قربانی (قیممصری عرفان)

قربانی (قیممصری عرفان)

رات ورک شاپ سے واپس آتے ہوئے حامد بہت خوش تھا۔ خوشی کی وجہ اس ماہ کی تنخواہ تھی، جو اس کی محنت اور ایمانداری کی وجہ سے 12000 سے 14000 ہزار ہو گئی تھی۔ ابھی وہ گلی کے کنارے پر تھا کہ اسے شور شرابہ سنائی دیا۔ خیر! یہ تو یہاں چھوٹی اور کچی بستیوں کا روز کا معمول تھا۔تھوڑا قریب پہنچا تو سلیم بھائی نفیسہ خالہ کے گھر کے سامنے کھڑے ان کے دروازے پر لاتوں اور مکے برسا رہے تھے، ساتھ ساتھ مغلاظات بھی زباں سے ادا ہورہے تھے۔ کچھ بد دعائیں بھی شامل تھیں۔ محلے کے کچھ لوگ بھی ان کے ہم نوا تھے اور کچھ کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے۔ یہ تو سلیم بھائی کی عادت اور معمول کی بات تھی۔ وہ محلے کی ایک معتبر شخصیت تھے، اس میں ان کے کردار اور تربیت سے زیادہ ان کی دولت اور اثر و رسوخ کا کمال تھا۔

حامد پہلے تو معاملے کو سمجھ نہیں پایا کہ ایک غریب بوڑھی عورت، دو جوان بیٹیوں اور ایک کم سن بیٹے نے سلیم بھائی کا کیا بگاڑا ہے! کہ انہوں نے آدھی رات کو پنچائیت لگائی ہوئی ہے بلکہ بغیر معاملے کو سمجھے فیصلہ صادر کر رہے ہیں۔ چور! جھوٹی عورت! یہ سلیم بھائی کے بیٹے کی آواز تھی۔ ہاں ہاں بھائی یہ تو ہے ہی ایسی۔۔۔ پچھلے محلے میں بھی یہی کیا تھا، ہزاروں کا کرایہ کھا کر اب سلیم بھائی کا پیسہ بھی کھائے گی۔ ہم تجھے سلیم بھائی کا پیسہ ہضم نہیں کرنے دیں گے۔ مجمع میں سے ہمدردانہ صائیں بلند ہورہی تھیں۔ دیکھ بھئی جلدی سے پیسہ نکال ورنہ ابھی کے ابھی مکان خالی کر۔ عزت سے پیسہ نکال دے، ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں کل عید ہے، ہمیں جانور بھی لینے جانا ہے۔ تو میرا پیسہ دے یا ہم تیرا سامان گھر سے نکال کے باہر پھینک دیتے ہیں۔

نفیسہ خالہ کا بیٹا جو گھر کا نفیسہ خالہ کے ساتھ مل کر گھر کی کفالت بھی کرتا تھا، چند ڈنڈا بردار نوجوانوں نے اسے گریبان سے دبوچا ہوا تھا اور سلیم بھائی کے اشارے کے منتظر تھے کب اس پر یہ ڈنڈے برسائے جائیں۔ حامد کو اب معاملہ سمجھ آگیا تھا۔ آج صبح ہی کام کے لیے جاتے ہوئے نفیسہ خالہ سے اس کی بات ہوئی تھی کہ انھیں اس ماہ کے کرائے کے ساتھ کچھ روپے پچھلے ماہ کے بھی ادا کرنے ہیں۔ نفیسہ خالہ بیمار ہونے کی وجہ سے ٹافیاں پیک کرنے والی فیکٹری نہ جا پائی تھیں، اس لیے نے ان کی چند ہراز روپے تنخواہ میں سے کافی پیسے کٹ چکے تھے اور اکیلے کم سن کفیل کی تنخواہ کرایہ ادا کرنے کے لیے نا کافی تھی۔

حامد آگے بڑھتا ہوا اپنی جیبوں کو ٹٹولنے لگا۔ اتنے بڑے مجمع میں اور اتنی معتبرشخصیت کے سامنے براہ راست پیش ہونا اس کے لیے محال ہورہا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتے ہوئے، سلیم بھائی کے پاس جا پہنچا تھا۔”ہاں بھائی حامد آگیا تو! لایا ہے نا پیسے بس ابھی اس بڑھیا سے نمٹ لیں پھر نکلتے ہیں منڈی۔ یار! تو ہے بہت اچھاہے، اتنا رحم دل ہے۔ اللہ تجھ سے بہت“۔ ”جی سلیم بھائی لایا ہوں پیسے۔ سلیم بھائی مسکرائے۔ یہ لیجیے نفیسہ خالہ کے گھر کا کرایہ اور جو پیسے پچھلے ماہ کے وہ بھی اس میں سے کاٹ لیجیے“۔ حامد اجتماعی قربانی کے لئے لائے گئے پیسوں کی قربانی دیتے ہوئے، اپنے رب کو قرض حسنہ دے دیا تھا۔

سجا دوست (بلال شیخ)

سجا دوست (بلال شیخ)

ایک دم کوئی وزنی چیز میرے ذہن کو آ کر ٹکرائی اور میرے دماغ میں گھس گئی اور میرا ذہن بوکھلا گیا مجھے سمجھ نہ آئی یہ کیا چیز تھی مگر میرا سر بہت بھاری ہو گیا تھا۔ میں اس وزن کو اٹھائے دیوانہ ہو گیا تھا اب ہر چیز میرے سمجھ سے باہر ہوتی جا رہی تھی خیالوں کا سمندر میرے ذہن میں ٹھاٹھے مار رہا تھا۔ اپنے محل نما گھر میں بھی اس چیز کو رکھنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی۔ میری دیوانگی کو دیکھ کر گھر والے پوچھتے تجھے کیا ہو گیا ہے اور میں خاموش ان کا چہرہ دیکھتا رہتا مجھے نہیں علم تھا اس بیماری کا کیا نام ہے پتا نہیں شاید مجھے پہلے کبھی اتنا وزن محسوس ہوا ہی نہیں تھا۔ میں اس بیماری سے خوف زدہ رہنا شروع ہو گیا تھا۔ میں کھانے پر آتا تو پاگلوں کی طرح کھائے جاتا اور اگر بھوک مر جاتی تو پانی بھی حلق سے اترنے کو تیار نہ تھا پتا نہیں مجھے کیا ہو گیا تھا۔

میرے سر پر جو وزن تھا اس سے میرے کندھے گرنا شروع ہو گئے تھے۔ میری آنکھیں سب سے سوال کرتی تھی کہ مجھے کیا ہو گیا ہے مگر کسی کو میری آنکھیں پڑھنے کا فن نہیں آتا تھا۔ جب کسی کا دل کرتا تو طرح طرح کے مولویوں کے پاس لے جاتے وہ دم کرتے اور واپس بھیج دیتے مگر میرے مرض کی تشخیص نہ کر پاتے۔ سب نے مجھ سے بولنا چھوڑ دیا تھا اور میں نے سننا۔ ایک دن ڈاکٹر نے کہا آپ نمک نہیں کھائیں گے آپ کو بلڈ پریشر ہو گیا ہے اور کھانا بھی زندگی کی طرح پھیکا ہو گیا تھا۔ سب کے لیے یہ معمہ بن گیا تھا کہ مجھے کیا ہو گیا ہے۔ میں نیند کو چیخ چیخ کر پکارتا مگر وہ میری آواز کو نہیں سنتی تھی شاید وہ میرے سر کا وزن کم کرنے میں میری مدد کرنے کو تیار نہیں تھی۔ پھر مجھے دوائی دی جاتی اور میری آنکھیں خود بہ خود بند ہو جاتیں اور میرا سر ہلکا ہو جاتا اور جیسے ہی آنکھیں کھلتیں تو وہی جن میرے سر پر آ کر سوار ہو جاتا۔ میں شیشے کے سامنے جا کر کھڑا ہو جاتا، اپنے سر کی طرف دیکھتا مگر کچھ نظر نہ آتا اور مایوس ہو جاتا تھا۔

جب بھی ڈاکٹر سے ملتا مجھے ایک نصیحت کے ساتھ میری زندگی سے ایک چیز کم کر دیتا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا، ”اب آپ میٹھا نہیں کھا سکتے آپ کو شوگر ہو گئی ہے“ اور زندگی کی مٹھاس ختم ہو چکی تھی مطلب اب کھا بھی نہیں سکتا تھا۔ سب نے مجھے کمرے میں قید کر دیا تھا میں سب کو کیا کہتا مجھے کیا ہو گیا ہے کیوں کہ میں خود نہیں جانتا تھا۔ سب ہنستے تھے تو میں نہیں ہنستا تھا۔ سب روتے تھے تب میں نہیں روتا تھا کیا کرتا یہ سر کا بوجھ ہلکا ہوتا تو کچھ کرتا۔ دل چاہتا کوئی مجھے آ کر کہے اپنا بوجھ مجھے دے دو اور جاو تم آزادی سے جیو۔ میں کمزور ہو گیا تھا میری آنکھیں تھی مگر نظر نہیں آتا تھا، زبان تھی بولتی نہیں تھی، دل تھا مگر دھڑکتا نہیں تھا اور دماغ تھا جو صرف سوچوں میں گم تھا۔

سب کے درمیان باتیں ہونے لگی میری حالت ٹھیک نہیں ڈاکٹر بھی میرا چہرہ دیکھتے تو منہ بنا لیتے تھے۔ میں سمجھ گیا کہ میرا انتظار کا وقت شروع ہو گیا ہے اور میں کمرے میں اندھیرا کر کے لیٹ جاتا تھا اور روز انتظار کرتا تھا کہ اب کب آئے گا اور مجھے لے جائے گا اور اس قید سے آزادی مل جائے گی کئی دن اس انتظار میں گزر گئے مگر کوئی نہ لینے آیا اور میری آزادی کی تڑپ بڑھ گئی تھی۔ ایک دن دھڑام سے دروازہ کھلا اور میں سمجھا آ گیا مجھے لینے میں جا رہا ہوں اس بوجھ سے میری جان چھوٹ جائے گی مگر وہ نہیں تھا جس کا میں انتظار کر رہا تھا۔ باہر سی آتی روشنی میں ایک جانا پہچانا سا چہرہ نظر آ رہا تھا وہ کوئی اور نہیں میرے بچپن کا دوست تھا۔

اس کا چمکتا چہرہ اس کی آنکھیں میری آنکھوں کو دیکھ رہی تھیں۔ وہ مجھے اٹھا کر اپنے ساتھ باغ میں لے گیا۔ میں نے اس سے کچھ نہیں کہا میں نے اس کے چہرے کو دیکھا اور وہ میرے سوال کو جان گیا اور بولا، ”بادشاہو تم کمائے کمائے کھو بیٹھے ہو، بھول گئے بچپن میں سائیکل پر گھومتے گر جاتے تھے تو اٹھ کر کپڑے جھاڑ لیا کرتے تھے اور پھر سائیکل چلانے لگ جاتے تھے مگر تونے زندگی کی سائیکل سے گر کر جھاڑنا چھوڑ دیا ہے۔ بادشاہو جب جھاڑنا چھوڑ دو تو گرد جسم کو لگ جاتی ہے اور پھر وہ جسم کا حصہ بن جاتی ہے پھر وہ کسی صابن سے اتنی آسانی سے صاف نہیں ہوتی۔ دوسروں کے لیے جیتے جیتے اپنے لے جینا چھوڑ دیا ہے۔ تیرے اندر وفاوں کے بدلے وفاوں کا بھوت سوار ہے۔ جانی تجھے ڈپریشن ہو گیا ہے“۔ اس نے بتایا کہ میں ڈپریشن کا شکار ہوں وہی بتا سکتا تھا مجھے کیوں کہ اس نے ہی تنہائی میں میرے دل کو اندر سے جھانک کر دیکھا تھا۔ ”جانی چل میرے ساتھ میں تجھے بتاتا ہوں اس وزن کو کیسے اتارنا ہے“ اور پھر میں اس کے ساتھ واپس بچپن میں چلا گیا۔ میں نے وصیت لکھ دی میری قبر میرے دوست کے ساتھ بنانا ہو سکے تو ایک ہی قبر میں دفنانا۔ سچے دوست کی صحبت کبھی بڑھا نہیں ہونے دیتی۔

میں بے زبان ہوں (سارہ عثمان)

میں بے زبان ہوں (سارہ عثمان)

میں آج بھی بولنا جانتی ہوں، پر زبان کی قیمت اپنے رشتے کی دوری کی صورت چکانی پڑی۔ حیوانی جسم مجھے بھی حاصل ہے، نفس کا شور میرے اندر بھی جاگتا ہے لیکن میری زبان کے شور نے مجھے میرے رشتے سے دور کر دیا۔ خوش قسمت لگنے لگے یہ آسمان پہ اڑتے پرندے، یہ زمین پہ چلتے حیوان جو اپنے جوڑے کے ساتھ بغیر زبان کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائے بنا ساتھ نبھائے جا رہے ہوں۔ مجھے خدا نے زبان دے کر ان بے زبانوں سے ممتاز کیا تھا، مجھے اپنی خوشی کے ساتھ اپنی تکلیف کہہ دینے کے لیے زبان ملی تھی لیکن وہ زبان آج ہمارے رشتے کے بیچ حائل ہو گئی۔ غلطی کہاں ہوئی، کس سے ہوئی اور کیوں ہوئی یہ سوال یہ جان کر بھی کہ میں عورت ہوں پھر بھی بار بار کرنے کی جرات میری زبان نے کی۔
میں نے پیار بھی کیا لیکن رشتہ دور نہ ہوا، میں نے خدمت بھی کی، رشتہ تب بھی ساتھ رہا، میں نے صبر کے بارہا مراحل سال ہا سال طے کیے لیکن رشتہ قائم رہا۔

اپنی وفاداری کی اسٹیمپ لگا دی تب بھی رشتہ میرا ہی رہا۔پھر اچانک رفیقِ حیات نے مرد ہونے کے ناتے اپنے شوق کی تسکین میں مجھے دھوکہ دے دیا اور مجھے آگہی بھی دے دی اور کہا کہ لو اب تم شریک کو سہو اور خدا کی صابر بندی بھی بن کے دکھاو تو اس رشتے کے پاس آوں گا۔ بس یہاں میں ہار گئی اور میری زبان جیت گئی جو صبر نہ کر سکی۔ جو اتنا بولی کہ رشتے کو دور کرنے کا خیال تک نہ آیا کہ جیسے اگر زبان بند ہو گئی تو عدالت نہ لگے گی، جیسے زبان نہ چلی تو کچھ ثابت ہونے سے رہ جائے گا۔ جیسے زبان رک گئی تو اندر لگے دھوکے کا مداوا نہ کر پاوں گی۔ لیکن ملا کیا؟ خالی ہاتھ کر دیا میری زبان نے اور اب اپنی ہی زبان کی لگائی آگ میں جل رہی ہوں۔

وہ ہی نہیں جسے پیار دیا کرتی تھی، وہی نہیں جس کے ساتھ ہنسا کرتی تھی، وہی نہیں جس کو اپنی وفاداری دی، وہی نہیں جس کی تھپکیوں سے سویا کرتی تھی۔ میں آج بھی بول سکتی ہوں، مجھے آج بھی زبان سے زہر کے تیر چلانے آتے ہیں۔ میں اب بھی زبان کے وار سے گنہگار کو جگا سکتی ہوںلیکن اب میں نے خدا سے انسان کا شرف ملنے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امانت کو واپس لینے کی دعا مانگ لی ہے اور اب میں بے زبان ہوں۔ تمام اذیتوں کو سہہ کر، تمام تکالیف کو مقدر کا لکھا جان کر اب میں ”بے زبان“ رہنا چاہتی ہوں۔

حال کا جادوگر (بلال شیخ)

حال کا جادوگر (بلال شیخ)

تنویر ہاسپٹل کے بیڈ پر لیٹا کارٹون دیکھ رہا تھا۔ تنویر کی ماں پاس ہی بیٹھی تسبیح کے دانوں پر انگلیاں پھیر رہی تھی۔ تنویر پچاس کے قریب تھا بڑھاپا اس کو بہت جلد چھو گیا تھا۔ بڑھاپا ایک طوفان کا نام ہے اور یہ اکثر کچھ لوگوں پر بہت جلد آ جاتا ہے۔ تنویر کارٹون دیکھتا بچپن کی وادیوں میں کھو گیا جہاں دولت کی طلب تو دور خیال بھی تنگ نہیں کرتا تھا۔

گاوں میں دوستوں کے ساتھ مل کر پہاڑی بنا رہا تھا۔ پہاڑی پر ایک چھوٹا سا مینار بنا کر تنویر نے اپنے دوست جمال سے کہا۔ ”یہ دیکھو میرا محل ایک دن حقیقت میں بڑا محل ہو گا میرا، ماں کہتی ہیں میں شہزادہ ہوں اور شہزادے محلوں میں رہتے ہیں“۔ جمال نے سن کر کہا، ”محلوں میں رہنے کے لیے بہت ساری دولت چاہیے میں تو زندگی میں رہنا چاہتا ہوں۔ ماں کہتی ہیں جو زندگی میں رہتے ہیں ان کے لیے محل، دولت، آرائش بہت چھوٹی چیزیں ہوتی ہیں“۔

جمال کی بات نے تنویر کو پریشان ضرور کیا مگر بچپن کے موسم میں گرمی سردی نہیں ہوتی صرف بہار ہوتی ہیں۔ ماں کی پھونک نے تنویر کو جگا دیا۔ تنویر کی ماں تسبیح پر جو پڑھتی وہ تنویر پر وقتاً بہ وقتاً پھونک دیتی جس سے تنویر کو ٹھنڈی ہوا کا احساس ہوتا۔ تنویر اپنے خیالوں میں گھوم رہا تھا اور اپنے آپ سے سوال کرتا اور خود ہی کو جواب دیتا۔ ”کیا فائدہ یہ ساری ذمے داریاں میرے نصیب میں آئیں، صحت تو ملی نہ، دولت کمانے کے چکر میں ذلالت کما بیٹھا۔ کچھ سمجھ نہیں آتی ماضی کیسے بدلوں کاش میرے پاس کوئی جادو ہوتا تو اپنا ماضی بدل لیتا“۔ اچانک تنویر کے ذہن میں اپنے استاد کی بات آئی اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔

تنویر کی ماں نے پھونک ماری اور مسکراتے ہوئے چہرہ دیکھنے لگ گئیں۔ ”ماں ایک بات تو بتا میرا استاد کہتا تھا جس کے پاس حال کا جادو ہوتا ہے وہ زندگی میں ہر چیز کو حاصل کر لیتا ہے مگر مجھے آج تک یہ جادو نہیں مل سکا کے میں اپنے مقدر کو ہی بدل لوں۔ وہ کہتا تھا حال میں رہنا ایک کلا ہے اور یہ کلا سب کلاوں کی ماں ہے اور جس کے پاس حال کا جادو ہوتا ہے اس کے چہرے پر سکون دل کو آرام، زبان میں تاثیر اور صحت کی دولت ہوتی ہے۔ تو کہتی تھی میں شہزادہ ہوں محلوں میں رہوں گا مگر میں تو انسانوں میں رہنے کے قابل بھی نہیں رہا۔ شہزادہ کیا بنتا ساری زندگی نوکریوں میں گزر گئی تیرے پاس اس کا جواب ہے کیونکہ تیرے چہرے پر بھی سکون نظر آتا ہے“۔

تنویر کی بات سن کر ماں نے مسکراتے ہوئے کہا، ”پتر میں صحیح کہتی تھی تو شہزادہ ہے میرا اور تو میرے دل کے محل میں رہتا ہے اور یقین مان میرے دل کے محل میں شہزادوں کی طرح رہتا ہے۔ رہی بات حال کے جادو کی تو پتر اتنا مشکل عمل نہیں ہے۔ حال کا جادو اصل میں زندہ رہنے کا نام ہے پتر جب طلب ایک پر ہوتی ہے تو وہ پوری ہو جائے تو انسان کو اپنی طلب پر قابو پا لینا چاہیے ورنہ یہ ایک مرض بن جاتی ہے۔ حال کا جادوگر آج میں رہتا ہے وہ انگریزی میں کہتے ہیں نہ لیو ان دا مومنٹ۔ زندگی میں وہ ماضی کو بھولنے کا فن جانتا ہے وہ جانتا ہے جب غلط تیر کمان سے نکل جائے تو اپنی غلطی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور اگلا تیر تیار کرنے میں وقت صرف کرتا ہے نہ کہ پچھلے تیر کا غم لیتا ہے۔ جو تیر نشانے پر لگ جائے وہی اس کی کامیابی ہے۔ وہی اس کے شکر کرنے کا وقت ہوتا ہے اور سجدہ کرنے کا بھی۔

ماں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے پوچھا ”پتر حال کا جادوگر بننا ہے؟“ ماں کی بات سن کر تنویر نے ہاں کہا۔ ”تو پتر اپنے دل سے خوف نکال دے“ ماں نے کہا۔ ”کون سا خوف ماں“ تنویر تجسس میں مبتلا ہو گیا جیسے کوئی خزانہ اس کے ہاتھ لگنے والا ہے۔ ”کل کا خوف، حال کا جادو گر کل کی فکر سے بے نیاز ہوتا ہے مگر ہم لوگ تو بیٹی پیدا ہونے پر اس کے مستقبل کی فکر میں پڑ جاتے ہیں جبکہ یہ بھول جاتے ہیں وہ تو رحمت ہوتی ہے اور وہ وقت رحمت پر خوش ہونے کا ہوتا ہے۔ اسی طرح جس طرح تو اس وقت اپنے کمرے میں بیٹھا اپنے ہاتھوں پہ ڈرپ لگائے اس چار دیواری میں کارٹون دیکھ رہا ہے۔ تجھے اس درخت کی طرح بننا ہوگا جو پھل دیتا ہے مگر کھانے کی تمنا نہیں رکھتا پھر بھی راضی رہتا ہے تب جا کر تیری چھاوں میں رونق لگے گی۔ تیری زبان پر جب ہر حال میں شکر چلے گا تیرے لبوں پر ذکر خدا وندی جاری رہے گا تو تیری زبان بھی تاثیر رکھے گی۔ لوگ تجھے سننے لگیں گے، تجھے ماننے لگیں گے۔ پتر خیال کی طاقت کو پہچان خیال کی طاقت تجھے حال میں رہنا سکھائے گی۔ خوبصورت خیالات خوبصورت حالات بناتے ہیں جب اپنے درد کی جگہ دوسرے کا درد محسوس ہونا شروع ہو جائے سمجھ جا تیرے میں وہ صلاحیت آنی شروع ہو گئی ہے“۔

ماں بولتے بولتے خاموش ہوئی تو تنویر نگاہیں ماں کی طرف ٹکائے اس کے بولنے کا انتظار کر رہا تھا۔ ”تو مانگتا محل ہے مگر تو تو اپنے چھوٹے سے مکان میں خوش نہیں ہے تو محل میں کیا خوش رہے گا جب تو مکان میں رہ کر خوش رہے گا یقین مان وہ تجھے اپنی وسعت سے زیادہ محسوس ہو گا۔ بھوک سے زیادہ کھا لو تو وہ لالچ کا مرض بن جاتا ہے اور لالچ جیسی بیماری تیرے میں جادو نہیں کالا جادو بھر دے گی۔ بے روزگار کہتا ہے کہ میرے پاس روزگار ہو جب روزگار ملتا ہے تو کہتا ہے میری مرضی کا روزگار ہو۔ جب مرضی کا روزگار ملتا ہے تو کہتا ہے مالک بن جاوں۔ جب مالک بن جاے تو بادشاہ بننا مانگتا ہے پتر حال کے جادوگر ہر حال میں خوش رہتے ہیں وہ جو پاس ہوتا ہے اسے بانٹتے ہیں ان کے پاس ضرب دینے کا طریقہ ہوتا ہے۔ وہ بہت بڑے ریاضی دان ہوتے ہیں وہ خوشی سب میں بانٹ کر ڈبل کرنا جانتے ہیں جب تم اپنی خوشیاں سب میں تقسیم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو تمہارا دل مردہ ہو جاتا ہے۔ میرے پیارے بیٹے سمجھ اس بات کو تو بیمار اس لیے نہیں کہ بیماری نے تجھے چھوا ہے تو بیمار اس لیے ہے کہ تو نے اپنے آپ کو بیمار تسلیم کر لیا ہے“، ماں نے تسبیح کے دانوں پر انگلیاں پھیریں اور تنویر پر پھونک دی۔ ماں کی باتیں تنویر کے کانوں سے ہوتے ہوئے دل کی دھڑکنوں میں تبدیل ہو گئی وہ ماضی مستقبل کی قید سےآزاد ہو گیا تھا۔ ماں کی باتیں اسے آج سے پہلے اتنی اچھی طرح سمجھ کیوں نہیں آتی تھی شاید وہ مردہ تھا زندہ تو آج ہوا تھا ماں کی پھونک نے اس کی زندگی میں نئی سوچ پھونک دی تھی۔

خوبصورت وسیع باغ میں بیٹھا تھا ساتھ میں ماں کی یاد بیٹھی تھی۔ آج وہ حال کا جادوگر تھا اس کے جسم کو ہوا اچھی لگ رہی تھی۔ اب حرص نے اس سے کنارہ کر لیا تھا۔ قدرت کی خوبصورتی نے اس کے دل میں بسیرا کر لیا تھا۔ وہ جادو گر جان گیا تھا کہ وہ ہوا میں اڑ نہیں سکتا مگر وہ آسمان میں اڑتے ہوئے پرندوں کو دیکھ کر اڑان تو محسوس کر سکتا ہے ماضی اور مستقبل کو چھوڑ کر آج کے سورج کی روشنی کو اپنی آنکھوں میں سجا سکتا ہے۔ خواہشوں سے نجات حاصل کر کے موجودہ نعمتوں سے لطف اندوز ہو کر رب کا شکر ادا کر سکتا ہے اور یہی اصل زندگی ہے اور یہی اصل جادو ہے حال کا جادو۔ دور سے بچہ بھاگتا ہوا تنویر کی گود میں آ کر بیٹھ گیا ”دادا ابو آپ کے چہرے پر بہت سکون ہے دل کرتا ہے دیکھتا جاوں آپ جادو گر تو نہیں“، تنویر نے مسکراتے ہوئے اس کا منہ چوم لیا۔
؎

بھکارن (علی عبد اللہ)

بھکارن (علی عبد اللہ)

میں بس کے انتظار میں برائے نام بنی ایک برآمدہ نما انتطار گاہ میں آن بیٹھا۔ یہاں دھول مٹی، چند سٹیل کی کرسیوں اور ایک چھوٹی سی ٹک شاپ کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ ٹک شاپ پر کھڑے ایک صاحب سر پر ٹوپی اور چہرے پر خوبصورت داڑھی سجائے چپس اور نمکو کے پیکٹوں پر پڑنے والی دھول کو صاف کرنے میں مگن تھے۔ اکا دکا بھیک مانگنے والے جن میں کچھ بچے اور چند جوان خواتین تھیں، ادھر سے گزرتے عادتاً ہاتھ پھیلاتے اور پھر خالی ہاتھ لیے ہی آگے بڑھ جاتے تھے۔ ان میں اکثر پیشہ ور بھکاری تھے جنہیں چند ٹکوں کے عوض اس نیچ کام پر لگا دیا گیا تھا۔

یہ ایک پرانا بس اڈہ تھا جس کی خستہ حالی عہد رفتہ کو پکارتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ ایک جانب چند افراد آپس میں گتھم گتھا تھے، غالباً ان کے تنازعے کی وجہ وہ مسافر تھا جسے دونوں فریقین اپنی اپنی لاری میں بٹھا کر اپنی دیہاڑی پکی کرنا چاہتے تھے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، ہر بس اڈے پر ایسے بیسیوں واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں، میں نے سوچا۔ کیونکہ یہ لوگ جنہیں ہاکر کہا جاتا ہے، سواریوں کے بدلے بس مالکان سے معمولی دیہاڑی وصول کرتے ہیں جن سے ان کے گھر کا چولہا جلتا ہے۔ برآمدے کے بائیں جانب قطار در قطار کھڑی بسیں جو کچھ روانگی کے لیے تیار تھیں اور کچھ کی ابھی صفائی ستھرائی جاری تھی جب کہ اس برآمدے کے دائیں جانب ایک سڑک تھی جہاں بے ہنگم ٹریفک دھول اڑاتی اور بلا ضرورت ہارن بجاتی گزر رہی تھی۔ سڑک کنارے چند ریڑھی والے جو مختلف کھانے کی اشیائ، جن میں زردہ پلاو¿، سموسے اور بھنے ہوئے چنے وغیرہ تھے، لیے ہوئے آوازیں لگا رہے تھے تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ ان کی جانب متوجہ ہو سکیں۔ غربت زدہ چہرے اور حسرت بھری آنکھیں لیے یہ لوگ قریب سے گزرنے والے ہر شخص کو یوں دیکھتے جیسے ان کا رزق اس شخص کے ہاتھوں پر لکھا ہو۔ خدا نے رزق کی تقسیم بھی عجیب رکھی ہے، نہ حسن دیکھتا ہے نہ خاندان اور نہ ہی ذہانت، بس بے نیازی سے تقسیم کرتا چلا جاتا ہے۔

بس کی روانگی میں ابھی کچھ وقت باقی تھا، سو میں اسی طرح کرسی پر بیٹھا گردوپیش پر ہی غور کر رہا تھا کہ اچانک مجھے ان سٹیل کی کرسیوں کے پاس ہی ایک بھکارن فرش پر ایسے سوئی ہوئی نظر آئی جیسے یہ فرش نہ ہو کوئی مخمل کا بستر ہو۔ جوانی کی سرحدوں کو پار کرتی ہوئی یہ ادھیڑ عمر عورت، گردوپیش سے بے نیاز گہری نیند میں تھی۔ میں نے سوچا کہ کیسی عجیب دنیا ہے، کسی کو مخملی بستر پر بھی نیند نہیں آتی اور کوئی ہے کہ گندے فرش پر بھی بنا بستر کے محو استراحت ہے۔ اس دوران پاس سے گزرنے والے لوگ اس سے یوں بچ کر گزر رہے تھے جیسے وہ کوئی اچھوت ہو یا کوئی ایسا نجس جانور، جس سے ان کی پاکیزگی پر داغ لگنے کا خدشہ ہو۔ یہ لوگ اسے بس ایک نظر حقارت سے دیکھتے اور بعض تو کچھ فقرے بھی اس پر کستے اور پھر ہنسنے لگتے۔ نجانے کیوں لوگ صاف ستھرے کپڑے اور جیب میں رکھے چند ٹکوں کی بنیاد پر ہی خود کو اشرف سمجھنے لگتے ہیں؟ وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جیب میں رکھے چند کاغذ کے نوٹ اور اجلے کپڑے کسی کو اشرف بنانے کے ضامن نہیں بلکہ خلوص نیت، احساس اور انسانیت کی خدمت ہی وہ عوامل ہیں جن کی بنیاد پر انسان دیگر انسانوں سے اشرف بنتا ہے مگر مادیت پسندی کے اس دور میں بھلا یہ سب کہاں سے ڈھونڈا جائے؟

گنڈیری والے….، گنڈیری والے….! اچانک ایک کمزور سی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ دیکھا تو وہی بھکارن نیند سے جاگ کر پاس سے گزرنے والی گنڈیریوں کی ریڑھی کو پکار رہی تھی۔ ریڑھی والے نے اسے یوں گھور کے دیکھا جیسے وہ گنڈیریوں پر بیٹھنے والی کوئی مکھی ہو جو اس کی گنڈیریوں کو گندا کرنے لگی ہو لیکن جوں ہی بھکارن نے اسے دس روپے کی گنڈیریاں دینے کو کہا تو ریڑھی والے کے غربت زدہ چہرے پر امید کی کرن لہرائی۔ یہ ایک عجیب حقیقت ہے کہ انسان کے رزق کا وسیلہ کوئی بھی بن سکتا ہے۔ چاہے وہ یہ بھکارن ہو جو دس روپے کے بدلے ریڑھی والے کے چولہے کو جلانے میں اپنا کردار ادا کر رہی تھی یا پھر وہ ریڑھی والا جو اس بھکارن کی بھوک کو مٹانے کا سبب بن رہا تھا۔ فرش پر بیٹھے بیٹھے ہی اس نے ایک میلی پوٹلی سے دس روپے نکالے اور گنڈیری والے کو دیے تو اس نے کچھ منہ بناتے ہوئے دور سے ہی اسے چند گنڈیریاں ایک شاپر میں ڈال کر پکڑا دیں۔ بھکارن اب ایک کرسی کے مزید قریب ہو گئی تھی اور میلے ہاتھوں کے ساتھ گنڈیریوں والا شاپر ٹٹول رہی تھی۔ ٹک شاپ پر بیٹھے دو آدمی اس بھکارن کے جسم کو مسلسل عجیب نظروں سے گھور رہے تھے جیسے وہ میلا کچیلا ہونے کے باوجود ان کے لیے دلچسپی کا باعث ہو۔ جنس مخالف کی کشش جب ہوس میں بدلتی ہے تو پھر وہ ظاہری میلاپن اور حسب نسب نہیں دیکھتی بلکہ اسے تو بس اپنے مذموم مقصد کی کسی بھی طریقے سے تکمیل چاہیے ہوتی ہے مگر بھکارن ان سب سے بے پروا گنڈیریوں کی جانب متوجہ تھی۔

اچانک کہیں سے ایک چھوٹا سا سفید کتا آن نکلا اور اس بھکارن کے پاس دم ہلاتا ہوا آیا اور اسے سونگھنے لگا۔ پھر اس نے گنڈیریوں والے شاپر کی طرف منہ بڑھایا اور انہیں سونگھنے لگا۔ بھکارن نے اس سفید کتے کو اپنی جانب کھینچا اور پھر اسے اپنی گود میں یوں بٹھا لیا جیسے وہ کوئی چھوٹا سا بچہ ہو۔ ٹک شاپ والے صاحب سمیت وہاں بیٹھے دو تین لوگ اس منظر سے لطف اندوز ہوکر قہقہے لگانے لگے۔ کتا جو اب بھکارن کی گود میں بیٹھا تھا مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وہ اس کی اپنی بچھڑی ہوئی اولاد ہو جو اب بھکارن کو آن ملی ہو۔ بھکارن نے، جو گنڈیریوں کو چھوڑ کر اس کتے کی گردن اور کمر سہلا رہی تھی، اچانک کتے کو چومنا شروع کر دیا اور اس کے سر پر یوں انگلیاں پھیرنے لگی جیسے کسی چھوٹے بچے کے بال بنا رہی ہو۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جسے اس عورت کی اولاد کو اس سے جدا کر دیا گیا ہو، اب اس کی مامتا کسی بھی مخلوق کے بچے کو دیکھ کر جاگ جاتی تھی یا شاید وہ عورت اولاد سے ہی محروم تھی۔ میں اس کے قریب جا کر اس سے یہ سب پوچھنا چاہتا تھا مگر اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے اور سامنے بیٹھے ان لوگوں کی وجہ سے اس پر عمل نہ کر سکا۔ میں نے وہیں بیٹھے بیٹھے اس بھکارن کو غور سے دیکھا، جو اب اس کتے سے باتیں کرنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے سر اور گردن کو بھی چوم رہی تھی۔

بھکارن کا چہرہ نہایت پرسکون اور اس کی آنکھیں روشن تھیں مگر اس روشنی میں اس کی حسرتیں اور تلخ ماضی صاف چمک رہا تھا۔ میں حیرت سے کبھی اس بھکارن کو دیکھتا جو کتے کو گود میں بٹھائے چومتی چلی جا رہی تھا اور کبھی ان ہنسنے والوں پر افسوس کرتا، جو ٹک شاپ کے سامنے پڑی کرسیوں پر بیٹھے آپس میں کچھ جملوں کا تبادلہ کرتے اور پھر قہقہ لگا کر ہنسنے لگ جاتے۔ کاش وہ بھی جان لیتے کہ وقت بڑا ظالم ہے، جب پلٹتا ہے تو شاہ کو گدا اور گدا کو شاہ بنا دیا کرتا ہے۔ شاید اب وقت سے عبرت حاصل کرنے والے دانا بہت کم رہ گئے ہیں، میں نے خود کو بتایا۔

وہ بھکارن کچھ دیر یونہی کتے کو چومتی رہی اور پھر کتا اس کی گود سے نکل کر ادھر ادھر گھومنے لگا۔ اس دوران بھکارن نے گنڈیریوں والا شاپر کھولا اور ابھی آدھی گنڈیری ہی کھائی تھی کہ وہ کتا پھر سے اس کے پاس آن بیٹھا۔ شاید کتا بھی بھوکا تھا اور وہ شاپر کی آس پر اس کی جانب پھر سے آن بیٹھا تھا۔ بھکارن نے گنڈیریوں والا شاپر اٹھایا اور کتے کے آگے رکھ کر خود چپ چاپ اسے دیکھنے لگی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی ماں اپنے بھوکے بچے کے سامنے کھانا رکھ کر اسے دیکھ رہی ہو۔ وہ اپنی بھوک بھول کر اس بچے کی بھوک کو محسوس کر رہی تھی۔ ہر ماں کی بھوک اس کے بچے کی بھوک مٹنے پر ہی مٹ جایا کرتی ہے چاہے وہ خود ایک نوالہ بھی نہ کھائے۔ کتے نے شاپر کو پہلے چاٹا اور پھر اس میں موجود دو ایک گنڈیریوں کو بھی کاٹنے کی کوشش کی لیکن پھر اچانک سے اٹھ کے چل دیا جیسے کوئی بچہ من پسند کھانا نہ پا کر روٹھتا ہو۔ بھکارن اس کے جانے کے بعد اسے دیر تک دیکھتی رہی اور پھر شاپر اٹھا کر اس میں موجود گنڈیریوں کو دوبارہ کھانے لگی۔ وہ اس بات سے بے پرواہ تھی کہ ایک کتا اس کی گنڈیریوں کو چبا کر گیا ہے۔

کیسا عجیب منظر تھا، بھکارن کتے کا جھوٹا کھا رہی تھی، شاید واقعی بھوک کا کوئی مذہب اور کوئی اخلاق نہیں ہوا کرتا۔ ٹک شاپ والے صاحبان جو اس سارے منظر کو بغور دیکھ رہے تھے، بھکارن پر خوب ہنسے اور کچھ نازیبا جملے بھی اس پر کسنے لگے لیکن وہ بھکارن خود میں مگن اپنی بھوک ان گنڈیریوں سے مٹانے میں محو تھی۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ یہاں صرف وہی بھکارن ہی اصل انسان تھی، باقی سب انسانوں کے روپ میں کچھ اور ہی مخلوق دکھائی دے رہے تھے جو اجلے لباس میں اپنے من کے ننگے اور بھوکے پن کو چھپائے ہوئے تھے۔ جو انسانیت کے دعویدار اور احساس و جذبات کے داعی تھے مگر اس لمحے ان سے کئی گنا زیادہ وہ بھکارن انسانیت سے بھرپور اور دکھاوے سے دور نظر آ رہی تھی۔ جس نے ایک بھوکے کتے کی بھوک کے لیے اپنی بھوک کو ایک طرف کر دیا تھا اور پھر واپس اسی کتے کے جھوٹے کو صاف کر کے کھانے لگی تھی کیونکہ اسے معلوم تھا، ارگرد کے اشرف المخلوقات اسے نفرت کے سوا کچھ دینے کے قابل نہیں۔

جاب (سارہ عمر)

جاب (سارہ عمر)

تم جاب کیوں نہیں کرتی؟ گھر کیوں بیٹھی ہو؟ جب پتا بھی ہے کہ گھر کے حالات اچھے نہیں ہیں، بڑی بی نے اسے نصیحت کرتے ہوئے کہا۔ آنٹی حالات تو ایسے ہی ہیں ہمیشہ سے، سادگی سے جواب آیا تھا۔ پھر بھی گھر کے حالات کی بہتری کے لیے ہی کر لو جاب، دوبارہ سے مشورہ آیا تھا۔ ان شاءاللہ ہو ہی جائیں گے حالات بھی ٹھیک۔ دعا تو کرتے ہیں، اس نے متانت سے جواب دیا۔ دعا کے ساتھ دوا بھی تو کرنی پڑتی ہے ناں! بڑی بی جوش سے بولیں۔ آج وہ بہت موڈ میں تھیں۔ جی بالکل! امید تو کبھی نہیں چھوڑی، وہ اب بھی دھیما سا بولی۔ جب پتا ہے میاں بے روزگار ہے تو کم از کم بیوی ہی ہاتھ بٹا دے۔ کیا حرج ہے بھلا! نصیحت کی پٹاری میں سے ایک کے بعد ایک نصیحت حاضر تھی۔اگر میاں بے روزگار ہے تو یہ مطلب تو نہیں کہ عورت اپنے گھر اپنی چادر چار دیواری کو چھوڑ دے، اس نے کچھ سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
دیکھو! تمھارے بھلے کی بات ہے ایسے تو گزارا نہیں ہوتا ناں! آنٹی عورت کے گھر سے نکلے بغیر بھی گزارا ہو سکتا ہے، اس نے پھر سے ان کا مشورہ ماننے سے انکار کیا تھا۔ تمھیں بھلا اتنا پڑھنے کا کیا فائدہ ہوا؟ جب گھر میں بیٹھ کے چولہا ہانڈی ہی کرنی تھی؟ بڑی بی جلال میں آ گئیں تھیں۔ آنٹی یہ چولہا ہانڈی تو عورت کا مقدر ہے بھلا جو گھر سے باہر نکلتی ہے سارا دن کھپ کے آتی ہے کیا وہ چولہا ہانڈی نہیں کرتی؟ وہ لاجواب ہوئیں تھیں۔ بھئی تمھیں تو سمجھانے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے۔ بس آج کل تو نیکی کا زمانہ ہی نہیں۔ بچے یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں عقل ہی نہیں۔ دھوپ میں بال سفید کیے ہیں، بڑی بی نے اپنا شٹل کاک برقع سر پہ رکھ کر باہر نکلنے میں ہی عافیت جانی تھی۔
آنٹی! اس نے پکارا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ میری امی کی جاب نے ہم سے ماں کی ممتا چھین لی اور میری جاب نے مجھ سے والدین کی خدمت کا وقت چھین لیا۔ کیا مطلب؟ وہ نہ سمجھی سے اسے دیکھنے لگیں۔ جی جب میں چھوٹی تھی تب سے بڑے ہونے تک میری امی گورنمنٹ جاب کرتیں رہیں۔ ساری زندگی دوسروں کے بچوں کو پڑھا پڑھا کے ڈاکٹر انجینئر بنواتی رہیں مگر اپنے بچوں کے لیے ان کے پاس وقت نہ تھا۔ اسکول میں بچوں کے ساتھ دماغ کھپا کر آتیں تو گھر آ کر ہانڈی روٹی میاں، بچوں، ساس، سسر کے کام۔ ایک چھٹی لوگوں کے آنے جانے ملنے ملانے یا کپڑے دھونے میں نکل جاتی۔ جب میں بڑی ہوئی تو پاس کے پرائیویٹ اسکول میں نوکری مل گئی۔
جو وقت میں نے اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کرنی تھی وہ سارا وقت میں نے جاب کو دے دیا۔ بچوں کو پڑھا پڑھا کےگھر آؤ تب بھی آدھا کام گھر لاؤ۔ کبھی کوئی چارٹ بنانا ہے، کبھی کاپیاں چیک کرنی ہیں، کبھی رجسٹر مکمل کرنے ہیں تو کبھی کچھ اور کام۔ آج شادی ہو کر سسرال آئی ہوں تب بھی میاں اور ساس سسر کو چھوڑ کے کام پہ نکل جاؤں؟ تاکہ میرے سر پہ گھر اور باہر کی دوہری ذمہ داری پڑ جائے۔ بتائیے کے کیا میرا رویہ غلط ہے کہ صحیح ہے؟اس نے آنسووں کی جھڑی میں بات مکمل کی اور بڑی بی کو دیکھا۔ انہوں نے خاموشی سے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا اور اسے اپنے گلے سے لگا لیا۔ ہاں بیٹی تو سچ کہتی ہے اصل نوکری تو یہی ہے، اپنا گھر اور بچے۔