نا کام شادیوں کی وجوہات اور سدباب

تحریر : سید شاہ زمان شمسی

مجھے ایک واقعہ سننے کو ملا جس نے مجھے شدید غم و الم میں مبتلا کر دیا۔ اسے سن کے قہر خدا اور غضب الہی کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ لوگ اتنے بڑے اور نازک فیصلے کس طرح لے لیتے ہیں۔ فیصلہ کرتے وقت شرعی تقاضوں کو پامال کرتے وقت ہم ذرا بھی نہیں سوچتے کہ جس دین اسلام سے ہم تعلق رکھتے ہیں کیا وہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ کسی بیٹی کو سر محفل لوگوں کے ہجوم میں ذلیل و رسوا کیا جائے ۔مذہب برائے نام ہماری ہڈیوں میں رچ بس چکا ہے۔ کلمہ ہے کہ حلق سے نیچے اترنے کا نام نہیں لیتا۔

جس دل میں کلمے کی پاکیزگی اور طہارت ہونی چاہیے اس دل میں لالچ، طمع، حرص و ہوس، دنیاوی مال ومتاع کی حد درجہ محبت نے انسانیت اور مسلمانوں کی اصل نیک پرور روح انسانی کو مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ دو خاندانوں کے درمیان اچھے تعلقات کی بنیاد پر رشتہ طے پایا۔ لڑکے اور لڑکی کی شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ حق مہر سے لے کر ماہانہ اخراجات کی فہرست پر راضی نامہ ہو گیا۔ لڑکی والے پر امید تھے کہ وہ اپنی نیک سیرت بیٹی کو وداع کریں گے ہر آنکھ پر نم تھی سبھی ٹھاٹ بھاٹ سے تیاری کیے ہوئے تھے۔

شادی ہال کی رونق بھی دیدنی تھی۔ لڑکی والوں کی طرف سے ہر شخص خوش و خرم بھی نظر آ رہا تھا اور والدین اتنے نازوں سے پالی ہوئی بیٹی کو رخصت کرتے وقت غمگین بھی نظر آ رہے تھے۔ لڑکے والے خوب سج دھج کے بارات لے کر آئے ۔عین اس وقت لڑکے والوں کی طرف سے خواتین نے لڑکی کے والدین سے تلخ کلامی اور بے عزتی کی ۔شادی ہال کے ماحول میں بد مزگی اور بد نظمی پیدا ہوئی۔ حق مہر اور ماہانہ اخراجات کے راضی نامے کو مسترد کر کے جیسے آئے ویسے ہی چلتے بنے۔ لڑکی والوں کو لوگوں کے بھرے ہجوم میں تذلیل اور ندامت کا سامنا کرنا پڑا ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے وہ آئے ہی ذلیل و رسوا کرنے ہیں۔

شعائر اسلام کو ترک کر کے جب زندگی مغربی طرز پر گزاری جائے گی تو روزمرہ کے اوقات میں یہی واقعات سننے کو ملیں گے اور جن نئی نویلی نو بیاہتی لڑکیوں کی شادی ہو چکی ہوتی ہے ان کے بھی عجب مسائل ہیں۔ متوسط طبقے کی لڑکیاں شادی کرنے کے بعد جب اپنے خاوند کے گھر چلی جاتی ہیں تو اپنے نازک مزاج ہونے کی حیثیت سے گھر کے کاموں کو ہاتھ لگانا پسند نہیں کرتیں بلکہ ٹچ سکرین موبائلوں کے بے جا استعمال کی وجہ سے ہڈیوں میں سے وہ توانائی ختم کر لیتی ہیں جو ایک گھریلو عورت میں گھر کے کام کاج کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

یہی بڑی وجہ آج کل کے نوجوانوں کی بھی ہے۔ زمانہ طالب علمی میں ہم ایک مقولہ پڑھا کرتے تھے کہ ” ہر چیز کی زیادتی بری ہوا کرتی ہے“۔ خواہ وہ کوئی بھی چیز ہو اسے ضرورت کے تحت استعمال کیا جائے تو فائدہ مند رہتی ہے۔ اگر حد سے زیادہ استعمال ہو تو وہ نقصان دہ ہوا کرتی ہے۔ جس کے اثرات انسانی صحت پر برے ہوا کرتے ہیںاور آخر کار نوبیاہتی لڑکیاں کچھ سالوں بعد طلاق لے کر اپنے ماں باپ کے گھر آ جاتی ہیں۔ شادیوں کی ایک بڑی نا کامی کا سبب یہ بھی دیکھنے کو ملا ہے کہ منگنی کے دوران ہی لڑکا اور لڑکی موبائل پر آزادانہ گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔بعض اوقات یہ دو طرفہ تعلقات کو بھینٹ چڑھانے کے مترادف بھی ہوا کرتا ہے۔ جس سے یہ نقصان ہوتا ہے کہ شادی سے پہلے ہی ایک دوسرے کے درمیان کی جانے والی باتوں کے اثرات شادی کے بعد ظاہر ہوتے ہیں جو لڑائی جھگڑے کا سبب بنتے ہیں۔

حد درجہ اختلاف کے بعد فیصلہ طلاق پہ آ کے ختم ہو جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان نا خوشگوار واقعات سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ پہلے تو اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ ہر چیز میں میانہ روی اور اعتدال سے کام لیں دو طرفہ رشتوں کے تقدس کو سمجھیں، تمام رشتوں کو ساتھ لے کر چلیں، مہنگے ترین موبائلوں کے حد درجہ استعمال کو اپنی عادت مت بنائیں، فطرت کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہوں، شرعی تقاضوں کو پورا کریں، تحمل برداشت اور صبر کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں، چھوٹی یا بڑی تکالیف اور مصائب کو دور اندیشی سے حل کرنے پر غور و فکر کر کے بہترین فیصلے کریں ہر چیز کا حل طلاق نہیں ہوا کرتا۔

Facebook Comments