سہل پسندی ترک کرنی پڑے گی (شیخ خالد زاہد)

سہل پسندی ترک کرنی پڑے گی (شیخ خالد زاہد)

آج جدید یت کے اس دور میں بھی دنیا محنت کشوں کی بدولت چل رہی ہے۔ بڑے بڑے سخت کام انسان نے اپنے ہاتھوں سے کیے ہیں۔ جیسے بڑی بڑی چٹانوں کا سینہ چیر کر اپنے رہنے کے لیے جگہیں بنائیں اور جانوروں سے بچاﺅ کے لیے ڈھالیں بنائیںاور ہتھیا ر بنائے۔ انسان نے اپنے زور بازو سے گہرے گہرے کنویں کھودے اور اپنے لیے پانی کا بندوبست کیا۔ اپنی محنت سے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر بڑے بڑے جنگلی جانوروں کو اپنی بھوک مٹانے کے لیے شکار کیا۔ انسان نے اپنے بازﺅں کی مدد سے پتھر کو پہیے کی شکل دی۔ غرض یہ کہ انسان نے انتہائی محنت اور مشقت کی بدولت دنیا کو رہنے کے قابل بنایا۔ انتہائی محنت کا نتیجہ ہے کہ آج انسان نے ایسی ایسی مشینیں ایجاد کر لی ہیں جو وہ وہ کام کر رہی ہیں جو کبھی انسان نے اپنے ہاتھوں سے کیے تھے۔ اہرام مصر اس انسانی مشقت کا منہ بولتا ثبوت ہے تو دوسری طرف بڑے قلعے ساری دنیا میں موجود ہیں جو کہ انسانی ہاتھوں سے بنائے گئے۔ علم کی بدولت انسان نے مشکل کاموں کو آسانی سے کرنے کا ہنر سیکھا اور آہستہ آہستہ انسانی قوت کی جگہ مشینی قوت نے لے لی۔ جو کام دس آدمی کر تے تھے وہی کام ایک مشین کی مدد سے کیا جانے لگا۔

غور طلب بات یہ ہے کہ جب وہی کام انسان کررہے تھے تو ماحول دوست کام ہورہا تھا لیکن جب وہی کام مشینوں نے کرنا شروع کیا تو ماحولیات کے مسائل اس حد تک بے قابو ہوگئے کہ اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچانے، پہنچ گئے۔ انسان ترقی کے اس دور میں پہنچ گیا ہے جہاں سے اسے واپس دنیا کو تباہی کی طرف دھکیلنا ہے اورخود واپس غاروں میں رہنے کے لیے چلے جانا ہے۔ دنیا گول یا بیضوی ہے انسان چکر لگا کر وہیں پہنچ جاتا ہے جہاں سے سفر شروع کیا ہوتا ہے اور شاید یہی قدرت کاکائناتی اصول ہے، انسان جب دنیا میں آتا ہے اور جب دنیا سے طبعی طور پرجانے والا ہوتا ہے تو دونوں صورتوں میں ایک جیسا ہی سجھائی دیتا ہے۔ محنت انسان کی پہچان تھی، ہے اور رہے گی لیکن انسان نے ہی محنت کے مختلف خانے بنادیے، یعنی مختلف امور میں محنت کے مختلف انداز ہیں۔ ایک آدمی ٹھنڈے کمرے میں کاغذ اور کمپیوٹر پر ایسی محنت میں مگن ہے کہ اس کے عصاب اور جسمانی پٹھے تناﺅ کا شکا ر ہوجاتے ہیں لیکن اس محنت کے نتیجے میں وہ کوئی بہت ہی پائے کی حکمت عملی مرتب کرلیتا ہے جب کہ دوسری طرف محنت کا بنیادی اصول یعنی اپنے ہاتھ سے تپتی دھوپ، تیز ہواﺅں اور یخ بستہ موسموں میں کام سرانجام دینا ہے۔

دنیا میں آج بیماریوں کا بول بالا ہے، ہر پیدا ہونے والا بچہ کسی نہ کسی بیماری کے ساتھ دنیا میں آنکھیں کھولتا ہے، دنیا جہان کی ویکسینز لگائی جارہی ہیں تاکہ بچے کی صحت کو بحال رکھا جائے یعنی ترقی یافتہ دنیا مصنوعی زندگی کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔ ان بیماریوں میں اول نمبر پر ذیابطیس (شوگر) ہے جس کے ہونے کی جہاں دیگر بہت ساری وجوہات ہیں ان میں سب سے اہم وجہ سہل پسندانہ طرز زندگی ہے۔ انسان نے اپنے آپ کو ایک موبائل فون تک محدود کر لیا ہے۔ بالمشافہ ملاقات سے کہیں بہتر سماجی میڈیا کو قرار دیا جانے لگا ہے۔ بچپن جو کھیل کے میدانوں یا گلی محلوں میں چھپن چھپائی، کھوکھواور چور پولیس جیسے بھاگ دوڑ والے کھیلوں سے محروم ہوگیا ہے۔ اس محرومی کا فائدہ بیماریوں نے اٹھایا ہے اور تقریباً ہر بچے کو کوئی نہ کوئی عارضہ لاحق ہے۔ کچھ بیماریاں تو مورثی ہوتی ہیں اور کچھ جس دور میں بچہ کی پیدائش ہوتی ہے اس دور کی پیداوار ہوتی ہیں۔ نامعلوم کتنے جراثومے اپنی کارگردگی دکھانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ قارئین اتفاق کریں گے کہ ہر گھر میں بیماری کا راج ہے اور اس مد میں ماہانہ ایک خطیر رقم معالجوں اور ہسپتالوں کی نظر ہوجاتی ہے۔

ہر کوئی بیماری سے لڑنے کے لیے تیار بیٹھا ہے، موسم بدلنے سے پہلے ہی ادویات تک رسائی کو ممکن بناتا ہے بغیر کسی وجہ کہ کوئی نہ کوئی دوا حفظان ماتقدم کھا لیتا ہے لیکن یہ جاننے کی کوشش نہیں کر رہا کہ یہ بیماریاں کیوں اتنی آسانی سے ہم پر حملہ آور ہورہی ہیں اور کیا وجہ ہے کہ پرانے وقتوں میں لوگ نہ ہونے کے برابر بیمار ہوتے تھے۔ شاید یہ سوچنے کا وقت بھی ہم سماجی میڈیا کی نظر کردیتے ہیں، ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ہم اپنا قیمتی وقت بھی سماجی میڈیا کی نظر کردیتے ہیں۔ ایسا بالکل نہیں کہ آج کی نسل بزرگوں کی صحبت میں بیٹھتی نہیں بلکہ اپنا موبائل لے کر بیٹھتی ہے۔ یعنی طبعی طور پر موجود ہوتی ہے لیکن ذہنی طور پر نہیں۔ جتنی طبعی محنت کرنی تھی انسان نے، وہ کر چکا۔ انسان نے جتنا اچھا وقت گزارنا تھا گزارلیا اب تو بس اپنی معذوری اور اپنے مرنے کا سامان کیے جاتا ہے۔ ہم سب جنگی ماحول میں رہتے ہیں اور اس ماحول سے آگاہی ہمیں سماجی میڈیا کے ذریعے اپنے ہاتھ میں موجود موبائل فون پر مل جاتی ہے۔ ہم ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر اپنا سارا کا سارا جوش اور ولولہ سماجی میڈیا پر دشمن کو دکھادیتے ہیںاور بڑے فخر سے اپنے سرحدی محافظوں کو سماجی میڈیا پر ہی تعریفی کلمات اور زبانی تمغات سے نواز دیتے ہیں۔

ہماری یہ حالت ایک دم سے نہیں ہوئی ہے، ہم آہستہ آہستہ ہر نشے کی طرح اس سہل پسندی کے عادی ہوئے ہیں۔ ایک زمانہ تھا بچے گھر سے باہر جانے کے لیے تیار بیٹھے ہوتے تھے کہ گھر کے کسی فرد نے کوئی کام کہا تو سارے بچوں کی خواہش ہوتی تھی کہ یہ کام اس سے کہا جائے اور کسی ایک کو ساتھ لے جانے کی اجازت بھی دی جائے۔ لیکن آج تو یہ دور آچکا ہے کہ مائیں اپنے بچوں سے کچھ منگوانے کا کہہ تو دیں پھر کیا بچے کا بدن تو ساری بیماریوں کا قلعہ بن جاتا ہے اور ایسی ایسی تاویلیں سننے کو ملتی ہیں کہ ماں بچے سے کچھ منگوانے کے بجائے اس کا سردبانے بیٹھ جاتی ہے۔

انسان آسائشوں کا ایسا عادی ہوچکا ہے کہ اپنے تمام امور گھر کی چار دیواری میں ہی بھگتانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ اس پر رہی سہی کسر آن لائن خرید و فروخت کے سلسلے نے پوری کررکھی ہے۔ دفتروں میں کام کرنے والے لوگ جو صبح داخل دفتر ہوتے ہیں تو شام گئے واپس باہر نکلتے ہیں اور اکثریت تو اندھیرے میں گھروں کو لوٹتے ہیں یعنی انہیں سورج سے واسطہ سوائے شیشے لگی کھڑکی سے ہی ہوتا ہے۔ آج طبعی ماہرین کا کہنا ہے کہ طبعی طور پر اپنے لیے کوئی مصروفیت نکالیں، کیا ہمارے معالج ہمیں ماضی کی جانب نہیں دھکیلتے سنائی نہیں دیتے۔ آج ہماری راتوں کی نیندیں اڑ چکی ہیں جہاں اس کی وجہ ہمارے موبائل فون بھی ہیں تو دوسری طر ف جسمانی تھکاوٹ یا ان کا اتنا استعمال جتنے کے لیے انہیں بنایا گیا ہے نہیں ہورہا۔ انسان نے درد کا ایسا راگ آلاپا کہ درد نے سارے جسم پر ہی قبضہ کرلیا۔

ہمیں اپنی نسلوں کو گھروں سے باہر نکالنا پڑے گا، انہیں موٹر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سے اتار کر اپنے پیروں پر چلنے کی عادت ڈالنا پڑے گی، انہیں میدانوں میں کھیلے جانے والے کھیلوں کی جانب دھکیلنا پڑے گا۔ ہمیں ان کی ذہنی قابلیت پر کوئی شک نہیں یہ دنیا کی کسی بھی قوم کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں لیکن بہت ضروری ہے بلکہ ناگزیر ہے کہ ان کی طبعی نشونما بھی سخت ہو، ان کے جسم کو سورج کی شعاﺅں کی حدت برداشت کرنے کی عادت ہو۔ تعلیمی اداروں کو اس بات کو یقینی بنانے میں اپنا کلیدی کردار اداکرنا چاہیے کہ نسلوں کو برباد ہونے سے روکیںاس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیمی ادارے اپنی ذمے داریاں احسن طریقے سے نبھانے میں مصروف ہیں لیکن طبعی مضبوطی کی ذمے داری بھی انہی اداروں کی ہے جہاں بچے مستقبل کے معمار اپنا زیادہ وقت گزارتے ہیں۔

بہت ممکن ہے آنے والا وقت ہم سے یہ ساری آسائشیں چھین لے۔ ہمیں کڑی دھوپ میں مشقت کرنے کے لیے گھسیٹ لائے اور ہم ان سب چیزوں کہ عادی نہ ہوں اور سسک سسک کر مرجائیں، اپنی زندگی کی بقاءکے لیے بھاگنا دوڑنا پڑے مگر ہم بھاگ ہی نہ سکیں۔ ہمارا دشمن ہمارے پیچھے ہاتھ دھو کے پڑا ہے ہمیں برباد کرنے کی کمزور کرنے کے منصوبوں کی فیکٹری لگا کر بیٹھا ہوا ہے اور ہم ہیں کہ اس کی فیکٹری کی مصنوعات سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ ذرا سوچ لیجیے آنے والے وقت میں کیا کچھ پوشیدہ ہے اس کا اندازہ لگالیں تو بہتر ہے ورنہ کیا ہوگا یہ ہم سب جانتے ہیں۔ اس سے بہتر ہے کہ سہل پسندی آپ کو اتنی پیاری زندگی سے نجات دلائے آپ سہل پسندی سے نجات حاصل کرلیں۔

بیٹی (طاہر محمود)

بیٹی (طاہر محمود)

بیٹا کھانا کھانا کھا کے آپ کو میں لے جاتا ہوں بازار آپ اپنی کتابیں بھی لے لینا اور میں اپنی دوائی بھی لے لوں گا۔ ”ٹھیک ہے ابو جی! لیکن میں آئس کریم بھی لوں گی“۔ ”ٹھیک ہے بیٹی اپنے لیے بھی لے لینا اور ماں کے لیے بھی لے آنا“، شکور احمد نے مسکرا کر کہا۔ ”نہ جی میں نہ کھاتی ایسی کوئی چیز آپ کو تو بیٹی کے جہیز کی ذرا فکر نہیں اور بس فضول خرچی کی پڑی ہے۔ اب اس کی کتابیں لینے کی کیا ضرورت ہے۔ آٹھ جماعتیں تو پڑھ لی ہیں اس نے اور کتنا پیسہ ضائع کرو گے۔”او بھلیئے لو کے تجھے یہ بات کیوں سمجھ نہیں آتی کہ جتنا لڑکوں کا پڑھنا ضروری ہے لڑکیوں کا پڑھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے“، شکور احمد بہت متانت سے بولے۔

بھلا لڑکی سے آپ نے نوکری کروانی ہے؟ کمائی کھائیں گے آپ بیٹی کی؟ ایسا سوچنے سے پہلے میں مر نا جاواں۔ میں تو کبھی نہ برداشت کروں گی یہ۔ عائشہ کی امی ابھی مزید کچھ کہتیں کہ عائشہ بول پڑی، ”امی یہ ہمارے نبیﷺ کا فرمان ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے، تو پھر میں کیوں حاصل نہ کروں اور اگر میں کما کر آپ لوگوں کی خدمت کروں گی تو اس میں میری خوشی بھی ہے اور ثواب بھی۔ علم ہی تو انسان کو انسان بناتا ہے“۔

نہ بابا نہ یہ بے حیائی مجھے بالکل پسند نہیں۔ تمھارے ابا کو تو پروا نہیں اپنی عزت کی پر مجھے تو ہے اور جس کلاس تک اپنے گاوں میں اسکول تھا میں نے تجھے پڑھنے دیا اب میں نہ جانے دوں گی تجھے دوسرے گاوں“۔امی کی یہ باتیں عائشہ کی آنکھوں میں آنسو لے آئیں کہ آخر ایسا لڑکیوں کے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے۔ امی کو میری شادی کی اتنی جلدی کیوں ہے؟ میں نوکری کیوں نہیں کر سکتی؟ میں آگے کیوں نہیں پڑھ سکتی؟ میں گاوں سے باہر کیوں نہیں جا سکتی؟ کیا لڑکی کی کمائی کھانے سے ماں باپ کی عزت میں کمی آتی ہے؟ ہر میرے ہر اچھے کام سے بھی کسی کی عزت نہیں بڑھتی تو کیا میں صرف بے عزتی کا سبب ہوں۔ یہ سوال بڑھتے جا رہے تھے اور بہنے والے آنسو بھی کہ حوا کی آج بھی کتنی مجبور اور لاچار ہے۔