ہر چیز کا ایک مقصد ہوتا ہے اور وہی مقصد ہی اس کی جہت اور راستے کی سمت کا تعین کرتا ہے۔ رائٹرز کلب بھی ایک ایسا بے مثال مقصد ہے جو اپنے راستے کی جانب کامیابی سے گامزن ہیں۔ ایک مختصر سا سوشل میڈیا پر بننے والا یہ گروپ اب ایک مکمل ادارے کی صورت اختیار کرچکا تو صرف اس وجہ سے کہ اس میں کام کرنے والا ہر شخص چاہے وہ ایڈمن ہو، ایڈیٹر یا پھر ممبر سب ہی مخلص ہیں۔ ان کے قلم کا ایک مقصد ہے نہ کہ لکھنا مقصد ہے۔ اس گروپ کی تشکیل اور اب تک کے تمام مراحل کا ذکر کیا جائے تو شاید ان تمام مخلصین کے اخلاص کا حق ادا نہ ہوسکے مگر پھر بھی بہت کم الفاظ کے ساتھ ذکر کیا جارہا ہے۔


رائٹرز کلب کی تشکیل
رائٹرز کلب کو ایک سوچ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جس نے قلمی دنیا میں اپنا نمایاں اور انوکھا نام پیدا کیا۔ ایک ایسی سوچ کہ جس نے ذرے سے شروع کیا اور پھر ایک پہاڑ بنا کر سامنے کھڑا کردیا۔ ایک ایسی سوچ کہ جس نے محدود وسائل کے باوجود اخلاص کی مالا میں خود پروئے معاشرے میں پھیلے کانٹنے چننے کا عزم کیا۔ 14 جنوری 2016ءکہ جب ایک پرعزم آواز نے کہا اب ہمیں کچھ کرنا ہوگا گویا اسی دن سے رائٹرز کلب وجود میں آگیا اور پھر اگلے ہی روز رائٹرز کلب کو باقاعدہ تشکیل دے دیا گیا۔ ابتدائی دنوں میں بس یہ جذبہ تھا کہ نئے لکھنے والوں کے لیے کچھ کرنا ہے۔ جب جذبے جواں اور عزائم پختہ ہوں تو مشکل سے مشکل کام آسان تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اسی مقصد کو لے کر چلا گیا اور یوں رائٹرز ملتے گئے قلم کاروں کا قافلہ بنتا گیا۔۔۔


رائٹرز کلب کے مقاصد میں شامل ہے
  نئے قلم کاروں کی موجود وسائل کے ذریعے تحریریں لے کر ان کو انیچ فارمیٹ میں منتقل کر کے اصلاح کرنا اور اس قلم کار کی رہنمائی کرنا۔
  تحریر کی صف اول کے اخبارات تک رسائی ممکن بنانا۔
  اشاعت کے بعد اخبارات دیکھنا اور ان کے تراشے نکال کر متعلقہ قلم کار تک پہنچانا۔
  چھپنے والے تراشوں کو نکال کر کو خوبصورت انداز میں سوشل میڈیا پر وائرل کرنا جن میں فیس بک کے 2گروپس، ایک پیج، گوگل پلس اور ٹیوٹر شامل ہیں۔
  لکھنے سے متعلق کسی بھی قسم کی ممکنہ معاونت فراہم کرنا۔
  میڈیا ورکشاپس کروانا۔
  مہمات میں قلم کاروں کی توجہ مرکوز کرانا اور پھر ان کو مواد کی فراہمی میں معاونت مہیا کرنا۔
رائٹرز کی قلمی صلاحیتیوں کو بڑھانے کے لیے جاندار موضوعات پر مقابلہ جات کرانااور ان کی سینئر کالم نگاروں سے تصحیح کرانا۔
  باقاعدہ آن لائن میٹنگز کے ذریعے اپنے اہداف کا تعین کرنا اور پھر اس پر ہوم ورک کرنا۔

ممبرز شپ
دسمبر 2017 میں گروپ پالیسی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ ہوا اور باقاعدہ ممبرشپ کا آغاز کیا گیا۔ ممبر سازی کا مقصد تھا کہ کم از کم ہمیں اپنے رائٹرز کی معلومات تو ہوں کہ وہ ہیں کون اور کیا ہیں۔ وگرنہ صورتحال یہ تھی کہ کسی نے بھیجا اور وہ چھپنے کے لیے دے دیا گیا بعد ازاں معلوم ہوا کہ وہ چوری شدہ تھا اور کون تھا کہاں گیا پتا نہیں بدنامی گروپ کے حصے میں آگئی۔۔۔ ممبرشپ باقاعدہ فارم فل کر کے حاصل کی جاتی ہے اور اس کا باقاعدہ کارڈ بنا کر ممبرز کو دیا جاتا ہے۔


رائٹرز کلب کی ذاتی انفارمیشن پالیسی
رائٹرز کلب کی جانب سے ہمیشہ اس با ت کا خیال رکھا گیا ہے کہ رائٹرز کی جانب سے فراہم کردہ ذاتی نوعیت کا ڈیٹا کسی بھی تھرڈ پارٹی کو فراہم ہرگز نہ کیا جائے۔ یا کسی بھی قسم کے ڈیٹے کی کسی غیر متعلقہ افراد تک منتقلی نہ ہونے پائے۔ اس کے لیے گروپ کے رولز میں ایڈمن کا چناﺅ پروفیشنل اصولوں اور مکمل طور پر چھان بین کے بعد کیا گیا ہے۔ کسی بھی ایسے ڈیٹے تک سائی صرف اور صرف محدود اور بااعتماد افراد تک ممکن بنایا گیا ہے۔ اللہ کی ذات سے امید رکھتے ہوئے اس بات کی گارنٹی دی جاتی ہے کہ ڈیٹا محفوظ ہی رہے گا۔


ہمارے ساتھی
ابتدائی دور میں فرحین ریاض، دانیہ آفرین اور عارف رمضان جتوئی نے مل کر گروپ ایڈمن کے طور پر فرائض سرانجام دیے اس دوران بے شمار نئے قلم کاروں کے قلم نے فیض حاصل کیا اور قلم کی دھار کا درست استعمال کرنا سیکھا۔ گروپ کی بدولت کئی نئے لکھنے والوں نے اپنا نام بنایا اور آج وہ بہت اچھی جگہ باقاعدہ طور پر لکھ رہے ہیں۔ پھر راستہ طویل منزل بعید اور مقصد لازوال ہونے کی وجہ سے ابتدائی ایڈمنز حوادث زماں میں کہیں کھو گئے۔ اس کے بعد آمنہ نسیم اور عاصمہ عزیز نے گروپ میں بھرپور ایڈمن کا کردار ادا کیا۔ طویل عرصہ ساتھ رہنے کے بعد بالآخر آمنہ نسیم کا ساتھ بھی ماضی کے دھریچوں میں چلا گیا۔ ان کے علاوہ نوجوان رائٹر محرومہ رفعت خان نے بھی گروپ ایڈمن کے طور خدمات دیں۔ مگر۔۔۔


بعدازاں ثنا واجد، ارم فاطمہ، عبداللہ، ابن احمد، دیا خان، زہرا تنویر، عائشہ صدیقہ، حوریہ ایمان اور کچھ پس پردہ دیگر نام شامل ہیں جنہوں نے بھروپور ساتھ دیا اور اب تک ساتھ ہیں۔
رائٹرز کلب کی کامیابی کے پیچھے صرف اور صرف اخلاص نیت اور مخلص ساتھی ہیںجو ساتھ ہیں وہ اور جو ساتھ نہیں۔ بس یوں سمجھےں کہ یہ تمام رائٹرز ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں جنہیں ہم کبھی بھلا نہ سکیں گے۔


پیغام
تمام رائٹرز کلب ارکان کا بہت شکریہ کہ وہ ہیں تو آج گروپ ہے۔۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں! ہم چند افراد نے معاشرے کی اصلاح اور ملک و ملت کی نمایندگی کرنی ہے۔ ہمارے سامنے بگاڑ کے پہاڑ بن چکے ہیں جن کا مقابلہ کرنا ہے۔ ہمیں کو ہی تعمیر کرنا ہے بہتر مستقبل اچھا معاشرہ، جب مقصد بڑا ہو تو تیاری بھی اسی طرح سخت اور بھرپور ہوا کرتی ہے۔ امید ہے کہ ہم سرخرو ہوں گے۔


احتیاط اور نوٹ
رائٹرز کلب کے تمام ممبرز کو خلوص نیت اور باہمی اعتماد پر گروپ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ ایسے میں کسی کے دل میں کیا چل رہا ہے اس بات کا ہمیں علم نہیں ہوتا۔ ایسے میں کسی بھی ممبر کو دوسرے ممبر سے اپنے رابطے اور دیگر معاملات کو ہر لحاظ سے کلیئر رکھنا چاہیے۔ کسی بھی غیر ضروری گفتگو و شنید اور لین دین سے گریز کرنا چاہیے۔ یہاں کوئی بھی فرد ہماری ذمے داری نہیں۔ کسی سے کوئی غیر ضروری بات اگر ملتی ہے تو فورا ادارے کو مطلع کریں۔ ورگرنہ ہر شخص سمجھدار ہے اور اپنے معاملات کو بہتر طریقے سے جانتا ہے۔ اگر کسی کو کسی سے تکلیف پہنچی ہے، چاہیے وہ گفتار میں ہو یا اس کے رویے سے نمایاں ہوتی ہو تو ایسے میں ادارہ مکمل کارروائی کا حق رکھتا ہے۔ کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ایسے فرد کی ممبرشپ کینسل کی جاسکتی ہے۔ اس لیے بہت احتیاط رکھیں اور گروپ میں صرف مقصد پر فوکس رکھیں، کسی سے بے مقصد بات چیت سوالات سے گریز ہی سب سے پہلی ترجیح رکھیں۔ شکریہ

۔
رائٹرز کلب کے مقاصد میں شامل ہے
* نئے قلم کاروں کی موجود وسائل کے ذریعے تحریریں لے کر ان کو انیچ فارمیٹ میں منتقل کر کے اصلاح کرنا اور اس قلم کار کی رہنمائی کرنا۔
* تحریر کی صف اول کے اخبارات تک رسائی ممکن بنانا۔
* اشاعت کے بعد اخبارات دیکھنا اور ان کے تراشے نکال کر متعلقہ قلم کار تک پہنچانا۔
* چھپنے والے تراشوں کو نکال کر کو خوبصورت انداز میں سوشل میڈیا پر وائرل کرنا جن میں فیس بک کے 2گروپس، ایک پیج، گوگل پلس اور ٹیوٹر شامل ہیں۔
* لکھنے سے متعلق کسی بھی قسم کی ممکنہ معاونت فراہم کرنا۔
* میڈیا ورکشاپس کروانا۔
* مہمات میں قلم کاروں کی توجہ مرکوز کرانا اور پھر ان کو مواد کی فراہمی میں معاونت مہیا کرنا۔
*رائٹرز کی قلمی صلاحیتیوں کو بڑھانے کے لیے جاندار موضوعات پر مقابلہ جات کرانااور ان کی سینئر کالم نگاروں سے تصحیح کرانا۔
* باقاعدہ آن لائن میٹنگز کے ذریعے اپنے اہداف کا تعین کرنا اور پھر اس پر ہوم ورک کرنا۔


ممبرز شپ
دسمبر 2017 میں گروپ پالیسی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ ہوا اور باقاعدہ ممبرشپ کا آغاز کیا گیا۔ ممبر سازی کا مقصد تھا کہ کم از کم ہمیں اپنے رائٹرز کی معلومات تو ہوں کہ وہ ہیں کون اور کیا ہیں۔ وگرنہ صورتحال یہ تھی کہ کسی نے بھیجا اور وہ چھپنے کے لیے دے دیا گیا بعد ازاں معلوم ہوا کہ وہ چوری شدہ تھا اور کون تھا کہاں گیا پتا نہیں بدنامی گروپ کے حصے میں آگئی۔۔۔ ممبرشپ باقاعدہ فارم فل کر کے حاصل کی جاتی ہے اور اس کا باقاعدہ کارڈ بنا کر ممبرز کو دیا جاتا ہے۔


رائٹرز کلب کی ذاتی انفارمیشن پالیسی
رائٹرز کلب کی جانب سے ہمیشہ اس با ت کا خیال رکھا گیا ہے کہ رائٹرز کی جانب سے فراہم کردہ ذاتی نوعیت کا ڈیٹا کسی بھی تھرڈ پارٹی کو فراہم ہرگز نہ کیا جائے۔ یا کسی بھی قسم کے ڈیٹے کی کسی غیر متعلقہ افراد تک منتقلی نہ ہونے پائے۔ اس کے لیے گروپ کے رولز میں ایڈمن کا چناﺅ پروفیشنل اصولوں اور مکمل طور پر چھان بین کے بعد کیا گیا ہے۔ کسی بھی ایسے ڈیٹے تک سائی صرف اور صرف محدود اور بااعتماد افراد تک ممکن بنایا گیا ہے۔ اللہ کی ذات سے امید رکھتے ہوئے اس بات کی گارنٹی دی جاتی ہے کہ ڈیٹا محفوظ ہی رہے گا۔


ہمارے ساتھی
ابتدائی دور میں فرحین ریاض، دانیہ آفرین اور عارف رمضان جتوئی نے مل کر گروپ ایڈمن کے طور پر فرائض سرانجام دیے اس دوران بے شمار نئے قلم کاروں کے قلم نے فیض حاصل کیا اور قلم کی دھار کا درست استعمال کرنا سیکھا۔ گروپ کی بدولت کئی نئے لکھنے والوں نے اپنا نام بنایا اور آج وہ بہت اچھی جگہ باقاعدہ طور پر لکھ رہے ہیں۔ پھر راستہ طویل منزل بعید اور مقصد لازوال ہونے کی وجہ سے ابتدائی ایڈمنز حوادث زماں میں کہیں کھو گئے۔ اس کے بعد آمنہ نسیم اور عاصمہ عزیز نے گروپ میں بھرپور ایڈمن کا کردار ادا کیا۔ طویل عرصہ ساتھ رہنے کے بعد بالآخر آمنہ نسیم کا ساتھ بھی ماضی کے دھریچوں میں چلا گیا۔ ان کے علاوہ نوجوان رائٹر محرومہ رفعت خان نے بھی گروپ ایڈمن کے طور خدمات دیں۔ مگر۔۔۔


بعد ازاں ثنا واجد، ارم فاطمہ، عبداللہ، ابن احمد، دیا خان، زہرا تنویر، عائشہ صدیقہ، حوریہ ایمان اور کچھ پس پردہ دیگر نام شامل ہیں جنہوں نے بھروپور ساتھ دیا اور اب تک ساتھ ہیں۔
رائٹرز کلب کی کامیابی کے پیچھے صرف اور صرف اخلاص نیت اور مخلص ساتھی ہیںجو ساتھ ہیں وہ اور جو ساتھ نہیں۔ بس یوں سمجھےں کہ یہ تمام رائٹرز ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں جنہیں ہم کبھی بھلا نہ سکیں گے۔


پیغام

تمام رائٹرز کلب ارکان کا بہت شکریہ کہ وہ ہیں تو آج گروپ ہے۔۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں! ہم چند افراد نے معاشرے کی اصلاح اور ملک و ملت کی نمایندگی کرنی ہے۔ ہمارے سامنے بگاڑ کے پہاڑ بن چکے ہیں جن کا مقابلہ کرنا ہے۔ ہمیں کو ہی تعمیر کرنا ہے بہتر مستقبل اچھا معاشرہ، جب مقصد بڑا ہو تو تیاری بھی اسی طرح سخت اور بھرپور ہوا کرتی ہے۔ امید ہے کہ ہم سرخرو ہوں گے۔


احتیاط اور نوٹ
رائٹرز کلب کے تمام ممبرز کو خلوص نیت اور باہمی اعتماد پر گروپ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ ایسے میں کسی کے دل میں کیا چل رہا ہے اس بات کا ہمیں علم نہیں ہوتا۔ ایسے میں کسی بھی ممبر کو دوسرے ممبر سے اپنے رابطے اور دیگر معاملات کو ہر لحاظ سے کلیئر رکھنا چاہیے۔ کسی بھی غیر ضروری گفتگو و شنید اور لین دین سے گریز کرنا چاہیے۔ یہاں کوئی بھی فرد ہماری ذمے داری نہیں۔ کسی سے کوئی غیر ضروری بات اگر ملتی ہے تو فورا ادارے کو مطلع کریں۔ ورگرنہ ہر شخص سمجھدار ہے اور اپنے معاملات کو بہتر طریقے سے جانتا ہے۔ اگر کسی کو کسی سے تکلیف پہنچی ہے، چاہیے وہ گفتار میں ہو یا اس کے رویے سے نمایاں ہوتی ہو تو ایسے میں ادارہ مکمل کارروائی کا حق رکھتا ہے۔ کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ایسے فرد کی ممبرشپ کینسل کی جاسکتی ہے۔ اس لیے بہت احتیاط رکھیں اور گروپ میں صرف مقصد پر فوکس رکھیں، کسی سے بے مقصد بات چیت سوالات سے گریز ہی سب سے پہلی ترجیح رکھیں۔ شکریہ


ہر چیز کا ایک مقصد ہوتا ہے اور وہی مقصد ہی اس کی جہت اور راستے کی سمت کا تعین کرتا ہے۔ رائٹرز کلب بھی ایک ایسا بے مثال مقصد ہے جو اپنے راستے کی جانب کامیابی سے گامزن ہیں۔ ایک مختصر سا سوشل میڈیا پر بننے والا یہ گروپ اب ایک مکمل ادارے کی صورت اختیار کرچکا تو صرف اس وجہ سے کہ اس میں کام کرنے والا ہر شخص چاہے وہ ایڈمن ہو، ایڈیٹر یا پھر ممبر سب ہی مخلص ہیں۔ ان کے قلم کا ایک مقصد ہے نہ کہ لکھنا مقصد ہے۔ اس گروپ کی تشکیل اور اب تک کے تمام مراحل کا ذکر کیا جائے تو شاید ان تمام مخلصین کے اخلاص کا حق ادا نہ ہوسکے مگر پھر بھی بہت کم الفاظ کے ساتھ ذکر کیا جارہا ہے۔
رائٹرز کلب کی تشکیل
رائٹرز کلب کو ایک سوچ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جس نے قلمی دنیا میں اپنا نمایاں اور انوکھا نام پیدا کیا۔ ایک ایسی سوچ کہ جس نے ذرے سے شروع کیا اور پھر ایک پہاڑ بنا کر سامنے کھڑا کردیا۔ ایک ایسی سوچ کہ جس نے محدود وسائل کے باوجود اخلاص کی مالا میں خود پروئے معاشرے میں پھیلے کانٹنے چننے کا عزم کیا۔ 14 جنوری 2016ءکہ جب ایک پرعزم آواز نے کہا اب ہمیں کچھ کرنا ہوگا گویا اسی دن سے رائٹرز کلب وجود میں آگیا اور پھر اگلے ہی روز رائٹرز کلب کو باقاعدہ تشکیل دے دیا گیا۔ ابتدائی دنوں میں بس یہ جذبہ تھا کہ نئے لکھنے والوں کے لیے کچھ کرنا ہے۔ جب جذبے جواں اور عزائم پختہ ہوں تو مشکل سے مشکل کام آسان تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اسی مقصد کو لے کر چلا گیا اور یوں رائٹرز ملتے گئے قلم کاروں کا قافلہ بنتا گیا۔۔۔
رائٹرز کلب کے مقاصد میں شامل ہے
* نئے قلم کاروں کی موجود وسائل کے ذریعے تحریریں لے کر ان کو انیچ فارمیٹ میں منتقل کر کے اصلاح کرنا اور اس قلم کار کی رہنمائی کرنا۔
* تحریر کی صف اول کے اخبارات تک رسائی ممکن بنانا۔
* اشاعت کے بعد اخبارات دیکھنا اور ان کے تراشے نکال کر متعلقہ قلم کار تک پہنچانا۔
* چھپنے والے تراشوں کو نکال کر کو خوبصورت انداز میں سوشل میڈیا پر وائرل کرنا جن میں فیس بک کے 2گروپس، ایک پیج، گوگل پلس اور ٹیوٹر شامل ہیں۔
* لکھنے سے متعلق کسی بھی قسم کی ممکنہ معاونت فراہم کرنا۔
* میڈیا ورکشاپس کروانا۔
* مہمات میں قلم کاروں کی توجہ مرکوز کرانا اور پھر ان کو مواد کی فراہمی میں معاونت مہیا کرنا۔
*رائٹرز کی قلمی صلاحیتیوں کو بڑھانے کے لیے جاندار موضوعات پر مقابلہ جات کرانااور ان کی سینئر کالم نگاروں سے تصحیح کرانا۔
* باقاعدہ آن لائن میٹنگز کے ذریعے اپنے اہداف کا تعین کرنا اور پھر اس پر ہوم ورک کرنا۔
ممبرز شپ
دسمبر 2017 میں گروپ پالیسی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ ہوا اور باقاعدہ ممبرشپ کا آغاز کیا گیا۔ ممبر سازی کا مقصد تھا کہ کم از کم ہمیں اپنے رائٹرز کی معلومات تو ہوں کہ وہ ہیں کون اور کیا ہیں۔ وگرنہ صورتحال یہ تھی کہ کسی نے بھیجا اور وہ چھپنے کے لیے دے دیا گیا بعد ازاں معلوم ہوا کہ وہ چوری شدہ تھا اور کون تھا کہاں گیا پتا نہیں بدنامی گروپ کے حصے میں آگئی۔۔۔ ممبرشپ باقاعدہ فارم فل کر کے حاصل کی جاتی ہے اور اس کا باقاعدہ کارڈ بنا کر ممبرز کو دیا جاتا ہے۔
رائٹرز کلب کی ذاتی انفارمیشن پالیسی
رائٹرز کلب کی جانب سے ہمیشہ اس با ت کا خیال رکھا گیا ہے کہ رائٹرز کی جانب سے فراہم کردہ ذاتی نوعیت کا ڈیٹا کسی بھی تھرڈ پارٹی کو فراہم ہرگز نہ کیا جائے۔ یا کسی بھی قسم کے ڈیٹے کی کسی غیر متعلقہ افراد تک منتقلی نہ ہونے پائے۔ اس کے لیے گروپ کے رولز میں ایڈمن کا چناﺅ پروفیشنل اصولوں اور مکمل طور پر چھان بین کے بعد کیا گیا ہے۔ کسی بھی ایسے ڈیٹے تک سائی صرف اور صرف محدود اور بااعتماد افراد تک ممکن بنایا گیا ہے۔ اللہ کی ذات سے امید رکھتے ہوئے اس بات کی گارنٹی دی جاتی ہے کہ ڈیٹا محفوظ ہی رہے گا۔
ہمارے ساتھی
ابتدائی دور میں فرحین ریاض، دانیہ آفرین اور عارف رمضان جتوئی نے مل کر گروپ ایڈمن کے طور پر فرائض سرانجام دیے اس دوران بے شمار نئے قلم کاروں کے قلم نے فیض حاصل کیا اور قلم کی دھار کا درست استعمال کرنا سیکھا۔ گروپ کی بدولت کئی نئے لکھنے والوں نے اپنا نام بنایا اور آج وہ بہت اچھی جگہ باقاعدہ طور پر لکھ رہے ہیں۔ پھر راستہ طویل منزل بعید اور مقصد لازوال ہونے کی وجہ سے ابتدائی ایڈمنز حوادث زماں میں کہیں کھو گئے۔ اس کے بعد آمنہ نسیم اور عاصمہ عزیز نے گروپ میں بھرپور ایڈمن کا کردار ادا کیا۔ طویل عرصہ ساتھ رہنے کے بعد بالآخر آمنہ نسیم کا ساتھ بھی ماضی کے دھریچوں میں چلا گیا۔ ان کے علاوہ نوجوان رائٹر محرومہ رفعت خان نے بھی گروپ ایڈمن کے طور خدمات دیں۔ مگر۔۔۔
بعدازاں ثنا واجد، ارم فاطمہ، عبداللہ، ابن احمد، دیا خان، زہرا تنویر، عائشہ صدیقہ، حوریہ ایمان اور کچھ پس پردہ دیگر نام شامل ہیں جنہوں نے بھروپور ساتھ دیا اور اب تک ساتھ ہیں۔
رائٹرز کلب کی کامیابی کے پیچھے صرف اور صرف اخلاص نیت اور مخلص ساتھی ہیںجو ساتھ ہیں وہ اور جو ساتھ نہیں۔ بس یوں سمجھےں کہ یہ تمام رائٹرز ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں جنہیں ہم کبھی بھلا نہ سکیں گے۔
پیغام
تمام رائٹرز کلب ارکان کا بہت شکریہ کہ وہ ہیں تو آج گروپ ہے۔۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں! ہم چند افراد نے معاشرے کی اصلاح اور ملک و ملت کی نمایندگی کرنی ہے۔ ہمارے سامنے بگاڑ کے پہاڑ بن چکے ہیں جن کا مقابلہ کرنا ہے۔ ہمیں کو ہی تعمیر کرنا ہے بہتر مستقبل اچھا معاشرہ، جب مقصد بڑا ہو تو تیاری بھی اسی طرح سخت اور بھرپور ہوا کرتی ہے۔ امید ہے کہ ہم سرخرو ہوں گے۔
احتیاط اور نوٹ
رائٹرز کلب کے تمام ممبرز کو خلوص نیت اور باہمی اعتماد پر گروپ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ ایسے میں کسی کے دل میں کیا چل رہا ہے اس بات کا ہمیں علم نہیں ہوتا۔ ایسے میں کسی بھی ممبر کو دوسرے ممبر سے اپنے رابطے اور دیگر معاملات کو ہر لحاظ سے کلیئر رکھنا چاہیے۔ کسی بھی غیر ضروری گفتگو و شنید اور لین دین سے گریز کرنا چاہیے۔ یہاں کوئی بھی فرد ہماری ذمے داری نہیں۔ کسی سے کوئی غیر ضروری بات اگر ملتی ہے تو فورا ادارے کو مطلع کریں۔ ورگرنہ ہر شخص سمجھدار ہے اور اپنے معاملات کو بہتر طریقے سے جانتا ہے۔ اگر کسی کو کسی سے تکلیف پہنچی ہے، چاہیے وہ گفتار میں ہو یا اس کے رویے سے نمایاں ہوتی ہو تو ایسے میں ادارہ مکمل کارروائی کا حق رکھتا ہے۔ کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ایسے فرد کی ممبرشپ کینسل کی جاسکتی ہے۔ اس لیے بہت احتیاط رکھیں اور گروپ میں صرف مقصد پر فوکس رکھیں، کسی سے بے مقصد بات چیت سوالات سے گریز ہی سب سے پہلی ترجیح رکھیں۔ شکریہ

Facebook Comments