مذہب اور سیاست (عبدالرزاق صالح)

جان سے پیارے ہمارے اس وطن عزیز میں وقتاً فوقتاً اس بحث کو چھیڑا جاتا رہا ہے کہ مذہب کا سیاست سے کیا تعلق؟ لہذا مذہب کو سیاست سے الگ کیا جائے۔ اگر اس فقرے کو کم از کم پاکستان کی تاریخ میں دیکھا جائے تو یہ فقرہ ہمیں پاکستان کی آزادی سے پہلے بھی نظر آتا ہے، جب سے قیام پاکستان کے لیے کوششیں جاری کی گئی تھیں، اس وقت سے یہ فقرہ بھی وجود میں آگیا تھا۔ جس کی شکایت کرتے ہوئے خود بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رح بھی نظر آتے ہیں۔ ایک موقع پر بانی پاکستان فرماتے ہیں کہ: “جب ہم اسلام کا نام لیتے ہیں تو بہت سے لوگ ہمیں غلط سمجھتے ہیں خصوصاً ہمارے ہندو دوست۔ جب ہم کہتے ہیں کہ یہ جھنڈا اسلام کا جھنڈا ہے تو وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم مذہب کو سیاست میں گھسیٹ رہے ہیں حالاں کہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہم فخر کرتے ہیں۔ اسلام ہمیں مکمل ضابطہ حیات دیتا ہے، یہ نہ صرف ایک مذہب ہے بل کہ اس میں قوانین، فلسفہ اور سیاست سب کچھ ہے۔ در حقیقت اس میں وہ سب کچھ موجود ہے جس کی آدمی کو صبح سے رات تک ضرورت ہوتی ہے۔ جب ہم اسلام کا نام لیتے ہیں تو اسے ایک کامل لفظ ”دین“ کی حیثیت سے لیتے ہیں۔ ہمارا کوئی غلط مقصد نہیں۔
اب اس ضمن میں ہم تین باتیں کرتے ہیں۔1: مذہب سیاست کے حوالے سے کیا تعلیم دیتاہے؟2:کم از کم پاکستان کی تاریخ میں سیاست میں مذہب کا نام کس کس نے استعمال کیا؟3:مذہب کو سیاست میں استعمال کرنے پر کون سے لوگ اعتراض کرتے ہیں؟
سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ ہمیں مذہب سیاست کے حوالے سے کیا سکھاتا ہے؟ جب ہم مذہبی تعلیمات کا اس حوالے سے مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ چیز واضح طور پر نظر آتی ہے کہ اسلام نے جہاں اخلاقی نظام قائم کیا وہیں سیاسی نظام بھی قائم کیا۔ مذہبی تعلیمات سے ہمیں یہ بھی بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کی قوموں میں ان کے سیاسی معاملات بھی انبیاءکرام علیہم السلام ہی سنبھالتے تھے۔ ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”بنی اسرائیل کے انبیاءان کی سیاسی رہنمائی بھی کیا کرتے تھے، جب بھی ان کا کوئی نبی وفات پاجاتا تو دوسرے ان کی جگہ آموجود ہوتے“۔
اس بات سے ہمیں یہ بخوبی معلوم ہوگیا کہ اسلام میں مذہب اور سیاست الگ الگ نہیں ہیں، نہ مذہب سے الگ سیاست کوئی چیز ہے اور نہ ہی سیاست سے الگ مذہب کوئی چیز ہے۔ سیاست مذہب کا جزو اعظم ہے۔ جس سے کسی حال میں بھی قطع نظری نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے اسلامی سیاست اور مسلمانوں کی کسی جدوجہد کا مقصد وہ کبھی نہیں ہوسکتا ہے جو آج کی عصری سیاستوں میں پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ جس کا تمام تر خلاصہ تین چیزیں ہوتی ہیں۔ زمین، زر اور ذاتی اقتدار لیکن ہم پھر بھی اس گئے گزرے زمانے میں خوش قسمت ہیں کہ ہمیں مذہب کے نام پر حقیقی طور پر اسلامی سیاست کرنے والے چند نام ایسے ضرور ملتے ہیں جو اس سیاسی ماحول میں اپنی سالہا سال زندگی گزارنے کے باوجود آج تک اپنا دامن ان چیزوں سے بچائے رکھا ہے۔ جس بات کی دلیل یہ ہے کہ آج تک ان پر کرپشن کا کوئی ایک روپیہ بھی ثابت نہیں ہوا ہے۔
اس کے بعد مزید دیکھا جائے تو اسلام کی عمارت پانچ شعبوں پر قائم ہے۔ ان پانچ شعبوں میں سے ایک شعبہ اجتماعیات ہے۔ جس کا مطلب ہے اپنی قومیت کو سنبھالنا یعنی اجتماعی حالت کو درست کرنا ہے کہ قوم میں اجتماعی طور پر ایک ہی تنظیم ہو، قوم ایک نظم کے تحت زندگی گزارے، بدامنی نہ ہو کہ ایک کا رخ ادھر کو ہو اور ایک کا رخ ادھر ہو، ایک مشرق کو جارہا ہے تو ایک مغرب کو جا رہا ہے بل کہ ایک نظم کے اندر پوری قوم جڑی ہوئی ہو، ایک نظام کے تحت چل رہی ہو اور ہر چیز اپنی جگہ پر قائم ہو۔ ظاہر ہے یہ کام کسی حکومتی نظام کے علاوہ نہیں ہوسکتا اور حکومت بغیر سیاست کے نہیں بنائی جا سکتی۔ لہٰذا اس سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ ہمیں مذہب کی مکمل تعلیمات اور احکامات پر عمل کرنے کے لیے جہاں اخلاقیات کا درس دیا گیا ہے تو وہاں معاشرے میں مکمل طور پر اسلامی نظام کے نفاذ کے خاطر حکومت بنانے کے لیے ہمیں سیاسی جدوجہد کرنے کا بھی درس ملتا ہے۔
اس کے بعد بات کرتے ہیں کہ کم از کم پاکستان کی تاریخ میں مذہب کا نام سیاست میں استعمال کس کس نے کیا؟ اس بات کو اگر دیانتداری کے ساتھ دیکھا جائے تو ہمیں اس وطن کی آزادی کی کوششوں سے ہی یہ بات نظر آتی ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا ”لا الہ الا اللہ“ کے نعرے کے تحت ہی اس وطن عزیز کو حاصل کیا گیا تھا اور پاکستان بل کہ مسلم لیگ کے جھنڈے کو اسلام کا جھنڈا کہا گیا تھااور صرف اسلام کاجھنڈاکہنے تک بس نہیں گئی بل کہ اس جھنڈے کو مسلمانوں اور اسلام کی عزت و شان کا مظہر کہاگیا۔ اس کےساتھ ساتھ یہ بھی یادرہےکہ یہ نعرہ لگانےیا مسلم لیگی جھنڈےکو اسلام کاجھنڈاکہنے والاکوئی عام آدمی یا کوئی باقاعدہ عالم دین نہیں بل کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ اسی وقت بھی جب مذہب کو سیاست میں استعمال کیا گیا تو بانی پاکستان کو بھی لوگوں کی باتیں سننی پڑیں۔ اس کے بعد علامہ اقبال رح فرماتے ہیں کہ ”جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی“۔ معلوم ہوا کہ علامہ اقبال کے ہاں بھی مذہب اور سیاست کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا اور علامہ اقبال وہ شخصیت ہے جس کا ملکی سیاست میں ایک نمایاں کردار رہا ہے۔ اس کے بعد صدر ضیاء الحق نے بھی اسلام کا نعرہ لگاتے ہوئے 11 سال تک ملک پر حکومت کی۔ اس کے بعد دیکھا جائے تو حال ہی میں ہمارے وزیراعظم صاحب نے بھی خوب مذہب کا نام استعمال کیا ہے جس کی وجہ سے اس کو حکومت کی انتہائی ناقص کارکردگی کے باوجود بھی مختلف مواقع پر خوب پذیرائی ملی ہے۔
ان باتوں کے باوجود اب اگر کوئی باقاعدہ مدرسے میں پڑھے، مذہبی ماحول پلے بڑھے، ڈاڑھی اور پگڑی باندھے ہوئے کوئی میدان سیاست میں مذہب کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلامی سیاست کرے، جس کی سیاست کا محور ہی مذہب ہو اور ہم اس کو یہ طعنہ دے کر میدان سیاست سے ہٹانے کی کوشش کریں کہ جی آپ تو مذہب کو سیاست میں استعمال کر رہے ہیں تو یہ کون سی عدالت کا انصاف کہلائے گا؟ اور اگر واقعی مذہب کو سیاست سے الگ رکھنا ہے تو پھر معیار بھی سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ یہ نہیں کہ ہم کریں تو جائز اور اگر کوئی داڑھی پگڑی والا کرے تو ناجائز۔ ویسے ایسی حرکتیں ہونی نہیں چاہئیں کیوں کہ اس سے ناقابل تلافی نقصانات ہوں گے۔ اس لیے قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمان کے مطابق کہ ”آئیے! ہم اپنی صلاحیتیں صحیح رخ پر کھپائیں“۔
ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو یہ بات واضح طور پر نظر آرہی ہے کہ مذہب ہمیں کسی طرح سے بھی سیاست سے نہیں روکتا اور وطن عزیز کی آزادی میں بھی مذہب کے نام کا خوب استعمال کیا گیا اور ہمارے حکمران بھی جہاں ان کو موقع ملتا ہے تو وہ موقع گنواتے نہیں۔ تو اب آخر کون لوگ ہیں جو یہ شور مچاتے ہیں کہ جی مذہب کو سیاست میں استعمال کیا جارہا ہے۔
اس حوالے سے ہمیں ایک ہی بات ملتی ہے کہ ایسی ذہنیت کے حامل لوگ انگریز کی پیدا کی گئی اس ذہنیت کے شعوری یا غیر شعوری طور پر شکار ہوچکے ہیں جو انہوں نے برصغیر پر دیر تک اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے بنائی تھی۔ انگریز جب مسلم حکمرانوں اور جرنیلوں سے فارغ ہوا تو اس نے طویل المیعاد پالیسیوں کے حوالے سے سوچا کہ جب تک مسلمانوں کے دلوں میں سے اسلام کا جذبہ، اسلامی تعلیم، جہاد اور سیاست نہیں نکالی جائے گی تو جب تک یہ کسی غیر مسلم قوت کے فرمانبردار نہیں ہوسکتے۔اسی لیے انہوں نے یہ پر زور مہم چلائی کہ مولوی کا کام صرف نماز، روزہ، نکاح اور طلاق کے مسائل میں رہنمائی کرنا ہے۔ باقی جہاد اور سیاست کے معاملات مولوی کے دائرہ اختیار سے باہر ہونے چاہییں۔اسی لیے مساجد میں بھی سیاسی معاملات پر گفتگو نہ کرنے کا شرط لگایا گیا۔جب بھی کسی عالم دین نے سیاسی معاملات میں دخل دیا تو اس کو سیاسی مولوی بل کہ دین سے بگڑے ہوئے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ جو سراسر ناانصافی ہے۔
موجودہ حالات میں بھی یہ بات بڑے زور و شور سے پیش کی جارہی ہے کہ مذہب کو سیاست میں استعمال کرنا بند کیا جائے تو اس ملک و ملت کی اس سے زیادہ بدنصیبی کیا ہوگی کہ جس جذبے اور نعرے کے تحت بدترین سامراج سے آزادی نصیب ہوئی اور جس کے طفیلے یہ ملک ملا، آج اسی جذبے پر بحث چل رہی ہے کہ آیا وہ جذبہ وہ نعرہ ملکی سیاست میں برقرار رکھا جائے یا ممنوع قرار دیا جائے۔
حالاں کہ قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا کہ ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بل کہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جہاں اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں۔ لیکن افسوس! کہ آج اسی ملک میں مذہب اور سیاست کی بحث چل نکلی ہے اور مذہب کو سیاست سے الگ کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ جو سراسر بے سود ثابت ہوں گی۔ ان شاءاللہ

Facebook Comments