میں رو تو نہیں رہی

تحریر: شیبا اعجاز

میری جان! تمہارے جوتوں سے جو خوشبو آرہی ہے میں تو اس کی مہک میں گم ہوں۔ تمہارے قاتل کیا جانیں شہادت کی موت، موت نہیں زندگی ہے۔ جب تم یہ فانی دنیا چھوڑ کے جا رہے ہوگے اور

چلے جو ہوگے شہادت کا جام پی کہ تم
رسول پاک ﷺنے ہاتھوں میں لے لیا ہوگا
علی تمہاری شہادت پہ جھومتے ہوںگے
حسین پاک نے ارشاد یہ کیا ہوگا
تمہیں خدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں

میرے بیٹے تم راہ حق میں کافر کے لیے دیوار تھے اس بزدل دشمن کے وار کا جواب تھے جو ڈر کے پیچھے سے حملہ کرتا ہے۔ میں رو نہیں رہی تمہارے جذبے اور ولولے کو محسوس کررہی ہوں۔ ان جوتوں میں بے شک اب پیر نہیں لیکن یہ منتظر ہیں کسی اور مجاہد کہ جو ان کو پہن کر مسلمان دشمن کے پرخچے اڑانے کے لیے تیار ہے۔ بزدلوں تمہیں شاید لگے یہ ماں کے آنسو ہیں لیکن یہ مائیں ہی ہیں جو اپنے سپوتوں کو راہ حق میں قربان کرنے کے لیے ہی پالتی ہیں۔ چھپ کہ حملہ کرنے والوں مجھے معلوم ہے تم کو ہتھیاروں سے نہیں پاکستانیوں کی جرات ،جذبہ، ولولہ اور شوق شہادت سے ڈر لگتا ہے اسی لیے تم میرے ملک میں دہشت گردی کرتے ہو۔

میرے بیٹے تمہاری جدائی مجھے برداشت کرنی ہے تمہارے ساتھ گزارہ ہوا اک اک پل میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہا ہے ۔تمہارا بچپن شوخی شرارت بھاگنا،دوڑنا کیا میں بھول سکتی ہوں تم سے وابستہ میرے خواب اب خواب ہی رہ گئے ہیں۔ میری جاں پر میں رو تو نہیں رہی، ابھی میں اپنا چہرہ اوپر کروں گی تو وہ فخر سے اونچا ہوگا۔ تم نے اپنی جان اللہ کی راہ میں دے کر میرا وقار بڑھا دیا ہے۔ مجھے بیٹھے بٹھائے معتبر بنادیا ہے۔

میرے دل،میرے جگر میں کیا کروں۔ دشمن سمجھ رہا ہے کہ اس نے تم کو ختم کردیا ہے لیکن اسے کیا معلوم کہ ایمان کی دولت کو ختم نہیں کیا جا سکتا جذبہ شہادت بم دھماکوں سے مرتا نہیں منتقل ہو جاتا ہے۔ تم تو اب ایک گھر سے نکل کر پورے قوم کے دل میں زندہ ہو گئے ہو،تم خود بتاﺅ میں کیسے رو سکتی ہوں۔ ہاممگر کوئی میرے گلے لگ کہ تمہارے بارے میں بات کرے اور میرے آنسو نکل آئیں تو مجھے معاف کردینا۔میرے گلشن کے پھول تمہارے جانے کے بعد بھی تمہاری خوشبو میرے چمن کو مہکارہی ہے۔ اگر کر سکو تو اک کام کرنامیرے لیے صبر کی دعا کرنا اب سب کچھ تو میرے اختیار میں نہیں ناں، دیکھو حالانکہ میں رو تو نہیں رہی۔

Facebook Comments