مسجدیں آباد کریں (انصر محمود بابر)

مسجدیں آباد کریں (انصر محمود بابر)

ہمیں مساجد میں اب کچھ تبدیلی کرنی پڑے گی۔ مساجد کو صرف نماز پڑھنے کی جگہ ہی نہ بنائیں بلکہ اسلامی کمیونٹی سنٹر کی طرز پرچلائیں۔ وہاں غریبوں کے کھانے کا انتظام ہو۔ ڈپریشن میں الجھے لوگوں کی کاونسلنگ ہو۔ ان کے خاندانی جھگڑوں کو سلجھانے کا انتظام ہو۔ مستحقین کی مناسب تحقیق کے بعداجتماعی و انفرادی طور پر مدد کی جا سکے۔ اپنے گھروں کے فالتو سامان کو نادار افراد کے لیے عطیہ کرنے کی غرض سے مساجد کا ایک حصہ مخصوص ہو۔ آپس میں رشتے ناتے طے کرنے کے لیے ضروری واقفیت کا موقع ملے۔ نکاح کا بندوبست سادگی کے ساتھ مساجد میں کیے جانے کو ترجیح دی جائے۔ قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے اجتماعی کوششوں کا آغاز مساجد سے ہو کیوں کہ صدقات و خیرات کرنے میں ہم مسلمانوں کا کوئی ثانی نہیں۔ بڑی جامع مساجدسے ملحق مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم کا بھی اہتمام ہو ۔ ہماری مساجد میں ایک شاندار لائبریری ہو، جہاں پر مکمل اسلامی و عصری کتابیں مطالعہ کے لیے دستیاب ہوں۔ اب وقت آگیا ہے کے ترجیحات بدل کر کچھ ضروری جگہوں پربھی اپنا مال خرچ کیا جائے۔

ان میں سے کوئی بھی تجویز نئی نہیں ہے۔ تمام کاموں کی مثال 1400 سال پہلے کے دور نبوی ﷺ میں بآسانی دیکھی جاسکتی ہے۔ کیا مسجد ِ نبوی صحابہ کرام ؓ کی علمی وعملی تربیت گاہ نہیں تھی؟ تمام غزوات وسرایہ کی حکمت ِ عملی کا گڑھ مسجد نبوی تھی۔ ساری جنگی تیاری اور ساز و سامان کی تقسیم و ترتیب مسجد نبوی میں ہوا کرتی تھی۔ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، مسجد نبوی میں تلوار بازی بھی ہوا کرتی تھی اور دیگر علوم و فنون کی تربیت و تیاری بھی۔ کیا وجہ تھی کے اس دور کے مسلمان دوڑے دوڑے مسجدکی جانب آیا کرتے تھے؟ اور آج ہم نے اپنی نسل ِ نو کی دلچسپی کے لیے مساجد میں کیا انتظامات کیے ہیں؟

خدا کے بندو اپنی مساجد میں نوجوانوں کا داخلہ آسان بناﺅ ورنہ موجودہ عادی نمازیوں کے بعد خدانخواستہ مساجد ویران ہوجائیں گی۔ آپ کسی مسجد میں چلیں جائیں، آپ کو نمازیوں میں زیادہ تعداد ضعیف العمر، بلغم زدہ، ریٹائرڈ اور فارغ لوگوں کی نظرآئے گی۔ کیا وجہ ہے کہ نوجوان اور پڑھا لکھا طبقہ مسجد سے دورہے؟ شاید اس لیے کہ پھٹی پرانی صفوں اور گرد آلود فرشوں والی مساجد میں ان کی جرابیں گندی ہوتی ہیں۔ دنیاکے کسی کلب، ہوٹل، ریسٹورنٹ، کسینو، کالج اور یونیورسٹی میںچلے جائیں، آپ کو صاف ستھرا ماحول، سنٹرلی ائیرکنڈیشنڈ ہال، وائٹ واش اور فرنشڈ کمرے، تیز رفتار انٹرنیٹ اور جدید ترین لیب نظر آئیں گی۔ بے دھیانی میں کسی کو کندھا لگ جائے یا چھولیا جائے تو وہ بجائے گھورنے کے سوری کرتا ہے۔ آپ کو وہاں پر دنیا کے بہترین طور طریقے اور انٹرنیشنل ریلیشنز کے معیار ملیں گے۔

جب کہ ہماری مساجد میں آج بھی برادری ازم اور اجارہ دارانہ نظام دیکھنے کو ملتا ہے۔ پرانے نمازی کبھی کبھار نماز پڑھنے والوں کو عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔ جب کہ پچھلے 60 سالوں سے نماز پڑھنے والوں میں سے 40 فیصدسے زائد لوگوں کوساری نماز بھی نہیں آتی ہوگی۔ نئے نمازی کوشاید ہی کبھی پہلی صف میں جگہ ملی ہو۔ پچھلی صفوں میں اگر بچے شور مچا رہے ہوں تو آئندہ کے لیے ان کے مسجد میں داخلے پر پابندی لگادی جاتی ہے۔ اس پہ سونے پہ سہاگہ یہ کہ ہمارے آئمہ حضرات دنیاوی تعلیم کو آج بھی غیر اسلامی اور کافروں کی تعلیم سمجھتے ہیں۔ پینٹ شرٹ اور تھری پیس وغیرہ کو غیر شرعی لباس سمجھ کر قابل ِ نفرت سمجھا جاتاہے جب کہ دوسری جانب کالج اور یونیورسٹی کے طلباءکے اذہان میں اٹھنے والے سوالات کو شیطانی وسوسے قرار دے کر جھٹلا دیا جاتا ہے اور نتیجتاً نوجوان نسل دین سے دور ہوتی چلی جاتی ہے۔ ان پہ فتوے لگائے جاتے ہیں کہ دیکھو انگلش تو فرفر بولتا ہے اور دین اتنا بھی نہیں آتا کہ باپ کا جنازہ ہی پڑھا سکے۔ خدارا اب رک جائیں، سوچیں اور اپنی ترجیحات بد لیں۔ اپنے بچوں کو وقت دیں۔ ان کے مسائل کوسمجھیں۔ ان کی ترجیحات کو جانیں ورنہ آج کی نسل کوبے دین کرنے کی ساری ذمے داری آپ پہ ہوگی اور مورخ آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔

ہے زندگی کا مقصد اورورں کے کام آنا (فاطمہ خان)

ہے زندگی کا مقصد اورورں کے کام آنا (فاطمہ خان)

اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں۔ زندگی کا اصل مقصد دوسروں کی مدد ہے۔ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات پیدا کیا ہے، یعنی تمام مخلوقات سے افضل اور اعلی مخلوق۔ انسان تمام مخلوقات سے اس لیے افضل ہے کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے کام آتا ہے۔ اس کے دل میں ایثار و قربانی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ اپنے لیے جینا کوئی مشکل نہیں۔ معاشرے میں حسن تب ہی پیدا ہوتا ہے جب سفید پوش لوگ عزت اور بھرم کو قائم رکھ پائیں اور ضروریاتِ زندگی بھی پورا کر سکیں۔ ہمارا معاشرہ ایک مسلط کردہ دوڑ میں بغیر نفع نقصان جانے دوڑا چلا جا رہا ہے۔ اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتا ہے لیکن غریب اور مظلوم کے لیے اندھا اور بہرہ بن جاتا ہے۔ انسان اشرف المخلوقات ہو کر بھی اپنے مقام سے گرتا جا رہا ہے۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے، حالات نہیں بدل رہے۔ حالات کیسے بدلیں۔ حالات بدل نہیں سکتے جب تک ہم خود نہ بدل جائیں۔ ہمیں یہ سوچنا ہے کہ نیکی کرنے کے لیے اپنے خاندان کا تعارف کروانا ہمارے لیے ضروری کیوں ہے؟

ایک عام سی مثال سے جائزہ لیتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ بس اسٹاپ، چوراہوں، بازاروں، اسکولوں، اسپتالوں میں ٹھنڈے پانی کے کولر لگائے جاتے ہیں۔ کولر پر جتنی جگہ ہوتی ہے وہاں خاندان کے افراد کے نام کے ساتھ ان کے ایصال ِثواب کے لیے نوٹ لکھا ہوتا ہے۔ یہ قدرتی سی بات ہے جب انسان تکلیف سے گزر رہا ہو اور اسے اچانک سکھ کا، سکون کا لمحہ مل جائے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس وسیلے کا بھی شکریہ ادا کرتا ہے اور اس کے لیے دعا کرتا ہے۔ پیاس میں، تھکن سے چور انسان جب ٹھنڈا پانی پیے گا تو بلواسطہ وہ اس کے لگوانے والے کو یعنی وسیلے کے حق میں دعا کرے گا۔

اسلام کہتا ہے اگر راہ سے کانٹا یا پتھر ہٹا دیا تو بھی نیکی ہے۔ ایک وقت تھا جب گھروں کے باہر پانی کا بندوبست کیا جاتا جاتا تھا، چھاوں کا انتظام کیا جاتا تھا۔ بالخصوص ان گھروں میں جہاں اسٹاپ یا چوک ہوں تا کہ مسافروں کو تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لیکن انسان جب سے مادہ پرستی کا شکار ہوا ہے، اپنی حقیقت سے منہ موڑ بیٹھا ہے۔ آج اگر کوئی اللہ کا بندہ پیاس سے تڑپتا ہوا آپ کے دروازے پہ آجائے تو آپ پانی تو درکنار دروازہ تک نہیں کھولیں گے۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں ہے۔ ان گناہگار آنکھوں نے ایسے بے شمار واقعات دیکھے ہیں اور دکھ کی بات یہ ہے کہ بہت پرہیز گار لوگ بھی ایسا ہی منافقانہ رویہ رکھتے ہیں۔ وہ شاید اس بات سے ناواقف ہیں کہ انسانیت کے تقاضے کیا ہیں۔ میردرد نے کیا خوب کہا:

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

لوگ سڑکوں پہ بھوکے، ننگے سردی میں پڑے رہتے ہیں اور حکمران اپنی گاڑیوں میں بھی ہیٹر سے مستفید ہوتے ہیں۔ فرق ضرویات سے آسائشات اور تعیشات کا ہے۔ غریب ضروریات کے لیے تڑپ تڑپ کر مر رہا ہے جب کہ امراءآسائشات کے بعد تعیشات سے بھی آگے مریخ کی تسخیر کے خواہاں ہیں۔ حالاں کہ تعیشات کے بعد ہی سہی کم از کم یتیم و مسکین کے حال پہ ترس کھا لیا جانا ان کے اختیار میں ہے۔ افسوس کہ حالات اس قدر بگڑے ہیں کہ ان کی تلخی کو کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے،

روٹی امیرِ شہر کے کتوں نے چھین لی
فاقہ غریب گھر کے بچوں میں بٹ گیا
چہرہ بتا رہا تھا کہ مارا ہے بھوک نے
حاکم نے یہ کہا کہ کچھ کھا کہ مر گیا

انسان اکیلا نہیں رہ سکتا۔ اسے زندگی گزارنے کے لیے دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنا پڑتا ہے۔ مل جل کر رہنے سے خوشی اور غم بانٹنے سے معاشرے میں نکھار آتا ہے۔ بہترین انسان دوسرے انسانوں کی بوقتِ ضرورت بڑھ چڑھ کر مدد کرتا ہے۔ اللہ اپنے بندوں سے 70 ماوں سے زیادہ پیار کرتا ہے، پھر بھلا وہ کیسے اپنے بندے کو مشکل میں تنہا چھوڑ سکتا ہے۔ علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں،

خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا

مدد یا ہمدردی کرنے سے اللہ بھی راضی ہو گا اور معاشرہ بھی خوشحال ہو گا۔ غریب کو کھانا کھلانا نیکی ہے۔ ایسے افراد جو اپنے بچوں کو مفلسی کے تحت اسکول نہیں بھیج پاتے۔ ان بچوں کو صاحبِ حیثیت لوگ اسکول پڑھا سکتے ہیں۔غریب بچیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے والدین کی دہلیز پہ بیٹھی بوڑھی ہو جاتیں ہیں۔ کیا مخیر افراد کا فرض نہیں کہ وہ ان سفید پوش طبقے کی مدد کریں۔ اللہ نے اس طبقے کی مدد کے لیے زکوة، عشر، صدقات اور خیرات کے ذرائع پیدا کیے۔ اللہ نے مسلمانوں پر یہ واضح کیا کہ زکوة مال و دولت کو پاک کرتی ہے بالکل اسی طرح جس طرح روزہ جسم کو ہر بیماری سے پاک کرتا ہے۔

جنگِ یرموک میں ایک زخمی کو جب پانی پلایا جانے لگا تو اس نے دوسرے زخمی کی طرف اشارہ کیا کہ پہلے اسے پانی پلایا جائے۔ جب دوسرے زخمی کو پانی پلانا چاہا تو اس نے تیسرے زخمی کی جانب اشارہ کیا کہ پہلے اسے پانی پلایا جائے۔ پانی پلانے والا شخص جب زخمی کے قریب آیا تو دیکھا کہ زخمی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا تو وہ دوسرے زخمی کے پاس دوڑا دوڑا پہنچا لیکن وہ بھی شہید ہو چکا تھا۔ پانی پلانے والا شخص جب پہلے شخص کے پاس آیا تو وہ بھی جامِ شہادت نوش کر چکا تھا۔ یہ ہے اسلام کی تعلیم کہ زخموں سے چور ہوتے ہوئے بھی دوسرے بھائی کے لیے قربانی کا جذبہ عروج پہ رہا۔ موت کے خوف سے ان کے قدم ڈگمگائے نہیں بلکہ حوصلہ بلند رہا اور ایثار کا جذبہ سر چڑھ کہ بولا کہ میں نہیں میرے دوسرے بھائی کو پانی دے دیا جائے۔

تاریخِ اسلام کی ورق گردانی کی جائے تو اسلام ایسی مثالوں سے جگمگا رہا ہے۔ فتحِ مکہ کے موقع پر انصار نے مہاجرین کا جس طرح خیر مقدم کیا، تاریخ میں ایسی مثال نہ کبھی تھی نہ آگے مل پائے گی۔ انصار نے مہاجرین کو صرف بھائی تسلیم نہیں کیا بلکہ بھائی کے تمام فرائض بھی سر انجام دیے۔ اپنے گھر، کاروبار تک ان کو دے دیے۔ مسلمان مادیت کے ایسے دلدل میں گر چکا ہے کہ اپنے اصل کو بھول بیٹھا ہے۔ اب وقت آن پہنچا ہے کہ کائنات میں انسان اپنی تخلیق کے محرک کا ادراک کرے اور خود کو اشرف المخلوقات ثابت کرے۔

خوشبو (علی عبداللہ)

خوشبو (علی عبداللہ)

خوشبو سے مجھے فلم ”دی پرفیوم“ اکثر یاد آجاتی ہے کہ جس کا مرکزی کردار اپنی فطری انسانی خوشبو سے محروم ہونے کی بنا پر چاہے جانے سے عاری ہوتا ہے اور یہی محرومیت پہلے اسے باقاعدہ عطرسازی سیکھنے پھر اس کے تجربات خوب صورت دوشیزاو¿ں پر کرنے پر اکساتی ہے تاکہ وہ ان میں سے ایسی خوشبو کشید کرے جو اک عالم کو مسحور کر سکے۔ آخر کار وہ ایک عجیب و غریب اور مسحورکن خوشبو بنانے میں کامیاب تو ہو جاتا ہے مگر اس کی قیمت کیا ادا کرتا ہے، اس کے لیے آپ کو یہ فلم ہی دیکھنا پڑے گی۔ اس میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ خوشبو کے لیے آپ کے پاس ایک اچھی ناک کا اور مستقل مزاجی کا ہونا ضروری ہے، یعنی آپ باذوق بھی ہوں۔ ایک اچھی خوشبو نہ صرف آپ کا اعتماد برقرار رکھتی ہے بلکہ اس سے آپ کا اور اردگرد کے لوگوں کا موڈ بھی اچھا رہتا ہے۔ ہمارے ہاں مہنگے کپڑوں اور جوتوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے مگر خوشبو کے معاملے میں ”کوئی بھی دے دو“ سننے کو ملتا ہے حالاں کہ خوشبو انسانی مزاج اور جذبات پر بہت گہرا اثر ڈالتی ہے۔ کہتے ہیں قلوپطرہ نے جو خوشبو اپنی کشتیوں کے بادبانوں سے لگائی تھی وہ ساحل پر پہنچنے سے پہلے، میلوں دور سے ہی مارک انٹونی کو محسوس ہو گئی تھی۔ اسی لیے شیکسپئیر نے اس بارے کہا تھا،
” So perfumed that the winds were lovesick with them”

پرفیوم یونانی زبان کے لفظ perfumare سے اخذ کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں “To smoke through” یعنی دھویں کے ذریعے۔ عطر سازی قدیم میسوپوٹیمیا اور مصر سے شروع ہوئی، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا آغاز قدیم چائنہ سے ہوا تھا جب کہ اسے مزید ترقی یافتہ رومیوں اور عربوں نے بنایا۔ ہندوستان میں بھی اس کے آثار 3300 قبل مسیح سے 1300 قبل مسیح کے درمیان ملتے ہیں۔

کسی بھی خوشبو کی تین پرتیں ہوتی ہیں۔ پہلی وہ جسے آپ معمولی سا سونگھ کر بے نقاب کرتے ہیں۔ اسے ٹاپ نوٹ کہا جاتا ہے اور اکثر لوگ اسی کے بل بوتے پر پرفیوم خریدتے ہیں۔ اکثر کمپنیوں کے لیے یہ ٹاپ نوٹ ہی سیلنگ پوائنٹ ہوتا ہے۔ یہ پرت دیر پا نہیں ہوتی۔ دوسری پرت جسے ہارٹ نوٹ یا مڈل نوٹ کہا جاتا ہے، یہ اس پرفیوم میں موجود جڑی بوٹیوں اور دیگر عناصر پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ پرت ٹاپ نوٹ سے زیادہ دیر پا ہوا کرتی ہے جو بیس نوٹ کی فوری ناخوش گوار خوشبو کو ڈھانپتی ہے۔ تیسری پرت بیس نوٹ کہلاتی ہے، جو سب سے زیادہ دیر پا اور مسحور کن ہوتی ہے، اس نوٹ میں عموماً قیمتی لکڑی، عنبر اور مشک وغیرہ شامل ہوتا ہے۔ اس پرت کا اثر کم ازکم 30 منٹ کے بعد ظاہر ہوتا ہے اور یہی پرت آپ کو ایک ان دیکھی کائنات اور دلکش احساس سے نوازتی ہے اور آپ کے موڈ اور مزاج پر اثر انداز بھی ہوتی ہے۔

پرفیوم مختلف کیٹیگری کے ہوتے ہیں جن کا علم ہونا ضروری ہے۔ Eau de Toilette میں خوشبو دار آئل کی مقدار 10 فیصد تک ہوتی ہے۔ اسی بنا پر یہ خوشبوئیں زیادہ دیر پا نہیں ہوتیں۔ Eau de parfum کیٹیگری میں شامل کیے جانے والے خوشبودار آئل کی مقدار 15 سے 20 فیصد تک ہوتی ہے، جس بنا پر ان کی خوشبو پہلی کیٹیگری سے زیادہ دیرپا ہوتی ہے جب کہ صرف پرفیوم جو کہ خالص خوشبو ہوتی ہے، اس میں یہ آئل 40 فیصد تک ہوتی ہے اور یہ بہت زیادہ دیر قائم رہنے والی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خالص پرفیوم کی قیمت بھی بہت زیادہ ہے۔ جدید زمانے میں پرفیوم عموماً ایتھانول، یا ایتھانول اور پانی کی ملاوٹ سے بنایا جاتا ہے اور پھر اس کے اندر خوشبودار آئل کی کیٹگری کے حساب سے ملاوٹ ہوتی ہے۔

پرفیوم خریدتے وقت کوشش کیجیے کہ ایک ہی وقت میں دو یا تین سے زیادہ ٹیسٹ نہ کریں، ورنہ آپ کا دماغ زیادہ بوجھ برداشت نہ کر پائے گا۔ مزید دکاندار حضرات ساتھ کافی کے دانے بھی رکھتے ہیں تاکہ وقفہ لے لیا جائے مگر بہتر یہ ہوتا ہے کہ کافی کی بجائے آپ اپنے جسم کو سونگھیں تاکہ آپ کا دماغ نارمل حالت میں آ کر نئے پرفیوم کو بہتر طریقے سے ٹیسٹ کر سکے۔ پرفیوم لگانے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ جہاں خون کی گردش زیادہ ہو وہاں چھڑکا جائے۔ اس سے خوشبو زیادہ پھیلتی ہے۔ یعنی کان کے پچھلے حصوں، گردن، کلائی اور ہاتھوں کے اوپری حصوں پر۔ اس کے علاوہ بالوں کے برش پر پرفیوم چھڑک کر بال بنائیں جائیں تو بھی خوشبو زیادہ دیر تک موجود رہتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اگر آپ خود کو پرسکون رکھنا چاہتے ہیں تو لیونڈر کی خوشبو استعمال کیجیے اور اگر فوری انرجی بوسٹر چاہیے ہو تو سٹرس وغیرہ جیسی خوشبو کا استعمال کرنا بہتر ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ جاسمین، صندل اور عود بھی بہت زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔ گو کہ خوشبو منتخب کرنے کے لیے جنس یعنی مردانہ یا زنانہ کا فرق نہیں ہوتا لیکن کچھ لوگ اس کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ اسی بنا پر چند مشہور اور بہترین مردانہ و زنانہ پرفیوم کے نام پیش نظر ہیں، اگر موقع ملے تو ان میں سے کوئی بھی ضرور خریدیے۔ خواتین میں،burberry, gucci bloom, the body shop white musk, bvlgari, origins ginger essence skin scent, وغیرہ کافی مقبول ہیں۔ ان کے علاوہ Tom ford oud minerale, SJP Stash, اور Francis kurkdjian aqua vitae آل ٹائم فیورٹ خوشبوئیں ہیں۔ جب کہ مردوں کے لیے davidoff cool water, Dolce & Gabana light blue, calvin klein ck one, dunhill, 273 california, obsession، joop Homme اور Tom Ford oud wood کافی مقبول ہیں۔

الجنان ارضی (انیلہ افضال)

الجنان ارضی (انیلہ افضال)

تمام مسلمانوں کا اس بات پر مکمل ایمان ہے کہ ایک دن جب قیامت قائم کر دی جائے گی تو ہم سب کو اللہ کے حضور پیش ہونا ہے جہاں پر ہمیں ہمارے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ اللہ کے انصاف کا ترازو ہمارے اعمال کو پورا پورا تولے گا۔ اور پھر ”جن کے اعمال کا وزن بھاری ہو گا وہ دل پسند زندگی میں ہوں گے اور جن کے اعمال کا وزن ہلکا ہو گا ان کی منزل ھاویہ ہے“۔ (القرآن)

قرآن کریم فرقان حمید میں اللہ تعالیٰ نے دل پسند زندگی کو جنت کی زندگی فرمایا ہے۔ جنت! کیا خوش گوار احساس ہے! یقیناً جنت میرے رب کی بہترین نعمت ہے۔ یہ تو وہ جنت ہے جس کا وعدہ نیک اعمال کے بدلے میں میرے رب نے بار بار کیا ہے اور جو آسمانوں میں کہیں موجود ہے لیکن زمین پر جو جنتیں اللہ تعالیٰ نے ہم مسلمانوں کو عطا فرمائی ہیں ایک نظر ان پر بھی ڈالی جائے کہ ایمان تازہ اور روح سرشار ہو جائے۔

اس روئے زمین پر موجود جنتوں میں سب سے افضل ہے جنت البقیع۔ بقیع اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں جنگلی پیڑ پودے بکثرت پائے جاتے ہوں اور چوں کہ بقیع قبرستان کی جگہ میں پہلے جھاڑ جھنکاڑ اور کانٹے عوسج یعنی غرقد کے پیڑ بکثرت تھے اس لیے اس قبرستان کا نام بھی بقیع غرقد پڑ گیا، یہ قبرستان مدینہ منورہ کی آبادی سے باہر مسجد نبوی شریف کے مشرقی سمت میں واقع ہے۔ اس کے ارد گرد مکانات اور باغات تھے اور مسجد نبوی کی آخری توسیع میں اس قبرستان اور مسجد نبوی کے درمیان جو مکانات تھے ان سب کو منہدم کر دیا گیا، اب یہ بقیع قبرستان مسجد نبوی کے خارجی صحن سے مل چکا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرات مہاجرین رضوان اللہ اجمعین نے جب مدینہ منورہ کو ہجرت کر کے اپنا مسکن و وطن بنایا، تو اس شہر مبارک میں مزید تعمیری و تمدنی ترقی ہونے لگی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ کوئی مناسب جگہ مسلمانوں کی اموات کی تدفین کے لیے متعین ہو جائے، اسی مقصد کے پیش نظر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس (بقیع کی) جگہ تشریف لائے، تو ارشاد فرمایا، ”مجھے اس جگہ (یعنی بقیع) کا حکم (قبرستان کے لیے) دیا گیا ہے۔ (مستدرک امام حاکم 11/193) اس روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس (بقیع کی) جگہ مسلمانوں کا قبرستان بنانے کا حکم فرمایا تھا اور یہیں سے اس جگہ یعنی بقیع قبرستان کی فضیلت کی ابتدا ہوتی ہے۔ جو عمرہ زائرین یا حج زائرین مدینہ منورہ میں وفات پاتے ہیں وہ اس ارضی جنت میں دفن ہوتے ہیں۔ یہاں دفن ہونا ہر مسلمان کی خواہش ہے۔

کرہ ارض پر موجود دوسری عظیم ترین جنت، جنت المعلیٰ ہے۔ یہ ارضی جنت ”الحجون“ کے نام سے بھی مشہور ہے۔ یہ مکہ معظمہ کا خاص قبرستان ہے جو جنت البقیع کے بعدجَنَّت± المعلیٰ دنیا کا سب سے افضل ترین قبرستان ہے جو کعبہ سے جنوب مشرقی جانب قریب ہی واقع ہے۔ اس قبرستان میں سرورِ کونین حضرت محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رشتے داروں، ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰؓ، صحابہ وتابعین اور اولیاءوصالحین رضی اللہ عنھم کے مزارات مقدسہ ہیں۔ یہ قبرستان بیت اللہ شریف کے مغربی جانب تقریبا ایک سے ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے یہاں پر عام حجاج کرام اور مقامی لوگوں کو بھی دفن کرنے کی اجازت ہے۔ عالم اسلام میں اس شخص کو خوش نصیب مانا جاتا ہے جس کو یہاں دفن ہونے کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔

روئے زمین پر موجود تیسری جنت کو ریاض الجنہ کہا جاتا ہے۔ ریاض الجنہ یہ وہ مبارک جگہ ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر یعنی حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہاسے منبر شریف کے درمیان میں ہے، اس کا نام ریاض الجنة ہے (جنت کا باغیچہ)۔ یہ نام اس لیے پڑا کہ حدیث شریف میں رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، ”میرے منبر اور میرے گھر کے درمیان والی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے“۔ (رواہ البخاری:1196ومسلم :1391)

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مقام کی بڑی فضیلت ہے، اگر مسجد نبوی آنے کا موقع ملے تو یہاں عبادت، ذکر، اللہ سے دعا اور اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔ اس جگہ پہ نبیﷺ سے بھی خاص طور سے عبادت کرنا ثابت ہے۔ یزید بن ابی عبید بیان کرتے ہیں کہ میں سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالی کے ساتھ آتا اور وہ مصحف والے ستون کے پاس یعنی روضہ شریف میں آکر نماز ادا کرتے، تومیں نے انہیں کہا ”اے ابو مسلم میں دیکھتا ہوں کہ آپ اس ستون کے پاس ضرور نماز ادا کرتے ہیں“۔ تووہ فرمانے لگے، ”میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بھی یہاں خاص کرنماز ادا کیا کرتے تھے“۔ (بخاری:502 ومسلم:509 ) اللہ تعالی ہم سب کو اس مقدس جگہ ریاض الجنہ میں عبادت کرنے اور کچھ دیر سعات حاصل کرنے کی توفیق بخشے۔

مندرجہ بالا جنتیں تو خوش نصیبوں کو ہی حاصل ہوتی ہیں مگر مزید دو جنتیں ایسی ہیں جو ہر مسلمان کو حاصل ہیں۔ اگرچے ان کا حصول بھی سراسر خوش نصیبوں کے حصے میں ہی آتا ہے۔حدیث نبویﷺ ہے کہ ”جنت ماں کے قدموں تلے ہے“۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ”ماں کے بغیر گھر قبرستان لگتا ہے“۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ: ”یارسول اللہﷺ میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری ماں“۔ انہوں نے عرض کیا ”پھر کون؟“ آپﷺ نے فرمایا، ”تیری ماں“۔ ”پھر کون؟“ آپ ﷺ نے فرمایا، ”تیری ماں“۔ چوتھی مرتبہ سوال کیا ”پھر کون؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے والد“۔ ماں ہستی ہی ایسی ہے جو دنیا کی ساری مشکلات اور تکالیف خود سہتی ہے لیکن اپنی اولاد پر آنچ نہیں آنے دیتی، انہیں اپنے پروں میں چھپا کر رکھتی ہے۔ اسی لیے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ”ماواں ٹھنڈیاں چھاواں“۔

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول ا للہﷺ نے ارشادفرمایا ”میں جنت گیا تو میں نے دیکھا کہ اس میں کوئی قرآن پڑھ رہاہے؟ فرشتوں نے جواب دیا حارثہ بن نعمانؓ ہیں“۔ (حارثہ بن نعمانؓ اپنی ماں کی خدمت اور حسن سلوک کے حوالے سے خاص شہرت رکھتے ہیں)۔ اسی طرح اویس قرنیؓ کو بھی اسلام کی تاریخ میں اطاعت، خدمت اور حسن سلوک سے شہرت حاصل ہے۔ ماں کی شفقت، محبت، خلوص، پیار اور ایثار و مروت کسی تعارف کی محتاج نہیں کیوں کہ ماں کی محبت و پیار بے لوث ہوتا ہے۔ ماں کے لیے کوئی مخصوص دن، مخصوص وقت، مخصوص لمحہ نہیں ہوتا بلکہ ہر روز، ہر لمحہ، ہر گھڑی ماں کا وقت ہوتا ہے۔ ماں کے ساتھ گزرا ہوا وقت یقیناً جنت میں گزرتا ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ، ”جب تم جنت کے باغوں میں سے گزرو تو خوب چرو“۔ صحابی کرام نے عرض کیا، ”یا رسول اللّٰہﷺ! جنت کے باغ کیا ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”دین کے حلقے“۔ یعنی دینی محافل، ذکر واذکار کی محافل اور وہ تمام جگہیں جہاں یہ محافل منعقد کی جائیں جنت کے باغ ہیں۔ ایک اور جگہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ، ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناو¿“۔ یعنی ہمیں اپنے گھروں عبادات کا اہتمام کرنا چاہیے۔ ذکر واذکار کی محافل کا انعقاد کرنا اور عبادات میں مشغول ہونا گویا گھروں کو جنت کے باغ بنانے کے مترادف ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی تعمیر کے لیے چن لیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ اسکول، کالج، مدرسے، دفتر، دکان، مارکیٹ، گھر غرض جہاں کہیں بھی ہوں اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور اذکار کی محافل کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی جنت کے ان باغوں میں چرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

میں جنت میں جاوں گا (ام محمد عبداللہ)

میں جنت میں جاوں گا (ام محمد عبداللہ)

امی امی جی! کاشف کھیلتے کھیلتے گر گیا تھا۔ گھٹنے پر چوٹ لگ گئی تھی اور خون بھی نکل آیا تھا۔ امی جی نے دیکھا تو زخم صاف کر کے مرہم پٹی کرنے لگیں۔ کاشف مسلسل ہائے وائے کرتا جا رہا تھا۔ ”بس کرو کاشف بیٹے! یہ دنیا ہے یہاں تو انسان گرتا بھی ہے اور چوٹ بھی لگتی ہے البتہ جنت میں جتنا چاہو کھیلنا نہ گرو گے نہ چوٹ لگے گی“۔ ”جنت! جنت تو بہت خوب صورت ہو گی امی جان۔ جنت کی کھجوروں کے تنے سبز زمرد کے ہوں گے اور ٹہنیوں کی جڑیں سرخ سونے کی ہوں گی۔ اس کا پھل مٹکے کے برابر ہو گا جو دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ شیریں اور مکھن سے زیادہ نرم ہو گا مگر جنت جائیں کیسے؟“ امی جان کے سمجھانے پر کھجوروں کے شوقین کاشف کی توجہ چوٹ سے ہٹ کر جنت کی جانب چلی گئی تھی۔

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو لا الہ الا اللہ کہے گا وہ جنت میں جائے گا، کرن جو قریب ہی بیٹھی تھی کاشف کی بات سن کر بولی۔”شاباش کرن بیٹی! دادی جان بھی کمرے میں موجود تھیں اور کرن کے حدیث بیان کرنے پر بہت خوش ہوئیں“۔ ”یہ تو آسان ہے“، کاشف پڑھنے لگا ”لا الہ الا اللہ“۔

لا الہ الا اللہ پڑھتا ہوں، میں جنت جاوں گا، کبھی نہ چوٹ لگے گی، شہد، کھجوریں کھاوں گا۔ کاشف قالین پر بیٹھا بلاکس کے ساتھ کھیلتے ہوئے اپنی تازہ ترین نظم گنگنا رہا تھا کہ بابا جانی کمرے میں داخل ہوئے اور مسکراتے ہوئے کاشف سے پوچھنے لگے، ”اچھا بھئی لا الہ الا اللہ کا مطلب تو بتائیے“۔ ”اس کا مطلب ہے اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں“۔ کاشف نے جھٹ سے ترجمہ سنایا پھر کچھ سوچتے ہوئے بولا، ”بابا جانی الہ کا کیا مطلب ہے؟“”کوئی الہ نہیں سوائے اللہ کے یعنی صرف اللہ ہی کی ذات عبادت کے لائق ہے۔ اللہ تعالی ہی تمام جہان کا مالک و حاکم ہے۔ تمام چیزیں اس کی محتاج اور اس سے مدد مانگنے پر مجبور ہیں۔ ہم اسے نہیں دیکھ سکتے اور نہ ہی ہماری عقل اس کی قدرت اور طاقت کا اندازہ لگا سکتی ہے“، بابا جانی نے تفصیلاََ جواب دیا۔

بابا جانی آخر اس کلمے میں ایسی کون سی بات ہے جو اس کے ماننے والوں کو کامیاب اور نہ ماننے والے کو ناکام و نامراد کر دیتی ہے، سلمان کلمے کا مطلب گہرائی میں جاننے کا خواہاں تھا۔ ”پیارے سلمان جب کوئی بندہ اپنے دل کی آمادگی اور مکمل عقل شعور کے ساتھ اللہ تعالی کی وحدانیت اور ہر ہر اعتبار سے ہر شے پر اس کی حاکمیت کا اقرار کر لیتا ہے تو اس میں کچھ خصوصیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ جو اللہ تعالی کی ذات سے انکار کرنے والوں اور شرک کرنے والوں میں ہو ہی نہیں سکتیں“۔

اچھا! وہ کیا سارہ اور کرن بھی وہیں آن بیٹھی تھیں۔ ”لا الہ الا اللہ کااعتقاد انسان کے اندر تمام مخلوقات کے لیے محبت کا جذبہ بیدار کرتا ہے۔ یہ کائنات اس کے لیے خدائے واحد کا تخلیق کردہ ایک کنبہ ہے جس کا وہ خود ایک حصہ ہے اور باقی سب کے ساتھ اسے اپنائیت سے رہنا ہے۔یہ کلمہ انسان میں خودی کو بیدار کرتا ہے۔ انسان جان لیتا ہے کہ نفع و نقصان کا مالک اللہ تعالی ہے پس وہ غیر اللہ کے آگے جھکنے سے بچ جاتا ہے۔ خودی کے ساتھ ساتھ لا الہ الا اللہ پر ایمان انسان میں انکساری پیدا کرتا ہے اسے معلوم ہوتا ہے کہ اسے عطا کردہ تمام نعمتیں اور صلاحتیں اس کی اپنی نہیں بلکہ اللہ وحدہ لا شریک کی عطا کردہ ہیں اور یہ سوچ غرور کی جڑ کاٹ دیتی ہے“۔

بچے بہت غور سے بابا جانی کی باتیں سن رہے تھے۔ ”اس کلمے کو ماننے والا جانتا ہے کہ نیک عمل کے سوا نجات کا کوئی راستہ نہیں۔ اس لیے وہ نیکیوں کی دوڑ میں آگے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر اسی طرح ایک زبردست خدا کو ماننے والا کبھی مایوس نہیں ہوتا وہ جانتا ہے کہ بظاہر ناممکن اور مشکل ترین حالات کو اس کا اللہ لمحوں میں آسان کر سکتا ہے۔ پس وہ پر امید رہتے ہوئے اسی کی جانب لپکتا ہے۔ کلمہ پر ایمان رکھنے والا انسان پرعزم اور بہادر ہوتا ہے وہ جانتا ہے کہ اس کی پشت پر زبردست طاقت والا اللہ ہے جو اسے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ اسی یقین پر وہ بڑی سے بڑی طاقت اور مشکل کے سامنے ڈٹ جاتا ہے۔ اس کلمے پر ایمان رکھنے والا انسان اللہ کے فیصلوں پر راضی اور دنیاوی شان و شوکت سے بے نیاز ہوتا ہے۔ حسد جیسی بیماریاں اس کے قریب بھی نہیں آتیں۔

سب سے بڑھ کر لا الہ الا اللہ کا اعتقاد انسان کو اللہ کے قانون کا پابند بناتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اللہ البصیر ہے وہ اسے دیکھ رہا ہے اس لیے لوگوں میں تو درکنار تنہائی میں بھی لا الہ الا اللہ کا اقرار کرنے والا برائی کے قریب نہیں جاتا“۔ بچے بہت انہماک سے بابا جانی کی باتیں سن رہے تھے۔
”لا الہ الا اللہ کا مطلب تو مجھے آج سمجھ میں آیا“، سارہ نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا وہ اس کلمے کی بھاری ذمے داری اپنے کندھوں پر محسوس کرنے لگی تھی۔ ”کاشف شہزادے! آپ کو بھی کچھ سمجھ آیا کہ نہیں“، امی جان نے لاڈ سے کاشف کی ناک کھینچی۔ ”جی! مجھے سمجھ آیا کہ ہر شے میرے اللہ کی ہے تو مجھے ہر شے کا خیال رکھنا ہے۔ نفع و نقصان کا مالک صرف میرا اللہ ہے تو مجھے کسی کے آگے نہیں جھکنا۔ ہر کامیابی اللہ کی دی ہے تو غرور نہیں کرنا۔ نیکیوں کی دوڑ میں کرن سے آگے نکلنا ہے“۔

صرف کرن سے سب ہنسنے لگے تھے جب کہ کرن نے ”آگے نہیں نکلنے دوں گی“ کا نعرہ لگایا تھا۔ ”اچھا اور کیا سمجھ آیا“، بابا جانی کو اس کا معصوم انداز بہت پیارا لگ رہا تھا۔ ”اور یہ کہ میرا اللہ بہت زبردست طاقت والا ہے اس لیے مجھے کبھی مایوس نہیں ہونا اور بہت بہادر بننا ہے۔ مطمئن رہنا ہے کسی سے حسد نہیں کرنا“، اور اور کاشف سر کھجانے لگا۔ تو کرن بولی، ”اور اپنے اللہ کی ہر بات ماننی ہے کیوں کہ وہ ہمیں ہر حال میں اور ہر جگہ پر دیکھ رہا ہے اور جلد ہی ہماری اپنے اللہ سے ملاقات بھی ہونی ہے“۔”شاباش بچو! اللہ تعالی آپ سب کو کامیاب فرمائے“، بابا جانی خوش ہو کر بولے تو کاشف پھر سے گنگنانے لگا۔

میں لا الہ الا اللہ پڑھتا ہوں
معنی بھی اس کے سمجھتا ہوں
اور
اب اس کو عمل میں لاوں گا
میں تو جنت جاوں گا
کھجوریں کھاوں گا

امی جان نے ان شاءاللہ کہا اور کاشف کی شاعری پر سب ہنسنے لگے۔

گالی اور غصہ (محمد مبین)

گالی اور غصہ (محمد مبین)

گالیاں کچھ لوگوں کا تکیہ کلام ہوتی ہیں، وہ بات بے بات گالیوں کی بوچھاڑ کرتے جاتے ہیں۔ غصہ آئے تو بھی گالیاں نکالتے ہیں، نہ آئے تو بھی ان کے منہ سے گالیاں ہی جھڑتی رہتی ہیں۔ ان کرداروں کو چھوڑ کر دیکھا جائے تو عام طور پرغصہ ہی گالیاں اور مغلظات بکنے کا باعث بنتا ہے۔ جب غصے میں بھوت بنا ہوا شخص اپنے مدمقابل کی ماں، بہنوں پر گندے اور فحش الزام لگا لیتا ہے اور اپنے تئیں اس کے حسب و نسب کو اچھی طرح مشکوک ثابت کر دیتا ہے تو اس کا کلیجا ٹھنڈا ہوتا ہے۔ صرف پنجابی زبان کا معاملہ نہیں، دنیا کی ہر زبان میں فصیح اور کٹیلی گالیاں تخلیق کی گئی ہیں۔ ان کا نمایاں وصف معتوب انسان کو بد اصل ثابت کرنا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے اس بے چارے کی ماں کو بدکردار بنائے بغیر ایسا نہیں کیا جا سکتا لہذا عام طور پر ماں ہی گالیوں کا محور بنی رہتی ہے۔ ماں بہنوں کی برائی کرنے کے علاوہ خود معتوب کو کتا، سور اور دوسرے برے القاب سے نوازا جاتا ہے۔

ایک مسلمان کے شایاں نہیں کہ وہ گالی گلوچ کرے۔ جو زبان اللہ کے شکر سے تر رہنی چاہیے، گالی اس پر نہیں جچتی۔ پھر غصے سے بے قابو ہو جانا جانوروں کا وصف ہے، عقل و شعور رکھنے والا آدمی کسی لمحہ عقل کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ تیسری بات کہ کسی پاک دامن عورت پر گالی کی صورت میں تہمت لگانا سخت گناہ ہے۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار انصار مدینہ کی ایک مجلس میں تشریف لے گئے۔ وہاں ایک شخص بیٹھا ہوا تھا جس کے بارے میں مشہور تھا، وہ گندی اور فحش باتیں کرتا ہے اور جلد ہی گالیوں پراتر آتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا، ”مومن کو گالی دینا گناہ ہے اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے“۔ اس شخص نے وعدہ کیا، بخدا! آئندہ میں گالی نہ نکالوں گا۔ گالیوں میں دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے جو تہمتیں دھری جاتی ہیں اورگندے الزامات لگائے جاتے ہیں ان کا برا ہونا حضرت محمدﷺ کے اس ارشاد سے واضح ہوتا ہے، ”کوئی شخص کسی دوسرے پر گناہ گار ہونے کا جھوٹا الزام یا کفرکی تہمت نہیں لگاتا مگر دوسرے میں برائی موجود نہ ہونے کی صورت میں وہ الزام اسی پر چسپاں ہو جاتا ہے“۔

آپﷺ نے فرمایا، ”مسلمان کو لعنت ملامت کرنا اسے قتل کرنے کی مانند ہے“۔ ایک تابعی ابو عبد اللہ بجلی نے ام المومنین سیدہ عائشہؓ سے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا، ”رسو ل اللہﷺ گفتگو میں حد سے نہ بڑھتے، وہ کبھی فحش بات نہ کرتے، بازار میں شوروغوغا نہ کرتے، برائی کا بدلہ برائی سے نہ دیتے۔ وہ تو معاف اور درگزر کرنے والے تھے“۔ یہ ایسی برائیاں ہیں کہ اللہ کے پاک نبیﷺ میں ان کے پائے جانے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن چوںکہ عام لوگوں کی اکثریت ان میں مبتلا ہے اس لیے ام المومنینؓ نے ان کی نفی وضاحت کے ساتھ کی۔ بد زبانی اور گالم گلوچ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ غصے پر قابو پانا سیکھا جائے۔ غصہ ایسی شے ہے جو انسان کے جسم اور دماغ پر حاوی ہو جاتا ہے، اس سے ہر انسانی عضو کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ دماغ کا سوچنے سمجھنے والے حصہ اپنا کام شروع بھی نہیں کرتا کہ غصے کا اظہار کرنے والا حصہ عمل میں آ جاتا ہے۔

غصہ کھانے والے شخص کے پٹھے کھچ جاتے ہیں، اس کی سانس تیز تیز چلنے لگتی ہے، دل کی دھڑکن اوربلڈ پریشر تیز ہو جاتے ہیں، کبھی وہ کانپنے بھی لگتا ہے۔ ان لمحات میں وہ توانائی سے پر ہوتا ہے اور کوئی قدم اٹھا سکتا ہے، وہ ایسا عمل بھی کر سکتا ہے جس پر اسے بعد میں خودنادم ہونا پڑے۔ اس موقع پر اگراس کی سوچ سمجھ غالب آ جائے تو وہ غصے پر قابو پا سکتا ہے ورنہ غصہ اپنا کام کر دکھاتا ہے۔ جس شخص سے بے انصافی ہوئی ہو یا اس کی حق تلفی کی گئی ہو، اسے جلد غصہ آتا ہے۔ ماہرین نفسیات کہتے ہیں، ”غصہ کسی پیش آنے والے خطرے کا رد عمل ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ خطرہ انسان کی اپنی ذات کودرپیش ہو یا کسی ایسے شخص کو جس سے وہ محبت کرتا ہو۔ یہ خطرہ حقیقی ہو سکتا ہے اور خیالی بھی۔ بھوک، تکلیف اور بیماریاں بھی غصہ پیدا کرتی ہیں“۔ انیسویں صدی میں فرائڈ نے کہا، ”جب انسان کو محبت نہیں ملتی تو وہ غصے کا شکار ہو جاتا ہے۔ اگرچے عام طور پر غصے کا اظہار گالی گلوچ، مارپیٹ اور قتل و غارت کی صورت میں ہوتا ہے لیکن کبھی غصہ کھانے والا خاموشی کا سہارابھی لیتا ہے۔ اس صورت میں اس کا رویہ تناو اور نفرت ظاہر کرتا ہے“۔

غصے کے اثرات سے بچنے کے لیے غصے کا باعث بننے والی وجوہات کو دور کرنا ضروری ہوتا ہے چوں کہ عام طور پر یہ انسان کے بس میں نہیں ہوتا اس لیے غصے کو کنٹرول کرناہی اہم ترین ذریعہ رہ جاتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا، ”دوسرے کو پچھاڑنے والا بہادر نہیں ہوتا، بہادر تو وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے اوپر قابو رکھے“۔ ایک صحابیؓ نے آپﷺ سے نصیحت کرنے کی درخواست کی تو آپﷺ نے فرمایا، ”غصہ نہ کیا کرو!“۔ آپﷺ نے یہ ارشاد کئی بار دہرایا۔ غصے پر بر وقت قابو پانا اور فحش کلامی سے بچنا مسلمانوں کی صفات میں سے ہے۔ غصہ جب جاتا ہے تو اپنے پیچھے فقط پشیمانی چھوڑ جاتا ہے لہذا کوشش کریں کہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کریں۔