تحریر: انیلہ افضال 
اسلام امن اور رواداری کا درس دیتا ہے۔ تاریخ عالم اٹھا کر دیکھیں اسلام ہر دور میں رواداری اور بھائی چارے کا علمبردار رہا ہے۔ رب کائنات کا یہ عظیم احسان ہے کہ اس نے سراپا رحمت دین اسلام کو بنی نوع انسان پر معبوث فرمایا۔ قرآن کریم میں بار بار یک جہتی کی تعلیم دی گئی ہے۔ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کسی گورے کو کالے پر یا عربی کو عجمی پر کوئی برتری حاصل نہیں بلکہ برتری کا معیار صرف اور صرف تقوی ہے۔ آج بھی امن، رواداری اور قومی یک جہتی کے لیے حلف الفضول کی مثال دی جاتی ہے۔

اسلام ایک ایسے معاشرے میں معبوث ہوا جو طبقاتی چیرہ دستیوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ امیر غریب، آقا غلام، کالے گورے اور حاکم و محکوم کے طبقات میں بٹا ہوا تھا۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ اور پھر خلفائے راشدین کے ادوار میں یہ ثابت ہو گیا کہ مختلف رنگوں ، نسلوں اور زبانوں کے حامل افراد کی شیرازہ بندی صرف اور صرف اسلام ہی کی بدولت ممکن ہے۔

بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور اغیار کے افکار و نظریات اور کلچر و تہذیب سے ملاپ کی بدولت مسلمانوں کی اکثریت نے مرکز اسلام قرآن وسنت سے دوری اختیار کی جس کے نتیجے میں گروہ واریت اور علاقائیت کے عفریت نے ملک و مذہب کی رگوں میں پنجے گاڑ لیے ہیں۔ آج ایک طرف سے شیعہ، سنی، وہابی، اور دیوبندی کے نعرے بلند ہو رہے ہیں تو دوسری جانب سے پٹھان، پنجابی، سندھی، بلوچی اور سرائیکی کے پلے کارڈز تقسیم کیے جا رہے ہیں۔

اک پاسے میرے رہن وہابی، اک پاسے دیو بندی
آگے پیچھے شیعہ سنی ڈاہ ڈی فرقہ بندی
اک محلہ پنج مسیتاں کیدی کراں پابندی

حکومتوں اور سرکاروں کا انتخاب ذاتوں اور برادریوں کی بنا پر کیا جا رہا ہے جس کے باعث آج امت و قوم اس حال کو پہنچ گئی ہے کہ اغیار اپنے دانت تیز کیے بیٹھے ہیں۔

یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاو  تو مسلمان بھی ہو

جس طرح کسی بھی قوم کی تشکیل انفرادی طور پر ممکن نہیں اسی طرح منظم اداروں کا فقدان قومی نظریات کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتا۔ دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے پیش نظر اگر ہم اپنی قومی شناخت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں دین اسلام کی بنیادی تعلیمات کی طرف

لوٹنا ہوگا۔
الفت ہوئی رسم پارینہ
ہے اس کی جگہ دل میں کینہ
اگلوں کے چلن ہم بھول گئے
وہ رسم کہن ہم بھول گئے
آپس کی رواداری اٹھی
الفت اٹھی یاری اٹھی
وہ یوگ رہا نہ وہ پریت رہی
بس اک نفرت کی ریت رہی
یکجہتی جب مقفود ہوئی
اور فکر زیان و سود ہوئی
وہ جذب کی طاقت سلب ہوئی
توفیق ہدایت سلب ہوئی

اپنی بقا کے لیے ہمیں باہمی محبت، احترام،رواداری، وسیع النظری اور قومی یک جہتی جیسے عوامل پر کام کرنا ہو گا مگر ہمارے سیاسی ماحول سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ رواداری ختم ہو رہی ہے اب ہمیں بصارت سے نہیں بصیرت سے کام لینا ہو گا کیونکہ اتحاد اور یک جہتی کے بغیر ہمارا شیرازہ بکھر سکتا ہے۔ موجودہ حالات کے پیش نظر اگر ہم اپنی جڑوں کا رخ کرتے ہیں اور اپنی شاندار روایات کا احیاءکرتے ہیں تو پھر قومی یکجہتی اور قومی اتحاد کے راستے از خود کھلنا شروع ہوجائیں گی فقط سوچ یہی ہو کہ ”آواز دو ہم ایک ہیں، وطن کی آبرو خطرے میں ہے ہوشیار ہو جاو

Facebook Comments