میں عوام ہوں (راحیلہ سلطان)

میں ایک پاکستانی ہوں 22 کروڑعوام میں سے ایک عام آدمی ۔میں روز صبح سے رات تک اپنے اور اپنے خاندان کو بنیادی سہولیات دینے کے لیے کولہو کے بیل کی طرح جتا رہتا ہوں اپنا خون ، پسینے کی طرح بہاتا ہوں اپنے ذہن و جسم سے بیگار لیتا ہوں اور تب کہیں جاکر جینے کے لیے دو وقت کی روٹی کماتا ہوں ،مکان کا کرایہ دیتا ہوں، بچوں کی تعلیم سے لیکر ان کی چھوٹی چھوٹی خواہشات پوری کرنے کی کوشش میں ،میں نے خود کو مشین میں ڈھال لیا ہے ، لیکن پھر بھی مہنگائی کے بوجھ تلے یہ مشین کارآمد نہیں ۔

 

میں بیمار ہونے سے خوفزدہ رہتا ہوں کیونکہ علاج کرنا میرے بس سے باہر ہے اپنے بچوں کا مستقبل مجھے ہراساں کرتا ہے کیونکہ میں ان کی مہنگی تعلیم کا بار نہیں اٹھا سکتا ۔ میں اپنے بچوں سے نظریں نہیں ملاسکتا کیوں کہ ان کے خواب پورے کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں ۔میں ان کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں شریک نہیں ہوسکتا کیونکہ زندگی کی دوڑ نے مجھے تھکا دیا ہے ۔ہر ماہ بجلی اور گیس کے بلوں کے ہاتھ میں آنے سے پہلے ہی میری سانسیں رکنے لگتی ہیں ۔میں معاشرے کی اس ان دیکھی چال سے ڈرتا ہوں جو کسی ناگہانی کی طرح میری اس مشقت بھری زندگی میں کوئی آفت نہ لے آئے ۔

 

میں بہت ادنیٰ انسان ہوں میرے نام کے آگے نہ شریف لگا ہے نہ بھٹو میرے لیے زندگی ایک مشقت ہے میں روٹی چراؤں گا تو چور کہلاؤں گا کیونکہ ہمارے ہاں اربوں چرانے والا شریف ہوتا ہے ۔میں جیل گیا تو سالوں تھانوں اور عدالتوں کے چکر کاٹوں گا کبھی کیس فائل نہ ہوگا ۔صرف لگنے والی تاریخوں میں زندگی گزار دوں گا۔ میرے لیے کوئی چھٹی والے دن عدالت نہ لگائے گا ۔

 

میں مجرم بن کر کسی بھی موذی مرض میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاؤں گا شاید مجھےاسپتال و ڈاکٹر کی شکل بھی نہ دیکھنے کو ملے کیونکہ میرے ملک کا انصاف میرے لیے کچھ اور فیصلہ دے گا ۔ مجھے ملک سے باہر جانے کی کبھی رعایت نہ ملے گی کیونکہ میرے نام کے آگے شریف نہیں ۔میرے بچے باہر تو کیا اس ملک میں بھی اعلی تعلیم حاصل کرنے کے متحمل نہیں ۔ میں سچ بولوں گا تو باغی کہلاؤں گا ۔ انصاف مانگوں گا تو مجرم بن جاؤں گا ۔ حق مانگوں گا تو زنجیریں پہنوں گا ۔

 

میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ایک معمولی آدمی ہوں میرے وسائل محدود اور اختیار، بےاختیار ہے ۔ میں کوئی وزیر نہیں امیر نہیں میں تو ایک حقیر کیڑا ہوں جو گلی میں کسی ان دیکھی گولی سے بھی مرسکتا ہے کسی خود کش دھماکے میں ٹکڑے ٹکڑے ہوسکتا ہے جو بھری ہوئی بس کے پائیدان سے گر کر، یا کسی نامعلوم کی لگائی ہوئی آگ میں جھلس کر کسی مسیحا کے غلط علاج سے یا کسی محافظ کی تحویل میں تشدد سے یا پھر ماورائے عدالت کسی مقابلے میں میری موت کسی طرح بھی ممکن ہے اور یہ بھی یقینی ہے کہ میری موت فائلوں کی گرد کی نظر ہوگی اور یہ بھی کہ شاید ایک دن میں نامعلوم افراد کی بھینٹ چڑھ جاؤں گا ۔ اگر ان سب سے بچ گیا تو اس ملک میں اہل اقتدار کی بے حسی و خودغرضی میری جان لے لے گی ۔

Facebook Comments