پروفیشنل کتے (شاہ زمان شمسی)

پروفیشنل کتے (شاہ زمان شمسی)

اکیسویں صدی کے اس دور پرآشوب میں صنعتی انقلاب کا اثر نسل نو کی زندگیوں پر کیا ہو رہا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب نہایت نا گزیر ہے اور جو اثرات انڈسٹریل زندگی نے ہماری عملی زندگی میں مرتب کیے اس کا اثر و نفوذ ہماری زبان و بیان اور تعمیری زندگی کی تشکیل میں کیسا رہا؟

آخر کار ایک یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے طالب علم کو پروفیشنل مقام پر ملازمت کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ایک دانش گاہ یا پھر تدریسی جگہ انسانی کردار اور رویے پر گہرا اثر پیدا کرتی ہے اس کی روشن خیالی شعوری اور اخلاقی سطح کی بلندی کے لیے مختلف علمی و ادبی حلقے اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہیں لیکن جب وہ کسی پروفیشنل ادارے کے ساتھ وابستہ رہ کے اس ادارے کی دی گئی ہدایات پر عمل پیرا ہوتا ہے تو وہ پروفیشنل ادارہ ٹریننگ دینے کے بعد شعور و ادراک، فکر کی بلندی، اور اخلاقی رویوں کو زائل کر کے ایک ایسا پروفیشنل کتا بنا دیتا ہے جس کا مقصد دوسروں کو کاٹ کھانا ہو۔

پروفیشنل کتے زیادہ تر مینیجرز اور ڈائریکڑوں کی شکل میں مختلف فیکٹریوں اور صنعتی جگہوں پر پائے جاتے ہیں ان کا مقصد نئے سے نئے رنگ برنگے کتے تیار کرنا ہوتا ہے کچھ کتے ان میں پالتو اور وفادار ہوتے ہیں جنہیں اپنے تلوے چٹوانے کے لیے مخصوص کر لیتے ہیں اور یہ وہ کتا ہوتا ہے جو تلوے چاٹنے اور بھونکنے کے فن میں اتنا ماہر ہوتا ہے کہ اسے بعد میں کتوں کی رعایا کا حکمران بنا دیا جاتا ہے۔

پروفیشنل کتوں کی اقسام

کھوجی کتے

یہ وہ کتے ہیں جنہیں افسران بالا نے کھوج لگانے کے لیے معمور کیا ہوتا ہے۔ سوائے بھونکنے کے یہ خود تو کوئی کام نہیں کرتے لیکن دوسروں کی کھوج کچھ اس طریقے سے کرتے ہیں کہ دوسروں کو خبر نہیں ہوتی۔

چغل خور کتے

یہ وہ کتے ہیں جو کھوج لگانے کے ساتھ ساتھ محنت مزدوری کرنے والے افراد کی کمزوریوں اور ان کی جائز و نا جائز باتیں اگلوانے کا فن رکھتے ہیں اور تمام باتیں سن کر اپنے ظل سبحانی کے گوش گزار کر دیتے ہیں تا کہ مشقت کرنے والے لوگوں پر ترقی کے دروازے بند ہو جائیں۔

منافق کتے

یہ وہ کتے ہیں جو کبھی کسی کے مخلص نہیں ہو سکتے۔ منافقت کرنے کے فن سے بخوبی واقف ہوتے ہیں دوسروں کی محنت کا کریڈٹ خود لے کر ترقی کی راہ اپنے لیے ہموار کرتے ہیں۔

سفارشی کتے

یہ وہ نسلیں ہیں جو کسی پروفیشنل جگہ پہ چند سال کام کر کے بھید حاصل کر لیتے ہیں پھر یہ اپنی بڑی سفارش کے زعم میں کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتے۔

کام چور سیاسی کتے

ان تمام کے سونگھنے کی حس بہت تیز ہوتی ہے۔ بسا اوقات یہ سونگھتے سونگھتے افسران کی خلوت نشینی میں جا گھستے ہیں، جہاں کوئی مینیجر کسی پری پیکر کی زلف کا اسیر ہوتا ہے پھر یہ اپنے حکمران کو کانا کر کے کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتے۔

شکایتی کٹاوٹ کتے

یہ چرب زبان کتے ہیں اور ان کے لیے اسپیشل ہڈی کا انتظام ہوتا ہے۔ ان کا کام زیادہ سے زیادہ شکایتیں لگانا ہوتا ہے یہ فن شکایت میں اپنی مثال آپ رکھتے ہیں اور اکثر افسران کی رال ٹپکنا اس وقت ختم ہوتی ہے یہ جب کوئی دلچسپ شکایت لے کر ان کے سامنے جاتے ہیں۔

آوارہ کتے

کتوں کے طبقے میں یہ مظلوم طبقہ ہے ان کا ایک الگ جھنڈ ہے۔ یہ کتے ڈر پوک ہوتے ہیں اور محنت کرنے کے ساتھ ساتھ ساتھی کتوں میں بھونک کر اپنا غبار ختم کر لیتے ہیں۔ یہ موخر الذکر تمام کتوں سے نالاں ہوتے ہیں کیونکہ وہ تمام کتے ان پر مسلط ہوتے ہیں اور ڈیوٹی ٹائم تک ان تمام کتوں کی آوازوں کو حلق سے چھین لیا جاتا ہے۔

یہ ہیں پروفیشنل کتوں کی کچھ اقسام اگر آپ میں فن کتا گری کی یہ تمام اوصاف موجود ہیں تو آپ ایک بہترین پروفیشنل کتے ہیں جو محض اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے اپنے اندر کی انسانیت کو مسخ کر چکا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے راستے ہموار ہوتے رہتے ہیں ۔بھونکنے والوں کو سپورٹ ملتی رہتی ہے اپنی روایات سے بغاوت کرنے والا ایک باغی کتا ہی اس دور میں کامیابی کی سیڑھیاں چڑھ سکتا ہے۔

جاب (سارہ عمر)

جاب (سارہ عمر)

تم جاب کیوں نہیں کرتی؟ گھر کیوں بیٹھی ہو؟ جب پتا بھی ہے کہ گھر کے حالات اچھے نہیں ہیں، بڑی بی نے اسے نصیحت کرتے ہوئے کہا۔ آنٹی حالات تو ایسے ہی ہیں ہمیشہ سے، سادگی سے جواب آیا تھا۔ پھر بھی گھر کے حالات کی بہتری کے لیے ہی کر لو جاب، دوبارہ سے مشورہ آیا تھا۔ ان شاءاللہ ہو ہی جائیں گے حالات بھی ٹھیک۔ دعا تو کرتے ہیں، اس نے متانت سے جواب دیا۔ دعا کے ساتھ دوا بھی تو کرنی پڑتی ہے ناں! بڑی بی جوش سے بولیں۔ آج وہ بہت موڈ میں تھیں۔ جی بالکل! امید تو کبھی نہیں چھوڑی، وہ اب بھی دھیما سا بولی۔ جب پتا ہے میاں بے روزگار ہے تو کم از کم بیوی ہی ہاتھ بٹا دے۔ کیا حرج ہے بھلا! نصیحت کی پٹاری میں سے ایک کے بعد ایک نصیحت حاضر تھی۔اگر میاں بے روزگار ہے تو یہ مطلب تو نہیں کہ عورت اپنے گھر اپنی چادر چار دیواری کو چھوڑ دے، اس نے کچھ سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
دیکھو! تمھارے بھلے کی بات ہے ایسے تو گزارا نہیں ہوتا ناں! آنٹی عورت کے گھر سے نکلے بغیر بھی گزارا ہو سکتا ہے، اس نے پھر سے ان کا مشورہ ماننے سے انکار کیا تھا۔ تمھیں بھلا اتنا پڑھنے کا کیا فائدہ ہوا؟ جب گھر میں بیٹھ کے چولہا ہانڈی ہی کرنی تھی؟ بڑی بی جلال میں آ گئیں تھیں۔ آنٹی یہ چولہا ہانڈی تو عورت کا مقدر ہے بھلا جو گھر سے باہر نکلتی ہے سارا دن کھپ کے آتی ہے کیا وہ چولہا ہانڈی نہیں کرتی؟ وہ لاجواب ہوئیں تھیں۔ بھئی تمھیں تو سمجھانے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے۔ بس آج کل تو نیکی کا زمانہ ہی نہیں۔ بچے یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں عقل ہی نہیں۔ دھوپ میں بال سفید کیے ہیں، بڑی بی نے اپنا شٹل کاک برقع سر پہ رکھ کر باہر نکلنے میں ہی عافیت جانی تھی۔
آنٹی! اس نے پکارا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ میری امی کی جاب نے ہم سے ماں کی ممتا چھین لی اور میری جاب نے مجھ سے والدین کی خدمت کا وقت چھین لیا۔ کیا مطلب؟ وہ نہ سمجھی سے اسے دیکھنے لگیں۔ جی جب میں چھوٹی تھی تب سے بڑے ہونے تک میری امی گورنمنٹ جاب کرتیں رہیں۔ ساری زندگی دوسروں کے بچوں کو پڑھا پڑھا کے ڈاکٹر انجینئر بنواتی رہیں مگر اپنے بچوں کے لیے ان کے پاس وقت نہ تھا۔ اسکول میں بچوں کے ساتھ دماغ کھپا کر آتیں تو گھر آ کر ہانڈی روٹی میاں، بچوں، ساس، سسر کے کام۔ ایک چھٹی لوگوں کے آنے جانے ملنے ملانے یا کپڑے دھونے میں نکل جاتی۔ جب میں بڑی ہوئی تو پاس کے پرائیویٹ اسکول میں نوکری مل گئی۔
جو وقت میں نے اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کرنی تھی وہ سارا وقت میں نے جاب کو دے دیا۔ بچوں کو پڑھا پڑھا کےگھر آؤ تب بھی آدھا کام گھر لاؤ۔ کبھی کوئی چارٹ بنانا ہے، کبھی کاپیاں چیک کرنی ہیں، کبھی رجسٹر مکمل کرنے ہیں تو کبھی کچھ اور کام۔ آج شادی ہو کر سسرال آئی ہوں تب بھی میاں اور ساس سسر کو چھوڑ کے کام پہ نکل جاؤں؟ تاکہ میرے سر پہ گھر اور باہر کی دوہری ذمہ داری پڑ جائے۔ بتائیے کے کیا میرا رویہ غلط ہے کہ صحیح ہے؟اس نے آنسووں کی جھڑی میں بات مکمل کی اور بڑی بی کو دیکھا۔ انہوں نے خاموشی سے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا اور اسے اپنے گلے سے لگا لیا۔ ہاں بیٹی تو سچ کہتی ہے اصل نوکری تو یہی ہے، اپنا گھر اور بچے۔
 
نظریہ پاکستان، پاکستان کی بقا کا ضامن (فاطمہ خان)

نظریہ پاکستان، پاکستان کی بقا کا ضامن (فاطمہ خان)

مملکتِ خدادا، پاکستان نظریہ اسلام کے تحت وجود میں آیا۔ جس کی بنیاد اسلام کے رہنما اصول تھے۔ نظریہ کسی بھی قوم کے استحکام کے ساتھ ساتھ اس کی ترقی و خوشحالی کا ضامن ہوتا ہے۔ مسلمانان ہند برسوں غلامی کے طوق گلے میں پہنے ہوئے تھے، جب علامہ اقبال کے تصور کے آئینے میں قائد اعظم نے نظریہ اسلام کے پیرہن میں نظریہ پاکستان پیش کیا۔ نظریہ پاکستان در حقیقت نظریہ اسلام ہے۔ اسلام دین الہی ہے۔ اللہ نے اسلام کو بطور دین پسند فرمایا۔ اسلام دراصل مکمل ضابطہِ حیات ہے، جس میں اللہ نے معاشی، معاشرتی، مذہبی، سیاسی، ثقافتی زندگی گزارنے سے متعلق رہنمائی فرمائی ہے۔ تاریخ کے آئینے سے اگر پردہ اٹھایا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نظریہ پاکستان کی اصل اسلام ہے۔

آئیے اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں۔ نظریہ پاکستان کے اہم عناصر کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اقتدارِاعلی اس کا بنیادی ستون قرار پاتا ہے۔ مسلمانان ہند نے ایک الگ وطن حاصل کیا تا کے ایک اللہ کی عبادت کر سکیں۔ اس کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر زندگی بسر کر سکیں۔ نظریہ پاکستان کی بقا کا دوسرا اہم ستون اقتدارِ اعلی کا تصور ہے۔ حاکمیت صرف اس ذاتِ پاک کی عطا کردہ ہے تا کہ اس کے بنائے ہوئے نظام کو دنیا میں رائج کیا جائے۔ انسان اس دنیا میں اللہ کا نائب بن کر آیا ہے، یہ جاہ و جلال عارضی اور اس ذات کا تفویض کردہ ہے۔ مسلمان جب دائرہِ اسلام میں داخل ہوتا ہے تو اس بات کا اعتراف کرتا ہے ”لاالہ الااللہ“۔ ”کوئی معبود نہیں ما سوائے اللہ“۔

ہم نے برملا اس بات کا اظہار کیا کہ نظریہ اسلام ہی درحقیقت نظریہ پاکستان ہے تو اس بات میں شک وشبہ نہیں کہ واحدانیت اور اقتدارِ اعلی کا حقیقی مالک اللہ تبارک وتعالی ہے۔ جیسے جیسے تاریخ کی ورق گردانی کریں تو اقتدارِ اعلی کا مالک دنیاوی حکمرانوں کو تصور کیا جاتا رہا ہے اور اسی لیے دنیا جنگ وجدل میں مبتلا رہی۔ اگر اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے تو امن کے پنچھی ہواوں میں جھومتے نظر آئیں گے۔ جنگ کے بادل چھٹ جائیں گے۔

نظریہ پاکستان کی بقا میں اخوت، معاشرتی عدل و انصاف اور روداری جیسی صفات بھی اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ پاکستان مسلم اکثریت کے علاقوں کو ملا کر بنایا گیا۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختون خواہ، گلگت بلتستان اور بلوچستان مسلم اکثریتی علاقے ضرور تھے لیکن ان علاقوں کے بسنے والے مختلف زبانیں بولنے والے تھے۔ جن کا رہن سہن، رسم ورواج جدا جدا تھے لیکن ان میں ایک چیز مشترک تھی جو کے دینِ اسلام ہے۔ دینِ اسلام کے مطابق زندگی گزارنے اور اسلام کے نام پر یہ تمام منفرد خصوصیات کے حامل لوگ ایک پرچم تلے جمع ہوئے۔ ان کے اتحاد نے پاکستان کی بنیادیں مضبوط بنائیں۔ علامہ اقبالؒ نے مسلم امہ کے اتحاد کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اپنی شاعری میں بارہا اس کی اہمیت پر زور دیا۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر

آج معاشرتی مسائل میں سرفہرست لسانی مسائل ہیں جو ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ جس سے پاکستان کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے اور نظریہ پاکستان بھی مانند ہوتا چلا جارہا ہے۔ موجودہ دور افراتفری کا دور ہے، سب اسی دوڑ میں دوڑے چلے جا رہے ہیں اور اقدار اپنی افادیت کھو رہے ہیں۔ پاکستان کی بقا کے لیے ہمیں پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان کی حدود سے باہر نکل کر سوچنا ہو گا۔ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا یہی اس کی سلامتی کا ضامن ہے اگر مسلمان دینِ الہی کو پسِ پشت ڈال دیں تو زوال کا شکار ہو جائیں گے۔

اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستاں کا ہر پیروجواں بے تاب ہو جا

قائداعظمؒ نے21 مارچ 1948 میں ڈھاکہ کی عوام سے خطاب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ ”میں چاہتا ہوں آپ پنجابی، سندھی، بلوچی، پٹھان اور بنگالی بن کر بات نہ کریں۔ یہ کہنے میں آخر کیا فائدہ ہے کہ ہم پنجابی، سندھی یا پٹھان ہیں، ہم تو بس مسلمان ہیں“۔

قائد کی دوراندیشی قابلِ تحسین ہے کہ آپ نے وقت کی ضرورت اور علاقائی تعصبات سے عوام کو آگاہی دی۔ پاکستانی قوم منتشر ہے اور اسے پھر سے متحد ہونے کی ضرورت ہے تا کے نظریہ پاکستان اپنی افادیت برقرار رکھے۔

پاکستان کی بقا میں ایک اور اہم عنصر جمہوریت کا فروغ بھی ہے۔ جمہوریت ایک ایسا طرزِ حکومت ہے جس میں عوامی رائے کا خیال رکھا جاتا ہے۔ عوام کے منتخب نمائندے حکومت کی باگ دوڑ سنبھالتے ہیں۔ جمہوری اقدار کو فروغ دیا جاتا ہے۔ معاشرے میں توازن پیدا ہوتا ہے اور یوں پاکستان کی بنیادیں مظبوط ہوتی ہیں۔ ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔ افراتفری کی صورتحال ختم ہوتی ہے۔

نظریہ پاکستان کی بقا کا براہ راست تعلق نوجوان نسل سے ہے۔ پاکستان کی آزادی میں لاکھوں نوجوانوں نے قربانیاں دیں۔ آزادی کے جس پیڑ کی چھاو ¿ں میں آج ہم سکھ کا سانس لیتے ہیں، انہیں نوجوانوں نے اس پیڑ کی آبیاری اپنے لہو سے کی۔ اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں، رشتہ داروں کی جانوں کی قربانیاں پیش کیں۔ دن رات وطن کی خاطر ایک کر ڈالے تب جا کر یہ ننھا سا پودا حالات کی آندھیوں سے لڑتا، ڈگمگاتا ہوا آج ایک تناور درخت کی صورت میں موجود ہے۔

علامہ نوجوانوں کو انقلابی تصور کرتے تھے اسی لیے اپنی بہت سی نظموں میں نوجوانوں کو تحریک دیتے دکھائی دیتے ہیں۔

کبھی اے نوجوانِ مسلم! تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا جس کا ہے تو ٹوٹا ہوا تارا

ایک اور جگہ کہتے ہیں

عروجِ آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے

نوجوان نسل کا اپنے نظریے سے مربوط رہنا از حد ضروری ہوتا ہے۔ نظریہ پاکستان اور نظریہ اسلام کی بقا اسی بات میں پوشیدہ ہے۔ اسلام سے وابستگی بھی نظریہ پاکستان کی بقا کا عنصر ہے۔ اسلام ہی وہ منزل ہے جس کے لیے پاکستان حاصل کیا گیا۔ اگر اسلام سے دوری روا رکھی جائے گی تو نظریہ پاکستان اپنی موت آپ مر جائے گا۔ قرآن پاک اس ضمن میں انسان کی بھرپور رہنما ئی کرتا ہے۔

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلمان
اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار

نظریہ پاکستان ایک سوچ ہے، ایک انداز ہے جس کے مطابق ہم نے اپنی نسلوں کی تربیت کرنی ہے۔ بڑے لوگ اپنی قوموں کو بڑے نظریے دیتے ہیں۔ ہمیں بھی ایک نظریہ ملا ہے جس کو روحانی عطا کہا جاتا ہے۔ نظریہ پاکستان کی بقا کے لیے ہمہ وقت ان تمام عناصر کی تکمیل ضروری ہے۔ پاکستان تا قیامت قائم رہے اور اسی آب وتاب کے ساتھ اسلام سے وابستہ رہے۔

نسل نو تباہی کے دہانے پر (شافعہ افضل)

نسل نو تباہی کے دہانے پر (شافعہ افضل)

انسان اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق میں سب سے زیادہ حیرت انگیز اور باصلاحیت ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کا درجہ اسی لیے عطا کیا کیونکہ یہ سوچ سمجھ سکتا ہے اور اپنے اور دوسروں کے فوائد اور نقصانات کا اندازہ کر سکتا ہے۔ ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہم کسی بھی حالت میں وہ کام نہ کریں جو ہمارے اور ہم سے وابستہ لوگوں کے لیے باعثِ آزار اور نقصان دہ ہو کیوں کہ اس سے معاشرے اور ماحول پر برا اثر پڑتا ہے اور نئی نسل بھی ان ہی باتوں کی تقلید کرتی ہے جو ہم کر رہے ہوتے ہیں۔ 
سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال ہماری نئی نسل کو تباہی کے دہانے تک لے آیا ہے اور ہم جانتے بوجھتے ہوئے انھیں تباہ ہوتے دیکھ کر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کی ذہنی و جسمانی صلاحیتیں بھی سوشل میڈیا کے کثرتِ استعمال سے متاثر ہو رہی ہیں۔ وہ خود سے سوچنے اور سمجھنے کے قابل نہیں رہے بلکہ وہ وہی سوچ، سمجھ اور کر رہے ہیں جو سوشل میڈیا انھیں سکھا رہا ہے۔ ان کی تخلیقی صلاحیتیں پروان ہی نہیں چڑھ پا رہیں کیوں کہ ان کا صحیح استعمال نہیں ہو رہا۔ آج کے دور میں اگر آپ کسی بچّے سے کہیں کہ وہ کسی موضوع پر کچھ لکھے یا تصویر بنائے تو وہ اپنی تخلیقی اور ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے بجائے گوگل سے مدد لینے کو ترجیع دے گا۔ وہ ذہن جو انتہائی زرخیز اور باصلاحیت ہیں انہیں استعمال میں نہ لانے کی وجہ سے وہ کمزور اور بے کار ہوتے جا رہے ہیں۔ 
جسمانی طور پر بچے اس لیے کمزور ہیں کے وہ اس طرح کھیلتے، کودتے اور ورزش نہیں کرتے جیسے پہلے کے دور کے بچّے کرتے تھے۔ آج کے دور کے بچّے اپنا بیشتر وقت موبائل، ٹی وی اور کمپیوٹر پر صرف کرتے ہیں۔ ایک ہی جگہ گھنٹوں بیٹھے بیٹھے وقت گزار دیتے ہیں۔ اس طرح ان کا آپس میں وہ تعلق نہیں بن پاتا ہے جو پہلے کے دور کے بچّوں کا ہوا کرتا تھا۔
پہلے کے دور میں مائیں سوتے وقت یا کھانا کھاتے وقت بچّوں کو سبق آموز کہانیاں یا بزرگانِ دین کے واقعات سنایا کرتی تھیں جس سے وہ بہت کچھ سیکھتے تھے۔ آج کے دور کی مائیں ان کے ہاتھ میں موبائل پکڑا کر اپنے فراض سے بری الذّمہ ہو جاتی ہیں۔ آپس میں تعلق نہ ہونے کی وجہ سے بچّوں میں برداشت اور تحمّل بھی پیدا نہیں ہوتا اور نہ انھیں یہ سمجھ میں آتا ہے کہ مختلف لوگوں اور مسائل سے کس طرح نمٹنا ہے۔ اسی لیے آج کے دور کے بچّے آگے بھی مضبوط رشتے قائم نہیں کر پاتے۔ تعلقات کو نبھا نہیں پاتے۔ طلاق اور علحیدگی کی شرع میں اضافے کی بھی یہی وجوہات ہیں۔ 
سوشل میڈیا کے اثرات اس قدر
دیرپا اور شدید ہیں کہ بچّوں کی زندگیاں تبدیل ہو کر رہ گئی ہیں۔ پہلے کے دور میں جس عمر میں بچّے بے فکری کی زندگی گزارتے تھے اور گھریلو معاملات اور سیاستوں سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا تھا اب وہ ہر معاملے اور مسئلے میں شامل ہوتے ہیں۔ چھوٹی عمر میں ہی ان کی سوچ پختہ اور ذہن الجھ جاتے ہیں۔ وہ ذہنی تناؤ کا شکار رہتے ہیں۔ غرض یہ کہ بچّوں سے ان کی معصومیت اور بچپن چھن گیا ہے اور یہ انتہائی افسوس ناک صورتِ حال ہے۔ نامناسب باتیں دیکھنے اور سیکھنے کی وجہ سے ان کے رویّوں، سوچ اور اعمال میں جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ان کی وجہ سے معاشرے میں برائیاں اور جرائم میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ کم عمر بچّے وہ باتیں اور حرکتیں کرتے ہیں جن کے بارے میں پہلے کے دور کے بڑے بھی نہیں سوچ سکتے تھے۔ خاندانی وقار، رکھ رکھاو اور تہذیب کے محض نام باقی رہ گئے ہیں حقیقت میں یہ اب کہیں نہیں ملتیں۔ 
ہم معاشرتی طور پر جس تنزلی کا شکار ہو چکے ہیں اس کو روکنا ہمارے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ اس کا حل صرف یہی ہے کہ ہم اپنے اصل اور اپنے دین کی طرف واپس لوٹیں اور اپنے بچّوں کو صحیح اور غلط کا فرق سمجھائیں۔ جب ہم خود کو تبدیل کریں گے تب ہی اپنی نئی نسل کو تبدیل کر پائیں گے اور ان کی بہتر تربیت کر سکیں گے ورنہ ہمیں مکمل برباد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ 
میں صحافی ہوں! (عارف رمضان جتوئی)

میں صحافی ہوں! (عارف رمضان جتوئی)

حقیقت سے پرے مصنوعی سماجی شہر (سوشل میڈیا) کی دیوار پر لکھا تھا ”نامعلوم مسلح ڈاکوشہری کو لوٹ کر نامعلوم سمت میں فرار ہوگئے“۔ تفصیلات میں شہری بھی نامعلوم رہا اور ذرائع بھی نامعلوم رہے۔ جس کے بعد خبر کچھ یوں بن گئی ”نامعلوم مسلح ڈاکو نامعلوم شہری سے نامعلوم رقم لوٹ کر نامعلوم سمت فرار ہوگئے“۔ ایک اور خبر اسی دیوار کے نیچے پھر دیکھی ”۔۔۔ لڑکی کو اس کے بچے کے سامنے قتل کردیا گیا“۔ پھر کچھ روز بعد پھر وہاں سے گزر ہوا تو ایک اور خبر کی سرخی چسپاں تھی ”15برس کے بچے کی لاش برآمد“۔

مصنوعی سماجی شہر تھا اس لیے سوچا اس پر کیا بات کرنی، میں واپس دھول مٹی والے اپنے حقیقی شہر میں لوٹ آیا۔ نظریں نیچی رکھنے کی تاکید کے باوجود دل کے بالغ رویوں سے مجبور ادھر ادھر تاڑتے ہوئے سڑک کنارے لگے اسٹال پر منہ لٹکے اخبار کی ایک سرخ دکھائی دی۔ مہان اخبار کے عظیم سب ایڈیٹر نے بڑی مہارت سے سرخی جمائی ہوئی تھی۔ ”دفاعی بجٹ سے متعلق فوج کے ”سپاہ سالار“ کا بڑا اعلان“۔ سرخی پڑھ کر پہلی بارنظریں نیچی رکھنے والی تاکید پر سختی سے عمل کرنے کا احساس جاگا۔ اگر میں خود اخبار سے منسلک نہ ہوتا تو شاید مجھے اس وقت سرخی پر ندامت نہ ہورہی ہوتی۔ یہ تو میرے اپنے ہی پیٹی بھائی کی قائدانہ صلاحیتیوں کا ثمر تھا۔

پھر مجھے احساس ہوا کہ شاید میں غلطی پر ہوں، دراصل حقیقت کا ادراک ہوتے ہی ندامت کی جگہ میرا سینہ چوڑا ہوگیا۔ سب ایڈیٹر کو سلام پیش کرنے کو دل چاہا۔ موصوف کی ماہرانہ صلاحیتیں مجھ پر آشکارہ ہوچکی تھیں۔ ”سپاہ سالار کا اعلان اس قدر بڑا تھا کہ انہیں ایک بار فوج لکھنا کم لگا، فوج اور سپاہ سے اعلان میں وزن بڑھ گیا“۔ اتنی سی بات میری سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سربراہ پاک فوج کا بجٹ میں اضافہ نہ لینے کا اقدام قابل تحسین ہے۔ یہاں تو ہم اپنے سب ایڈیٹر کی ماہرانہ صلاحیتوں پر دکھی ہوئے بیٹھے ہیں۔ فوج عربی کا، سپہ فارسی کا لفظ ہے، لیکن مطلب دونوں کا ایک ہی ہے۔

مجھے مصنوعی سماجی شہر کی دیواروں پر لکھی سرخیوں پر اعتراض ہرگز نہیں تھا۔ کل ملا کر بات اتنی تھی کہ ”اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں“۔ جب گلی محلے میں ہر شخص صحافت کی اپنی برانچ کھول لے گا تو تھوک کے بہاﺅ رپورٹر مل ہی جائیں گے۔ اسی تعداد میں سب ایڈیٹر اور ایڈیٹر بھی دستیاب ہوں گے۔ ایسے میں بچے کے سامنے قتل ہوتی ماں لڑکی ہی دکھائی دے گی، نامعلوم سے نامعلوم تک کا یہ سفر ایسے طے ہوجائے گا کہ سڑک سے پرنٹنگ تک سب کچھ نامعلوم ہی رہے۔ اخبار کے ادارے کو سیکورٹی کے نام پر رپورٹر چار روپے زیادہ دے کر آئے تو اسے اپنے جوان لڑکے کی طرح ہر 15برس کا لڑکا معصوم بچہ ہی لگتا ہے۔ میرے جیسے جمعہ جمعہ 8 دن والے صحافی اخبار کی فیلڈ میں بھرے پڑے ہیں۔ جب ایسا ہو تو پھر سرخیاں ”گرمی کے ستائے شہری ساحل سمندر کے کنارے نکل آئے“ ہی ملتی ہیں۔ ورنہ تو سمندر کا کنارہ اور ساحل کچھ الگ نہیں ہیں۔

علی احمد ساگر کی تحریر میں ایک دلچسپ واقعہ پڑھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”ایک صحا فی تانگے پر سفر کر رہا تھا جب وہ اپنی منزل پر پہنچا اور”کوچوان“ نے کرا یہ مانگا تو صحافی نے اپنا پریس کارڈ نکال کرپیش کردیا اور ساتھ ہی کہا کہ ”میں تو رپوٹر ہوں“۔ ”کوچوان“ نے اپنے گلے میں لٹکا کارڈ نکالا اور پیش کرتے ہوئے ”تم صرف رپورٹر ہو میں تو بیورو چیف ہوں“۔

یہ واقعہ فرضی بھی ہوسکتا ہے مگر حقیقتیں بھی کئی گھوم رہی ہیں۔ اس سے دو باتیں سمجھ میں آتی ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ پہلی بات تو یہ کو کوچوان بیوروچیف بن بیٹھا یا پھر بیور و چیف مشکل حالات سے تنگ آکر کوچوان بھی بن گیا۔ جو بھی ہے دونوں صورتوں میں نقصان تو صحافت ہی کا ہورہا ہے۔ ایسے کئی لوگ ہیں جن کا پیشہ کچھ اور ہے (اس اور میں بہت کچھ ہے) مگر وہ عظیم صحافی بنے ہوئے ہیں چونکہ وہ ادارے کو کما کر دے سکتے ہیں تو اچھے صحافی بن چکے ہیں۔

موجودہ حالات نے بھی صحافت میں مجھ جیسے ایسے کئی صحافی اور ایڈیٹر پیدا کیے ہیں جن کی حیثیت خود ایڈیٹر، سب ایڈیٹر یا انچارج کے چپراسی جیسی ہے۔ مالکان پیسے دیتے نہیں، ایڈیٹر کو مجبورا انچارج کو لمبی رخصت پر بھیجنا پڑتا ہے۔ ایڈیٹر کے جاتے ہی اس کرسی پر سب ایڈیٹر تشریف فرما ہوتا ہے۔ پیج انچارج کے جاتے ہی پیج میکر اور کمپوزر انچارج بن جاتا ہے۔ ادارہ بڑی رقم سے بچ جاتا ہے اور یوں صحافت میں میرے جیسے نااہل فرد کو نمایاں جگہ مل جاتی ہے۔ بعد ازاں متعلقہ جگہ اور اس کی حیثیت کا جو حشر ہوتا ہے وہ مذکورہ سرخیوں میں نمایاں ہے۔ یہ تو معمولی غلطیاں ہیں یہاں ایسی بے شمار غلطیاں اور بھی ہوتی ہیں جن کو ذکرکرتے صحافت بیچاری شرما جائے۔ حواس باختہ کی جگہ حیا باختہ چلا جائے تو یقینا منہ چھپانے کی جگہ ڈھونڈنی پڑے مگر کبھی اس نوعیت کی غلطی کو سنجیدہ لینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی۔ اس سنجیدگی کے لیے بھی تو اہل دل ہونا چاہیے ہے۔

آخر میں میرے عزیز صحافی دوستو۔۔
یہ پیشہ عظیم ہے اس کی تعظیم کیجیے۔ یہ اتنی بڑی ذمے داری ہمارے کمزور کندھوں پر ہے تو اس کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کیجیے۔ مانا نااہل ہیں مگر کیا ہوا اب سنبھالنا بھی تو ہم ہی کو ہے۔ ادارہ نہیں پوچھتا نہ پوچھے مگر صحافتی رویوں کا خیال رکھنا ہماری ترجیح ہونی چاہیے۔ جس غلطی کو ہونا ہے وہ تو ہوگی چاہیے کتنے ہی پروف ریڈر بٹھا لیے جائیں مگر ایسی غلطی نہ ہو جس سے اپنی نااہلی کا پردہ فاش ہو۔ کوشش کر کے ان باتوں پر دھیان دیجیے کہ لفظ خود بہت کچھ بولتے ہیں۔ مانا ماں کے پیٹ سے سب سیکھ کر نہیں آتے مگر لکھنے سے پہلے پڑھنے کا رجحان بڑھانا ہوگا۔ جو سمجھ میں نہیں آرہا وہ پوچھ لینے میں حرج نہیں، بجائے اس کے کہ وہ جگ ہنسائی کا سبب بنے۔

میں اپنے استاد کی ڈانٹ سے بہت ڈرتا ہوں مگر جانتا ہوں ان کابتایا ہوا ان کے نہیں میرے کام کا ہے۔ آپ کے اردگرد کوئی ایسا شخص موجود ہوگا جس سے آپ یہ سب وصول کرسکتے ہیں۔ اپنی صحافت کو معیاری بنائیں۔ غلطی ہونا اور جان بوجھ کر غلطی کرنے میں فرق ہے اور وہ فرق آپ خود ختم کرسکتے ہیں۔ ذیل میں کچھ چیزیں دے رہا ہوں۔ یہ میرے اپنے لیے ہیں کہ شاید میں خود ان کو سمجھ سکوں۔ آپ بھی لازمی ان باتوں کو اپنائیں۔ یہ اطہر ہاشمی کے کالم ”خبر لیجیے زبان بگڑی“ سے پیش کیے جارہے ہیں۔

سب سے زیادہ رائج غلطی ”سوااور علاوہ“ کے استعمال میں کی جا رہی ہے ۔ دونوں الفاظ کا اصل مفہوم ایک دوسرے کے الٹ ہے۔ اگرچہ ”سوا“ کے بجائے ”علاوہ“ کا لفظ استعمال کرنے سے بعض اوقات کام چل جاتا ہے لیکن اصل میں یہ غلط ہوتا ہے۔ مثلاً اس جملے کو دیکھئے ”اسلام کے علاوہ دیگر تمام نظام کفر و شرک کی دعوت دیتے ہیں“۔ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ نعوذ باللہ اسلام بھی کفروشرک کی دعوت دیتا ہے۔ صحیح عبارت یوں ہونی چاہیے تھی ”اسلام کے سوا دیگر تمام نظام کفرو شرک کی دعوت دیتے ہیں۔ علاوہ میں سب شامل ہیں، سوا میں اسثتنا ہو جاتا ہے۔

ارسال اور روانہ کی غلطی۔ اکثر سنا ہوگا خط روانہ کرنے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ارسال کا لفظ کسی غیرمتحرک یا بے جان چیز کو بھیجنے کے لیے استعمال کرنا صحیح اور روانہ کا لفظ جاندار یا متحرک چیز کو بھیجنے کے لیے استعمال کرنا صحیح ہے۔ مثلاً خط ارسال کیا جاتا ہے جبکہ قاصد روانہ کیا جاتا ہے۔ لفظ ”عوام“ کا بطور مونث استعمال کرنادرست نہیں ہے۔ ”عوام بولتی نہیں“ یا ”عوام فیصلہ کرے گی“۔ لفظ عوام کو مذکر کے طور پر جمع کے صیغے میں استعمال کرنا صحیح ہے۔
افشا بھی عام غلطی ہے۔ ”راز افشاں ہوگئے“۔ افشا اور افشاں میں فرق ہے۔ درست لفظ افشا ہے، الف بالکسر کے ساتھ۔ ت اور ط کے استعمال میں بھی غلطی ہوتی ہے۔ ”وتیرہ“ کو وطیرہ لکھا جاتا ہے۔ یہ عام غلطی بن چکی ہے۔ اسی طرح سے ”ناتا“ کو ”ناطہ“ لکھنا بھی غلط ہے۔ وتیرہ اگرچہ عربی کا لفظ ہے مگر پھر بھی ”ت“ کے ساتھ لکھا جائے گا۔ ”ناتا“ ہندی کا لفظ ہے اور ہندی میں ”ط“ کا استعمال نہیں ہے۔

بیزار آنا بھی لکھا جاتا ہے۔ بیزار فارسی کا لفظ ہے اور اس کو ہونا چاہیے۔ یعنی بیزار ہونا لکھا جانا چاہیے۔ اسی طرح ”لاپروائی یا بے پروا“ اس کو بھی غلط لکھ کر آخر میں ”ہ“ لگا دیا جاتا ہے۔ یعنی پرواہ لکھ دیا جاتا ہے جو کہ غلط ہے۔ ایسے کئی الفاظ ہیں جنہیں صحافی اور قلم کار حضرات و خواتین بے دھڑک لکھے جارہے ہیں۔ لکھیے ضرور مگر پڑھیے بھی اور اچھا پڑھیے تاکہ اچھا لکھ سکیں۔

یہ میرا دکھڑا تو تھا اپنے جیسے پرنٹ میڈیا کے نااہلوں کا، ایک بڑی روشن دنیا بھی ہے جسے الیکٹرونک دنیا کہا جاتا ہے۔ وہ پڑھنے لکھنے سے زیادہ بولنے پر توجہ دیتے ہیں۔ بڑے لوگ بڑی باتیں مجھ جیسا ناکارہ بندہ کیا کہہ سکتا ہے۔ حیدر علی آتش صاحب کا شعر سنانے کو دل مچل رہا ہے۔ یہ تو ویسے سنارہا ہوں اپنے دل ناداں سے مجبور ہوکر، کوئی دل آگاہ اس پر دل گرفتہ ہرگز نہ ہو، وہ کہتے ہیں کہ

لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا۔۔۔!

اب ایک پرانہ واقعہ بھی سن لیجیے۔ جس زمانے میں اردو اخبارات میں خبریں انگریزی آتی تھیں اور سب ایڈیٹرز ترجمہ کرتے تھے۔ ایک خبر یوں شائع ہوئی، ”12سال کی بوڑھی لڑکی حادثے کا شکار ہوگئی“۔ نیوز ایڈیٹر نے پوچھا کہ یہ کیا لکھا ہے۔ تو اس نے انگریزی کی خبر دکھا دی جس میں صاف لکھا تھا

”Twenty years old girl”

اب ہم نے تو اولڈ   کا ترجمہ بوڑھی یا بوڑھا ہی پڑھا تھا۔