بعض کتب ایسی ہوتی ہیں جو اپنے سادہ اسلوب، حقیقت پر مبنی بیانیے اور پر اثر انداز سے قاری کو پہلی سطر سے ہی اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں- ایسی کتب کا سحر صرف ان میں تحریر کردہ مواد کی وجہ سے ہی نہیں اثر انداز ہوتا، بلکہ اسے لکھنے والے کی شخصیت اور مزاج بھی کتاب کو ایک ایسی روح عطا کرتا ہے جو کتاب سے نکل کر قاری میں حلول کر جاتی ہے- بہت کم کتب ایسی ہوتی ہیں جو پڑھتے ہوئے آپ پر بوجھ بھی نہیں بنتیں اور اپنا لفظ لفظ آپ کے دل میں بھی اتارتی چلی جاتی ہیں، بلکہ یوں کہیے کہ ان کا مطالعہ دست مسیحا کی مانند، اپنی تاثیر قاری کے دل و دماغ میں اتار دیتا ہے اور قاری کتاب پڑھنے کے بعد بھی اسی میں محو رہتا ہے- کچھ ایسا ہی اثر “گلزار” کی کتاب “گریاد رہے” میں بھی محسوس ہوا-
اگست 1934 میں پیدا ہونے والے “گلزار” جن کا اصل نام سمپیورن سنگھ ہے، مشہور ہندوستانی شاعر، فلم ڈائریکٹر اور گیت نگار ہیں جو جہلم میں پیدا ہوئے اور پھر تقسیم ہند کے دوران ہندوستان منتقل ہو گئے- ایک اکیڈمی ایوارڈ، پانچ نیشنل فلم ایوارڈ اور اکیس فلم فئیر ایوارڈ سمیت کئی اور اہم ایوارڈز حاصل کرنے والے گلزار صاحب کی نئی تصنیف “گر یاد رہے” پاکستان میں 2019 میں شائع ہوئی ہے- یہ کتاب بہت سادہ اسلوب کے ساتھ مختلف اہم شخصیات کے پر اثر خاکوں، سوانحی افسانوں جو کہ بقول مصنف تخیلی اور فکشن زدہ نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہیں اور چند پورٹریٹس اور مرثیوں پر مشتمل ہے- خوبصورت سرورق کے ساتھ یہ کتاب شخصیات کے بارے پڑھنے والوں کے لیے کافی اچھا انتخاب ہے-
کتاب کے تعارف میں مصنف نے لکھا ہے کہ “اگر مغرب میں بائیوگرافیکل ناول لکھنے کی روایت ہے اور یہ لکھے جاتے ہیں تو پھر بائیوگرافیکل افسانے کیوں نہیں لکھے جا سکتے؟ اس کتاب میں وہ بھی شامل ہیں” مزید مصنف کہتے ہیں کہ “اس کتاب میں ایک نوسٹیلجیا ہے، جو میرے اندر مہکتا رہتا ہے”
وقت سے پرے اگر مل گئے کہیں
میری آواز ہی پہچان ہے گر یاد رہے
خاکوں کے باب میں گلزار صاحب نے منشی پریم چند سے آغاز کیا ہے- منشی جی کے بارے وہ لکھتے ہیں کہ” اس عمر میں جب مڑ کے دیکھتا ہوں تو یہ جاننے کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کس ایج گروپ کے لیے لکھتے تھے اور وہ کس زبان میں کہانی کہتے تھے، جو نہ بڑوں کے لیے بدلنی پڑتی،نہ چھوٹوں کے لیے- یہ وہ سوال ہیں جو آج کا نقاد بار بار آج کے لیکھک کو catagorise کر دیتا ہے- بڑوں کے لیے لکھنا اور بچوں کے لیے لکھنا دو الگ الگ حصے بن گئے ہیں اور پھر ان حصوں کے بھی چھوٹے چھوٹے سب ڈویژن ہیں- آج بھی چھوٹوں کے لیے لکھتے ہوئے لیکھک تتلانے لگتے ہیں اور بڑوں کے لیے چہرے پر موٹے موٹے چشمے چڑھا لیتے ہیں” –
گلزار نے یہ حقیقت بیان کی ہے اور واقعتاً آج کل بڑوں کے لیے اور چھوٹوں کے لیے لکھنے والوں نے خود کو بس ایک ہی سطح تک محدود کیا ہوا ہے- مصنف مزید لکھتے ہیں کہ” منشی پریم چند کے فن کی یہ ایک بہت بڑی خوبی ہے جو اس دور میں بھی کم ملتی تھی اور اس دور میں بھی نایاب ہے- نہ چھوٹے کے لیے، نہ بڑے کے لیے، پورے پریوار اور پورے سماج کے لیے، اس سادگی سے کہانی کہنا، جس طرح منشی پریم چند کہتے تھے، بڑا کٹھن کام لگتا ہے- یہی نہیں ان کی کہانیوں کی زبان بھی اپنے دور کی رائج زبان تھی- جو ہر کوئی سمجھ لیتا تھا- نہ وہ مشکل اردو تھی نہ کشٹ ہندی تھی- بالکل خالص ہندوستانی زبان، جو ہندوستان کی زبان ہے”-
اتنی سادگی سے گلزار نے شخصیات کو بیان کیا ہے کہ پڑھتے ہوئے کہیں بھی کوئی رکاوٹ، اکتاہٹ اور بدمزگی کا احساس نہیں ہوتا-
احمد ندیم قاسمی کا ذکر کرتے ہوئے گلزار صاحب کہتے ہیں،” بابا (احمد ندیم قاسمی) نظم، افسانہ، صحافت، تینوں اصناف میں ایک بڑی انفرادیت کے مالک تھے- اردو ادب کا ایک بڑا نام تھا احمد ندیم قاسمی- ہم انہیں اس دور سے پڑھتے آ رہے تھے، جس زمانے میں ترقی پسند مصنفین کی میٹنگیں بڑے زور و شور کے ساتھ منعقد ہوتی تھیں” – ایک اور جگہ صاحب کتاب نے لکھا ہے کہ،” قاسمی صاحب کے افسانوں کو سمجھنے اور محسوس کرنے کے لیے، ان کے دور کو جاننا بہت ضروری ہے، بلکہ یوں کہوں کہ ہر اس افسانے کے دور کو سمجھنا ضروری ہے- جس دور سے اس وقت قاسمی صاحب گزر رہے تھے- جیسے آج کی جنریشن کے لیے، تقسیم کے دور کو جانے بغیر” پرمیشر سنگھ”نہیں سمجھا جا سکتا- “بابا نور” تبھی سمجھا جا سکتا ہے اگر دوسری جنگ عظیم کے دور سے تھوڑی واقفیت ہو- لیکن ان افسانوں میں ایک خوبی ضرور ہے کہ انسانیت کی سطح پر آپ ان کرداروں کو محسوس کر سکتے ہیں اور سماجی سطح پر ان کی اہمیت سمجھ آ جاتی ہے”-
ان کے علاوہ خاکوں کے باب میں سعادت حسن منٹو، شیلندر، نصیر احمد ناصر، خواجہ احمد عباس، شہر یار سنو، امجد اسلام امجد، ایوب خاور، جاوید صدیقی اور ف-س- اعجاز کے بارے میں گلزار صاحب نے بہت دلکش اور سادہ الفاظ میں لکھا ہے جو کہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے- ان شخصیات کے بارے مختصر لیکن پر اثر انداز کی بنا پر قاری دوران مطالعہ کسی بھی مقام پر اپنی یکسوئی نہیں کھوتا- یہ کتاب ایک ہی نشست میں پڑھے بنا اٹھنا محال ہو جاتا ہے-
منٹو کے بارے گلزار صاحب لکھتے ہیں کہ، “منٹو کو کچھ سنا ہے، کچھ دیکھا ہے، کچھ پڑھا ہے- لگ بھگ اسی ترتیب سے جانتا ہوں اسے” – ایک اور جگہ مصنف کہتے ہیں کہ “کمال کی بے ساختگی تھی اس کے جملوں میں- آپ نے بہت لوگوں کے مضامین پڑھے ہوں گے- منٹو پر- جن میں قاسمی صاحب کے علاوہ پروفیسر شکیل الرحمن ہیں، رضوان عطا اور بے شمار نقاد تبصرہ کرنے والے شامل ہیں- لیکن منٹو کو خود منٹو سے بہتر کوئی بیاں نہیں کر سکتا” – اسی طرح شہر یار سنو کے بارے گلزار صاحب نے لکھا ہے کہ” بڑی شاعری کے بڑے شاعر فراق تھے، فیض تھے، فراز تھے اور شہر یار ہیں- شہر یار کے ہاں کوئی ہیڈ لائن نظر نہیں آتی- وہ کوئی نعرہ نہیں لگاتے- فیض اپنی بات کو پرچم کی طرح تان دیتے تھے- فراق اپنی بات کا اعلان کرتے تھے، فراز بھی- ان کی بات بڑی واضح ہوتی تھی اور سرخی بن جاتی تھی- شہر یار ان سب سے سٹل شاعر ہیں- جس طرح پڑھتے ہیں، ویسا ہی لکھتے ہیں اور جیسا لکھتے ہیں ویسے ہی پڑھتے ہیں- پورے صبر و تحمل سے بات کرتے ہیں- ان کا کہا، کنول کے پتے پر گری بوند کی طرح دیر تک تھرکتا رہتا ہے- شعر سن کر دیر تک کان میں گونجتا ہے”-
کتاب میں شامل بائیوگرافیکل افسانوں کا باب سب سے زیادہ دلچسپ اور معلوماتی محسوس ہوتا ہے- مختصر اور مکمل پن لیے ہوئے ہر افسانہ اس شخصیت کی جیتی جاگتی تصویر ہے- بمل رائے کے بارے سوانحی افسانے میں گلزار صاحب کہتے ہیں،” الہ آباد میں، تروینی کے سنگم پر، جہاں گنگا، جمنا اور سرسوتی ملتی ہیں، کہا جاتا ہے کہ اس دن، اس سنگم پر کوئی اشنان کرے تو اس کے سارے روگ دور ہو جاتے ہیں، سارے پاپ کٹ جاتے ہیں اور اس شخص کی عمر سو سال ہو جاتی ہے- میں نے بمل دا سے پوچھا، کیا آپ مانتے ہیں؟ بمل دا مسکرا دیے، وشواس کی بات ہے- ایسا شاستروں میں کہا گیا ہے- ایسٹرونومی کے مطابق یہ دن ہر بارہ سال کے بعد آتا ہے، جب سورج کے گرد گھومتے ہوئے نو کے نو سیارے ایک لائن میں آ جاتے ہیں اور اس دن سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی پہلی کرن اس سنگم پر پڑتی ہے- اس ایک دن کے لیے یہاں کمبھ کا میلہ لگتا ہے جس کی تیاری مہینوں پہلے شروع ہو جاتی ہے- اسے پورن کمبھ کا میلہ بھی کہتے ہیں- آخری نو دن خاص گنے جاتے ہیں جس میں نواں دن جوگ اشنان کا دن ہوتا ہے”- مشہور صحافی کلدیپ نیر کے کے بارے سوانحی افسانے میں مصنف لکھتے ہیں کہ،” نیر صاحب کہہ رہے تھے کہ یہ سڑک اگر اسی طرح چلتی رہے، اور کوئی گیٹ، کوئی رکاوٹ نہ آئے- نہ کوئی ویزا پوچھے، نہ پاسپورٹ دیکھے اور میں پاکستان گھوم کے آجاؤں، تو کیا لوٹ لوں گا اس ملک کا؟ لوٹنے والوں کی تو نہ اس ملک میں کمی ہے، نہ اس ملک میں- انہیں باہر سے آنے کی کیا ضرورت ہے؟ پھر ایک وقفے کے بعد بولے: آخر وہ بھی تو وطن ہے میرا؟ میرا کتنا بڑا حصہ اس ملک میں پڑا ہے-
میری آنکھوں میں کوئی سوال ہوگا- بولے: میرا سکول ہے بھئی، مدرسہ میرا، میرے ماسٹر دینا ناتھ اور مولوی محمد اسمعیل- میرا الف، بے کا قاعدہ، بستا، سب وہیں تو رکھا ہے- جڑیں وہاں رکھی ہیں اور شاخیں کاٹ کے ادھر لے آئے-” اسی طرح اس باب میں ایک سوانحی افسانہ مائکل اینجلو کے نام سے ہے- مصنف ایک جگہ لکھتے ہیں کہ” مائکل اینجلو جب روم واپس لوٹا تو گھنٹوں سینٹ پیٹرز برگ کے گنبد کے نیچے لیٹ کر آپ ہی آپ میں کچھ بڑبڑایا کرتا تھا- کچھ بولتا رہتا تھا- جولئیس نے اس سے جا کر پوچھا تو وہ بولا آیتوں کی پٹیاں اتار رہا ہوں- جولئیس ثانی جانتا تھا کہ وہ اینٹ گارے کی چونے سے بنی دیواروں میں وہ چہرے دھونڈ رہا ہے- یسوع کا چہرہ، مریم کا چہرہ، پطرس، یوحنا اور یہوداہ کا چہرہ- جولئیس کو یقین ہو گیا تھا کہ اس نے صحیح مصور چنا ہے- مریم کا ماڈل اینجلو نے اپنی ماں سے چنا تھا اور اس روز چنا تھا جس دن اس نے اپنی ماں کو ایک بانس پر پانی کے دو ڈول لٹکا کر کندھوں پر اٹھاتے دیکھا تھا- ایسی ہی کوئی توانا عورت ہو گی جس نے نبی کا بوجھ اپنی کوکھ میں سنبھالا ہو گا-” پھر گلزار صاحب بیان کرتے ہیں کہ” اینجلو کو سنگ مرمر کے لیے رقم کی ضرورت تھی- پوپ جولئیس ثانی نے وعدہ تو کیا لیکن رقم نہیں دی- تمہیں پتھر سے کیوں اتنا لگاؤ ہے؟ رنگوں سے کیوں نہیں؟ تو اینجلو نے جواباً کہا کہ رنگ دوسروں سے مل کر اپنا رنگ چھوڑ دیتے ہیں- بدل جاتے ہیں- سنگ مرمر ایسا نہیں کرتا-“
ان افسانوں میں ساحر اور جادو، بٹوارہ، دمبے، بھوشن بنمالی، وداعی، گاگی اور سپرمین شامل ہیں جو کہ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں-
پورٹریٹس او مرثیے کے باب میں گلزار صاحب نے غالب، ٹیگور، مینا جی، جتن داس، گوپی چند نارنگ، امجد خان اور چند دیگر ادبی شخصیات کے بارے شاعرانہ انداز میں لکھا ہے جو کہ کافی دلکش ہے- اس کے علاوہ کتاب کے آخر میں گلزار صاحب نے سیلف پورٹریٹ بھی شامل کیا ہے جوکہ بہت خوبصورت، پر اثر اور اپنے اندر گہرائی سموئے ہوئے ہے- “گر یاد رہے”کتاب نہ تو دقیق ادبی انداز میں لکھی گئی ہے کہ قاری وقفوں وقفوں سے اسے پڑھے اور سمجھے، نہ ہی یوں ایک کہانی کہ جو پڑھتے ہی اختتام پذیر ہو جائے، بلکہ یہ ہلکے پھلکے اور سادہ بیانیے کے ساتھماضی کو اپنے اندر سمو کر چلتی ہے کہ قاری پڑھتے ہوئے خود کو سرور زدہ محسوس کرنے لگتا ہے- گلزار صاحب کا سیلف پورٹریٹ آپ سب کی نظر-
روز ہی آئینے پر لکھ کر جاتا ہوں میں،
سارے چنہہ اور چہرہ اپنا
لوٹوں تو پہچاننے میں کوئی بھول نہ ہو……..
لیکن روز بدل جاتا ہے کچھ نہ کچھ
ایک معمہ بنا ہوا ہوں اپنے لیے
دیکھوں تو…….
پہلے سے حرص کچھ اور زیادہ ہے آنکھوں میں
امید کی دھڑکن بڑھی ہوئی ہے
اور چنتا کے چنہہ زیادہ گہرے ہونے لگے ہیں
پکا رنگ ہے، کالا تو، سنتے ہیں
پھر بھی……..
جانے کیوں بالوں کا رنگ اترنے لگا ہے
ایک معمہ بنا ہوا ہے، آئینے میں!!

Facebook Comments