پاکستان کے شہروں کےنام

پاکستان کے شہروں کےنام

اســـلام آبــاد: 1959ءمیں مرکزی دارالحکومت کا علاقہ قرارپایا۔ اس کا نام مذہب اسلام کے نام پر اسلام آباد رکھا گیا۔

راولـپـنـــڈی: یہ شہر راول قوم کا گھر تھا۔ چودھری  جھنڈےخان راول نے پندرہویں صدی میں باقاعدہ اس کی بنیاد رکھی۔

کراچی: تقریباً 220 سال پہلے یہ ماہی گیروں کی بستی تھی۔ کلاچو نامی بلوچ کے نام پر اس کا نام کلاچی پڑگیا۔ پھر آہستہ آہستہ کراچی بن گیا۔ 1925ءمیں اسے شہر کی حیثیت دی گئی۔1947ءسے 1959ءتک یہ پاکستان کا دارالحکومت رہا۔

لاہور: ایک نظریےکے مطابق ہندﺅں کے دیوتا راما کے بیٹے لاوا کے بعد لاہور نام پڑا، لاوا کو لوہ سے پکارا جاتا تھا اور لوہ (لاوا) کیلئے تعمیر کیا جانیوالا قلعہ ” لوہ، آور “سے مشہور ہوا
جس کا واضح معنی ’لوہ کا قلعہ ‘ تھا۔ اسی طرح صدیاں گزرتی گئیں اور پھر لوہ آورلفظ بالکل اسی طرح لاہور میں بدل گیا جس طرح سیوستان سبی اور شالکوٹ، کوٹیا اور پھر کوئٹہ میں بدل گیا۔
اسی طرح ایک اور نظریئے کے مطابق دو بھائی لاہورایک اور نظریئے کے مطابق دو بھائی لاہور اور قاصو دو مہاجر بھائی تھے جو اس سرزمین پرآئے جسے لوگ آج لاہور کے نام سے جانتے ہیں، ایک بھائی قاصو نے پھر قصور آباد کیا جس کی وجہ سے اس کا نام بھی قصور پڑا جبکہ دوسرے بھائی نے اندرون شہر سے تین میل دور اچھرہ لااور کو اپنا مسکن بنایا اور بعد میں اسی لاہو کی وجہ سے اس شہر کا نام لاہور پڑ گیا اور شاید یہی وجہ ہے کہ اچھرہ کی حدود میں کئی ہندﺅوں کی قبریں بھی ملیں۔

حــــــیدر آبــاد: اس کا پرانا نام نیرون کوٹ تھا۔ کلہوڑوں نے اسے حضرت علیؓ کے نام سے منسوب کرکے اس کا نام حیدر آباد رکھ دیا۔ اس کی بنیاد غلام کلہوڑا نے 1768ءمیں رکھی۔

پـشــــاور: پیشہ ور لوگوں کی نسبت سے اس کا نام پشاور پڑگیا۔ ایک اور روایت کے مطابق محمود غزنوی نے اسے یہ نام دیا۔

کوئٹہ :لفظ کوئٹہ کواٹا سے بنا ہے۔ جس کے معنی قلعے کے ہیں۔ بگڑتے بگڑتے یہ کواٹا سے کوئٹہ بن گیا۔

ٹــــوبہ ٹیک سنــــگھ: اس شہر کا نام ایک سکھ “ٹیکو سنگھ” کے نام پہ ہے “ٹوبہ” تالاب کو کہتے ہیں یہ درویش صفت سکھ ٹیکو سنگھ شہر کے ریلوے اسٹیشن کپاس ایک درخت کے نیچے بیٹھا رہتا تھا اور ٹوبہ یعنی تالاب سے پانی بھر کر اپنے پاس رکھتا تھا اور اسٹیشن آنے والے مسافروں کو پانی پلایا کرتا تھا سعادت حسن منٹو کا شہرہ آفاق افسانہ ” ٹوبہ ٹیک سنگھ” بھی اسی شہر سے منسوب ہے۔

ســــرگــــودھـا: یہ سر اور گودھا سے مل کر بنا ہے۔ ہندی میں سر، تالاب کو کہتے ہیں، گودھا ایک فقیر کا نام تھا جو تالاب کے کنارے رہتا تھا۔ اسی لیے اس کا نام گودھے والا سر بن گیا۔ بعد میں سرگودھا کہلایا۔ 1930ءمیں باقاعدہ آباد ہوا۔

بہــــاولپــــور: نواب بہاول خان کا آباد کردہ شہر جو انہی کے نام پر بہاولپور کہلایا۔ مدت تک یہ ریاست بہاولپور کا صدر مقام رہا۔ پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی یہ پہلی رہاست تھی۔ ون یونٹ کے قیام تک یہاں عباسی خاندان کی حکومت تھی۔

ملــــتان: کہا جاتا ہے کہ اس شہر کی تاریخ 4 ہزار سال قدیم ہے۔ البیرونی کے مطابق اسے ہزاروں سال پہلے آخری کرت سگیا کے زمانے میں آباد کیا گیا۔ اس کا ابتدائی نام” کیساپور “بتایا جاتا ہے۔

فیصــــل آبــاد: اسے ایک انگریز سر جیمزلائل (گورنرپنجاب) نے آباد کیا۔ اس کے نام پر اس شہر کا نام لائل پور تھا۔ بعدازاں عظیم سعودی فرماں روا شاہ فیصل شہید کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔

رحیــــم یار خــــاں: بہاولپور کے عباسیہ خاندان کے ایک فرد نواب رحیم یار خاں عباسی کے نام پر یہ شہر آباد کیا گیا۔

عبدالحــــکیم: جنوبی پنجاب کی ایک روحانی بزرگ ہستی کے نام پر یہ قصبہ آباد ہوا۔ جن کا مزار اسی قصبے میں ہے۔ یہ قصبہ دریائے راوی کے کنارے آباد ہے۔

ســــاہیوال:  یہ شہر ساہی قوم کا مسکن تھا۔ اسی لیے ساہی وال کہلایا۔ انگریز دور میں پنجاب کے انگریز گورنر منٹگمری کے نام پر” منٹگمری “کہلایا۔ نومبر 1966ءصدر ایوب خاں نے عوام کے مطالبے پر اس شہر کا پرانا نام یعنی ساہیوال بحال کردیا۔

ســــیالکوٹ: 2 ہزار قبل مسیح میں راجہ سلکوٹ نے اس شہر کی بنیاد رکھی۔ برطانوی عہد میں اس کا نام سیالکوٹ رکھا گیا۔

گوجــــرانوالہ: ایک جاٹ سانہی خاں نے اسے 1365ءمیں آباد کیا اور اس کا نام ” خان پور ” رکھا۔ بعدازاں امرتسر سے آ کر یہاں آباد ہونے والے گوجروں نے اس کا نام بدل کر گوجرانوالہ رکھ دیا۔

شیــــخوپـورہ: مغل حکمران نورالدین سلیم جہانگیر کے حوالے سے آباد کیا جانے والا شہر۔ اکبر اپنے چہیتے بیٹے کو پیار سے” شیخو “کہہ کر پکارتا تھا اور اسی کے نام سے شیخوپورہ کہلایا۔

ہــــــــڑپہ: یہ دنیا کے قدیم ترین شہر کا اعزاز رکھنے والا شہر ہے۔ ہڑپہ، ساہیوال سے 12 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ موہنجوداڑو کا ہم عصر شہر ہے۔ جو 5 ہزار سال قبل اچانک ختم ہوگیا۔رگِ وید کے قدیم منتروں میں اس کا نام ” ہری روپا “لکھا گیا ہے۔ زمانے کے چال نے” ہری روپا “کو ہڑپہ بنا دیا۔

 ٹیکســــلا: گندھارا تہذیب کا مرکز،اس کا شمار بھی دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ راولپنڈی سے 22 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ 326 قبل مسیح میں یہاں سکندرِاعظم کا قبضہ ہوا۔

بہاولــــنگـر: ماضی میں ریاست بہاولپور کا ایک ضلع تھا۔ نواب سر صادق محمد خاں عباسی خامس پنجم کے مورثِ اعلیٰ کے نام پر بہاول نگر نام رکھا گیا۔

مظـفــر گــــڑھ: والئی ملتان نواب مظفرخاں کا آباد کردہ شہر۔ 1880ءتک اس کا نام ” خان گڑھ “رہا۔ انگریز حکومت نے اسے مظفرگڑھ کا نام دیا۔

مــــیانـوالـی: ایک صوفی بزرگ میاں علی کے نام سے موسوم شہر” میانوالی ” سولہویں صدی میں آباد کیا گیا تھا۔

ڈیرہ غــازی خــان: پاکستان کا یہ شہر اس حوالے سے خصوصیت کا حامل ہے کہ اس کی سرحدیں چاروں صوبوں سے ملتی ہیں۔

جھــــنگ: یہ شہر کبھی چند جھونپڑیوں پر مشتمل تھا۔ اس شہر کی ابتدا صدیوں پہلے راجا سرجا سیال نے رکھی تھی اور یوں یہ علاق “جھگی سیال ” کہلایا۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جھنگ سیال بن گیا اور پھر صرف جھنگ رہ گیا۔

پاکپتن شریف: اس شہر کا پرانا نام اجودھن تھا۔یہ دریائے ستلج کے کنارے واقع یہاں ایک پتن(جہاں سے لوگ دریا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے ناؤ کے ذریعے دریا پار کرتے ہیں) تھا جب بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ یہاں قیام پذیر ہوئے تو اس کا نام پتن سے پاک پتن شریف مشہور ہو گیا۔

 

انعام کا حقدار کون؟ (سعد فاروق)

انعام کا حقدار کون؟ (سعد فاروق)

سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر معمول کے مطابق جیسے ہی کھولی سامنے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کا پیغام نظر آیا ”ساتھیو تیار ہو جائیں۔ جلد ایک انعام جیتنے والے مقابلے کا اعلان ہوگا“۔ پیغام میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال پوچھا کہ کسی کو اندازہ ہے کہ یہ کیسا مقابلہ ہوگا؟ جواب میں ہزاروں لوگوں کے پیغامات تھے جو سب پڑھنے ممکن نہیں تھے صرف چند پر نظر ڈال سکا۔ پاک فوج سے پاکستانیوں کی والہانہ محبت کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں آیا لوگوں نے کسی انعام کے بجائے صرف ایک پیغام/ رپلائی کی خواہش کا اظہار کیا۔ کوئی فالو بیک کی درخواست کر رہا تھا۔ کوئی سلیفی کی لیکن یہ پاک فوج کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کرکے نمک حرامی کرنے والوں کے لیے پیغام تھا کہ پاکستانی چاہے وہ سوشل میڈیا پر ہوں، چاہے روڈ پر، چاہے گاوں میں ہوں یا شہر میں، پاک فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔

دشمن ازل سے ناکام رہا ہے اور ابد تک ناکام رہے گا ان شاءاللہ۔ میجر جنرل آصف غفور کی انعام والی بات سے میرا ذہن پاک فوج ہزاروں شہدا کی طرف چلا گیا۔ وطن کے تحفظ کی قسم کھانے والے، مٹی سے وفا نبھانے والے، ماوں کے ہاتھوں تیار ہوکر مقتل جانے والے عظیم افراد یقینا ہر انعام/ایوارڈ کے مستحق ہیں۔ اپنی دنیا وطن پر قربان کرنے والے شہدا یقینا اللہ کی جنتوں میں خوش وخرم ہوں گے۔ انہیں کسی چیز کا لالچ نہیں تھا۔ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہونے والے پاک فوج میں آئے تو کئی کئی وقت بھوکے، پیاسے وطن کی خاطر صبر سے ڈٹے رہے۔ مخملی بستروں پر سونے والے پاک فوج میں آئے تو نوکیلی پتھروں والے پہاڑوں کی چٹان پر سر کو تکیہ بنا کر لیٹے رہے۔ کیپٹن قدیر شہید جو تین سو ایکڑ زمین کے مالک تھے مگر وطن کی مٹی نے پکارا تو چلے آئے، لاڈ اور نازو سے پرورشِ کرنے والے جوان کو وطن کی خاطر سالوں کوڑا کرکٹ اٹھانے پڑا۔

بلوچستان کے امن کا جب بھی تذکرہ آئے گا کیپٹن قدیر شہید کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ شہدا کا تذکرہ لکھنے لگوں تو کئی کتابیں لکھی جائیں لیکن اپنے لہو میں نہانے والے جوان مکمل نہ ہوں۔ نیلم وادی پر شدید سردی میں ڈٹے جوان ہوں یا نکیال سیکٹر پر بھارتی اشتعال انگیزی سے شہید ہونے والی سپاہی، سیاچن میں برفوں تلے ڈب کر وطن کی محبت میں ابد تک زندہ رہنے والے آفیسر، دشمن کے بزدلانہ وار میں افغان بارڈر پر ڈٹے افسر و جوان سب وطن کی خاطر استقامت کی داستانیں رقم کر رہے ہیں۔ اس موقعے پر ہر شہری اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑا ہے۔ دشمن کو کوئی بھی جارحانہ قدم اٹھانے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچنا ہوگا۔ میجر جنرل آصف غفور نے بلاشبہ ایک اعلی دماغ کے مالک ہیں ان کی بصیرت کے باعث آج دشمن بھی پاک فوج کے اقدامات کی نقل کرنے پر مجبور ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا منصب سنبھالنے کے بعد سے عام شہریوں میں مسلسل گھل مل کر کام کر رہے ہیں۔ آصف غفور نے دشمن کو اپنی حکمت و دانشمندی سے وہ پیغام دیا جو وہ صدیوں تک یاد رکھے گا۔

جنرل صاحب بلاشبہ اس ففتھ جنریشن وار کے دور میں سوشل میڈیا اہم محاذ ہے۔ آپ اس پلیٹ فارم استعمال کرنے والوں کے لیے انعامات دے رہے ہیں تو سب سے پہلے ان افراد کو انعام دیجیے جنہوں نے ملک میں ٹی ٹی پی کے زور کے وقت بھی دشمن کا سوشل میڈیا پر ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ جن کے خلاف دشمن کا میڈیا مسلسل صف آرا رہا۔ جنہیں دشمن ایجنسیوں کی بیرون ملک سے دھمکیاں بھی متزلزل نہ کر سکی۔ جن کے اکاونٹس بند کروانے میں دشمن نے زور لگایا۔ جو دشمن کے وار سہہ کر بھی ڈٹے رہے۔ آج وہ اس چمک دمک والے سوشل میڈیا میں زندگی کی تلخیوں کے باعث کہیں پیچھے رہ گئے ہیں۔ ان کو ساتھ ملائیے ان کو سپورٹ کیجیے۔ لاکھوں فالوورز کے بجائے چند سو والوں کی جانب بھی نظر دوہرائیں۔ وَالسَّابِقُونَ الاوَّلُونَ کے تحت سب سے پہلا حق انہی کا ہے اور ہیرے کی قدر جوہری ہی بہتر جانتا ہے۔
پاکستان زندہ باد
پاک فوج پائندہ باد

عمران خان مہنگائی مافیا بے نقاب کریں (شاہد ندیم)

عمران خان مہنگائی مافیا بے نقاب کریں (شاہد ندیم)

تحریک انصاف کی حکومت کو آئے اب تقریباً نو ماہ ہو چکے۔ حکومت وقت کے پاس اب ماضی کی حکومتوں کی ناکامیوں کی داستان سنانے کی سہولت ختم ہو تی جا رہی ہے۔ کرپشن کے مسلسل بلاثبوت بیانیے کی گردان سے اب عوام بور ہوتے جا رہے ہیں۔ اربوں، کھربوں کے غبن کی افسانوی داستانیں اب یکسانیت کا شکار ہو چکیں، لوگ سیاسی بیانیے کے علاوہ کارکردگی دیکھناچاہتے ہیں۔ عوام کوجو تبدیلی کے سہانے خواب دکھائے گئے تھے، لوگوں کی آنکھیں ان کی تعبیر کے انتظار میں ترس گئی ہیں۔ لوگ اپنی تقدیر کے تبدیل ہونے کے منتظر ہیں، مگر یہاں تماشا یہ ہے کہ تقدیر تو کیا تقریر بھی تبدیل نہیںہورہی ہے۔ عوام دن بدن بڑھتی مہنگائی کے ہاتھوں پریشان حکمرانوں کے ہاتھ کا کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ وزیر و مشیر عوام کو مسائل کے تدارک کی خوشخبری سنانے کے بجائے چیخیں نکلونے کے درپے ہیں۔ وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے عوام پر پٹرول بم گرادیا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سیدھا سادہ مطلب عوام الناس کی زندگی کو مزید مشکل بناناہے۔ یہ امر قابلِ افسوس ہی نہیں باعثِ تشویش بھی ہے کہ ہمارے ہاں پٹرول، گیس، پانی، بجلی اور دیگر یوٹیلیٹی سروسز کے نرخوں میں جس انداز سے اچانک رد و بدل ہوتا ہے۔ اُس کے باعث کم آمدنی والے طبقوں کے لیے خاص طور پر یہ ممکن نہیں رہتا کہ وہ اپنے اخراجات کی مناسب منصوبہ بندی کر سکیں۔

دنیا کے بیشتر ملکوں میں رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حکومتیں عوام کو تمام ممکن سہولتیں مہیا کرتی ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے ملک میں مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے گراں فروشی اپنے عروج کو پہنچ جاتی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ متوسط طبقے کے لیے خاص طور پر انتہائی پریشان کن ہے، پٹرول مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں فوری اضافہ ہو گیا ہے۔ جس سے مسافروں کے علاوہ اشیائے خور و نوش کے کرایوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ حکومت کو رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر اِس فیصلے پر اعتدال کی حدوں کے اندر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کی تبدیلی کی امیدیں ٹوٹنے لگی ہیں، اشرافیہ کی عیش اور غریب امتحان میں ہے۔ حکمران گزشتہ حکومتوں پر ملبہ ڈال کر عوام کو مزید قربانی دینے کی ترغیب دیتے نظر آتے ہیں، سیاسی قیادت کا کام اقتدار کے مزے لوٹنا اور عوام کا نصیب قربانی دینا ہے۔ اسی لیے یکمشت پٹرول کی قیمت میں 9 روپے فی لیٹر سے زائد کا اضافہ کیا جارہاہے۔ اس اضافے سے قبل وہی گھسی پٹی کہانی دہرائی گئی کہ تیل و گیس کی قیمتوں میںکو کنٹرول کرنے والے سرکاری ادارے اوگرا نے حکومت کو 14 روپے فی لیٹر تک اضافے کی سفارش کی تھی، مگر حکومت نے عوام پر رحم کھاتے ہوئے صرف 9 روپے 34 پیسے فی لیٹر اضافے کا فیصلہ کیا۔ تاہم اس کی حتمی منظوری وزیر اعظم دیں گے جو ممکن ہے عوام پر رحم کھاتے ہوئے دو تین روپے کم کردیں۔ ہر ماہ یہی ڈراما ہوتا ہے کہ اوگرا انتہائی زیادہ اضافے کی سفارش کرتا ہے اور حکومت عوام کی بھلائی میں اس سفارش کو مسترد کرتے ہوئے سفارش کردہ رقم کے نصف تک اضافہ کردیتی ہے۔ ایک بات ابھی تک سمجھ میں نہیں آئی کہ اوگرا کا کردار کیا ہے۔ اس کا جو کردار اب تک سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ تیل اور گیس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر حقیقی اضافے کی سفارش کرناہے۔ اصولی طور پر یہ سرکاری ادارہ ہے اور عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے اس ادارے کو دیکھنا چاہیے کہ تیل فروخت کرنے والی کمپنیاں کس طرح سے عوام سے لوٹ مار کررہی ہیں۔

حکومت اسپاٹ ریٹ پر پٹرول اور گیس کی خریداری کے معاہدے نہیں کرتی بلکہ یہ طویل المدتی معاہدے ہوتے ہیں جن میں ایک معین مدت تک قیمتیں منجمد ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس مدت تک قیمتیں معاہدے کے تحت منجمد ہیں، اس عرصے تک ملک میں بھی پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں کوئی ردوبدل نہیں ہونا چاہیے، چاہے بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں کسی بھی درجے پر جا پہنچیں۔ ملک میں جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہر ماہ اور کبھی کبھی ایک ماہ میں دو مرتبہ پٹرول کی قیمت بڑھادی جاتی ہے اور اس کا جواز بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کے بڑھتے نرخ کو پیش کیا جاتا ہے۔ عوامی نمائندہ کوئی سوال نہیں کرتا کہ حکومت سیاہ و سفید میں بتائے کہ اس نے کس قیمت پر پٹرول، گیس خریدنے کا معاہدہ کیا اور یہ معاہدہ کتنے عرصے تک کے لیے ہے۔ یہ معاہدہ جتنے عرصے تک قابل عمل ہے، اتنے عرصے تک تیل و گیس کی قیمتوں میں ردو بدل قانونی طور پر جرم قرار دیا جانا چاہیے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں روز اضافہ کردیا جاتا ہے مگر حقائق کوئی عوام کو بتانے پر راضی نہیں ہے۔ اس سب کے بارے میں دریافت کیا جائے توکہا جاتا ہے کہ کاروباری معاہدے میں رازداری کی شرط ہے۔رازداری کی یہ کون سی ایسی شرط ہے کہ جس کے تحت عوام سے جتنی چاہے قیمت وصول کی جائے ۔ پٹرولیم کمپنیوں کی جانب سے سیلز ٹیکس کی چوری کی خبریں عام سی بات ہیں، مگر حکومت کی اس جانب کوئی توجہ نہیں۔ کبھی کبھار کوئی خبر چھپ جاتی ہے، اس کے بعد بات کو دبا دیا جاتا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اجلاس میں روبوٹ کی طرح وزراءشریک ہوتے ہیں، وزارت کی جانب سے ایک پریزنٹیشن دی جاتی ہے اور سب اس پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے رضامندی کا اظہارکرتے ہیں۔ عمران خان شروع سے اپنے آپ کو عوامی نمائندہ کہتے رہے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ حکومتوں میں عوامی مفادات کے خلاف فیصلے کیے گئے۔

عوام ان سے درخواست کریں گے کہ ایک مرتبہ وہ پٹرول کی قیمت متعین کرنے کا فارمولا عوام کے لیے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرتے ہوئے صراحت سے بیان کردیں کہ فی لیٹر کیا اخراجات آتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی بتادیں کہ طویل مدتی معاہدے کے باوجود کیوں ہر ماہ پٹرول کی قیمت بڑھائی جاتی ہے اور اس کا فائدہ کس کو پہنچتا ہے۔ اگر عمران خان ایسا کرگئے تو سمجھ لینا چاہیے کہ انہوں نے عوامی نمائندگی کے جو بھی دعوے کیے تھے وہ درست تھے اور وہ سات پردوں میں چھپی ایک مافیا کو بے نقاب کرگئے۔ اس کے ساتھ ہی اوگرا کے کردار پر بھی نظر ثانی کی جائے اور اوگرا میں ایسے افسران کا تقرر کیا جائے جو پٹرولیم کمپنی کی نمائندگی کے بجائے اپنے آپ کو پاکستانی عوام کے مفادات کا نگہبان سمجھیں۔ اوگرا کے

افسران کے ساتھ ساتھ وزارت پٹرولیم کے سیکریٹری اور دیگر افسران کے ملک میں اور بیرون ملک اثاثے بھی منظر عام پر لائے جائیں۔
یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ نو ماہ گزر جانے کے باوجود ملکی معیشت میں کسی بہتری کے بجائے مسلسل ابتری رونما ہوئی ہے۔ مہنگائی میں دن دونا رات چوگنا اضافہ جاری ہے۔ ملک پر قرضوں کا بوجھ ہولناک رفتار سے بڑھ رہا ہے، دوست ممالک سے ملنے والی مالی معاونت کے کوئی مثبت اثرات معاشی صورت حال پر مرتب نہیں ہو سکے ہیں۔ پاکستانی کرنسی کی بے قدری تشویشناک حدوں کو چھو رہی ہے جبکہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے اقدامات بے نتیجہ نظر آتے ہیں۔

اس عرصے میں معاشی اصلاحات کے دعوے تو برابر کیے جاتے رہے، قوم کو صبر کے ساتھ ان کے میٹھے پھل کا انتظار کرنے کی تلقین بھی جاری رہی اور معاشی ابتری کا واحد سبب پچھلی حکومتوں کی بدعنوانیوں اور ناقص پالیسیوں کو قرار دیا جاتا رہا لیکن پچھلے دو ہفتوں کے اندر پہلے وزیر خزانہ پھر گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر کی برطرفی سے واضح ہے کہ وزیراعظم بذاتِ خود سمجھتے ہیں کہ نو ماہ کے دوران کام کرنے والی ان کی معاشی ٹیم ملک کو درپیش اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے میں قطعی ناکام رہی ہے، لہٰذا اس کے تمام ستونوں کا بدلا جانا ضروری ہے۔ امید ہے کہ اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کے سربراہوں سمیت معاشی ٹیم میں اب ایسے افراد کو شامل کیا جائے گا جن کی ماضی کی کارکردگی واضح طور پر تسلی بخش ہو۔ جو نئی سوچ کے ساتھ بحرانی صورت حال سے نمٹنے کے اہل اور زبوں حال معیشت کو تیزی سے بہتر بنانے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہوں تاکہ ملک وعوام کو جلد از جلد مشکل حالات سے باہر نکالا جا سکے۔