مسئلہ ختم نبوت کیا ہے؟ کوئی بندہ و بندی اس وقت تک مسلمان تسلیم نہیں ہوسکتا جب تک وہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق یہ عقیدہ نہ رکھے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد کسی قسم کا کوئی بھی، نیا نبی نہیں آئے گا”۔ معلوم ہوا محض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کی تصدیق کافی نہیں۔ بلکہ عقیدہ ختم نبوت کو مذکورہ تمام شرائط کے ساتھ تسلیم کرنا لازمی ہے۔مسئلہ ختم نبوت اسلام کی جان ہے۔ اسلام کے محل میں وہ بنیادی ستون ہے جس کے بغیر اسلام کا محل کھڑا ہو ہی نہیں سکتا۔

انگریزوں کا خود کاشتہ پودا مرزائیت، جس نے اسلام کے اس بنیادی عقیدہ پر دست درازی کی اور امت مسلمہ کے ایمان پر نہایت ہی منظم طریقے پر ڈاکہ زنی کی لیکن بالآخر7 ستمبر 1974ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے لاہوری و قادیانی مرزائیوں کے خلاف مسلمانوں کی جدوجہدکو تسلیم کرتے ہوئے ایک قرار دادِ اقلیت کے ذریعے غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا اِس سے پہلے پاکستان میں مرزاغلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو کافر کہنا جرم تھا لیکن 7 ۔ ستمبر 1974کے بعد مرزا قادیانی اور اُس کے ماننے والوں کو مسلمان کہنا جرم قرار دیا گیا۔آئین کی دفعہ 260 میں شق نمبر2 کے بعد حسب ذیل نئی شق درج کی گئی ،یعنی ’’شق نمبر 3 : جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم ،جو آخری نبی ہیں،کے خاتم النبین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مفہوم میں یا کسی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کونبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے ،وہ آئین یا قانون کے اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے ‘‘۔

قادیانیت کو محض ایک فتنہ کی نگاہ سے دیکھنا قادیانیوں کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ بلکہ یہ تو وہ ناسور اور زہر قاتل ہے جس سے ہر کوئی چھٹکارا حاصل کرنے کے درپے رہتا ہے۔

قادیانیت کیا ہے؟؟اگر جواب چند لفظوں میں مطلوب ہو تو جوابا یہ محاورہ کہنا کافی ہوگا کہ ” آستین کا سانپ” اور اگر تفصیل تفصیل کے خواہش مند ہیں تو جانیے!!! “قادیان ضلع گورداسپور (مشرقی پنجاب) میں ایک معمولی سا قصبہ ہے۔اس قصبے میں غلام مرتضیٰ نامی ایک شخص کے لڑکے “مرزا غلام احمد” نے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور اس دعوےٰ تک پہنچنے کے لیے کئی مدارج طے کیے۔ وہ ابتداء محدث، پھر ملہم و مجدد اور بالآخر نبی ہونے کا دعویدار بن بیٹھا۔ یہ وہ وقت تھا کہ ہندوستان کی سرزمین انگریزوں کے قبضے میں تھی اور انگریز وہاں پر حکمران تھے۔اب ایک طرف یہ مدعی نبوت اور دوسری طرف انگریزوں کا سہارا، پھر کیا تھا اپنے دعویٰ نبوت میں پختہ ہونے کے لیے یہ ماحول کافی ساز گار ثابت ہوا۔ رفتہ رفتہ یہ جھوٹ کا پلندہ ایک جماعت اور گروہ کی شکل اختیار کرگیا۔ حرمت جہاد اور انگریز کی اطاعت اس جماعت کا فرض منصبی ٹہرا ۔اپنی دھاک بٹھانے اور مخالفت پر اترنے والوں کے لیے طاقت کا بھر پور استعمال کیا گیا۔ اور من مانی کاروائیوں کا سلسلہ روز بروز بڑھتا رہا۔ سب سے زیادہ قادیان کے مسلمانوں کو نشانہ پر رکھا گیا۔حتی کہ کسی مسلمان عالم کا وعظ و نصیحت کرنا یا مسلمانوں کا اسلامی تہوار منانا مشکل ہوگیا۔ غرض یہ کہ قادیان کے مسلمانوں کی داستان نہایت المناک ہوتی گئی۔

قادیان کے مسلمانوں کے لیے سب سے پریشان کن بات یہ تھی کہ مرزائیوں نے وہاں کے مسلمانوں کا سوشل بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ اور اس بائیکاٹ کا سلسلہ اس حد تک بڑھ گیا کہ مسلمانوں کو قبرستان میں دفنانے سے بھی روک دیا گیا اور کہا گیا کہ چونکہ تم ایک نبی کو نہ ماننے کی وجہ سے مسلمان نہیں ہو، لہذا ہم تمھیں قبرستان میں تدفین کی اجازت نہیں دیں گے۔ پھر یہی نہیں، بلکہ یہ سلسلہ اس زور تک پہنچا کہ وہاں کے مسلمان دوکان داروں سے خرید و فروخت، اس وقت تک روک دیا گیا ،جب تک کہ وہ ذمی بننا قبول نہ کریں۔

حضرت عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے24 اپریل 1935ء، کو امرتسر میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”بعض ناعاقبت اندیش لوگ کہتے ہیں کہ مرزائیوں سے اختلافات بس فروعی ہیں۔بات دراصل یہ ہے کہ انگریزوں کے خود کاشتہ پودے کی مخالفت ناقابل برداشت ہے۔ہم ان شاءاللہ اس پودے کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکیں گے۔”

عیسائیت چاہتی ہے کہ اسلام کی وحدت کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے۔ چنانچہ اس وحدت کی بربادی کے لیے پنجاب سے مرزا قادیانی کو کھڑا کیا گیا۔ اس نے ایڑی چوٹی کا زور وحدت کو تباہ کرنے میں لگایا۔۔ یہ اختلافات فروعی ہیں؟ کہ نبی کے مقابلہ میں نعوذباللہ نبی کھڑا کردیا گیا اور مدینۃ النبی کے مقابلے میں مدینۃ المسیح اور جنت البقیع کے مقابلے میں بہشتی مقبرہ بنایا گیا ہے۔

Facebook Comments