چند دن قبل خیبر پختونخوا حکومت نے کالجز و یونیورسٹیز کی طالبات کے لیے حجاب لازمی قرار دیا، جسے سن کر دینی حلقوں میں خوشی کی لہردکھائی دی، حکومت کو اچھے لفظوں میں یاد کیا گیا۔ کچھ دیر کے لیے ایسا محسوس ہوا کہ واقعی پاکستان ریاست مدینہ کے طرز پر گامزن ہوچکا ہے۔ اس فیصلے سے جہاں ایک طرف خوشی و تشکر کا سماں تھا، وہیں کچھ پاکستان دشمن، لادین و لبرلز طبقوں کو مروڑ اٹھی، یہ فیصلہ ان کو گلے میں ہڈی کی طرح اٹکا، فوراً ہلچل مچی، کہا گیا کہ ”حجاب تعلیم میں رکاوٹ کا سبب ہے، جب تعلیم ہی ادھوری تو پاکستان میں ترقی کی امید کیسی، حجاب ایک بوجھ ہے“۔ ایسے ہی طرح طرح کے جملوں سے حجاب کو طنز و تشنیع کا نشانہ بنایاگیا۔

عقل تب دنگ رہ گئی کہ چند ہی گھنٹوں میں اس فیصلے کو واپس لے لیا گیا۔اس سے اندازہ لگائیے کہ پاکستان و اسلام دشمن طاقتیں کتنی منظم و طاقتور ہیں۔ ریاست مدینہ کے نام لیوا اتنے کمزور نکلیں گے، مجھے اندازہ نہیں تھا، افسوس ہوا کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں اسلامی شعائر ہی بوجھ لگنے لگیں گے۔
یہاں پر یہ سوال اہم رہا کہ کیا واقعی حجاب تعلیم میں رکاوٹ ہے؟، کیا واقعی حجاب پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ ہے؟ ہرگز نہیں!! فخر پاکستان ڈاکٹر شہناز لغاری (دنیا کی پہلی باحجاب پائلٹ) یہ بھی تو پاکستان کی ایک بیٹی ہے۔

جب ان سے سوال کرنے والے نے سوال کیا کہ”ڈاکٹر صاحبہ! کیا یہ حجاب آپ کو بوجھ نہیں لگتا؟ تو انہوں جواب دیا کہ ”ہم جس ماحول میں پروان چڑھے وہاں حیا اور حجاب ہماری گھٹیوں میں ڈالا گیا تھا۔ سو الحمدللہ کبھی حجاب بوجھ نہیں لگا۔ حجاب کی وجہ سے کبھی کوئی پریشانی یا رکاوٹ نہیں آئی، حجاب نے میری راہ میں کبھی کوئی مشکل نہیں کھڑی کی بلکہ میں نے اس کی بدولت ہرجگہ عزت اور احترام پایا۔یہ حجاب ہی کی برکت ہے کہ ایک تقریب میں جنرل مشرف نے مجھے جھک کر سلام کیا“۔ یہ بھی تو اسلام و پاکستان کی ایک بیٹی ہے جس نے حجاب پہن کر ہی تعلیم حاصل کی اور پاکستان کو ترقی کی جانب لے جانے میں حجاب پہن کر ہی کوشاں ہے۔

حجاب ہماری پہچان اور ہمارا تحفظ ہے۔ کبھی کسی کی ترقی میں حجاب رکاوٹ نہیں تھا نہ ہے اور نہ ہوگا۔ بس یہ بات کسی بند دماغ والی سوچ رکھنے والے کو سمجھ نہیں آسکتی۔

Facebook Comments