تحریر : مدیحہ مدثر

چودہ سو سال پہلے میرے نبی ﷺآقا دو جہاں نے عرب کی سرزمین پر اسلام کا روشن دیا جلایا اس وقت جب اسلام مغلوب ہوچکاتھا اور تمام انسان مختلف قبیلوں ذات پات میں الجھے ہوئے تھے۔ ہر ایک قبیلے کا اپناکچھ مختلف دین، اپنا خدا ہوتا تھا جسے وہ پوجتے تھے اور ہر قبیلے کا سردار اس کے لیے معزز اور اعلی مرتبہ رکھتا تھا اور وہ تمام فیصلوں کا مجاز ہوتا تھا مجال تھی کسی کی جو اسے کوئی روک سکتا۔ ایسے میں ایک اللہ کی بندگی اور اللہ اور اسکے رسول کے آگے سرِتسلیم خم کردینا انتہائی مشکل عمل تھا۔

کفار تباہی کی راہ پر گامزن تھے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے ایسے میں نبی کریمﷺ نے اللہ کے حکم سے نبوت کا اعلان کیا اور اسلام کی دعوت کا آغاز کیا۔کفار کو سب سے زیادہ جو چیز ناگوار تھی وہ ایک خدا کی بندگی تھی لیکن ہزاروں مشکلات کے باوجود اسلام دلوں میں اترنا شروع ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ جو کل تک ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے آج بھائی بھائی بن چکے تھے اور قبیلوں میں بٹے ہوئے آج ایک متحد امت مسلمہ بن چکے تھے ۔پھر کوئی ذات پات ،رنگ اور علاقہ نہیں رہا بس ایک اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کے نیچے پوری امت متحد تھی اور یہی اتحاد تھا جس نے مسلمانوں بے شمار کامیابیوں سے نوازا اور کفارشکست سے دوچار ہوتے چلے گئے۔

لیکن افسوس ہم پر! ہم آج ہمارا کیا حال ہے ہم دور جاہلیت کے کفار سے بھی زیادہ برے حال میں ہیں اس وقت ہم نے اپنی تمام خصوصیات جو ہماری کامیابی کا موجب تھیں سب ہم نے بھلا دیں آج کفار نے ہماری تاریخ سے سیکھ لیا اور ہمیں اس دلدل میں دھکیل دیا جو کفار کی شکست کا باعث بنی تھی۔ آج ہم فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں ہر فرقے کا کچھ الگ ہی سادین ہے اور ہر ایک دوسرے کو کافر قرار دینے پرتلاہواہے۔ بات صرف یہیں نہیں رہتی مارپیٹ اور ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن جاتے ہیں۔ فرقہ پرستی میں ایک دوسرے کونیچا دیکھانے کے چکر میں ہم اپنے فرقے اور طریقے میں رنگ بھرنے میں مصروف ہیں۔ سب سے زیادہ پکے دیندار اور اللہ اور اسکے رسول ﷺسے محبت کرنے والے ہم ہیں اور دوسرے فرقے کے لوگ ہم سے زیادہ اللہ اور اسکے رسول ﷺسے محبت نہیں کرسکتے۔ وہ دین سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ بس اسی چکر میں ایسے ایسے کام کرنے لگتے ہیں جس کااللہ اور اسکے رسول ﷺکے دین سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

محمد ﷺکی زندگی مکمل دین کا نمونہ ہے پھر وہ کام جو انہوں نے نہیں کیا اس کادین سے کوئی تعلق کیسے ہوسکتا ہے اور نبی ﷺسے محبت صحابہ کرام سے زیادہ کسی کو کیسے ہوسکتی ہے جو کام انہوں نے نہیں کیا ہو ہم کیسے کرسکتے ہیں ؟نبی ﷺسے محبت کا تقاضہ یہ ہے کے ان کی سیرت کو اپنایا جائے اور سب سے اہم بات جس کی وجہ سے آج مسلمان پوری دنیا میں پِس رہے ہیں، ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں وہ ہمارا فرقوں میں بٹ جانا ہے۔ٹھیک ہے ہمارا آپس میں کچھ باتوں پر اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ٹکڑوں میں بٹ کر ہم صرف کفار کے ہاتھ مضبوط کررہے ہیں۔

آج کفار مسلمانوں کے خلاف متحد ہے ان کے آپس میں جتنے بھی اختلاف ہوں لیکن جہاں اسلام کی مخالفت کی بات آتی ہے تو وہ سب ایک پیج پر ہوتے ہیں۔اسوقت بہت ضروری ہے کے ہم متحد ہوجائیں ایک امت بن جائیں اور کفار کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے ہوجائیں کیونکہ اختلاف اپنی جگہ لیکن

نا تیرا خدا کوئی اور ہے
نا میرا خدا کوئی اور ہے

ہم ایک خدا کو ماننے والے ہیں اور ہمارے درمیان جو اختلاف ہے اس کافیصلہ اللہ کے سپرد کردینا چاہئے لیکن خود حق کی تلاش کا عمل جاری رکھنا چاہئے اور ایک دوسرے کو کافر قرار دینا چھوڑ کر ایک امت کی مانند اپنے نئے سفر کا آغاز کرنا چاہیے۔

Facebook Comments