عشق جہدِ مسلسل کا نام ہے جو خلق سے شروع ہو کر خالق تک پہنچ جاتا ہے لیکن یہ پہنچ کہاں تک ہوتی ہے اور کہاں تک ہونی چاہیے۔ شاید یہ جاننے سے ابھی تک انسان قاصر ہے۔ کیا یہ عشق کا جنون نہیں تھا جو ایک ایسے ہال میں جہاں اکثریت غیر مذہب کی تھی، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نام نہایت دلیری سے لیے گئے اور ان کے احکامات کی روشنی میں اپنی حکمت عملی ترتیب دینے سے آگاہ کیا گیا۔ ایسانہیں کہ جو لوگ آج تک ایسا نہیں کرسکے وہ کر نہیں سکتے تھے یا کرنا نہیں چاہتے تھے یعنی اقوام عالم کے سامنے اپنے مسلمان ہونے کی وضاحت اور اپنے وجود کو تسلیم کروانے کی چاہ۔ دراصل وہ لوگ حالات و واقعات کے حساب سے اپنے آپ کو ڈھال لینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے وہ ڈرتے تھے کہ ہمیں اس حال میں پہنچانے والے یہی لوگ تو ہیں ان کے سامنے اپنی زبوں حالی کیا پیش کریں، کہیں ایسا نہ ہوکہ ہمیں اقتدار سے ہی ہاتھ دھونا پڑے۔ ان لوگوں کو کیا بتائیں کہ کشمیر میں ہونے والے مظالم ناقابل برداشت ہیں، شام میں ہونے والی خون ریزی دل ریزہ ریزہ کر رہی ہے، فلسطین میں مذہبی منافرت تاریخ کی عروج ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کیا جارہا ہے اور سب سے بڑھ کر بھارت دنیا کا سب سے بڑا مذہبی دہشت گرد ملک ہے جہاں اقلیتو ں کی زندگیاں کسی صورت محفوظ نہیں ہیں۔اپنے گھر میں جائے نماز پر بیٹھ کر ہر مسلم حکمران کے دل میں یہ خواہش ضرور سر اٹھاتی ہوگی کے دنیا میں مار کھانے والے مسلمانوں کی بیچارگی پر خاموشی کا قفل توڑوں لیکن اگلے ہی لمحے اسے دنیا کی وہ آسائشیں جو ایسا کرنے پر اس سے چھن جانے کا خدشہ لاحق کردیتی ہیں وہ اپنے اٹھے ہوئے ہاتھوں کو جوڑ کراپنے ہی لیے دعا مانگنے پر اکتفا کرتا رہا ہے۔ بہت ممکن ہے شرمندگی کی بدولت نگاہیں نہ اٹھتی ہوں۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب کی اقوام متحدہ کی 74 ویں جنرل اسمبلی سے کیا جانے والا تاریخی خطاب نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ یہ تقریر بلاشبہ اقوام متحدہ میں اس سے بیشتر کی جانے والی لاتعداد تقریروں میں منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں تقریر کا دورانیہ پندرہ منٹ طے ہے لیکن خان صاحب کی تقریر 45 منٹ سے بھی زیادہ دیر تک جاری رہی۔ ایسے فورم پر کی جانے والی تقاریر تحریری شکل میں کی جاتی ہیں لیکن خان صاحب نے حسب عادت فل بدی بولے۔ یہ ایک ڈپلومیٹک اسمبلی ہے یہاں کسی بھی قسم کا شور نہیں کیا جاتا (یعنی بے حس و حرکت بیٹھنا اور سننا ہوتا ہے) لیکن خان صاحب کی تقریر کے دوران ہال میں تالیاں بھی بجیں، جوکہ اس اسمبلی کے مجلسی آداب کے خلاف ہیں۔

مکمل تقریر حقائق پر مشتمل تھی جوکہ اس اسمبلی کے اصولوں کے خلاف ہے کیوں کہ یہاں وہ بولنے کی اجازت ہوتی ہے جو یہاں بیٹھنے والے سننا چاہتے ہیں۔ ہر زندہ دل پاکستانی اور ہر وہ پاکستانی جو سیاسی وابستگی سے زیادہ ملک کی سالمیت کو اہمیت دیتا ہے اس تقریر پر نہ صرف بہت خوش ہوا بلکہ اسے اپنے جذبات کی پہلی دفع اتنے بڑے فورم پر ترجمانی سنائی دی۔ ہر محب وطن پاکستانی کو ٹیلی ویژن پر اپنی ہی آواز اپنے کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔ بس فرق اتنا تھا کہ تصویر وزیر اعظم عمران خان کی تھی۔ تقریر جوش، جذبہ اورسب سے بڑھ کر اپنے رب پر ایمان کی بھرپور غمازی کررہی تھی۔ مورخ لکھے گا کہ دنیا کے طاقتور ترین ملک میں ان کے تابع اور مرضی سے چلنے والے ادارے میں، ان کی سرزمین پر کھڑے ہوکر ان کو ان کے کارناموں سے آگاہ کیا گیا اور وہ آگاہ کرنے والا پاکستان کا پہلی دفعہ بننے والا وزیر اعظم عمران خان تھا۔ ابھی تاریخ رقم ہونا باقی ہے ابھی مورخ دانتوں میں قلم دبائے بیٹھا ہے ابھی اس تقریر کے لب ولہجے سے اس تقری کے انداز بیان سے فیصلہ نہیں کر پارہا کہ بغیر مذہبی حلیے کہ بھی اپنے حقوق کی بات کی جاسکتی ہے۔ کلمہ پڑھا جاسکتا ہے اور قران کی آیت سے تقریر کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔ دراصل مورخین اور دنیا کہ دیگر مذاہب والوں نے اسلام کو مولانا فضل الرحمن سے منسوب کررکھا ہے ۔

یہاں ایک بات بہت قابل ذکر ہے جو کہ منظر نامے پر اس طرح پذیرائی نہیں پاسکی جیسی کے ملنی چاہیے تھی۔ خان صاحب نے بھارت کی موجودہ حکومت اور اس کے مکروہ اقدامات سے آگاہ کیا اور بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ بھارت ایسا ملک نہیں تھا، یہ گاندھی جی کے قاتلوں کے ہاتھ میں یرغمال ہوچکا ہے۔ یہ بات بارہا دہرائی گئی جو اس بات کی گواہی تھی کہ پاکستان کبھی بھی بھارت سے نفرت انگیز رویہ نہیں رکھتا تھا۔ ہاں خطے میں توازن برقرار رکھنے کے لیے ہمیشہ سے ہی دونوں ممالک میں تناﺅ رہا۔

امریکہ میں وزیر اعظم عمران خان نے کشمیریوں کی جدوجہد سے جس طرح سے دنیا کو روشناس کرایا ہے شاید ہی اس سے بیشتر دنیا کشمیر کو اور بھارت کے اس مکروہ چہرے کو جانتی تھی۔ عمران خان کا یہ ایک دورہ گزشتہ ادوارکے پاکستانی حکمرانوں کے پرتعیش دوروں سے لاکھ درجہ بہتر اور کامیاب ترین دورہ تھا۔ اس دورے نے پاکستان کے نئے تشخص کو دیکھا ہے۔ یہ دورہ جہاں کشمیر کے لیے بہت اہم تھا وہیں اس دورے سے پاکستان کی مجموعی سفارکاری کی بہترین کارگردگی کا بھی شاخسانہ تھا۔ 27ستمبر 2019 جمعہ کا دن تاریخ کا حصہ بن چکا۔ ان شاءاللہ کشمیر کی آزادی کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔

ملکی سطح پر سیاست کرنے والے موجودہ حکومت کی کارگردگی سے قطعی خوش نہیں ہیں کیوں کہ نہ کھایا جا رہا ہے اور نہ ہی کھانے دیا جارہا ہے۔ جس جس نے کھایا ہے اس سے کھانے کا حساب مانگا جا رہا ہے۔ کھانے کے حوالے سے بہت سارے سیاست دان یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ کھاتے تھے تو کھلاتے بھی تو تھے۔ حساب کتاب کی بات جب کی جاتی ہے تو معتبر صاحبان یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ براہ راست کسی پروگرام میں بیٹھے ہیں۔ بہت تلخ محسوس ہوگی مگر بات حق لگتی ہے کہ ”پاکستان کے لیے بدعنوانی سے نجات حاصل کرنا کشمیر سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہاں ہر سطح پر کسی نہ کسی قسم کی بدعنوانی سرطان جیسے مرض کی طرح گھسی بیٹھی ہے“۔

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ عمران خان ایک جفاکش اور محنتی انسان ہیں۔ وہ سمتوں کا تعین کرنا خوب جانتے ہیں لیکن کیا وہ ایک مردم شناس بھی ہیں یا پھر اپنی سچائی کے بل بوتے پر کسی پر بھی بھروسہ کر لیتے ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ابھی تک جواب تلاش کر رہاہے۔ گوکہ کسی بھی ٹیم کی قیادت کرنے والے کے لیے اپنی ٹیم کو خود سے سمجھنا بہت ضروری ہے۔ کپتان اپنے کھلاڑیوں کی مسلسل ردوبدل سے دو باتوں کا عندیہ دے رہے ہیں ایک تو یہ کہ وہ کارگردگی نہ دکھانے والے کی جگہ کسی اور کو موقع دیناچاہتے ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ انہیں ابھی تک سمجھ نہیں آرہا کہ کس کھلاڑی سے کیا کام لینا چاہیے۔ ایک تاثر یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ کھلاڑی اپنا اعتماد قائم نہیں کرپارہے ہیں۔ خان صاحب دکھاوے سے زیادہ کام پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔ وہ وقت کو ضائع کرنے کی بھی اجازت نہیں دے رہے جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ پاکستان پہنچتے ہی انہوں نے بغیر آرام کیے حالیہ زلزلہ زدگان کے حالات سے آگاہی کے لیے ان علاقوں کا دورہ کرنے پہنچ گئے۔

عمران خان پاکستانیوں کو اور اپنی ٹیم کو اپنے عمل سے یہ باور کرانا چاہ رہے ہیں کہ کام، کام اور کام کیوں کہ پہلے والے 72 سالوں میں آرام، آرام اور آرام کر کر کے پاکستان کو ایک اندھی کوہ کی جانب دھکیل لائیں ہیں۔ عمران خان، علامہ اقبال کہ اس شعر سے بخوبی واقف دکھائی دیتے ہیں اور اس تلاش میں سرگردا ں بھی دکھائی دیتے ہیں، خان صاحب جانتے ہیں کہ وہ اقبال کہ شاہین ہیں کہ

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کہ امتحاں اور بھی ہیں

ہر پاکستانی جو پاکستان کا درد رکھتا ہے پاکستان کے لیے تو دعا گو ہے ہی ساتھ ہی ہر اس پاکستانی کے لیے بھی دعا کرے جو پاکستان کو ترقی کے راستے پر گھسیٹ گھسیٹ کر لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

Facebook Comments