دُعا کی صورت جو ہاتھ اُٹھائے
لب پہ میرے چند الفاظ آئے

نہ وفا کی خاطر، نہ زر کیے لیے
چشم میری میں جو اشک آئے

آنسوؤں کی اس لڑی میں شامل
دُور سے جیسےکوئی صدا آئے

میرے مالک! لازوال رکھنا
خوشی بھی ان کی دوام رکھنا

خاص اتنے کہ، قلب میرے کو
بنا اِن کو دیکھے نہ پھر قرار آئے

Facebook Comments