ٹرین کی رفتار اب سرکاری دفاتر میں جاتے سست رو کلرکوں کی سی ہو چلی تھی۔ اکانومی کلاس سے سینکڑوں مسافر باہر تانک جھانک رہے تھے۔ ٹرین خراماں خراماں اپنے اگلے اسٹیشن جو کہ کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن تھا بجانب رواں دواں تھی۔ کچھ مسافر ایسے بھی تھے جو پہلی بار کراچی کا دیدار کرنے آئے تھے۔ بار بار وہ ادھ ٹوٹی میلی کچیلی کھڑکیوں سے جھانکتے اور قدرے مایوسی سے منہ اندر کر لیتے کیوں کہ کراچی میں ریلوے سٹیشن کو کچرا دان کا بھی درجہ حاصل ہے۔ ریلوے لائن کے اطراف کچرے کے کئی ایک ڈھیر نو واردوں کا منہ چڑا رہے تھے۔ ٹرین میں مسافر کم رہ گئے تھے۔

اب تو جیسے پلاسٹک کی بوتلیں اکٹھی کرنے والوں اور بھک منگتوں کی فوج تھی جس میں چلتے پھرتے اکا دکا مسافر اپنی منزلِ مراد کو حسرت سے دیکھ رہے تھے۔ وہ بہت سکوں میں اس طوطے کو دیکھے جارہا تھا۔ جو اس سے بھی زیادہ پر اعتماد اس کے داہنے ہاتھ پر بیٹھا تھا۔ دور سے اس کا رنگ سرمئی نظر آتا تھا۔ وہ بے فکر کچرے کے ڈھیر پر تختِ سلیمانی بچھائے دنیا و مافیہا سے عاری مسلسل طوطے کے پروں سے کھیل رہا تھا۔ یہ بڑا نایاب نسل کا طوطا تھا لیکن اس غریب النفس اور منچلے کے ہاتھ کیسے لگا تھا یہ الگ بحث تھی۔

ٹرین کی بریکوں کی آواز زیادہ نمایاں طور پر آرہی تھی۔ گنجان جگہ اور لوگ کی آمدورفت سے ٹرین کا ڈرائیور گاڑی کو کنٹرول کررہا تھا۔ تھوڑی سی لغزش پا سے کوئی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔ عریاں الفاظ میں لکھا یہ جلی محاورہ ”یہ شارع عام نہیں ہے“ بھی لوگوں پر کوئی اثر نہ کرتا تھا کہ وہ ایک عرصے سے اس ٹریک کو پیدل عبور کرتے آئے تھے۔ اب ان پر ایسی کوئی قدغن لگانا ان کے ساتھ نا انصافی میں شمار ہوتی۔منظر آہستہ آہستہ اوجھل ہوتے جارہے تھے کہ اچانگ گرڑ گرڑ کی آواز سے ٹرین رک گئی۔ یہاں سے اسٹیشن سو دو سو میٹر تھا لیکن نجانے اس سمے کیوں ڈرائیور کو بریک لگانا پڑی۔

میں اب سیٹ کے ساتھ لگی کھڑکی سے جم کے بیٹھا اس طوطے والے کو دیکھتا جاتا تھا۔ اس کے آس پاس اکا دکا بھکاری اور چرسی بھی محفل گیر تھے وہ ان سے الگ تھلگ اپنے من کی موج میں مسلسل طوطے سے کھیلنے میں لگا تھا۔ اس کے پاس سے ریلوے کی بوگیاں، راہگیروں کی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں گزر رہی تھیں پر وہ عالم ھو میں ہر چیز سے بے نیاز بیٹھا تھا۔میرے مسلسل دیکھنے سے معلوم ہوا کہ وہ اس طوطے سے گفتگو کررہا تھا۔ کسی بات پر ہلکا پھلکا مسکرا بھی دیتا تھا۔ موسم کی تندی کے باعث اس نے میلا کچیلا کوٹ اوڑھ رکھا تھا۔ سورج آہستہ آہستہ اٹھ رہا تھا۔ خنکی سے جنگ کے بعد ہلکی ہلکی دھوپ کی امید بندھ گئی تھی۔ اس سارے منظر میں بدلاو¿ تھا لیکن وہ بدستور یکتا حالت میں گم بیٹھا اپنے طوطے سے گلو گیر تھا۔

میں نے کان لگا کر ان کی باتیں سننے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔ اس کے ہونٹوں کی جنبش سے پیدا ہونے والے تاثرات سے اب مجھے کچھ کچھ اندازہ ہوچلا تھا۔ وہ دونوں ٹرین کے مسافروں پر طنز و تشنا کے تیر برساتے جاتے تھے۔ ابھی ابھی وہ برابر والے بزنس کلاس کے ڈبے میں بھاری بھرکم بابو پر بحث کر رہے تھے جو ایک انگریزی کتاب پڑھنے میں ایسا ہمہ تن گوش تھا کہ منزلِ مقصود تک پہنچنے کی خوشی کی ہلکی سی بھی رمق اس کے چہرے پر نہ نظر آتی تھی۔ مصنف کے الفاظ سے راحت کشید کرنے میں ایسا لگا تھا کہ باہر کے ماحول سے سراسر لاتعلق تھا۔ وہ پاگلوں کی طرح اس کی ورق گردانی کررہا تھا لیکن اچھے اچھے خیالوں کے علاوہ وہ ان میں ایسا کوئی نسخہ کیمیا تلاش نہ کر پا رہا تھا۔جس کی تلاش کو دو ایک ہزار پھونک بیٹھا تھا۔ اب دل ہی دل میں وہ اس مصنف کو کوس رہا تھا کہ یہ سب کیسے سمٹ کر اس کی جھولی میں آن پڑا تھا لیکن اس کی گود ان تمام چونچلوں اور ننھی خواہشوں کی تکمیل سے بانجھ دکھائی دیتی تھی۔

وہ اس قلی پر بھی ہنس رہے تھے جو صبح صبح اپنی بیوی اور بالکوں کی پٹائی کرکے آیا تھا۔ اب صبح سے مارا مارا پھرتا لیکن کسی نے اسے اپنا سامان اٹھانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ وہ اپنی اس مصیبت پر اپنے نصیب سے زیادہ گھر والوں کو کوس رہا تھا کہ ان کی نحوست سے اس کا کام نہیں بن رہا تھا۔ ورنہ اس وقت تک وہ اچھی خاصی دیہاڑی مار لیتا تھا۔

پھر وہ دونوں اچانک سے پاس کے چھکڑے میں اپنی چھٹی سے متعلق بات کرتے فوجیوں کی جانب متوجہ ہوگئے تھے۔ ازدواجی زندگی کے قصے، بیوی کے رویے، بچوں کے معاملات اور طعنوں کے علاوہ اپنے افسروں سے داد و سلام کے قصے چھاتی پھلائے سنائے جاتے تھے۔ ان میں سے ایک ایسا بھی تھا جو اس سب کو رد کرتا اپنی سی کہانی بیان کرنے لگا تھا۔ کیسے اس کا سامنا ہمیشہ تمکنت اور غرور سے لبریز افسروں سے ہوا تھا جو اپنی رعونت اور رعب میں کسی شاہ کا سا فخر محسوس کرتے تھے۔
برابر کی منزل میں اب ان کا نشانہ وہ بڈھا لکھاری تھا جو اپنی تحریر میں سخت اور مشکل اس وجہ سے ڈال رہا تھا کہ پڑھنے والوں پر اس کے ادبی عبور کی ہیبت طاری ہوجاتی۔ وہ صاحبِ اقتدار لوگوں بارے الفاظ کے چناو¿ کا الگ اسلوب رکھتا تھا۔ جہاں ان کی بے ادبی کا خدشہ رہتا وہاں وہ مبہم الفاظ کا سہارا لیتا جس سے اپنا نام اور مطلب دونوں زندہ رکھنا قریباً ممکن تھا۔ٹرین پہلے ہی دو گھنٹے تاخیر سے پہنچی تھی۔ اس صبرِ لامتناہی اور عجیب وغریب کام پر مسافر سیخ پا ہوگئے۔ کچھ تو جذبات میں آکر وہیں اتر گئے لیکن جاتے جاتے ریلوے کے وزیر اور خاص کر ڈرائیور کو چند ایک غلیظ گالیاں ضرور عنایت کرگئے جو ان کی روزمرہ کی خوراک کا اہم حصہ تھا۔

وہ دونوں ایک دوسرے کی زبان سمجھتے تھے۔ وہ ہر اس شخص بارے بات چیت کرتے جو اپنی خستہ حالی کا رونا روتا اور ملبہ کسی اور کے سر ڈالنے کا غم پال رکھتا تھا۔ ہر وہ شخص جو کام چور تھا، بد اخلاق او بد کردار تھا۔کوئی ان کی نظر سے بچ نہ پاتا۔ طوطا اب مسلسل بولتا جارہا تھا۔ وہ انسانوں کی اس حالتِ زار پر کراہت کا انتظار کرتے ہوئے کہنے لگا ”یہ کیسے بے وقوف لوگ ہیں جو یہ عام سی بات نہیں سمجھتے کہ دنیا کے ہر انسان کا امن و سکون دوسرے انسان سے جڑا ہے۔ اگر وہ کسی دوسرے کے امن و سکون کی سعی کرے تو درحقیقت وہ اپنے امن و سکون کا رستہ ہموار کررہا ہوتا ہے لیکن یہ ایک دوسرے کے امن و سکون پر ڈاکہ ڈالنے سے امن و سکون تلاش کرتے پھرتے ہیں۔

پھر وہ بھنگی بولنا شروع ہوگیا۔ کیسے ٹھیک چار سال پہلے اس کی بیوی کو کچھ غنڈے اغوا کرکے لے گئے تھے۔ وہ کئی ہفتے تک روزانہ ان کی ہوسِ بے جا کی بھینٹ چڑھتی رہی تھی اور جب اس کو قریب المرگ پایا تو وہ قتل کے کیس سے بچنے کے لیے اسے ادھ موا شاہ فیصل کالونی کے ایک خالی پلاٹ پر اندھیرے میں پھینک کر فرار ہوگئے تھے۔ علاقہ مکینوں نے اسے نیم برہنہ وہاں سے اگلے دن اٹھایا اور فضل بھائی اور زبیدہ خانم اسے گھر پر چھوڑ گئے تھے۔ روبینہ کی یکدم گمشدگی سے اکلوتے بیٹے حمزہ نے جہاں خود پر غم کو سوار کیا ادھر ہی عبدالرو¿ف جو چند دن پہلے تک ایک برف کے کارخانے میں کام کرتا تھا۔ اب گھر کی درو دیوار کا اسیر بنا بیٹھا تھا۔ اچانک سے روبینہ کو اس حالت ناگفتہ بہ میں پاکر مزید الجھ گیا۔ جب معاملہ تھانے پہنچا تو ایس ایچ او کس دیدہ دلیری سے حوالدار کو کہہ رہا تھا کہ دیکھنا مجھے تو یہ عادی مجرم لگتی ہے چلی گئی ہوگی کسی آشنا کے ساتھ اب ہمارا چین تباہ کرنے چلے آئے۔ شریف لوگوں پر تہمت لگا کر ان سے مال نکالنا اب ان کا مشغلہ بن چکا ہے۔

روبینہ میں 28 کی ہوکر بھی اب تک نسوانی کشش انتہا کی تھی۔ ریڑھی بان، پھیری والے اورراہ گیر متوجہ ہوئے بغیر نہ رہتے۔ وہ اس کی خوشنودی اور رفاقت کے حصول کے لیے چیزوں کے دام قیمت خرید سے بھی نیچے لے آتے۔ وہ ان چیزوں کو کبھی خاطر میں نہ لاتی لیکن وہ باوجود اس کے اپنے دامن کو بچا نہ پائی تھی۔اس کا نام کہانی کے ساتھ اخباروں میں چھپا تھا۔ ہفتہ بھر علاج معالجے کے واسطے ہسپتال داخل رہی جب طبعیت سنبھلی اور گھر لوٹی تو معلوم پڑا کہ تھانیدار نے بلوا بھیجا ہے اس کے بیان لینا چاہتا ہے۔ روبینہ کی خراب قسمت کہ تھانیدار کے منہ کو خون لگا تھا۔ پہلے سے پسماندہ حال روبینہ پر ایک نیا امتحان آنے کو تھا۔ شام کو عبدالرو¿ف گھر کے پاس گلی میں ٹہل رہا تھا کہ گشت پر معمور پولیس والوں نے آدبوچا۔ انہوں نے پلک جھپکنے میں اس کی جیب کے کسی حصے سے آدھ چھٹانک چرس برآمد کر لی تھی۔ عام طور پولیس والے اس فن کے ماہر مانے جاتے ہیں لیکن عبد الروف پر ٹوٹنے والی یہ آخری قیامت نہ تھی۔

رات بھر کی سیوا سلامی سے وہ خود کو منشیات کے ایک سرگرم گروہ کا کارندہ مان چکا تھا۔ اگلے روز جب روبینہ کو خبر ہوئی تو بھاگم بھاگ تھانے پہنچی۔ صورتحال سے چکرا کر رہ گئی۔ پھر تھانیدار ایک مخصوص منصوبے کے تحت ٹال مٹول کرتا رہا تھا۔ جب رات ڈھلے تھانے میں آنے جانے والے لوگوں کا رش کم ہوا تو اب تھانے میں ڈیوٹی پر معمور لوگوں کے علاوہ صرف اس کے دست راست دو لوگ موجود تھے باقی سب کو وہ گشت پر مختلف علاقوں میں بھیج چکا تھا۔

جیسے موقع بنا سیدھی سادھی روبینہ پر پل پڑا اور کہنے لگا کہ اگر وہ اپنے شوہر کی آزادی اور سلامتی چاہتی ہے تو چپ چاپ مان جائے۔ روبینہ کی بے بسی کی ہاں پر وہ دفتر سے ملحقہ کمرے میں گدھ کی طرح اس کے خستہ حال جسم سے بوٹیاں نوچتا رہا۔ اس صورتحال میں ہرکارے بھی پیچھے نہ رہے مفت کی شراب سے خوب تن بدن کی آگ بجھائی۔ روبینہ بھی جیسے اس سب کی اب عادی ہوچکی تھی۔اب اس شرط پر کہ وہ یہ بات کسی اور کو نہ بتائے گی۔ ٹھیکے دار سعید خان کے بھائیوں کے خلاف اجتماعی زیادتی کا کیس واپس لے گی اور دوبارہ نام تک نہ لے گی۔ اس کے شوہر کو روبینہ کے بدن کی زمانت پر رہائی مل چکی تھی۔ معاہدے میں یہ بھی شامل تھا کہ جب کبھی تھانیدار صاحب کو کوئی اور پری چہرہ یا مال مفت میسر نہ ہوا تو ان کی طلب کا پاس رکھنے کو وہ پھر بوقت ضرورت تھانے حاضری دے گی۔

دونوں رات گئے بوجھل قدموں سے گھر کی دہلیز میں داخل ہوئے۔ عبدالرو¿ف جو گذشتہ واقعہ پر ہی دل گرفتہ تھا بخوبی جانتا تھا کہ کونسا تاوان ادا کرکے اس کی جان بخشی کروائی گئی تھی۔ وہ کن اکھیوں سے بار بار روبینہ کو دیکھتا جاتا۔ بستر پر لیٹے عبدالرو¿ف کو تو رات کے کسی پہر نیند آگئی لیکن روبینہ کی نیند ہوا ہو چکی تھی۔ نیند اس سے کوسوں دور تھی۔ ابھی پہلے والا زخم ہرا تھا کہ ایک نیا پھٹ اس کے جسم پر بہت اوچھا پڑا تھا۔ فیض صاحب کے بقول جان تو بچی تھی پر آن کی دیوار کا پلستر بار بار اشتہاروں کی کیلوں سے بھر بھرا اور داغِ زدہ ہوچکا تھا۔ اس نے اپنی زندگی کا قصہ تمام کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ علی الصبح وہ شب بیداری کے بعد ٹرین کے ٹریک پر آگئی تھی۔صبح محلے میں کہرام مچا تو عبد الروف کی آنکھ کھلی کہ اس کی روبی اب اس جہانِ فانی سے کوچ کر چکی ہے۔ پولیس فوراً موقع پر پہنچ گئی۔ وہ عبدالرو¿ف کو اس کا ذمہ ٹھہراتے دو ماہ تک تھانے کے چکر لگواتے رہے۔ پھر تھانیدار کے تبادلے سے معاملہ ٹھپ ہوگیا۔

وہ اور اس کا طوطا سارا دن لوگوں سے متعلق قیاس آرائیاں کرتے رہتے۔ کبھی کبھی روبینہ کی یاد میں ایک آدھ آوارہ آنسو مچل جاتا لیکن اب اس نے خود کو خاصا مضبوط کر لیا تھا۔ گفتگو کا یہ نہ تھمنے والا سلسلہ جاری تھا کہ اب طوطا اپنی رام کتھا سنانے لگا۔ کس طرح اس کو مالک سیٹھ شہباز مارکیٹ سے خرید لایا تھا۔ پہلے پہل اس کی نئی نویلی دلہن کی طرح خوب خدمت ہوتی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ یہ جذبہ مانند پڑنے لگ گیا۔ مالک کے بیٹے اب بڑے ہونے لگے تھے۔ ان کے کھلونے بدل رہے تھے۔ وہ اب حالات کے رحم و کرم پر تھا۔ مالکن ہی تھی جو اس کا خیال رکھتی تھی لیکن اب وہ بھی بیمار رہنے لگی تھی۔ سرطان اپنے آخری مدار میں داخل ہوا چاہتا تھا۔ ایسے میں وہ مجھے کیونکر یاد رکھتی اس کو اپنی فکر لاحق رہتی تھی۔ پھر ایک دن اس کی شمع حیات بجھی تو وہ جیسے لاوارث ہوگیا۔ نوکروں کے چال ڈھال بھی یکسر بدل گئے تھے۔

کبھی کبھی تو پورا پورا دن پنجرے میں نکال دیتا تھا۔ کمزوری ایسی ہوئی کہ سمجھ نہ آتا کہ کیا کروں کہاں جاو¿ں۔ پھر ایک دن فیصلہ کر لیا کہ وہ اب یہاں نہیں رہے گا۔ وہ بنگلے کی بالائی منزل پر قید تھا۔ جیسے ہی نوکر نے پنجرے کا دروازہ کھولا اس نے جھٹ سے اڑان بھری لیکن لاغری کی سی کیفیت میں چند میٹر کے فاصلے پر گر پڑا اور ایک بیل میں جا پھنسا۔ قریب تھا کہ یہ نیا امتحان جان لیوا ہوتا اور کوئی آوارہ بلی یا کتا اسے من و سلویٰ سمجھ کے پیٹ کے دوزخ میں ڈال دیتا کہ عبدالروف کی اس پر نظر پڑی اور وہ اپنے میلے کچیلے تھیلے میں اسے دبا کر وہاں سے چلتا ہوا۔

آپس میں باتیں کرتے اب پھر وہ ٹرین کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔ جس میں اب مسافر نہ ہونے کے برابر تھے۔ نہ جانے ٹریک میں کیا مسئلہ آگیا تھا کہ ٹرین اپنی جگہ رکی کھڑی تھی۔ ان کا رخ اب ٹرین سے ہٹ کے آس پاس کے لوگوں کی طرف ہوگیا تھا۔ وہ اب آس پاس کی منزلوں میں بسنے والوں کو دیکھ رہے تھے۔ جہاں ایک بیوی اپنے میاں کو طعنہ دے رہی تھی کہ اس کی زندگی میں پہلے کتنا سکون تھا پھر اچانک اس کی قسمت خراب تھی جو وہ اس کے ساتھ بیاہی گئی۔ اب سکھ تو جیسے ناراض ہی
ہوگیا تھا اس سے۔ کبھی بچوں کا رونا دھونا، کبھی گھر کے کام کاج، کبھی بیماری، کبھی ساس سسر کی دوا دارو وغیرہ وغیرہ یہ سب اس کی زندگی کے عذاب تھے جو اپنے میاں سے بیان کررہی تھی۔ اس کی سہیلیاں کیسے پر عیش اور بے فکری کی زندگی گزار رہی تھیں وہ سارا دا بس یہی راگ الاپتی رہتی کہ ڈاکٹر منیر اپنے کلینک بھاگنے میں عافیت سمجھتا۔

اچانک سے وہ اس پٹھان ڈرائیور کو دیکھنے لگ گئے جو قریب ہی روڈ پر ایک بزرگ کو مزدے کے نیچے کچلنے کے عین قریب تھا کہ بچاو¿ ہوگیا اب اس اسی سالہ بڈھے کو گالیاں دیتا جارہا تھاجس کے غالباََ کانوں کا مسئلہ تھا یہ سن کر تو میری بھی ہنسی نکل گئی۔ یہ تو شکر ہے ان کا میری طرف دھیان ہی نہ گیا ورنہ میرے بارے جانے کیسے کیسے انکشافات کرتے۔اب وہ اسٹیشن پر کھڑے مسافروں کے چہرے پڑھ رہے تھے۔ ان میں سے کچھ لکڑی کے بنے بنچوں پر ٹیک لگائے اونگھ رہے تھے حالاں کہ اچھا خاصا دن ہو چلا تھا۔ وہ اس طالب علم کو بھی غور سے دیکھ رہے تھے جو اپنا بیگ سمیٹے گھر کی آس لگائے ریلوے کے شیڈ کے آہنی پول کے ساتھ ٹیک لگائے موبائل فون میں کھویا ہوا تھا۔ دو سال پہلے تعلیم واسطے آیا تھا اور اب یہیں کا ہورہا تھا۔ تعلیم سے بڑھ کر اس کی خالہ کی بیٹی میں دلچسپی معنی خیز تھی۔

وہ انسانوں پر طرح طرح کے دلچسپ تبصرے کرتے جاتے تھے۔ کچرے کے ڈھیر سے اٹھتا تعفن جو لوگوں کو ناک پر کپڑا یا کم از کم ہاتھ ضرور رکھنے پر مجبور کردیتا تھا۔ ان کے لیے اس کا وجود تک نہ رکھتا تھا۔ان کی باتیں جاری تھیں اور میرا ایک بار دل کیا کہ اتر کر ان کے پاس جا بیٹھوں اور غور سے ان کی گفتگو سنوں لیکن اس خیال کا دل میں آنا تھا کہ ٹرین کا ڈرائیور سمجھدار نکلا اس نے ٹرین کو اس کے مقررہ ہدف پر جا کھڑا کیا۔ بھوک سے بے حال میں نے وہاں جانے کا ارادہ ترک کردیا۔ عین اسی سمے قلیوں کی یلغار میں بچتا بچاتا میں اسٹیشن سے باہر آگیا۔ وہ دونوں اب بھی محو گفتگو تھے۔ جانے کب سے تھے لیکن اب نظروں سے اوجھل تھے۔

Facebook Comments