مسجدیں آباد کریں (انصر محمود بابر)

مسجدیں آباد کریں (انصر محمود بابر)

ہمیں مساجد میں اب کچھ تبدیلی کرنی پڑے گی۔ مساجد کو صرف نماز پڑھنے کی جگہ ہی نہ بنائیں بلکہ اسلامی کمیونٹی سنٹر کی طرز پرچلائیں۔ وہاں غریبوں کے کھانے کا انتظام ہو۔ ڈپریشن میں الجھے لوگوں کی کاونسلنگ ہو۔ ان کے خاندانی جھگڑوں کو سلجھانے کا انتظام ہو۔ مستحقین کی مناسب تحقیق کے بعداجتماعی و انفرادی طور پر مدد کی جا سکے۔ اپنے گھروں کے فالتو سامان کو نادار افراد کے لیے عطیہ کرنے کی غرض سے مساجد کا ایک حصہ مخصوص ہو۔ آپس میں رشتے ناتے طے کرنے کے لیے ضروری واقفیت کا موقع ملے۔ نکاح کا بندوبست سادگی کے ساتھ مساجد میں کیے جانے کو ترجیح دی جائے۔ قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے اجتماعی کوششوں کا آغاز مساجد سے ہو کیوں کہ صدقات و خیرات کرنے میں ہم مسلمانوں کا کوئی ثانی نہیں۔ بڑی جامع مساجدسے ملحق مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم کا بھی اہتمام ہو ۔ ہماری مساجد میں ایک شاندار لائبریری ہو، جہاں پر مکمل اسلامی و عصری کتابیں مطالعہ کے لیے دستیاب ہوں۔ اب وقت آگیا ہے کے ترجیحات بدل کر کچھ ضروری جگہوں پربھی اپنا مال خرچ کیا جائے۔

ان میں سے کوئی بھی تجویز نئی نہیں ہے۔ تمام کاموں کی مثال 1400 سال پہلے کے دور نبوی ﷺ میں بآسانی دیکھی جاسکتی ہے۔ کیا مسجد ِ نبوی صحابہ کرام ؓ کی علمی وعملی تربیت گاہ نہیں تھی؟ تمام غزوات وسرایہ کی حکمت ِ عملی کا گڑھ مسجد نبوی تھی۔ ساری جنگی تیاری اور ساز و سامان کی تقسیم و ترتیب مسجد نبوی میں ہوا کرتی تھی۔ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، مسجد نبوی میں تلوار بازی بھی ہوا کرتی تھی اور دیگر علوم و فنون کی تربیت و تیاری بھی۔ کیا وجہ تھی کے اس دور کے مسلمان دوڑے دوڑے مسجدکی جانب آیا کرتے تھے؟ اور آج ہم نے اپنی نسل ِ نو کی دلچسپی کے لیے مساجد میں کیا انتظامات کیے ہیں؟

خدا کے بندو اپنی مساجد میں نوجوانوں کا داخلہ آسان بناﺅ ورنہ موجودہ عادی نمازیوں کے بعد خدانخواستہ مساجد ویران ہوجائیں گی۔ آپ کسی مسجد میں چلیں جائیں، آپ کو نمازیوں میں زیادہ تعداد ضعیف العمر، بلغم زدہ، ریٹائرڈ اور فارغ لوگوں کی نظرآئے گی۔ کیا وجہ ہے کہ نوجوان اور پڑھا لکھا طبقہ مسجد سے دورہے؟ شاید اس لیے کہ پھٹی پرانی صفوں اور گرد آلود فرشوں والی مساجد میں ان کی جرابیں گندی ہوتی ہیں۔ دنیاکے کسی کلب، ہوٹل، ریسٹورنٹ، کسینو، کالج اور یونیورسٹی میںچلے جائیں، آپ کو صاف ستھرا ماحول، سنٹرلی ائیرکنڈیشنڈ ہال، وائٹ واش اور فرنشڈ کمرے، تیز رفتار انٹرنیٹ اور جدید ترین لیب نظر آئیں گی۔ بے دھیانی میں کسی کو کندھا لگ جائے یا چھولیا جائے تو وہ بجائے گھورنے کے سوری کرتا ہے۔ آپ کو وہاں پر دنیا کے بہترین طور طریقے اور انٹرنیشنل ریلیشنز کے معیار ملیں گے۔

جب کہ ہماری مساجد میں آج بھی برادری ازم اور اجارہ دارانہ نظام دیکھنے کو ملتا ہے۔ پرانے نمازی کبھی کبھار نماز پڑھنے والوں کو عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔ جب کہ پچھلے 60 سالوں سے نماز پڑھنے والوں میں سے 40 فیصدسے زائد لوگوں کوساری نماز بھی نہیں آتی ہوگی۔ نئے نمازی کوشاید ہی کبھی پہلی صف میں جگہ ملی ہو۔ پچھلی صفوں میں اگر بچے شور مچا رہے ہوں تو آئندہ کے لیے ان کے مسجد میں داخلے پر پابندی لگادی جاتی ہے۔ اس پہ سونے پہ سہاگہ یہ کہ ہمارے آئمہ حضرات دنیاوی تعلیم کو آج بھی غیر اسلامی اور کافروں کی تعلیم سمجھتے ہیں۔ پینٹ شرٹ اور تھری پیس وغیرہ کو غیر شرعی لباس سمجھ کر قابل ِ نفرت سمجھا جاتاہے جب کہ دوسری جانب کالج اور یونیورسٹی کے طلباءکے اذہان میں اٹھنے والے سوالات کو شیطانی وسوسے قرار دے کر جھٹلا دیا جاتا ہے اور نتیجتاً نوجوان نسل دین سے دور ہوتی چلی جاتی ہے۔ ان پہ فتوے لگائے جاتے ہیں کہ دیکھو انگلش تو فرفر بولتا ہے اور دین اتنا بھی نہیں آتا کہ باپ کا جنازہ ہی پڑھا سکے۔ خدارا اب رک جائیں، سوچیں اور اپنی ترجیحات بد لیں۔ اپنے بچوں کو وقت دیں۔ ان کے مسائل کوسمجھیں۔ ان کی ترجیحات کو جانیں ورنہ آج کی نسل کوبے دین کرنے کی ساری ذمے داری آپ پہ ہوگی اور مورخ آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔

ہے زندگی کا مقصد اورورں کے کام آنا (فاطمہ خان)

ہے زندگی کا مقصد اورورں کے کام آنا (فاطمہ خان)

اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں۔ زندگی کا اصل مقصد دوسروں کی مدد ہے۔ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات پیدا کیا ہے، یعنی تمام مخلوقات سے افضل اور اعلی مخلوق۔ انسان تمام مخلوقات سے اس لیے افضل ہے کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے کام آتا ہے۔ اس کے دل میں ایثار و قربانی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ اپنے لیے جینا کوئی مشکل نہیں۔ معاشرے میں حسن تب ہی پیدا ہوتا ہے جب سفید پوش لوگ عزت اور بھرم کو قائم رکھ پائیں اور ضروریاتِ زندگی بھی پورا کر سکیں۔ ہمارا معاشرہ ایک مسلط کردہ دوڑ میں بغیر نفع نقصان جانے دوڑا چلا جا رہا ہے۔ اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتا ہے لیکن غریب اور مظلوم کے لیے اندھا اور بہرہ بن جاتا ہے۔ انسان اشرف المخلوقات ہو کر بھی اپنے مقام سے گرتا جا رہا ہے۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے، حالات نہیں بدل رہے۔ حالات کیسے بدلیں۔ حالات بدل نہیں سکتے جب تک ہم خود نہ بدل جائیں۔ ہمیں یہ سوچنا ہے کہ نیکی کرنے کے لیے اپنے خاندان کا تعارف کروانا ہمارے لیے ضروری کیوں ہے؟

ایک عام سی مثال سے جائزہ لیتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ بس اسٹاپ، چوراہوں، بازاروں، اسکولوں، اسپتالوں میں ٹھنڈے پانی کے کولر لگائے جاتے ہیں۔ کولر پر جتنی جگہ ہوتی ہے وہاں خاندان کے افراد کے نام کے ساتھ ان کے ایصال ِثواب کے لیے نوٹ لکھا ہوتا ہے۔ یہ قدرتی سی بات ہے جب انسان تکلیف سے گزر رہا ہو اور اسے اچانک سکھ کا، سکون کا لمحہ مل جائے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس وسیلے کا بھی شکریہ ادا کرتا ہے اور اس کے لیے دعا کرتا ہے۔ پیاس میں، تھکن سے چور انسان جب ٹھنڈا پانی پیے گا تو بلواسطہ وہ اس کے لگوانے والے کو یعنی وسیلے کے حق میں دعا کرے گا۔

اسلام کہتا ہے اگر راہ سے کانٹا یا پتھر ہٹا دیا تو بھی نیکی ہے۔ ایک وقت تھا جب گھروں کے باہر پانی کا بندوبست کیا جاتا جاتا تھا، چھاوں کا انتظام کیا جاتا تھا۔ بالخصوص ان گھروں میں جہاں اسٹاپ یا چوک ہوں تا کہ مسافروں کو تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لیکن انسان جب سے مادہ پرستی کا شکار ہوا ہے، اپنی حقیقت سے منہ موڑ بیٹھا ہے۔ آج اگر کوئی اللہ کا بندہ پیاس سے تڑپتا ہوا آپ کے دروازے پہ آجائے تو آپ پانی تو درکنار دروازہ تک نہیں کھولیں گے۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں ہے۔ ان گناہگار آنکھوں نے ایسے بے شمار واقعات دیکھے ہیں اور دکھ کی بات یہ ہے کہ بہت پرہیز گار لوگ بھی ایسا ہی منافقانہ رویہ رکھتے ہیں۔ وہ شاید اس بات سے ناواقف ہیں کہ انسانیت کے تقاضے کیا ہیں۔ میردرد نے کیا خوب کہا:

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

لوگ سڑکوں پہ بھوکے، ننگے سردی میں پڑے رہتے ہیں اور حکمران اپنی گاڑیوں میں بھی ہیٹر سے مستفید ہوتے ہیں۔ فرق ضرویات سے آسائشات اور تعیشات کا ہے۔ غریب ضروریات کے لیے تڑپ تڑپ کر مر رہا ہے جب کہ امراءآسائشات کے بعد تعیشات سے بھی آگے مریخ کی تسخیر کے خواہاں ہیں۔ حالاں کہ تعیشات کے بعد ہی سہی کم از کم یتیم و مسکین کے حال پہ ترس کھا لیا جانا ان کے اختیار میں ہے۔ افسوس کہ حالات اس قدر بگڑے ہیں کہ ان کی تلخی کو کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے،

روٹی امیرِ شہر کے کتوں نے چھین لی
فاقہ غریب گھر کے بچوں میں بٹ گیا
چہرہ بتا رہا تھا کہ مارا ہے بھوک نے
حاکم نے یہ کہا کہ کچھ کھا کہ مر گیا

انسان اکیلا نہیں رہ سکتا۔ اسے زندگی گزارنے کے لیے دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنا پڑتا ہے۔ مل جل کر رہنے سے خوشی اور غم بانٹنے سے معاشرے میں نکھار آتا ہے۔ بہترین انسان دوسرے انسانوں کی بوقتِ ضرورت بڑھ چڑھ کر مدد کرتا ہے۔ اللہ اپنے بندوں سے 70 ماوں سے زیادہ پیار کرتا ہے، پھر بھلا وہ کیسے اپنے بندے کو مشکل میں تنہا چھوڑ سکتا ہے۔ علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں،

خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا

مدد یا ہمدردی کرنے سے اللہ بھی راضی ہو گا اور معاشرہ بھی خوشحال ہو گا۔ غریب کو کھانا کھلانا نیکی ہے۔ ایسے افراد جو اپنے بچوں کو مفلسی کے تحت اسکول نہیں بھیج پاتے۔ ان بچوں کو صاحبِ حیثیت لوگ اسکول پڑھا سکتے ہیں۔غریب بچیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے والدین کی دہلیز پہ بیٹھی بوڑھی ہو جاتیں ہیں۔ کیا مخیر افراد کا فرض نہیں کہ وہ ان سفید پوش طبقے کی مدد کریں۔ اللہ نے اس طبقے کی مدد کے لیے زکوة، عشر، صدقات اور خیرات کے ذرائع پیدا کیے۔ اللہ نے مسلمانوں پر یہ واضح کیا کہ زکوة مال و دولت کو پاک کرتی ہے بالکل اسی طرح جس طرح روزہ جسم کو ہر بیماری سے پاک کرتا ہے۔

جنگِ یرموک میں ایک زخمی کو جب پانی پلایا جانے لگا تو اس نے دوسرے زخمی کی طرف اشارہ کیا کہ پہلے اسے پانی پلایا جائے۔ جب دوسرے زخمی کو پانی پلانا چاہا تو اس نے تیسرے زخمی کی جانب اشارہ کیا کہ پہلے اسے پانی پلایا جائے۔ پانی پلانے والا شخص جب زخمی کے قریب آیا تو دیکھا کہ زخمی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا تو وہ دوسرے زخمی کے پاس دوڑا دوڑا پہنچا لیکن وہ بھی شہید ہو چکا تھا۔ پانی پلانے والا شخص جب پہلے شخص کے پاس آیا تو وہ بھی جامِ شہادت نوش کر چکا تھا۔ یہ ہے اسلام کی تعلیم کہ زخموں سے چور ہوتے ہوئے بھی دوسرے بھائی کے لیے قربانی کا جذبہ عروج پہ رہا۔ موت کے خوف سے ان کے قدم ڈگمگائے نہیں بلکہ حوصلہ بلند رہا اور ایثار کا جذبہ سر چڑھ کہ بولا کہ میں نہیں میرے دوسرے بھائی کو پانی دے دیا جائے۔

تاریخِ اسلام کی ورق گردانی کی جائے تو اسلام ایسی مثالوں سے جگمگا رہا ہے۔ فتحِ مکہ کے موقع پر انصار نے مہاجرین کا جس طرح خیر مقدم کیا، تاریخ میں ایسی مثال نہ کبھی تھی نہ آگے مل پائے گی۔ انصار نے مہاجرین کو صرف بھائی تسلیم نہیں کیا بلکہ بھائی کے تمام فرائض بھی سر انجام دیے۔ اپنے گھر، کاروبار تک ان کو دے دیے۔ مسلمان مادیت کے ایسے دلدل میں گر چکا ہے کہ اپنے اصل کو بھول بیٹھا ہے۔ اب وقت آن پہنچا ہے کہ کائنات میں انسان اپنی تخلیق کے محرک کا ادراک کرے اور خود کو اشرف المخلوقات ثابت کرے۔

خوشبو (علی عبداللہ)

خوشبو (علی عبداللہ)

خوشبو سے مجھے فلم ”دی پرفیوم“ اکثر یاد آجاتی ہے کہ جس کا مرکزی کردار اپنی فطری انسانی خوشبو سے محروم ہونے کی بنا پر چاہے جانے سے عاری ہوتا ہے اور یہی محرومیت پہلے اسے باقاعدہ عطرسازی سیکھنے پھر اس کے تجربات خوب صورت دوشیزاو¿ں پر کرنے پر اکساتی ہے تاکہ وہ ان میں سے ایسی خوشبو کشید کرے جو اک عالم کو مسحور کر سکے۔ آخر کار وہ ایک عجیب و غریب اور مسحورکن خوشبو بنانے میں کامیاب تو ہو جاتا ہے مگر اس کی قیمت کیا ادا کرتا ہے، اس کے لیے آپ کو یہ فلم ہی دیکھنا پڑے گی۔ اس میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ خوشبو کے لیے آپ کے پاس ایک اچھی ناک کا اور مستقل مزاجی کا ہونا ضروری ہے، یعنی آپ باذوق بھی ہوں۔ ایک اچھی خوشبو نہ صرف آپ کا اعتماد برقرار رکھتی ہے بلکہ اس سے آپ کا اور اردگرد کے لوگوں کا موڈ بھی اچھا رہتا ہے۔ ہمارے ہاں مہنگے کپڑوں اور جوتوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے مگر خوشبو کے معاملے میں ”کوئی بھی دے دو“ سننے کو ملتا ہے حالاں کہ خوشبو انسانی مزاج اور جذبات پر بہت گہرا اثر ڈالتی ہے۔ کہتے ہیں قلوپطرہ نے جو خوشبو اپنی کشتیوں کے بادبانوں سے لگائی تھی وہ ساحل پر پہنچنے سے پہلے، میلوں دور سے ہی مارک انٹونی کو محسوس ہو گئی تھی۔ اسی لیے شیکسپئیر نے اس بارے کہا تھا،
” So perfumed that the winds were lovesick with them”

پرفیوم یونانی زبان کے لفظ perfumare سے اخذ کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں “To smoke through” یعنی دھویں کے ذریعے۔ عطر سازی قدیم میسوپوٹیمیا اور مصر سے شروع ہوئی، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا آغاز قدیم چائنہ سے ہوا تھا جب کہ اسے مزید ترقی یافتہ رومیوں اور عربوں نے بنایا۔ ہندوستان میں بھی اس کے آثار 3300 قبل مسیح سے 1300 قبل مسیح کے درمیان ملتے ہیں۔

کسی بھی خوشبو کی تین پرتیں ہوتی ہیں۔ پہلی وہ جسے آپ معمولی سا سونگھ کر بے نقاب کرتے ہیں۔ اسے ٹاپ نوٹ کہا جاتا ہے اور اکثر لوگ اسی کے بل بوتے پر پرفیوم خریدتے ہیں۔ اکثر کمپنیوں کے لیے یہ ٹاپ نوٹ ہی سیلنگ پوائنٹ ہوتا ہے۔ یہ پرت دیر پا نہیں ہوتی۔ دوسری پرت جسے ہارٹ نوٹ یا مڈل نوٹ کہا جاتا ہے، یہ اس پرفیوم میں موجود جڑی بوٹیوں اور دیگر عناصر پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ پرت ٹاپ نوٹ سے زیادہ دیر پا ہوا کرتی ہے جو بیس نوٹ کی فوری ناخوش گوار خوشبو کو ڈھانپتی ہے۔ تیسری پرت بیس نوٹ کہلاتی ہے، جو سب سے زیادہ دیر پا اور مسحور کن ہوتی ہے، اس نوٹ میں عموماً قیمتی لکڑی، عنبر اور مشک وغیرہ شامل ہوتا ہے۔ اس پرت کا اثر کم ازکم 30 منٹ کے بعد ظاہر ہوتا ہے اور یہی پرت آپ کو ایک ان دیکھی کائنات اور دلکش احساس سے نوازتی ہے اور آپ کے موڈ اور مزاج پر اثر انداز بھی ہوتی ہے۔

پرفیوم مختلف کیٹیگری کے ہوتے ہیں جن کا علم ہونا ضروری ہے۔ Eau de Toilette میں خوشبو دار آئل کی مقدار 10 فیصد تک ہوتی ہے۔ اسی بنا پر یہ خوشبوئیں زیادہ دیر پا نہیں ہوتیں۔ Eau de parfum کیٹیگری میں شامل کیے جانے والے خوشبودار آئل کی مقدار 15 سے 20 فیصد تک ہوتی ہے، جس بنا پر ان کی خوشبو پہلی کیٹیگری سے زیادہ دیرپا ہوتی ہے جب کہ صرف پرفیوم جو کہ خالص خوشبو ہوتی ہے، اس میں یہ آئل 40 فیصد تک ہوتی ہے اور یہ بہت زیادہ دیر قائم رہنے والی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خالص پرفیوم کی قیمت بھی بہت زیادہ ہے۔ جدید زمانے میں پرفیوم عموماً ایتھانول، یا ایتھانول اور پانی کی ملاوٹ سے بنایا جاتا ہے اور پھر اس کے اندر خوشبودار آئل کی کیٹگری کے حساب سے ملاوٹ ہوتی ہے۔

پرفیوم خریدتے وقت کوشش کیجیے کہ ایک ہی وقت میں دو یا تین سے زیادہ ٹیسٹ نہ کریں، ورنہ آپ کا دماغ زیادہ بوجھ برداشت نہ کر پائے گا۔ مزید دکاندار حضرات ساتھ کافی کے دانے بھی رکھتے ہیں تاکہ وقفہ لے لیا جائے مگر بہتر یہ ہوتا ہے کہ کافی کی بجائے آپ اپنے جسم کو سونگھیں تاکہ آپ کا دماغ نارمل حالت میں آ کر نئے پرفیوم کو بہتر طریقے سے ٹیسٹ کر سکے۔ پرفیوم لگانے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ جہاں خون کی گردش زیادہ ہو وہاں چھڑکا جائے۔ اس سے خوشبو زیادہ پھیلتی ہے۔ یعنی کان کے پچھلے حصوں، گردن، کلائی اور ہاتھوں کے اوپری حصوں پر۔ اس کے علاوہ بالوں کے برش پر پرفیوم چھڑک کر بال بنائیں جائیں تو بھی خوشبو زیادہ دیر تک موجود رہتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اگر آپ خود کو پرسکون رکھنا چاہتے ہیں تو لیونڈر کی خوشبو استعمال کیجیے اور اگر فوری انرجی بوسٹر چاہیے ہو تو سٹرس وغیرہ جیسی خوشبو کا استعمال کرنا بہتر ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ جاسمین، صندل اور عود بھی بہت زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔ گو کہ خوشبو منتخب کرنے کے لیے جنس یعنی مردانہ یا زنانہ کا فرق نہیں ہوتا لیکن کچھ لوگ اس کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ اسی بنا پر چند مشہور اور بہترین مردانہ و زنانہ پرفیوم کے نام پیش نظر ہیں، اگر موقع ملے تو ان میں سے کوئی بھی ضرور خریدیے۔ خواتین میں،burberry, gucci bloom, the body shop white musk, bvlgari, origins ginger essence skin scent, وغیرہ کافی مقبول ہیں۔ ان کے علاوہ Tom ford oud minerale, SJP Stash, اور Francis kurkdjian aqua vitae آل ٹائم فیورٹ خوشبوئیں ہیں۔ جب کہ مردوں کے لیے davidoff cool water, Dolce & Gabana light blue, calvin klein ck one, dunhill, 273 california, obsession، joop Homme اور Tom Ford oud wood کافی مقبول ہیں۔

حکمرانوں کی بے حسی (ثمن عاصم)

حکمرانوں کی بے حسی (ثمن عاصم)

ٹپ ٹپ کرتی بوندیں دوپہر کے قریب موسلا دھار بارش میں بدل گئیں۔ بڑی بیٹی اللّھم صیبا نافعا کا نعرہ لگاتے ہوئے چھت پر بھاگی۔ بارش دیکھ کر بے اختیار رب تعالی کا شکر ادا کیا۔ کراچی میں گرمی کی شدت میں کمی لانے اور پانی کی کم یابی کو دور کرنے کے لیے بارش اشد ضروری تھی۔ بارش سے لطف اٹھا کر نیچے آئے تو کے الیکٹرک نے روایتی تکلیف دینے کا آغاز کردیا تھا۔ بجلی بند، پانی ختم اور تو اور موبائل کی بیٹریز بھی ٹمٹما رہی تھیں۔ کے الیکٹرک کو کوسنے دیتے ہوئے فیس بک پر آئی اور وال چیک کرنے لگی۔ میری بڑی بیٹی یوم آزادی کی مناسبت سے تقریر کی تیاری میں مگن تھی۔ ایک جملہ اس کے دہراتے ہوئے سماعتوں کو مستقل ٹکرا رہا تھا کہ ”حضرت عمرؓ کہا کرتے تھے کہ فرات کنارے کتا بھی پیاس سے مر جائے تو اس کا بھی جواب دہ عمر ہوگا“۔ جملہ یاد کرنے میں باربار بیٹی کا بولنا اور ماو¿ں کی طرح مجھے بھی جھنجھلاہٹ میں مبتلا کررہا تھا۔ ہم ازراہ مذاق گھر میں کہتے ہیں یہ اتنا بولتی ہے کہ لگتا ہے کہ اس کی کیسٹ اٹک گئی ہے۔

بہرحال میں نے کے الیکٹرک کا غصہ بیٹی پر اتارا ہی تھا کہ فیس بک وال پر ایک دل دہلادینے والی وڈیو نظر کے سامنے آگئی۔ دو معصوم رنگ برنگ پینٹ شرٹ پہنے سائیکل پر ایک دوسرے کو مضبوطی سے تھامے اوندھے پڑے تھے۔ سمجھنے میں زیادہ دقت اس لیے محسوس نہ ہوئی کہ قریبی لگے پول اور زمین پر پڑے پانی نے قصہ لمحوں میں سمجھادیا۔ دماغ ماوف ہوگیا، ہاتھ پاوں کپکپانے لگے۔ ماں ہوں اور ان بچوں کی ماوں کا درد سمجھ سکتی ہوں۔ کیسے کیسے خواب ہوں گے، تعلیمی معاملات پر باز پرس بھی کی جاتی ہوگی لیکن اب دو پھول ساری زندگی کا دکھ دے گئے ماں باپ کو۔

بچوں کی پیدائش، ان کی پرورش ان کی تربیت سے مشکل شاید ہی کوئی کام ہو لیکن ایک ادارے کی غفلت، ہٹ دھرمی اور بے حسی نے ایک ماں سے، ایک خاندان سے اور وطن کے مستقبل کو کن پھولوں سے محروم کردیا اس کا اندازہ ذرا بھی کسی کو ہو تو یہ حادثات جنم ہی نہ لیں۔ بجھے دل کے ساتھ وال آگے بڑھائی تو ایک تصویر دیکھ کر دل و دماغ میں غصے کی لہر امڈ آئی۔ شہر ڈوب رہا ہے۔ بچے کرنٹ سے مارے جارہے ہیں لیکن وزیر اعلی، گورنر، مئیر کراچی سب کے سب چائے پراٹھے کے میلے سجارہے ہیں۔ بے اختیار دل چاہا کہ ان ارباب اختیار کو چوکوں اور چوراہوں پر لایا جائے اور بیانگ دہل پوچھا جائے

کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے
کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے

ان تصاویر سے جھلکتی بے فکری، ان کی بے حسی کی چادر پھاڑ چکی ہے۔ عوام کی سسکیاں ان کی چائے کی چسکیوں کی آواز میں دب کر رہ گئیں ہیں۔ ارباب اختیار ہوش کے ناخن لو نجانے تمہیں خدا سے ڈر کیوں نہیں لگتا۔ تمہاری عمل داری میں اداروں کی غفلتیں ہنستے بستے گھروں کو اجاڑ رہی ہیں۔ حاکمان وقت ٹھنڈے ٹھار کمروں میں آرام فرماتے ہیں، ہائی لکس، ویگو گاڑیوں میں گھوم کر ڈھٹائی کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہماری تو گاڑیاں پانی میں بند نہیں ہوئی تو گویا پانی اتنا بھی نہیں ہے۔ کراچی میں شہری بل بھی بلکہ اوور بلنگ بھی بھریں اور قتل گاہوں میں بھی ہمارے بچے مارے جائیں آخر کیوں؟

اے سربراہ مملکت! اے وزیر اعظم پاکستان! آپ ہی لوگ کہتے ہیں نا کہ ریاست ہوگی ماں کے جیسی۔ سرکار ماں کی گود میں تو سکون ملتا ہے لیکن ہمیں تو یہاں اپنا آپ یتیموں جیسا محسوس ہوتا ہے۔ ساری سوچوں کو سوالات کی صورت ذہن میں تحریر کے لیے اکھٹا کررہی تھی لیکن بیٹی کا ایک جملہ اب بھی سماعتوں کو چیر رہا تھا۔ وہی کہ فرات کنارے کتا بھی پیاس سے مر جائے تو روز قیامت اس کا جواب دہ عمر ہوگا۔۔۔۔ آنکھیں بھیگ گئیں ہچکیاں بندھنے کے قریب تھی کہ میری گڑیا پاس آئی اور کہا کہ مما آپ رو کیوں رہی ہیں؟ بس ایک جملہ کہا کہ بیٹا ”ہمارے حضرت عمرؓ اب نہیں رہے نا! اس لیے۔

آزادی، قربانی اور کشمیر (ناصر محمود بیگ)

آزادی، قربانی اور کشمیر (ناصر محمود بیگ)

ہرسال جیسے ہی اگست کا مہینا آتا ہے پاکستان کے ہر محب وطن شہری کے دل میں پاکستانیت کا جذبہ اپنے عر وج پر نظر آتا ہے۔ گھروں اور بازاروں کو سجاےا جاتا ہے۔ ملکی اور علاقائی سطح پر جشن آزادی کی رنگا رنگ تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ اہم قومی عمارات کو سبز ہلالی پرچم اور چراغاں سے مزین کیا جاتا ہے۔ اس سال یوم آزادی کی ےہ تصویر قدرے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ میرے وطن کی فضا میں خوشی اور غم کے ملے جلے جذبات پائے جاتے ہیں۔ اس سال عید قربان اور یوم آزادی ایک دن کے وقفے سے اکٹھے ہوئے ہیں اور ساتھ ساتھ مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسلمانوں پر زندگی مزید تنگ کر دی گئی ہے۔ آج ہر پاکستانی کا دل اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ بھارت نے اپنے آئین سے آرٹیکل 370 ختم کر کے کشمیر کی جداگانہ حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے مگر مودی سرکار کی یہ مذموم کوشش الٹا اس کے گلے پڑنے والی ہے اور عنقریب کشمیر کی آزادی کا سورج طلوع ہوگا ان شاءاللہ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کی گئی، اس نے اپنی آزادی کی جدو جہد جاری رکھی اور ایک دن آزاد اور خود مختار قوم بن گئی۔

آج ہم بھی اپنی آزادی کی بہترویں سالگرہ منا رہے ہیں اس کے لیے ہم اپنی عمارتوں پر پرچم بھی لہراتے ہیں اور خوشی کے ترانے بھی گاتے ہیں لیکن پتا نہیں کیوں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ وطن ہمیں کتنی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے۔ کتنی عورتوں کے سہاگ اجڑے، کتنی ماﺅں کے سامنے ان کے شیر خوار بچوں کو نیزوں میں پرو دیا گیا، کتنی پاک دامن بیبیوں کی عصمتوں کو پامال کیا گیا، کتنے نوجوانوں نے اپنی زندگیاں قربان کیں، تب جا کر آزادی کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ آج لاہور کی سڑکوں پر ون ویلنگ کرنے والے اور آزادی کے جشن پر رقص وسرور کی محفلیں سجانے والے نوجوان کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ پاکستان ہمیں کسی نے پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیا گیا۔ یہ ان تھک محنت، طویل جدو جہد اور لازوال قربانیوں کی ناقابل فراموش داستان ہے۔

آج یہ مہینا آزادی کا مہینا ہے اور ساتھ ساتھ قربانی کا مہینا بھی ہے جس میں مسلمان اپنا قیمتی جانور اپنے رب کی خوشنودی کے لیے قربان کرتے ہیں۔ اس مرتبہ عید قربان اور جشن آزادی ایک دن کے وقفے سے اکٹھے ہوئے ہیں۔ یہ سال ہمیں اس بات کی ےاد دہانی کرواتا ہے کہ آزادی اور قربانی کا بہت گہرا تعلق ہے۔ آزادی کبھی بھی قربانیوں کے بغیر نہیں ملا کرتی۔ آزادی کی قیمت ہمیشہ قربانی سے ادا کرنا پڑتی ہے۔ اسی آزادی کی خاطر ہمارے کشمیری بھائی پچھلے ستر سال سے جان، مال اور عزت کی قربانی دے رہے ہیں اور ان شاءاللہ اب وہ وقت دور نہیں جب سری نگر کے ہیڈ کواٹر پر پاکستان کا پرچم لہرائے گا کیونکہ

یاران جہاں کہتے ہیں جسے کشمیر، ہے جنت
اور جنت کسی کافر کو ملی ہے، نہ ملے گی

آج پاکستان کا بچہ بچہ کشمیر کی آزادی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیارہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم ؒنے فرمایا تھا، ”کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے“ اور اپنی شہہ رگ کو دشمن کے پنجے سے چھڑوانے کے لیے ہم ہر طرح کی قربانی دے سکتے ہیں۔ آج کشمیر کے مظلوم مسلمان مدد کے لیے پکار رہے ہیں کہ کوئی محمد بن قاسم آئے اور ان کو وقت کے راجا داہر سے آزاد کروائے، کوئی طارق بن زیاد ہو جو اپنی کشتیاں جلا کر ان کی فریاد پر لبیک کہے۔ مجھے امید ہے کہ ہمارے حکمران اور سپہ سالار ضرور ایسا فیصلہ کریں گے جس سے کشمیریوں کے دکھ درد کا مداوا ہو گا اور شہیدوں کا لہو رنگ لائے گا۔ ان شاءاللہ ۔

کشمیر میرا ہو چکاہے پھر سے لہو لہو
میں کس منہ سے کہوں جشن آزادی مبارک

تحریک پاکستان ۔۔۔ آگ و خون کا کھیل (عالیہ ذوالقرنین)

تحریک پاکستان ۔۔۔ آگ و خون کا کھیل (عالیہ ذوالقرنین)

تاریخ انسانیت میں”تحریک پاکستان“ بلاشبہ ایک ایسی تحریک تھی جس کی آبیاری خون سے کی گئی۔ آزادی کے دیوانے اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو مذہبی، اخلاقی، معاشی، نظریاتی، ثقافتی، سیاسی اور سماجی آزادی دینے کا عزم لیے ایک سبز ہلالی پرچم تلے جمع ہوئے اور پھر پیچھے نہ دیکھتے ہوئے آگے بڑھتے چلے گئے۔ ایسی کون سی قربانی تھی جو اس جدوجہد کے لیے نہ دی گئی ہو خواہ وہ آبروریزی کی شکل میں ہو یا خون ریزی کی شکل میں۔ آگ و خون کا دریا عبور کیا گیا تو تحریک پاکستان رقم ہوئی۔

تحریکِ آزادی محض اتفاقیہ تحریک نہ تھی بلکہ تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی اپنی بقا اور اسلامی احیاءکی حفاظت کے لیے باہمی رضا مندی سے پروان چڑھنا شروع ہوئی۔ برصغیر کے انگریز و ہندوو¿ں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ مسلمانوں سے ان کے اس شعور کو چھین لیا جائے کہ وہ ایک قوم ہیں تاکہ ان کو غلام بنانا آسان ہو جائے اور ان کو ہر لحاظ سے اتنا کمزور کر دیا جائے کہ وہ کبھی پنپ نہ سکیں۔ 30 دسمبر1906ءکو نواب وقار الملک کی صدارت میں ایک خصوصی اجلاس ہوا اس اجلاس میں نواب سلیم اللہ خان نے آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام کی قرار داد پیش کی جسے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا مسلم لیگ کے قیام کا مقصد مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ تھا اور مسلمانوں کو ایک سیاسی پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا۔ مسلم لیگ کا قیام جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے مسلم لیگ کے قیام سے مسلمانوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے کا موقع ملا۔

قائد اعظم نے 1935ءمیں جب مسلم لیگ کی باگ ڈور سنبھالی تو مسلمانوں کے حالات میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی واقع نہ ہوئی مگر 1936۔37 کے انتخابات کے بعد یہی جماعت ہندوستان کے مسلمانوں کے دل کی آواز بن گئی۔ انگریز اور ہندو سدا مسلمانوں کو اپنا غلام دیکھنے کے خواہاں رہے مگر جب تحریک پاکستان کی شکل میں وہ اسے روکنے میں ناکام رہے تو مسلمانوں کی بدترین نسل کشی سے اس کا بدلہ لیا گیا۔ کون سا ایسا ظلم ہے جو نہیں ڈھایا گیا۔ ہندوستان کی اسلحہ ساز فیکٹریوں میں کئی ماہ پہلے سے اسی مقصد کے لیے تیار اسلحہ بھارتی فوج، پولیس اور ہندو انتہا پسند تنظیموں میں تقسیم کیا گیا تاکہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے دہشت و قتل و غارت گری کا کھیل کھیل سکیں اور اس کے نتیجے میں جو کچھ ہوا اس کی مثال آپ تاریخ انسانیت میں بمشکل ڈھونڈ سکیں گے۔ جگہ جگہ کٹے پھٹے اجسام، معصوم خواتین کی برہنہ لاشیں، خون میں لتھڑے ہوئے لاشوں کے ڈھیر، عصمتیں بچاتی خواتین کی لاشوں سے بھرے کنویں، چھری چاقو سے ذبح ہوتے بچے اس خواب کا کفارہ تھے جو مسلمانوں نے اپنا تشخص بچانے کے لیے دیکھا تھا۔

سینے دے وچ بلماں ٹ±ٹیاں
سر قلم ہوئے تے قلماں ٹ±ٹیاں
عشق دی اچی ٹاہنی اتے
عذرا بانو تے سلما لٹیاں
فیر جا ای موقع بنیا
پاکستان کوئی سوکھا بنیا؟

آج ہمارے نوجوان کہتے ہیں کہ پاکستان کیوں بنایا؟ کیا چھ لاکھ افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ خواہ مخواہ پیش کر دیا؟ جی نہیں وہ اہل فراست اپنی نسلوں کا مستقبل بچا گئے اور بھارت و کشمیر کے موجودہ حالات اس کا واضح ثبوت ہیں۔1947 میں قوم ایک تھی مگر ملک نہ تھا آج بہتر سال بعد ملک ہے مگر قوم ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔

خدارا اس ملک و ملت سے کسی بھی طرح کی غداری مت کیجیے۔ کچھ بھی کرنے، بولنے اور لکھنے سے پہلے سوچیں کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمیں طشتری میں رکھ کر پیش نہیں کیا گیا اس کی بنیادوں میں ہمارے اجداد کا خون ہے اور یاد رکھیے تاریخ سب کچھ معاف کر دیتی ہے مگر اپنے مذہب، ملک سے غداری معاف نہیں کرتی۔