نبیﷺ تہذیب کے محسن (طاہرہ فاروقی)

اندھیری حیاتی ہے کس نے اجالی
وہی میرے آقا وہی میرے محسن
مفسّر، معلّم، مبشّر، مزکی
مصوّر، مصدق، مفکر، معظم
نفس میں شَرَر ہے انہی کا اثر ہے
جدھر بھی نظر ہے اثر لاقَدَر ہے
یہ ناتا نبی سے ازل کا ابد کا
کہ ہرخیرِآدم کا پرتَو ا±دھر ہے
ہے تارِ رگٍ جاں جو جاری بدن میں
تو اس کا سرشتہ بھی خیر البشر ہے
امن آگیا خونچکاں زندگی میں
اسی پہ سر زیست تہذیب خم ہے
دکھایاجو چہرہ امن کا جہاں کو
بتایا یہ واحد ”کلیدِ امن“ ہے
کہ سرکو جھکا لے ت±و مالک کے آگے
تو گَنج جہاں تیرے آگے دفن ہے
بھٹکنے لگی راستے سے یہ امت
تو ٹھوکر پہ ٹھوکر ہے روٹھا مقدر
مقدر بنانے کا واحد وظیفہ
وہی میرے آقاﷺ کی سنت ڈگر ہے

میں تہذیب ہوں اور تاریخ انسانی میرے الفاظ کی شاہدہے کہ بعثت نبویﷺ کے وقت وہ اپنی عمر کے تاریک ترین دورسے گزر رہی تھی۔ وحشت کاتسلط تھا۔ انسان ہی انسان کاعبد و معبود بناہوا تھا۔ زمین پر طاقت کی زبان رائج تھی۔ الہامی مذاہب کے ٹھیکیدارکفر و شرک اور بدعات کے متعفن گھونٹ عوام کو آب حیات کہہ کر پلا رہے تھے۔ ایوانِ اقتدار کے باسی اپنے سوا کسی کی آوازتک سننے کو تیار نہیں تھے۔ چہ جائے کہ ان کو ایک ان دیکھے مالک کی غلامی میں کس دیا جائے اور اسی ایک کی مرضی پر پورا نظامِ حیات تشکیل دیاجائے۔ دوستی دشمنی، محبت نفرت، پسند ناپسند، خوشی اور غم سب اسی کی رضا تک محدود کردیا جائے مگر تاریخِ انسانی شاہد ہے کے میرے مربّی آقاﷺ، مفسرِقران، معلم اخلاقِ کریمہ نے تزکیہ نفوس کے ذریعے جس طرح تہذیب کی صورت گری کی اس نے لطف و انبساط اور امن و خوش حالی کے نورکو ہر طرف منعکس کردیا۔ تمام شعبہ ہائے حیات و معاملات حتیٰ کے اداروں اور بین الاقوامی تعلقات تک کوھم رنگ اورھم آھنگ کردیا۔ کہیں کوئی تضاد یا اختلاف باقی نہ رہا۔

مگر جب انسان نے نفس کی غلامی شروع کردی تو تہذیب انسانی کی گاڑی بھی ڈھلان پر لڑھک گئی۔ آج پھر وہی دورِ وحشت لوٹ آیا ہے۔ سسکتی ہوئی انسانیت اسی آبِ حیات کی منتظر ہے جس نے بار اوّل اسے زندگی بخشی تھی۔ یعنی سنتِ محمدیﷺ۔

Facebook Comments