تحریر:ابن نیاز
پی ٹی وی نے 1987 میں صبح کی نشریات شروع کیں تو مستنصر حسین تارڑ صاحب کو پہلی نشریات کے آغاز کا موقع ملا۔ جب تک وہ نشریات کرتے رہے، بڑی عمر کے لوگ کیا، بچے خواتین سب صبح کا ناشتہ اپنے ٹی وی سیٹ کے سامنے کرتے تھے۔ تب سے صبح کی نشریات مختلف میزبانوں کے ساتھ ساتھ چلتی چلتی آج کافی ایڈوانس ہو گئی ہیں۔ قرةالعین حیدر، توثیق حیدر، جگن اور بھی کچھ میزبان گزرے لیکن جو لطف اور مزہ چاچو تارڑ کے ساتھ آتا تھا شاید ہی کوئی اس سٹائل میں پروگرام کر پائے۔ آج کل صبح کی نشریات یا جسے عرف عام میں مارننگ شو کہا جاتا ہے توثیق حید ر کر رہے ہیں۔ پی ٹی وی کے مارننگ شو اور دیگر پرائیویٹ چینلز کے مارننگ شوز میں شاید زمین آسمان کا فرق ہے۔ پی ٹی وی کے مارننگ شو میں اب بھی اخلاقیات اور معاشرے کی اقدار کا خیال رکھا جاتا ہے۔ معاشرے کے مختلف مسائل کو زیر بحث لایا جاتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ ان کا حل نکالا جائے۔ پی ٹی وی کے مارننگ شو کو شاید فیملی میں بیٹھ کر دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ اس میں کوئی ایسی بات زیرِ بحث نہیں لائی جاتی جو باپ بیٹی کے سامنے یا ماں بیٹے کے سامنے یا بہن بھائی ایک ساتھ بیٹھ کر نہ دیکھ سکیں۔

دوسری طرف پرائیویٹ چینلز کے مارننگ شوز میں سب سے پہلے تو میزبان خواتین ہوں یا حضرات ، اپنے اخلاقیات کو گھر میں چھوڑ کر آتے ہیں۔اخلاقی اقدار کا وہ جنازہ نکالتے ہیں کہ توبہ الامان۔ سب سے پہلے تو چونکہ وہ ان چینلز کے مالکان خود کروڑ وں اربوں پتی ہیںتو ان کو یہی لگتا ہے کہ ان کے ناظر بھی مالدار ہیں۔ اس کے بعد اخلاقیات کا جنازہ نکالتے ہوئے سر عام ایسی گفتگو ہوتی ہے جو ہمارے معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتی ہے۔ جیسے گھر سے بھاگ کر لڑی کا شادی کرنا، مخلوط محفلوں کا انعقاد وغیرہ۔ اس پر اس طرح کے مباحثے ہوتے ہیںاور بظاہر قائل کیا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ جائز ہے۔ اس کے بعد وہیں سٹیج پر شادی کی محافل منعقد کروانا، ناچ گانے کروانا، حتیٰ کے چھوٹی بچیوں کو رقص کی تعلیم دینا اور ان سے رقص کروانا۔ یہ سب کچھ ہمارے معاشرے میں غیر محسوس طریقے پر پھیلایا جا رہا ہے۔جس طرح گذشتہ سال مارننگ پروگرام میں ایک دس سالہ بچی سے ڈانس کروایا گیا تھا۔ اس کے والدین تو فخر محسوس کیا تھا لیکن کیا یہ ہمارے معاشرے سے متعلق ہے ؟ کیا ہم اپنے بچوں کو یہ تعلیم دیں گے کہ وہ دین کی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر رقص و موسیقی کی تعلیم دیں۔

آج کل کچھ ڈرامے اس قسم کے بنائے جا رہے ہیںجن میں دینی تعلیمات کا شدومد سے مذاق اڑایا جا رہا ہے۔کبھی خواتین کے ہاتھوںطلاق، خلع اور گھریلو مسائل کو زیرِ بحث لا کر زور و شور سے اپنے مسائل اپنے طور حل کرنے کی کوشش کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔اگر آپ کی گھر میں شوہر سے نہیں بنتی تو بیوی کو اختیار ہے کہ وہ خلع لے لے۔ حلالہ کو بالکل ہی حلال کرکے رکھ دیا ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے اس طرح کی آوازیں اٹھائی جاتی ہیں جیسے وہ پاکستان میں واقعی غلامی کی سی زندگی بسر کر رہی ہیں۔ جب کہ دیکھا جائے تو ہمارے دین نے خواتین کو جو حقوق دیے ہیں وہ کسی بھی مذہب میں نہیں ہیں۔

آج کل کے دور میں میڈیا ، خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا معاشرے کے بگاڑ میں یا اس کی تعمیر میں بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ چونکہ ٹی وی ہر گھر میں دیکھا جاتا ہے اور بوڑھوں سے لے کے بچے تک پروگرام دیکھتے ہیں تو اس میڈیا کے ذریعے سب کی برین واشنگ کی جا رہی ہے۔ معلوم نہیں میڈیا کو یہ ایجنڈا کس نے دیا ہے کہ جتنا ممکن ہو اپنے عوام کو اسلامی تعلیمات سے دور رکھیں۔ ایک طرف ٹی وی پر دینی پروگرام پیش کیے جاتے ہیں تو اس میں بھی اس قسم کے مسائل زیرِ بحث لائے جاتے ہیں جو مختلف مکتبہ فکر میں متنازعہ کہلائے جا سکتے ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کو دینی پروگراموں کے لیے بٹھایا جاتا ہے جنھوں نے دین کو صرف کتابوں کی حد تک پڑھا ہوا ہے ان کو خود سمجھ نہیں آتی ہے کہ کس مسئلے کا حل کس طرح پیش کیا جائے۔ مفتی نہ ہوتے ہوئے بھی وہ فتویٰ دیتے ہیں۔

نام میں کسی کا نہیں لکھتا کہ سب قارئین کو معلوم ہے۔بچوں کے ڈرامے تو عرصہ ہوا مفقود ہو گئے۔ اب تو ہر چینل پر کارٹون ہی نظر آتے ہیں وہ بھی غیر ممالک کے بنائے ہوئے۔ تو صاف ظاہر ہے کہ جو وہ غیر ممالک کے کارٹون ہوں گے تو وہ اپنے معاشرے کے حساب سے بنائے گئے ہوں گے اور اسلام کے علاوہ باقی ہر مذہب میں سب کچھ جائز ہے۔تو جب میں کارٹون دیکھتے ہیں تو پہلے تو ان کے لباس واہیات قسم کے ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد ان کی زبان اگر بدقسمتی سے اردو میں ترجمہ بھی ہو تو وہ بھی ہندی ترجمہ ہوتا ہے ۔ جس میں ہندو بھگوانوں کے نام، ان کے اپنے معاشرے کے مطابق ترجمہ ہوتا ہے۔ ہمارے بچے کیا سیکھیں گے؟ آزادی دلانے کا مقصد ہندو معاشرے سے اپنی نسل کو دور رکھنا تھا۔ لیکن اس میڈیا کے ذریعے وہ پھر ہمارے گھروں میں گھس گیا ہے۔ ان کے ڈراموں کی دیکھا دیکھی ہمارے ڈرامے بھی اسی نہج پر بننا شروع ہو گئے ہیں۔

کیا ہم یہ تعلیم اپنے گھرانے کو دے رہے ہیں؟ اگر قصور وار میڈیا ہے تو آدھا قصور گھر کے سربراہ کا بھی ہے۔ایک حدیث پاک کے مفہوم کے مطابق گھر کا سربراہ گھر کا نگہبان ہوتا ہے اور نگہبان ہر بات کا خیال رکھتا ہے ۔ اس کا کام اپنے گھرانے کو حلال کھلانا، حلال کے بارے میں بتانا اور حلال پر عمل کرانا ہوتا ہے۔ کیونکہ بروز محشر اس سے ان سب کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ تو کیا ہمارے گھرانوں کے سربراہ اس مقصد کے لیے تیار ہیں؟ یا وہی گھسا پٹا بہانہ ان کی زبان پر ہے کہ کیا فرق پڑتا ہے اگر چوبیس گھنٹوں میں سے چند لمحوں سے لطف اندوز ہوا جائے۔ دین بہت آسان ہے لیکن بہت مشکل بھی ہے۔

Facebook Comments