مے خانے سے پوچھا ”آج اتنا سناٹا کیوں ہے؟“بولا صاحب! ”لہو کا دور ہے، شراب کون پیتا ہے!“ہوا کاجھونکا اور کھڑکیوں کی کھڑکھڑاہٹ، یہاں شعر کی ادائیگی اور زمین زلزلہ سے لرز گئی۔ خاموشی اور پھر جسم میں دوڑتی سرسراہٹ، روح جیسے تڑپ گئی ہو۔ دور اس کی نظر جیسی کتابوں کے پرخچوں میں گم ہو گئی ہو۔ بھیگی آنکھوں سے چشمے کا سایہ ہٹا کر کانپتے ہاتھوں سے، بمشکل وہ میز پر رکھ پایا۔ سارا منظر جیسے پھر اس کی آنکھوں کے سامنے ٹیپ کی طرح دوڑ رہا ہو۔ ”آہ“ وہ پھر سے حقیقت میں لوٹ آیا۔ اس نے تو لوٹنا ہی تھاآخر، کس کس تکلیف کو روتا۔ اس نے تو سن رکھا تھا، ”ارے پاگل مرد نہیں روتے“۔

”بابا! بابا! آج تو بھیا کی سالگرہ ہے ناں“، مہروش معصومیت سے بنا اس کی طرف دیکھے بولی۔ اس نے بائیں ہاتھ سے چہرہ چھپا لیا۔ تیزی سے آنسو پونچھ لیے۔”ہاں ہاں مجھے یاد ہے۔کیا تحفہ لیا ہے پھر بھائی کے لیے؟“ ”بس کر دیں بابا۔نہ خود کو دھوکہ دیں نہ ہی ہمیں۔ کھو چکے ہیں آپ اپنے دو لخت جگر“، صائم دروازے پہ کھڑا باپ سے مخاطب تھا۔ اس کے لہجے میں بے بسی اور مایوسی صاف جھلک رہی تھی۔ ”کیا اب آپ امی کے بعد ہمیں بھی کھو دینا چاہتے ہیں؟“ صائم باپ کے قریب جا کر ان کی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔ پھر قریب ہو کر وہ ان کے قدموں میں بیٹھ گیا۔

”بابا چلتے ہیں یہاں سے۔ کچھ نہیں رکھا یہاں اب۔کیا آپ چاہتے ہیں یہ زمین مجھے بھی کھا جائے؟“ اٹھارہ برس کا جوان خون آج پھر ایک آزمائش بن کر اس کے سامنے کھڑا تھا۔ کہنا چاہتا تھا وہ پر اتنا ہی کہ سکا۔ ”ایک گھر میں پیدا ہونے والے اور ایک دسترخوان پر پلنے والے ایک جیسا ذائقہ ایک جیسی فطرت نہیں رکھتے“۔ ”آہ! صحیح فرماتے ہیں محترم۔کیوں مہروش ؟“ نو برس کی کلی باپ سے لپٹ گئی۔ ”بابا یہ کون کہتا ہے اور آپ ایسا کیوں کہ رہے ہیں؟“ اس نے ایک طلسماتی مسکراہٹ سے مہروش کو دیکھا اور اسے گود میں بٹھا لیا۔ پھر پلٹ کر صائم کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ ”صائم تم تو سمجھ گئے ناں۔ وقت بہت بڑا مرہم ہے۔ یہ آنسو تیرے بھائیوں کے بچھڑنے کے نہیں ہیں تیری اس بات پر بھیگی ہیں آنکھیں۔ ایک آج ہی کے دن 8 اگست 2016 کو کوئٹہ میں وطن پر قربان ہو گیا۔ تو میرا شیر، میرا فخر، 16 دسمبر 2014 کو راہ روشن میں شہید ہو گیا۔ تجھے معلوم ہے تیرے چھوٹے کا لاشہ کتنا بھاری تھا۔ کندھا ٹوٹ گیا تھا میرا۔ آنکھوں میں نمی لیے وہ مسلسل ہم کلام تھے۔ پھر کانپتے ہاتھوں سے صائم کو جھنجھوڑا۔ پھر مجھے سکون آ گیا جب سنا کہ میرا شیر بزدل نہیں تھا۔ اپنے ساتھیوں کی حفاظت میں شہادت نوش کی ہے اس نے۔ اپنے ساتھی کے زخموں کو اپنے سینے پر سہا ہے۔ پانچ دن بعد سرد خانے سے اس کا جسد ملا تھا ناں؟ یاد ہے کہ بھول گیا؟ کیا کہا تھا تیری ماں نے۔ میرا شیر بازی لے گیا“۔ ان کی ہچکی بندہ گئی۔ آواز جذبات کے بھاو¿ میں گونج رہی تھی۔

”ہاں بابا کھو دیا میں نے اس ماں کو بھی اور مجھے نفرت سی ہو گئی ہے یہاں سے“۔ اس کی نظریں شکوہ کر رہی تھیں۔ ”معلوم ہے تجھے جب پہلی بار تیرے بڑے بھائی نے وکالت کا سیاہ لباس پہنا تھا تو میں نہیں جانتا تھا کہ کب اس نے سفید لباس پہننا ہے۔ پر ایک بات میں جانتا تھا وہ کبھی نامراد نہیں لوٹے گا۔ اس کا جسد بھی بہت بھاری تھا پَر اٹھا لیا میں نے“۔ انہوں نے اس کے کندھے سے ہاتھ ہٹا لیا۔ ”بابا!“ صائم کی آنکھیں جھلملا گئیں۔ ”جانتا ہے میں نے ایسا کیوں کہا۔ ایک سپاہی اپنی اولاد کو وراثت میں کیا دیتا ہے؟ شجاعت دیتا ہے۔خلوص دیتا ہے“، ان کی آواز گونج رہی تھی۔ لفظ تڑپ رہے تھے۔ مہروش کی آنکھیں بھی باپ کے اضطراب کو بھانپ کر برس رہی تھیں۔ ”افسوس ہوا مجھے، تو نے بھی تو اسی دسترخوان سے کھایا ہے ناں؟“ ”بابا ایسا نہ کہیں۔ یہ وہ زمین نہیں ہے اب۔ چھوڑیں چلتے ہیں اب یہاں سے۔ میں نہیں چاہتا اب آپ میرا لاشہ اٹھائیں! کچھ بھی نہیں ہے اب یہاں! جمہوریت کے نام پر بیچ ڈالا ملک۔ کئی نسلیں قرض دار ہیں، ٹکے ٹکے پہ ایمان بکتا ہے، نکڑ نکڑ پے کرپشن پروان چڑھتی ہے۔۔ کون بدلے گا یہ سب آخر کون؟“ یہ کہتے ہی وہ قدموں سے اٹھ کھڑا ہوا۔

”بھائی ہم نہیں جائیں گے، بھیا آپ بھی نہ جائیں۔ قائد نے یہ ملک بہت محنت سے بنایا ہے۔ ہمیں ہی اب سنوارنا ہے۔ نہ جائیں بھیا! آپ ہی تو کہتے تھے آزادی بہت بڑی نعمت ہے۔ آپ نے ہی بتایا تھا ناں ہمارے پاس ساتویں بڑی فوج ہے۔ ہماری معیشت چھبیسویں بڑی معیشت ہے۔ ہمارے پاس معجزاتی خوبصورتی ہے۔ ہمارے پاس دوسری بڑی نمک کی کان ہے۔ ہمارے پاس سب سے بڑا ایمبولینس نیٹ ورک ہے، بھیا نہ جائیں۔ پلیز“، مہروش نے باپ کی گود سے اٹھ کر بھائی کے ہاتھوں کو مضبطی سے تھام کے نم آنکھوں سے اسے تکنے لگی۔ ”شاباش میری بچی! فخر ہے مجھے تجھ پر“۔ کرسی سے اٹھتے ہی بیٹی کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا۔ ”میرے بچے تجھے آپ بدلنا ہے یہ سب۔ یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسبان اس کے“۔ ”ہاں بابا! ہاں“، صائم نے بوڑھے وجود کو اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا۔

Facebook Comments