منافع نہیں نیکیاں کمائیں (محمود مولوی)

منافع نہیں نیکیاں کمائیں (محمود مولوی)

رمضان المبارک جہنم سے آزادی اور جنت کے حصول کا مہینہ ہے۔اس میں نیکیوں کا اجر ستر گناہ بڑھ جاتاہےمگر اس میں کامیابی انسانیت کی خدمت اور ہمدری سے ہی میں مل سکتی ہے ۔یہ مہینہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ یقینی طورپر جنت ہے ۔رمضان المبارک میں ضروریات زندگی سمیت اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں کمی کردینی چاہیے مگربدقسمتی یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ رمضان شریف آتے ہی ہر آدمی ایک دوسرے کو لوٹنے میں مصروف ہوجاتاہے،چاہے وہ سبزی والا ہو،چاہے وہ گوشت والاہو،فروٹ والا ہو یاپھر کپڑے بیچنے والا ہو۔افسوس! کہ عام دنوں کی نسبت اس عبادت کے مبارک مہینے میں جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہوجاتاہے یعنی یہ صدقہ اور خیرات کرنے کا مہینہ  لوٹ مارکا مہینہ بن جاتا ہے ۔ مہنگائی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ عام دنوں کی نسبت جو غریب آدمی اپنے بچوں کو بمشکل دوقت کا کھانا کھلاتاہے وہ اس مبارک مہینے میں ایک وقت کے کھانے کو بھی ترس جاتاہے ۔اس کے برعکس مغربی ممالک میں مذہبی تہوار کرسمس اور دیگر ایونٹس کے آنے سے پہلے ہی بہت سے بچت بازار لگادیئے جاتے ہیں جس میں ضروریات زندگی کی چیزیں نہایت ہی کم قیمت پر فروخت کی جاتی ہیں ۔ہماری حکومت بھی بہت سی چیزوں پر سبسٹڈی دیکر یوٹیلٹی اسٹوروں کے ذریعے قیمتیں کم کرتی ہے مگریہ بات قابل غور ہے کہ یہاں یوٹیلٹی اسٹورز کا کا نیٹ بہت چھوٹا ہے جسے پھیلانے کی ضرورت ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ  المیہ یہ ہے کہ بہت سے دکاندار یوٹیلٹی  اسٹوروں سے سستی اشیاء لاکر اپنی دکانوں پجاکر مہنگے داموں یعنی بازاری نرخوں پر فروخت کردیتے ہیں اور الزام کچھ عناصر کی جانب سے حکومت پر ڈال دیاجاتاہے جو کہ سرار غلط اقدام ہے ۔حالانکہ اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت رمضان المبارک میں اس قسم کے بازار جگہ جگہ قائم کرتی ہے مگر منافع خوروں کی وجہ سے حکومت کا ہر اچھا اقدام بھی تنقید کی نظر ہوجاتاہے۔جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام وہ لوگ  جو ریڈھی بان ہیں حتیٰ کے بڑے بڑے تاجر ہیں ان کے دلوں میں جب تک خوف خدانہیں ہوگا، مخلوق سے محبت کا جذبہ بھی بیدارنہیں ہوسکتا۔ جب تک تمام تاجر تنظیمیں رضاکارانہ طورپر قیمتیں کم کرکے اپنے ہی ممبردکانداروں کے ذریعے سستی قیمت پر اشیاءلوگوں کو مہیا نہیں کرینگے ،عام آدمی کو اس کا فائدہ نہیں پہنچنے والا،ان دکانداروں اور تنظیموں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر وہ سال میں ایک مہینے ہی یعنی کم ازکم رمضان المبارک میں ہی اپنا کچھ منافع کم کردیں تو یہ پیسے کمانے کے ساتھ آخرت سنوارنے اور نیکیاں کمانے کاذریعہ بھی بن سکتاہے اس سے جہاں ہمارے ملک میں غریب طبقوں کی مدد ممکن ہوسکے گی وہاں وہ اپنے اپنے بچوں کے ساتھ عید کی خوشیوں میں بھی شریک ہوسکے گے۔

اسی طرح ہمارے یہاں ایسے بھی خداترس لوگ موجود ہیں جو مساجد کے ذریعے ،ہوٹلوں کے ذریعے یا پھر شاہراہوں اور سڑکوں پر اپنی مدد آپ کے تحت روزہ کھلوارہے ہوتے ہیں اور بہت سے غریب پرور لوگوں نے سحری کے انتظامات بھی کئے ہوتے ہیں ،ایک صحابی نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم” ہم میں سے ہر شخص تو اس لائق نہیں ہوتا کہ وہ روزے دار کو روزہ افطار کرواسکے ”  تو رسول کریم ;248; نے ارشاد فرمایاکہ ” پیٹ بھر کر کھانا کھلانا ضروری نہیں یہ تو ثواب اللہ تعالیٰ ایک کھجور کھلانے یا ایک گھونٹ پانی پلانے پر بھی دے دیتاہے ” ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے نوجوان بچے اسکولوں اور کالجوں کے لڑکیاں اور لڑکے اکثر روزہ کھلنے سے کچھ دیر قبل سڑکوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ان کے ہاتھوں میں طرح طرح کے کھانے ،ٹھنڈے مشروبات اور کھجوریں موجود ہوتی ہیں۔ جہاں وہ گرمی کے ستائے روزے داروں کی سواریاں روک روک کر انہیں روزہ افطار کروارہے ہوتے ہیں ۔آپ خود ہی سوچیئے کہ یہ کتنا روح پرور منظر ہوتاہے جو لوگ اس قسم کی سرگرمیوں میں اپناکرداراداکررہے ہوتے ہیں وہ جہاں اللہ کی خوشنودی حاصل کررہے ہوتے ہیں، وہاں ایک عجیب ساقلبی سکون بھی ان کو مل رہاہوتاہے جو کسی بھی لحاظ سے ایک منافع خورکو چار پیسے زیادہ کماکر بھی مسیر نہیں ہوسکتا۔نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے۔  ” جس شخص نے رمضان المبارک کا مہینہ پایا اور اللہ کو راضی کرکے اپنے گناہ معاف نہ کرواسکاتو اللہ اس کو زلیل ورسواکرے ” میں سمجھتا ہوں کہ اگر کچھ دکاندار اشیاء خوردونوش جس میں راشن بیگز،آٹا،دالیں ،چاول ،گھی ،بیسن ،مصالہ جات اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء شامل ہیں اور خاص کر ریڈی میڈ کپڑوں کی قیمتوں میں بھی قیمتیں کم کرکے عوام کو بیچیں تو یہ بہت بڑی نیکی ہوگی ۔ہم دیکھتے ہیں کہ بڑی بڑی دکانوں میں تو مہنگائی کا طوفان آیا ہی ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ درزی جو ایک سوٹ کی سلائی میں عام دنوں میں پانچ سو روپے تک وصول کرتاہے اس کے ریٹ بھی ڈبل ہوچکے ہوتے ہیں ۔بھلا ایسے ماحول میں ایک مزدور جس کی دن بھر کی کمائی ہی پانچ سو روپے ہووہ بھلا کس طرح سے عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکتاہے۔ اس کے لیے تو روزہ رکھنا اور کھولنا بھی ایک مہنگا ترین عمل بن چکاہوتاہے ۔ان تمام باتوں کا ایک ہی حل نکلتاہے کہ ہر آدمی اپنے اپنے حصے کا دیا جلائے اور یہ سمجھیں کہ میں نے اللہ کے پاس لوٹ کر جانا ہے اور ہم ان تمام معاملات میں اسے جواب دہ ہیں ۔مجھے امید ہے میرایہ پیغام جہاں جہاں بھی پہنچے گا اگراس پرعمل ہواتو یہ عید پاکستان میں حقیقی خوشیوں کا تہوار بن کر ہمارے گھروں میں داخل ہوگی ۔ میں سمجھتاہوں کہ اس عمل سے ہمارے کاروباربھی چلتے رہے گے اور عوام کی حوصلہ افزائی بھی ہوگی کیونکہ عوام جو چیزیں خریدنا چاہتے ہیں اگر وہ چیزیں ان کی قوت خرید میں ہوتوکس طرح ممکن نہیں کہ وہ عید کی خوشیوں میں شامل نہ ہوسکیں۔ اسی وجہ سے کم قیمتیں کرنے کی مثال  میں مغرب کے حوالے سے دے چکاہوں ،بس ایک بار ہمارے ملک میں بھی عمل کی ضرورت ہے۔ یہ نہیں کہ ہمارے معاشرے میں رمضان المبارک میں سبھی لوگ منافع خوری میں لگ جاتے ہیں بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہ میں اس نیک مہینے میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے تاکہ فائدہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پہنچ سکے ،ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت نے تاجر برادری کے تعاون سے پرائس کنٹرول کمیٹیاں بھی بنارکھی ہیں ،جن کا کام اشیاء خوردونوش کی قیمتوں پر نظر رکھنا ہوتا ہے لیکن بات وہ ہی ہے کہ جب تک خود سے تاجر تنظیمیں اور تاجر طبقے کے لوگ  رضاکارانہ طورپررمضان المبارک میں قیمتیں کم نہیں کرینگے لوگ اسی طرح مہنگائی کا رونا روتے رہیں گے۔ اس احساس کا انسان کے اندر سے جنم لینا بہت ضروری ہے ۔اگرایسا ہوگیا تو جہاں اللہ کی خوشنودی ہماری منتظر ہوگی وہاں تاجر طبقے کا احترام بھی عوام کی نظروں میں بڑھے گا کیونکہ رمضان المبارک میں ضروری اشیاء کی قیمتیں کنٹرول رکھنے کے لیے حکومتی کوششوں کا ہونا ہی مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ اس میں ایک ایک آدمی بھی اپناکردارکرے تو غریب عوام کو وہ تمام سہولیتیں میسر ہوسکتی ہیں جس کا وہ اور اس کے معصوم بچے حق دار ہیں ۔ اس عمل سے حکومتی اقدامات سے بھی عوام کی منفی رائے کا تاثر زائل ہوجائے گا کیونکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ رمضان المبا رک میں چھوٹے دکاندار اپنی مرضی کی قیمتیں وصول کرتے ہیں اور بدنامی حکومت کو اٹھانا پڑتی ہے اور سب سے بڑھ کرجب کوئی دکاندار منافع بڑھاتاہے تو اس سے دکاندار کو تو فائدہ ملتاہے مگر حکومت کو اس میں سے کچھ نہیں ملتا۔ان میں سے بیشتر لوگ تو پوراٹیکس بھی ادانہیں کرتے،اس لیے ایک عام آدمی کے لیے یہ سمجھنا بھی بہت ضروری ہے کہ قیمتوں کے بڑھنے کی تمام تر ذمےداری حکومت ہی پر نہیںاس میں دکانداروں ،آڑھتیوں اور دیگر متعلقہ لوگوں کا بھی کردارہوتاہے لہذا میں ان تمام متعلقہ لوگوں سے اس تحریر کے زریعے اپیل کرتاہوں کہ وہ رمضا ن المبارک میں اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں رضاکارانہ طورپر کمی کرکے اللہ کی خوشنودی حاصل کریں۔

عادات کا زندگی میں کردار (لقمان ہزاروی)

عادات کا زندگی میں کردار (لقمان ہزاروی)

جب انسان کی عادتیں اچھی ہوں تو معیار زندگی بہتر ہوجاتاہے۔عادتیں انسانی زندگی میں ایک بڑا کردار ادا کرتی ہیں۔عادتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ہم کس قسم کے انسان ہیں؟ اگر کسی انسان کا کردار نرالا ہے تو اس میں اس کی عادات کا بڑا دخل ہوتا ہے۔اسی طرح اگر کسی انسان کا کردار بھلا نہیں ہے تو اس میں بھی اس کی عادات کا دخل ہوتا ہے۔عادتیں انسان کی پہچان کروا دیتی ہیں۔بری عادتیں کسی آدمی کا معاشرے میں برا میج بنا دیتی ہیں جبکہ اچھی عادتیں کسی آدمی کا معاشرے میں اچھا امیج بناتی ہیں۔اچھی زندگی جینے کا شوق ہے تو بری عادتیں چھوڑنی پڑیں گی۔معاشرے میں ایک سلجھے ہوئے شخص کے طور پر متعارف ہونا ہے تو اچھی عادتیں اپنانی ہونگی۔

ہماری سب سے زیادہ اہم عادتیں وہ ہوتی ہیں جن کے ذریعے ہم دوسروں سے جڑے رہتے ہیں۔اچھے لوگوں کی اچھی عادتیں ہی انہیں مقبول بناتی ہیں۔ہماری عادتیں ہمیں اپنی قدر و قیمت کا احساس دلاتی ہیں۔ ارسطو کا ایک قول ہے” ہم جو کچھ بار بار کرتے ہیں،ہم وہی ہوتے ہیں،اعلٰی کارگردگی ایک عمل نہیں بلکہ عادت ہے” جو کچھ ہم بار بار کرتے ہیں اسی سے ہماری پہچان بنتی ہے۔یہ تو آسان سی بات ہے کہ کوئی بار بار اچھا کرتا ہے تو وہ یقینا اچھا ہوگا اور جو بار بار برا کرے گا تو وہ برا ہی ہوگا۔اگر کسی کو صرف اپنی ذات تک سوچنے کی عادت ہے تو وہ کامیاب اور اچھی زندگی نہیں گزار سکتا۔زندگی سے صرف لینا ہی نہیں ہوتا بلکہ اس زندگی سے دوسروں کو کچھ دینا بھی پڑتا ہے تب جاکر یہ ایک حقیقی زندگی کے روپ میں ڈھلتی ہے۔

اگر کوئی بری عادات میں مبتلا ہے تو ان سے کیسے چھٹکارا پائے؟ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ عادتیں بدلنے میں کئی سال گزر جاتے ہیں۔جو عادت ایک دفعہ بن گئی اب وہ ختم نہیں ہوسکتی۔یہ خیال مناسب نہیں ہے۔ عادتیں بڑی آسانی سے تبدیل ہوجاتی ہیں،بس صرف لوگ انہیں تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ نئی اور اچھی عادتیں تشکیل دینے سے بری عادتیں خود بخود ختم ہوجائیں گی اور اچھی عادتیں کرنے کا خود ہی عادی ہوجائے گا۔اچھی عادتیں تشکیل دیں اور بری عادات سے چھٹکارا پائیں اتنا آسان سا تو نسخہ ہے۔جیسے کسی کو ہر دوسرے شخص سے نفرت کرنے کی عادت ہے اگر وہ ہر دوسرے شخص سے الفت کرنا شروع کردے تو نفرت والی عادت خود بخود ختم ہوجائے گی۔

کچھ عادات ایسی ہیں جو ہر انسان میں ہونی چاہییں۔ان عادات سے معاشرہ برائی سے محفوظ رہتا ہے۔ معاشرہ نت نئے مسائل کی بھینڈ نہیں چڑھتا۔اچھے اور سلجھے ہوئے افراد کا معاشرہ کہلاتا ہے۔ معاشرہ امن و امان کا گہوارہ بن جاتا ہے۔بے جا مسائل نہیں ابھرتے۔ 1۔دیانت داری: اگر معاشرے میں ہر انسان دیانت دار ہوجائے تو فضول قسم کے شکوک و شبہات جنم لینا ختم کردیں گے ۔  معاشرے میں بے چینی کی فضا کا خاتمہ ہوگا۔ہر شخص دوسرے پر اعتماد کرے گا اور اعتماد کی ہوا کے جھونکے درختوں سے ٹکرائیں گے۔ 2۔ ہمیشہ سچ بولنا: سچ بولنے سے ہر گناہ سے چھٹکارا مل جائے گا۔جب ہر گناہ سے چھٹکارا ملے گا تو معاشرے میں رائج گناہ اور برائیاں ختم ہوتی جائیں گی۔ سچ بولنے سے معاشرے کا ایک اچھا امیج بنے گا۔ دنیا کے ہر کونے کے لوگ اس معاشرے کے لوگوں سے خوش ہوں گے۔ 3 دوسرے لوگوں کا بھی خیال؛ صرف اپنے لیے جینے والا کبھی خوش نہیں ہوسکتا۔ دوسرے لوگوں کے لیے والا خوش حال زندگی ضرور جیتا ہے۔جو اپنے لیے پسند ہو وہ دوسروں کے لیے بھی پسند کرنا سیکھیں۔اس سے خود غرضی کی سنگین بیماری ختم ہوجائے گی۔خود غرضی ایسی بیماری ہے جو انسان کو کئی دوسری بیماریوں کی طرف لے جاتی ہے۔

بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ ان ذکر کردہ صفات و عادات سے خالی ہے۔جب ہمارا معاشرہ ان سے خالی ہے تو تبھی تو یہاں سکون نہیں،چین نہیں،راحت کا سامان نہیں اور الفت کی ہوا کے ڈیرے نہیں۔ ہے تو صرف بددیانتی، جھوٹ،نفرت، خود غرضی، کرپشن اور غنڈہ گردی۔ جو جتنا بڑا ہے وہ اتنا ظالم ہے۔جو جتنا غریب ہے وہ اتنا ہی مظلوم ہے۔
اچھی عادات تشکیل دے کر معاشرے سے برائیوں کو ختم کرنے میں ہر انسان کردار ادا کرے۔عادتیں ہر کامیابی کی کنجی ہیں۔ہم کوئی اچھا کام ایک دفعہ کرکے کامیاب نہیں ہوتے بلکہ ہم اچھا کام تسلسل کے ساتھ کرکے کامیاب کہلائیں گے۔ہر انسان کی عادتوں کا اختتام یا تو اس کے حق میں ہوتا ہے یا اس کے خلاف۔اس لیے ہر عادت کو اپنانے سے پہلے اس کے نتیجے کی طرف ایک نظر ضرور دوڑائیں۔ ہم جب بھی کسی عمل کو بار بار دہراتے ہیں تو وہ عمل ہماری عادت بن جاتا ہے۔ اچھے کام بار بار کرنے کی ٹھان لیں اور برے کاموں کو یک بارگی کرنے کا عزم بھی ختم کردیں۔
آمنے سامنے
لقمان ھزاروی

حضرت عمر بن عبدالعزیز کا دور خلافت(احمد ذیشان)

حضرت عمر بن عبدالعزیز کا دور خلافت(احمد ذیشان)

 جب حضرت  عمر  بن عبدالعزیز  نے خلافت کی باگ دوڑ سنبھالی تو ملک میں اموی مارشل لاءکا نفاذ تھا۔ لسانی    عصبیت، نسلی تفاخر اور مورثی حکومت جیسے بتوں کی پوجا ہو رہی تھی۔ وہ بت جوکہ سید الانبیاءصلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پاش پاش کر دیے تھے دوبارہ تعمیر ہو چکے تھے۔ بیت المال خلیفہ کی ذاتی ملکیت بن چکا تھا۔ ریاست مدینہ جیسی فلاحی ریاست جسے سیدالانبیاﷺ نے قائم فرمایا تھا، جس میں ہر مسلم غیر مسلم کے جان مال اور عزت محفوظ تھی مگراب امویشاہوں کےرحم کرم پر تھی۔ یوں لگ رہا تھا کہ زمانہ جاہلیت پھر سے لوٹ رہا ہے۔ جسے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جڑ سے اکھاڑ دیا تھا۔ شجر اسلام جسے خلفائے راشدین نے بے شمار قربانیوں سے سینچا تھا، جس میں برتری کی بنیاد تقوی پر تھی اس کی جڑیں اکھڑ رہی تھیں۔ خلافت کی جگہ ملوکیت لے چکی تھی۔ خدا کے نام لیواؤں کے گر د زمین تنگ کی جارہی تھی۔ انسانیت خلافت راشدہ کے خاتمے کا سوگ منارہی تھی۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز نے آتے ہی سب سے پہلے اپنی ساری جائداد سرکاری خزانے میں جمع کروا دی۔ انسانیت کو خلافت راشدہ کی یاد دلا دی۔ ظالم عمال کو معزول کر کے نیک پارسا اور متقی حضرات کو عہدوں پہ بٹھایا۔ اسلام کی پھر سے وہی شان و شوکت اور جاہ و جلال بحال ہو گی۔ بیت المال کو خلیفہ کی ملکیت سے نکال کر عوامی ملکیت میں دے دیا۔ موروثیت کے بجائے قابلیت اور خدا خوفی کو ترجیح دی جانے لگی۔ پوری ریاست میں امن کا بول بالا ہو نے لگا۔ آپ نے زکٰوة  کا نظام قائم کیا اور ظالمانہ ٹیکسوں سے عوام کی جان چھڑائی۔ قبل اس سے ہر نو مسلم سے جزیہ لیا جاتا تھا مگر آپ نے اسے غیر اسلامی فعل قرار دے کر منسوخ کر دیا اور ملکی معیشت کو مضبوط بنادیا۔ ملک سے غربت کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ سارا دن زکٰوة لے کے پھرنے کے باوجود کو ئی زکٰوة لینے والا نظر نہیں آتا تھا۔
اپنے دربار کو جسے اموی شاہوں نے قیصر وکسری کی طرز پر ڈھال دیا تھا، اسے واپس خلفائے راشدین کی طرز پہ لاکھڑا کیا۔ جہاں ہر ناکس وناتواں کی رسائی ممکن تھی۔ اموی حکومت جو کے فوجی طاقت پر مستحکم تھی۔ اس کی بنیادیں ہلانا اتنا آسان تو نہ تھا۔ کوئی داخلی یا خارجی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی تھی۔ ماضی میں بھی اس سے ٹکرانے کی دو کوششیں ہوچکی تھیں۔ حضرت امام حسین رضی اللہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنے دلیرانہ اقدام اٹھا چکے تھے۔ مگر اموی حکومت کی ظالمانہ اقدام سے ٹکر لینا ناممکن کو ممکن بنانے کے مترادف تھا۔ انہی اصلاحات کی بدولت کفر جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگا اور جزیہ کم وصول ہو نے لگا تو خزانچی نے اس بات کا ذکر آپ سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ ” میں تو چاہتا ہوں کہ سارا کفر اسلام میں داخل ہو جائے تو تم کھیتی باڑی کرو “
غریب عوام کی زمینیں جائیدادیں جو کہ شاہی خاندان نے اپنی ملکیت میں شامل کر لی تھیں ،انہیں واگزار کرا کے غریبوں کو واپس کروائیں اور غلام اور لونڈیاں آزاد کروا کے انہیں ان کے وطن واپس بھیجا۔ افسران اور وزراءکو تحائف لینے پہ پابندی عائد کر دی۔ پوری ریاست میں یکساں طور پر قانون کا نفاذ کیا۔ جس امیر غریب کو یکساں طور بے لاگ انصاف ملنے لگا۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون اپنی موت آپ مرچکا تھا۔ خلیفہ اور دیگر عمال کی ایک مزدور کے مساوی تنخواہیں مقرر کیں۔
آج میرے دیس کے حالات بھی اموی شہنشاہیت سے مختلف نہیں ہیں۔ یہاں بھی سیاستی، مذہبی اور لسانی دہشت گردی عروج پہ ہے۔ بڑی مچھلی چھوٹی مچھلیوں کو کھا کے ڈکار مار جاتی ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ اسلام پسندوں کے گر د ہر طرح کی ریاستی پابندیوں کا نفاذ ہے۔ اسلام کے نام پہ بننے والی ریاست پاکستان میں اسلام کانام لینا ہی سب سے بڑا جرم ہے۔ انصاف کے لیے عدالتوں کا چکر کاٹ کاٹ کر تین نسلیں اپنی عمر گزار دیتی ہیں۔ غریب آدمی کل جمع پونجی لٹا کر بھی انصاف سے محروم رہتا ہے۔ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جاتا ہے۔ یہاں بھی انسانیت بلک بلک کر کسی عمر بن عبدالعزیز کو پکار رہی تھی۔ جو ان کے زخموں پر مرہم رکھ سکے۔

ٹک ٹاک ،معاشرتی ناسور (آصف اقبال)

ٹک ٹاک ،معاشرتی ناسور (آصف اقبال)

یہ بات کوئی اتنی مشکل نہیں کہ سمجھ میں نہ آئے، مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جنہیں آگ سے کھیلنے کا بڑا شوق ہوتا ہے۔ جو بلا وجہ جلتے انگارے کو ہاتھ میں لینا بہادری خیال کرتے ہیں۔ جنہیں اپنے ہی پیر پر کلہاڑی مارنے کی عادت سی ہو جاتی ہے، جو تیراکی نہ جاننے کے باوجود، گہرے سمندر میں کودنا پسند کرتے ہیں۔ نتیجتاًوہ ہلاکت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ 
ایسا ہی کچھ حال ہمارے معاشرے کے نوجوانوں کا ہے، یہی کچھ داستان ہماری نوجوان نسل کی ہے۔ آپ نے یہ تو سنا ہی ہوگا کہ جدید دور ہے، دنیا جدت پسندی کی طرف مائل ہے، دنیا کا سارا نظام ایک مٹھی میں سما چکا ہے اورمشکل سے مشکل کام چند لمحوں میں نمٹ جاتاہے۔ جدت کی انتہا یہ ہے کہ پاس بیٹھا تو پاس ہے ہی مگر دنیا کے آخری کونے میں دور بیٹھا بھی اس دور جدید میں قریب آچکا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سب کیسے ہوا؟ تو کہا جائے گا انٹرنیٹ سے، یوں تو انٹرنیٹ کے نے شمار فوائدہیں لیکن نقصانات کا بھی کوئی احاطہ نہیں پھر مزید یہ کہ سوشل نیٹ ورکنگ نے جو معاشرے پر منفی اثرات مرتب کیے وہ بھی ان گنت ہیں۔ فیس بک نے معاشرے کو جس موڑ پر لا کھڑا کیااس کے تصور سے بھی خوف آتا ہے، کیا ہوا؟ کئی گھرانے اجڑ گئے۔ نوجوان بیٹیوں اور بہنوں کا سہاگ لٹ گیا۔ گھروں کے گھر تباہ ہوگئے۔ اورسوائے کف افسوس ملنے کے کچھ نہ کر سکے۔ نوجوان بیٹے اور بیٹیوں نے چیٹنگ، پوسٹنگ کے ذریعے وہ کارہائے نمایاں انجام دئیے کہ جن کی مثال نہیں ملتی۔
گزشتہ چند سالوں میں کئی ایسے واقعات پیش آئے کہ دل خون کے آنسوں رونے پر مجبور ہوگیا۔ یہ سب کچھ ہوتا رہا اور ہم اسے جدت پسندی کہتے رہے اور یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا بلکہ اس سلسلے کی ایک کڑی ”ٹک ٹاک“ نامی ایپلیکیشن بھی ہے، جس کے وجود میں آتے ہی رہی سہی تھوڑی حیابھی اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ سن 2016ءمیں اس ایپلیکیشن کو انگریزوں نے لانچ کیا، اس کے لانچ ہوتے ہی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس کی گرویدہ ہوگئی۔ تقریباً 150  ممالک میں500+ملینیوزرہوگئے۔ حیرت اس پر نہیں  کہ اس کو لانچ کیا گیا، ظاہر ہے دشمن تو روز بروز اپنی تدبیریں استعمال کرہی رہا ہے اور کرے گا بھی مگر کیا ہوا ہم مسلمانوں کو؟ دشمن کے ہر حربے کا شکار بنتے چلے جارہے ہیں؟وہ اپنے مقصد میں بامراد ہوتا جارہاہے اور ہم اپنے مقصد کی دھجیاں بکھیرتے کارہےہیں، دشمن تدبیریں اختیار کرتا ہے اور ہم معاون بن جاتے ہیں۔ وہ اپنا مشن آگے بڑھاتا ہے اور ہم پیچھے سہارا بنتے ہیں۔اس طرح کی چیزوں کو وجود دینے کا مقصد صرف یہی ہے کہ مسلمانوں کی ساخت کو کمزور کر دیا جائے۔ ان کی غیرت کو ان کے اپنے ہاتھوں سے بھسم کیا جائے، ان کے کردار کو داغ دار بنادیا جائے، ان کی حیاءکا جنازہ نکالا جائے، انہیں اپنے لباس میں رکھ کر ہی برہنہ کردیا جائے۔ ان کی عزتوں کو گھر کی چار دیواری میں رہتے ہوئے نیلام کردیا جائے، ان کی عصمت کو ان کے اپنے ہاتھوں سے ختم کردیا جائے۔  (ٹک، ٹاک)ہی وہ ایپلیکیشن ہے، جس نے بیٹیوں کو بند کمرے میں بھی غیر محفوظ کردیا، جس کے ذریعے ہماری بیٹیاں حسن کے جلوے دکھاتی نظر آتی ہیں۔ وہ لباس پہن کر بھی برہنہ ہوتی ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ نوجوان لڑکوں کا نامناسب، غیر اخلاقی اور بے حیائی سے بھر پور فلمی ایکٹنگ نے تو پوری نسل شباب کو سر جھکانے پر مجبور کر دیا ہے۔
ذرا سوچیں! کیایہ  جدت کا صحیح استعمال ہے؟ کیا ان چیزوں کے استعمال سے ہم رب کے غضب کو دعوت نہیں دے رہے؟ خصوصا بیٹیاں اور بہنیں جو اس دلدل میں گھس کر خود اپنے ہاتھوں سے اپنی آبرو ریزی کررہی ہیں۔کیا یہ حیا کا تماشہ نہیں؟ جب کہ حیاسے متعلق اللہ کے نبیﷺ کا فرمان ہے کہ ”حیاایمان کا حصہ ہے“۔ کیا یہ غیرت مندی کا جنازہ نہیں؟ کیا یہ تعلیمات پیغمبر سے کھلی بغاوت نہیں۔ حالانکہ شریعتِ اسلامیہ نے عورتوں کو کس حد تک غیروں کی نظروں سے اوجھل رکھا! تمھیں بولنے کی اجازت تو دی مگر آواز پست رکھنے کا حکم دیا، حتی کہ عبادات میں بھی تمھیں چھپائے رکھا، نماز ہو تو گھر کے کونے میں اور وہ بھی خود کو سمیٹ کر، حج ہے تو تلبیہ پست آواز سے، یہ سب کچھ اس لیے کہ تمھاری عصمت و عزت پر آنچ نہ آئے۔
لگتا یوں ہے کہ ابن آدم اور بنت آدم، رب آدم کے فرمان کو بھلا بیٹھے ہیں، وہ فرماتا ہے، ”یقیناً تم پر نگہبان مقرر ہیں، وہ کراماً کاتبین ہیں“۔ (سورة الانفطار) وہ فرماتا ہے، ”تمھارا کیا خیال ہے! کہ ہم نے تمھیں ایسے ہی بے کار پیدا کیا ہے“۔ (سورة الحج) کیا اس پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی یاد نہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا، ”آدمی کے لیے اسلام میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ وہ فضول،لایعنی کاموں کو چھوڑ دے“۔( الحدیث) کیا اللہ کی لعنت سے ڈر نہیں  لگتاکہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا،”کہ دیکھنے والے/والی اور دکھانے والے/والیاں، دونوں پر اللہ کی لعنت“۔ (بخاری)حضرت عمران بن حصین کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! کہ ”میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا وہاں اکثر عورتیں ہیں“۔ ( الحدیث )
میری بہنو! کیا تمھیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج میں جہنم کا دیکھنا یاد نہیں کہ آپ نے فرمایا، ”میں نے جہنم میں ایک عورت کو دیکھا،اس کا جسم آگ کی قینچی سے کاٹا جارہا تھا، یہ اس عورت کی سزا تھی جو اپنا جسم اور زینت غیر مردوں کو دکھاتی تھی“۔ یاد رکھو! انسان کی عزت نفس، دوسروں سے پہلے اپنے ہاتھ میں ہے، انسان دوسروں سے پہلے خود اپنے نفس کا محافظ ہے۔ اگرچے ہم دوسروں کی آنکھوں کو نہ دیکھنے پر مجبور کرنے کی طاقت نہیں رکھتےلیکن خود کو دوسروں کے سامنے لانے سے روک تو سکتے ہیں۔ دوسروں کی نظروں میں حیا پیدا نہیں کر سکتے مگر خود با حیاتو بن سکتے ہیں۔حیاکے بارے میں اللہ کے نبی ﷺ کا ارشاد ہے، ”حضرت عمر فاروق ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ” بے شک حیااور ایمان دونوں ساتھی ہیں،پس جب سن میں سے کوئی ایک اٹھایا جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے“۔ اس حدیث کے تناظر میں اب ڈرنے کی بات یہ ہے کہ ”ٹک ٹاک“ اور ان جیسے دوسرے ناسوروں پر، ہماری بے حیائی، ہمیں ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھنے پر مجبور نہ کردے۔اللہ ان فتنوں سے ہم سب کی حفاظت فرمائے، آمین۔

شکر گزاری (عاصمہ عزیز)

شکر گزاری (عاصمہ عزیز)

شُکر ادا نہ کرنا بھی ایک بیماری ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی تما م مخلوقات میں یہ بیماری سب سےزیادہانسان میں پائی جاتی ہے۔قرآن کریم میں سورۃ
العدیت میں  ہانپتے  ہوئے
گھوڑوں کی قسم کھا کر فرمایا گیا ہے کہ ”انسا ن اپنے رب کا بڑا
ناشُکرا ہے“۔ لفظ شُکر عربی زبان کے لفظ دابة الشکور سے نکلا ہے۔ دابة الشکور اس جانور کو کہتے ہیں جو اپنے صحت مند ہونے کی و جہ سے اپنے ما لک کا شُکرگزار ہوتا ہے۔ قدیم زمانے میں گھوڑوں کو جنگ کے لیے استعما ل کیا جاتا تھا۔ گھوڑا اگرچہ بہت طاقت ور جانور ہے لیکن پھر بھی اﷲ کے حکم سے انسان کے تابع اور اس کا فرماں بردار ہے۔ انسان صرف اس کی دیکھ بھال کرتا ہے اور وہ انسان کے اس احسان کا بدلہ چکانے کی خاطر اپنی جا ن خطرے میں ڈال کر جنگ میں اپنے مالک کی حفاظت کرتا ہے۔ جب کہ انسا ن کا حال یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس کے لیے نعمتوں کا ایک جہان آباد کر رکھا ہے پھر بھی وہ اپنے رویے سے اﷲ کی نعمتوں کا اعتراف کرنے کی بجائے اس سے گلہ شکوہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ شکوہ، شُکر کی ضد ہے اور گلہ شکوہ چاہے خالق کا کیا جائے یا اس کی مخلوق کا، دونوں صورتوں میں ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔
اﷲ تعا لیٰ کا انسا ن پر سب سے بڑا احسان اور اس کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے انسان کی ہدایت کے لیے انبیاءاور پیغمبر بھیج کر نہ صرف انسان کی رہنمائی کے لیے عملی نمونہ پیش کیا بلکہ آسمانی کتب کے ذریعے ہدایت کی اس روشنی کو کئی اُمّتوں اور نسلوں کے لیے محفوظ بھی کردیا۔ لیکن انسانوں میں سے بعض نے اﷲ کے پیغمبروں اور کتب کو جھٹلا کر اﷲ کی اس نعمت پر ناشُکری کا ارتکاب کیا۔ بنی اسرائیل کی قوم، جسے اﷲ تعالیٰ نے تما م قوموں پر فضیلت عطا فرمائی اور دنیاوی اور دینی ترقی سے نوازا، پھر بھی وہ اﷲ کی نعمتوں سے انکار اور ناشُکری کرتے ہوئے بداخلاقی اور ناسمجھی کا ثبوت دیتی رہی۔ اس کے اسی رویے کی وجہ سے اس پر مختلف آزمائشیں آئیں اور وہ زوال کا شکار ہوئی۔
آج اگر ہم مسلمانوں پر نظر ڈالی جا ئے تو ہمارا رویہ بھی بنی اسرائیل سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں تمام نبیوں کے سردار حضرت محمدﷺ کا اُمّتی بنا کر بھیجا اور ہماری رہنمائی کے لیے ایک محفوظ اور مکمل کتاب بھیجی۔ اﷲکی اس نعمت پر ہم زبان سے تو شُکر ادا کرتے ہیں لیکن ہمارے رویے اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ اﷲکی اس نعمت کی ناشکری ہم نے یوں کی کہ ہم اس کا حق ادا نہیں کرسکے۔ ہم نے اﷲکی کتاب کو سمجھنے اور اس سے ہدایت حاصل کرنے کے بجائے اسے محض خاص مواقع میں کھولنے والی کتاب سمجھ لیا ہے۔ ہم قرآن کی عزت وتکریم کرتے ہوئے اسے اپنے گھروں میں سب سے اونچی جگہ پر تو رکھتے ہیں لیکن نہ اسے سمجھتے ہیں اور نہ ہی اس کی تعلیمات پر عمل کر پاتے ہیں۔ ہم دنیاوی تعلیم کو ترجیحی جب کہ قرآنی تعلیم کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں، جو اس نعمت سے ناشکری کا ثبوت ہے۔
ناشکری کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ جس رب نے ہمیں دنیا کی نعمتوں سے نوازا ہے ہم اس سے غافل رہیں۔ اﷲ کی عطاکردہ ان گنت نعمتوں کو ہم میں سے کوئی بھی شمار نہیں کرسکتا پھر بھی ہمیں اس کے سامنے سجدہ ¿ شُکر کرنے کا وقت نہیں ملتا۔ ہم لوگوں کے احسانوں اور مہربانیوں کو تو کسی حد تک یاد رکھتے ہیں لیکن اپنے رب کی مہربانیاں بھلا کر اس کی طرف سے ملنے والی آزمائشوں پر گلے شکوے کرتے ہوئے دکھا ئی دیتے ہیں۔ نعمت، شکر کا امتحان ہوتی ہے۔ ہر نعمت اپنے ساتھ آزمائش کا پہلو ضرور رکھتی ہے۔ جب ہم اﷲ کی عطاکردہ نعمتوں پر شکر ادا نہیں کر پاتے تو بعض دفعہ نعمت پیچھے چلی جاتی ہے اور آزمائش سامنے آجا تی ہے۔ ایسے موقعوں پر ہمیں مایوسی اور اﷲ سے گلے شکوے کرنے کے بجائے توبہ اور استغفار کرنا چاہیے۔ ایک مومن کا رویہ یہی ہوتا ہے کہ وہ نعمت پر شکر ادا کر تا ہے اور نہ ملے تو صبر کر کے جتنا اﷲنے دیا ہے، اس پر قنا عت کرتا ہے۔ جب کہ ہم شکر اس لیے نہیں ادا کر پاتے کہ ہمارا ظرف چھوٹا ہے۔ جس طرح ایک چھوٹے برتن میں کم چیزیں سما سکتی ہیں، اسی طرح چھوٹے ظرف والے انسان میں بھی مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ جب ہی وہ اﷲ کی تمام نعمتیں بھلا کر مشکل میں گلے شکوے کرتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کا شکرگزار بننے کے لیے ہمیں اپنا ظرف بڑا کرنا ہوگا۔ اگر ہم مشکلات کے وقت اپنے اردگرد خود سے زیادہ مصیبت زدہ لوگوں پر نظر رکھیں تو یقیناً اﷲکی عطاکردہ نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرسکیں گے۔