اہل دانش سے یہ بات مخفی نہیں کہ ہم جس دور سے گزر رہے ہیں وہ انتہائی پر فتن اور پر خطر دور ہے، جس میں ایک طرف طغیانی اور نافرمانی کا سیلاب امڈ رہا ہے، تو دوسری طرف فحاشی و عریانی کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے، ایک طرف ایمان اور عمل صالح سے دوری تو دوسری طرف بے ایمانی، بد عملی اور دیگر گناہوں اور برائیوں کی آندھیا چل رہی ہے۔آ ہمارے درمیان جھوٹ ایک عام چیز سمجھی جاتی ہے، اور اکثر ہم مذاق کرتے ہوئے، من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی لطیفے سناتے ہوئے اور بے ادبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، بات کرتے وقت جھوٹ بولنا انتہائی گھٹیا حرکت اور بڑا سخت گناہ ہے۔.

اللہ رب العزت نے جھوٹ بولنے پر سخت وعید کی ہے، ارشاد الہٰی ہے ”جھوٹ تو وہ لوگ گھڑتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے، اور وہی لوگ جھوٹے ہیں“،(النحل: 105)

جھوٹ بولنے والا شخص اللہ تعالیٰ کی لعنت کا مستحق ہے ”پس جو کوئی آپ سے اس بارے میں آپ کے پاس علم آجانے کے بعد جھگڑے، تو کہہ دیجیے کہ آﺅ ہم اور تم اپنے اپنے بیٹوں، عورتوں اور اپنے آپ کو اکھٹا کریں پھر عاجزی کے ساتھ دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں“۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف، ایک آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں بڑا جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے“۔

جھوٹ کے بہت سے ذیلی عنوان باندھے جا سکتے ہیں، لیکن چند ایک اہم عنوانات ذکر کروں گا۔

بدگمانی
بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”بد گمانی سے بچو، کیونکہ یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے“۔

جھوٹی گواہی:کسی لالچ یا تعلق داری وغیرہ کی وجہ سے جھوٹی گواہی دینا بھی بڑا سنگین جرم ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے جھوٹی گواہی دینے سے منع کرتے ہوئے فرمایا:”پس تم لوگ گندگی یعنی بتوں کی عبادت اور جھوٹی بات کہنے سے بچو“۔

ایک دوسرے مقام پر اہل ایمان کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا:”اور وہ لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے“۔ یعنی وہ جھوٹ نہیں بولتے ہیں اور نہ جھوٹی گواہی دیتے ہیں،بلکہ اپنے نفس کو ان دونوں خبیث چیزوں سے بچاتے ہیں۔

 جھوٹا خواب بیان کرنا
لوگوں پر برتری حاصل کرنے، مالی فوائد سمیٹنے، کسی سے کوئی عداوت ہے تو اسے خوف میں مبتلا کرنے یا کسی اور مقصد کے حصول کیلیے کوئی ایسا خواب بیان کرنا جو نہ دیکھا ہو، انتہائی سخت گناہ ہے۔ حدیث میں جھوٹا خواب بیان کرنے والے کیلیے بڑی سخت وعید وارد ہوئی ہے، چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جس شخص نے ایسا خواب بیان کیا جو اس نے دیکھا ہی نہیں، قیامت کے روز اسے مکلّف کیا جائے گا کہ جو کے دو دانوں کو گرہ لگائے، اور وہ یہ ہر گز نہیں کر پائے گا“۔

 لوگوں کو ہنسانے کیلیے جھوٹ بولنا
لوگوں کو محض ہنسانے کیلیے جھوٹ بولنا بھی بڑا سخت گناہ ہے، بلکہ موجب ہلاکت ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے:”اس آدمی کیلیے ہلاکت ہے، جو لوگوں کو ہنسانے کیلیے باتوں میں جھوٹ بولتا ہے، اس کیلیے ہلاکت ہے“۔
یہ چند ایسے گناہ تھے جو آج کے معاشرہ میں باکثرت پائے جاتے ہے، اور ہم انہیں معمولی سمجھتے ہیں جبکہ قرآن و حدیث میں ان گناہوں کی سخت وعید سنائی گئی ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو برے اعمال کے ارتکاب سے بچنے، نیک اعمال کے کرنے کی توفیق بخشے، اور روز قیامت ہمیں اپنی خاص رحمت سے نواز کر جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین۔

Facebook Comments