وہ دیکھیں سلمان بھائی میری گیند دیوار سے لگ کر کیسے پلٹتی ہے۔ کاشف پرجوش ہو کر سلمان کو بلا رہا تھا۔
کاشف کھیل میں مصروف تھا کہ قریبی مسجد سے اذان عصر بلند ہوئی۔
اچھااب گیند چھوڑو نماز کے لیے میرے ساتھ آئو۔ سلمان نے کہا تو کاشف بےمزہ ہو کر رہ گیا۔
”جنت جانے کے شوقین کاشف صاحب! نماز جنت کی کنجی ہے۔ کنجی حاصل نہیں کرو گے تو بھلا جنت کیسے جائو گے؟“
لا الہ الا اللہ پڑھ کر جنت چلا جائوں گا۔ کاشف نے اپنے تئیں بڑی عقلمندی سے جواب دیا۔
ارے واہ لا الہ الا اللہ کا تو مطلب ہی یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ نے تو ہمیں پیدا ہی اپنی عبادت کے لیے کیا ہے۔
اور
نماز تو وہ اہم ترین عبادت ہے جو اسلام کی بنیاد ہے۔
سلمان باتیں کرتا کرتا کاشف کے قریب آگیا تھا۔ کاشف کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے مسکرا کر اپنے چھوٹے بھائی کی طرف دیکھا اور کہنے لگا۔
تمہیں پتا ہے کاشف قرآن مجید میں نماز کے قیام کا حکم 7سو مرتبہ آیا ہے۔
”7سو مرتبہ!“ کاشف نے حیرت سے پلکیں جھپکائیں۔
”جی ہاں! اور سورہ مدثر میں دوزخیوں اور جنتیوں کا مکالمہ سنایا گیا ہے اس کے الفاظ یہی تو ہیں۔ ” تمہیں دوزخ میں کیا چیز لے آئی؟ کہنے لگے ہم نماز نہیں پڑھتے تھے۔ ہم نمازیوں میں سے نہ تھے۔“
” اوہ خدایا! دوزخ تو بہت بری جگہ ہے۔ آگ، سانپ، بچھو، تارکول کے لباس۔۔۔۔۔۔۔۔ کاشف کے سامنے امی جان کا سنایا دوزخ کا نقشہ کھنچ گیا تھا۔“
تو پھر جنت کی کنجی لینی ہے کاشف جی یا ۔۔۔۔۔ سلمان نے شرارت سے کاشف کی طرف دیکھا۔

یا وا کچھ نہیں کاشف اب اتنا بھی بےوقوف نہیں کہ جنت کے سرسبز و شاداب پھلوں سے بھرے باغات اور ٹھنڈے میٹھے چشمے چھوڑ کر دہکتی آگ کے پیچھے جائے۔
اس نے جلدی سے گیند دراز میں رکھی اور وضو کرنے چل دیا۔۔۔۔
کاشف اور سلمان کے قدم باجماعت نماز ادا کرنے کے لیے قریبی مسجد کی جانب اٹھ رہے تھے۔ وہ جنت کی کنجی کے حریص و مشتاق تھے۔

Facebook Comments