رحمتوں کی انتہا کر دوں لیکن ہم میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو رمضان کے مبارک مہینے میں بھی اپنے رب کو ناراض کرنے سے باز نہیں آتے ۔ہمیں رب العزت کو منانا ہی نہیں آتا، وہ ہماری شہ رگ سے قریب ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا مہربان رب جو عام دنوں میں ہمارے لاکھوں گناہوں کے باوجود ہماری جان، مال، عزت آبرو، کی حفاظت کیے ہوئے ہے اگر ہم رمضان میں اللہ سے کچھ مانگیں، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے وہ ہمیں اپنی رحمت سے مایوس کرے! 
بچہ جب ماں سے کچھ مانگتا ہے تو ماں وہ چیز تو ایک بار کہنے پر ہی دے دیتی ہے جو عام ہوتی ہے، پر کچھ چیزیں بہت خاص ہوتی ہیں وہ چاہےہزار بار ضد کر کے بھی مانگیں تو نہیں ملتی۔ وجہ یہ ہوتی ہے کہ اُن کا ایک خاص وقت ہوتا ہے جیسے رمضان میں ماں بچے کو عید کے کپڑے لے کر دیتی ہے وہ بچہ عید سے پہلے پہننے کی ضد کرے تو ماں کیوں نہیں دیتی؟ کیا ماں کو بچے سے پیار نہیں ہےیا ماں کو بچے سے زیادہ کپڑے عزیز ہیں؟ ہم سب کا جواب یہ ہی ہوگا کے ابھی بچے کی ضد فضول ہے ابھی ان کپڑوں کو پہننے کا وقت نہیں آیا۔ ہمارا حال بھی تو اس ضدی بچے جیسا ہے ہر وقت کچھ باتوں کی اللہ سے ضد کرتے ہیں وہ دعائیں قبول ہو جائیں تو خوشی کی کوئی انتہا ہی نہیں رہتی اگر قبول نا ہوں تو کفریہ باتیں کرنے لگتے ہیں ۔کبھی یہ نہیں سوچا کہ جو ہم مانگ رہے ہیں یہ ہمارے لیے کتنا خطرناک بھی ہو سکتا ہے، ہمارے لیے بہتر نہیں تھا اسی لیے ہمارے رب نے بچا لیا۔

عام دنوں میں بھی ہمارا رب ہم پر بہت مہربان ہوتا ہے پر رمضان المبارک میں اللہ کی رحمت اور بھی بڑھ جاتی ہے بس جس کی جتنی طلب ہوتی ہے وہ اُتنا ہی پیاس بُجھا پاتا ہے ۔ جتنی شدت سے پکارے گے اُتنی ہی رب کی رحمت کو جوش مارتا پائیں گے۔

آج ہماری تڑپ، ہماری لگن کچھ اور ہی کاموں کے لیے خاص ہوگئی ہے رب تو ہمیں تب یاد آتا ہے جب کوئی کام رکا ہوا ہو تب نماز یاد آتی ہے۔چلیں جو ہوا سو ہوا بھول جائیں ماضی اور آج اس مبارک مہینے میں سجدے میں گر کر رو رو کر اپنے رب کو راضی کر لیں اُس کی رحمت بہت وسیع ہے۔ اللہ ہماری آنکھوں میں آنسو دیکھ کر ہمیں اپنی رحمت کی چادر میں ڈھانپ لیں گے اپنے گناہوں پر اصرار نہ کریں اور نہ ہی نفس کی غلامی میں اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کریں ایسا نہ ہو ہم سرکشی میں ہی زندگی کی بازی ہار جائیں اور سوائے پچھتاوے کے کچھ باقی نہ رہے آج ہم ہیں کل نہیں ہوں گے اس لیے اس فانی دنیا میں دل لگانے کی بجائے ایسے کام کریں جن سے ہمارا رب ہم سے دنیا و آخرت میں راضی ہو جائے۔
یا اللہ ہمیں اس مبارک مہینے میں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرما۔
” آمین ثم آمین یا رب العالمین”