سرائیکی وسیب کا عشق ممنوع (عارف رمضان جتوئی)

معزز علاقہ کے بیٹے کی شادی تھی۔ سرائیکی وسیب کے افراد بڑی تعداد میں جمع تھے۔ ”سرائیکی جھومر“ (ڈانس) کا وقت ہونے والا تھا۔ گاﺅں کے ماحول میں رات کی تاریکی ڈائن کی طرح پورے وسیب پر چھا چکی تھی۔ خاموشی میں پتے کے کھڑکھنے کی آواز بھی سنی جاسکتی تھی۔ شادی والے گھر میں قمقمے جگ مگ کررہے تھے۔ مختصر انتظار کے بعد ایک بڑی سی گاڑی معزز علاقہ کے گھر کے گیٹ پر رکی۔ تین ہیولے اترے اور لڑھ کھڑاہتے ہوئے گیٹ سے اندر داخل ہوگئے۔ انٹری کے ساتھ ہی سیٹیوں اور شور کی ایک بلند آواز ابھری اور خاموشی کا دل چیرتی ہوئی گاﺅں کے ماحول میں تحلیل ہوگئی۔
مصنوعی سازوں میں ترتیب دیے گئے ڈھول کی آواز نے شرکا محفل کو اپنے سحر میں جکڑنا شروع کردیا۔ ڈھول کے ساتھ کچھ مزید سازوں نے ساتھ دیا تو پورے ماحول میں جیسے تازگی کی لہر دوڑ گئی ۔ سرائیکی گانے کی گونج کے ساتھ ہی گھنگرووں کی چھنکار بھی شامل ہوچکی تھی۔ کچھ جوانوں کے باتمیز حوصلے اب جواب دے چکے تھے۔ محفل میں صنف نازک کے روپ میں تھرکتے 3 اجسام کے ساتھ وہ بھی اب بے ڈھنگے انداز میں جھوم رہے تھے۔ پچھلی رات میں شادی کے کھانے کے لیے جلنے والی آگ کے کوئلوں کی طرح محفل بھی بجھتی چلی گئی۔
رات گئے محفل کی رونق بننے والے ان غیر مناسب نوجوانوں کی صبح کچھ دیر سے ہوئی۔ بزرگ جلدی اٹھ چکے تھے۔ لعنتیں تو گویا ان پر رات ہی کو پڑی ہوں گی مگر صبح نہار منہ بڑوں سے بھی لعنتیں کھانے کے بعد گویا دن کا آغاز ہوا۔ پورا دن معزز علاقہ کی محفل اور تھرکتے جسموں پر تبصروں میں گزرا۔ کسی نے صرف تعریف اور کسی نے خوب تعریف کی۔ گویا پیاسے جوانوں کی تسکین کا بندوبست کیا گیا تھا۔ وہ تو خوش تھے مگر سرائیکی وسیب کہیں کھڑا اپنی بے حرمتی پر کڑھ رہا تھا۔ اسے آج اپنے ہونے پر شرمندگی محسوس ہورہی تھی۔ اس نے کئی بار سوچا کہ وہ تو کبھی ایسا نہ تھا مگر معزز وسیب نے اب اسے ویسا قرار دیے دیا تھا۔ یہ ایک رات کی بات نہیں اب تو یہ سرائیکی وسیب کا معمول بنتی جارہی ہیں۔
وقت وقت کی بات ہے کہ جب وی سی آر کو کپڑے میں چھپا کر رات کے پچھلے پہر کسی گمنام کمرے میں رکھ کر چار نوجوان کچھ معقول فلمیں دیکھتے تھے اس پر ڈر بھی رہتا تھا کہ کہیں کوئی دیکھ نہ لے اور اب حال یہ ہے کہ سرعام محفل سجے اور بے ڈھنگے لباس میں صنف نازک کی شبیہ کو بھوکے پیاسے لڑکوں کے سامنے چھوڑ دیا گیا۔ پوری رات وہ نازک ان کی نظروںکا سامنا کرتیں عادت پیسے جمع ہوتے رہتے۔ روحیں کانپتی رہیں اور بدروحین محظوظ ہوتی رہیں۔ لُکا چُھپی کی محبت اب عیاں دکھنے لگی ہے۔ بزرگوں کا خوف تو جاتا ہی رہا الٹا تعظیم بھی ختم ہونے لگی ہے۔
ان حالات کی بنیادی وجہ سرائیکی وسیب نہیں بلکہ وسیب میں جینے والے کچھ نفوس ہیں۔ سرائیکی وسیب وہ معاشرہ ہے کہ جہاں اٹھنے، بیٹھنے، چلنے، پھرنے اور بولنے تولنے کے طور طریقے سب کچھ سیکھائے اور بتائے جاتے ہیں۔ سرائیکی میں وسیب معاشرے اور ماحول کو کہا جاتا ہے۔ جس میں مٹھاس ہے، محبت اور اپنائیت ہے۔ جس میں حیا ہے۔ تمیز ہے اور لحاظ، مروت ہے۔ جس میں بہن بیٹی کی قدر اور نظروں کا جھکاﺅ ہے مگر اس خوبصورت وسیب کو غیر مناسب بننے والی فلموں، ڈراموں اور گانوں پر غیرضروری فلمائے گئے سین کے ذریعے سے گدلا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
کسی بھی برادری کے لیے سب سے زیادہ اہمیت اس کا وسیب اور سماج رکھتا ہے۔ یہ سماج ہی اس کی پہچان بنتا ہے۔ سماج کے اصول و ضوابط میں کئی اہم ترین مسائل کا حل پنہاں ہوتا ہے۔ سرائیکی برادری کا اپنا وسیب تو ہے ممکن ہے اس کی کوئی پہچان بھی ہو البتہ وہ کہیں نظر نہیں آتی۔ نہ کبھی کسی نے اسے اجاگر کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی اس کی بہتری کے لیے کوئی تگ و دو کی گئی۔ وجہ نمایاں تھی کہ برادری کے بڑوں میں اخلاص کی کمی رہی اور ابھی تک جاری ہے۔ خودغرضی کے لبادے میں لپٹے یہ بڑے محافل میں وسیب کے حسن کی دھجیاں تو بکھیر سکتے ہیں مگر اس کو سہارا دے کر جلا نہیں بخش سکتے۔
میڈیا کے ذریعے مرتے وسیب کو زندگی دی جاسکتی تھی مگر سرائیکی میڈیا کا دور تک کوئی نام و نشان نہیں ہے اور کبھی تھا یا اب ہے تو وہ بھی ثانوی حیثیت کی حدتک ہے۔ جہاں تک سرائیکی شوبز انڈسٹری کے کردار کی بات ہے تو انہوں نے نہ صرف سرائیکی وسیب کو بدنام کیا بلکہ بدنامی کی ان اتاہ گہرائیوں میں پہنچایا جس کے بعد سرائیکی عوام جب اپنے گھر سے باہر نکلتے ہیں تو خود کو سرائیکی کہلوانے سے قدرے گھبراتے ہیں۔ وجہ ایک تو شوبز کے اوٹ پٹانگ ٹائپ کے گانوں پر فلمائے گئے گھٹیا اور سطحی سین ہیں اور دوسرا کچھ افراد کی جہالت جن میں تربیت کی کمی ہی نہیں بلکہ تربیت کے نام سے ناواقفیت ہے۔
اب ان کی تربیت کا بندوبست تو وسیب میں ہوتا وہاں کی تربیت یہ ہے کہ معززین علاقہ اپنے گھروں میں باہر سے لڑکیاں منگوا کر نچواتے ہیں اور عشق ممنوع کا درس دیتے ہیں۔ تربیت کی دوسری جگہ میڈیا تھا۔ میڈیا تو ہے نہیں اور جو ہے اس کا انداز یہ ہے کہ اوٹ پٹانگ اور شرم و حیا سے عاری سین دکھائے جائیں۔ نوجوانوں کی پیاس کو اس قدر بھڑکایا جائے کہ کسی بھی اس طرح کے سین کو دیکھنے کے بعد لازمی اطلاع ملے آج پھر کوئی کلی مسلی گئی۔ اس سے تھوڑا کم کرلیں تو یہ بتایا کہ باپ اور ماں کا رشتہ کسی نائی اور موچی سے قطعی طور پر زیادہ نہیں ہے۔ ایسے ایسے ڈرامے پیش کیے جائیں جن میں نظامی کے کردار اپنے ہی والدین پر لعنتیں کرتے ہوئے بچوں کو تربیت کا درس دیتے ہوں۔ گالم گلوچ کا ایسا سبق سکھایا جائے کہ بچے ایک ہی سانس میں 50-60 گالیاں بکیں اور سب کہیں واہ واہ کیا بات ہے ہمارا بچہ بہت تیز ہے۔
گزشتہ روز گھر سے کراچی کے لیے نکلا تو بس ڈرائیور نے تسکین قلب کے لیے بس میں کچھ سرائیکی گانے لگا رکھے تھے۔ گانوں پر فلمائے گئے سین بس میں لٹکی ایل سی ڈی پر نمایاں تھے۔ سین دیکھتے ہوئے کئی بار احساس ہوا کہ کہیں بس میں کوئی خاتون تو نہیں بیٹھی۔ حالات یہ ہیں کہ جس وسیب میں عشق ممنوع کا درس نہ صرف دیا جاتا تھا بلکہ وہ گھر کے ہر معزز نوجوان کے رگ و پے میں موجود ہوتا تھا۔ اپنے وسیب اور ثقافت کا احترام اور اس کی اصلی حالت میں بحالی سرائیکی وسیب کے لیے اس وقت بہت ضروری ہے۔ ثقافت کے احیاءکے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو بھی اپنا بھرپور کردارادا کرنا ہوگا۔
خدارا ! سرائیکی شوبز کے لیے کوئی سنسر بورڈ تشکیل دیا جائے۔ انہیں تمیز اور تہذیب کا دائرہ کار دیا جائے۔ اگر معاشرے کو زیادتی اور ہراسانی جیسے واقعات سے بچانا ہے تو بے ہنگم فلمیں، گندے سین اور عشق و معشوقی کے نام پر ہیجان انگیزیوں کا سدباب کرنا بے حد ضروری ہے۔ گالم گلوچ اور غیر مہذب مکالموں پر مبنی فلموں اور ڈراموں پر پابندی عاید کی جائے اور ضابطہ اخلاق طے کیا جائے۔ سرائیکی وسیب میں تعلیم کی کمی کو پورا کرنے میں شاید ہم کبھی کامیاب ہوبھی جائیں تو یہ تعلیم کی جنگ ہم تربیتی محاذ پر آکر ہار بیٹھیں گے۔ وہ تربیتی محاذ یہی غیراخلاقی میڈیا ہے۔

Facebook Comments