موبائل فون مستقل بجے جا رہا تھا۔ قرآن کلاس چل رہی تھی اس لئے شبانہ باجی نے فون سائلنٹ کر دیا مگر وائبریشن کی وجہ سے توجہ بار بار اس کی طرف جا رہی تھی۔ کلاس کے بعد موبائل دیکھا، ان کے شوہر کی خالہ زاد بہن کی ستائیس مس کالز تھیں۔ شبانہ باجی پریشان ہو گئیں۔ اللہ خیر کرے!! کال بیک کرنے لگیں تو خود ہی فون بج گیا۔

اسلام وعلیکم! ہاں فضیلہ میں تمہیں ہی فون کر رہی تھی، کلاس کی وجہ سے موبائل سائلنٹ پر تھا، سب خیریت ہے؟

دوسری طرف سے گھبرائی ہوئی آواز محسوس ہو رہی تھی۔ شبانہ باجی وہ گلستان۔۔ وہ۔۔ وہ! کیا ہوا گلستان کو، سب خیریت۔۔

گلستان فضیلہ کی چھوٹی بہن تھی۔ شبانہ باجی غسل میت کا نیک کام بھی کرتی تھیں۔ فضیلہ کی گھبرائی ہوئی آواز سے ان کا ذہن کسی اور طرف جانے لگا۔

شبانہ باجی،ایک مسئلہ ہو گیا! لمبی کہانی ہے،فون پر نہیں سنا سکتی، آپ کی مہربانی ہوگی اگر آپ گلستان کے گھر آجائیں، آپ کا احسان ہمیشہ۔

آگے فضیلہ سے بولا نہ گیا۔ اچھا میں آتی ہوں شبانہ باجی نے فورا ڈرائیور سے کہ کر گاڑی گلستان کے گھر کی طرف مڑوالی۔ وہ کبھی گلستان کے گھر گئی نہیں تھیں مگر راستہ ان کو معلوم تھا۔ وہ سمجھیں گلستان کے فلیٹ کے باہر رش ہوگا مگر توقع کے برعکس وہاں خاموشی تھی۔ شاید میں غلط فلور پر آگئی انہوں نے سوچا مگر یادداشت بتا رہی تھی گلستان کا فلیٹ چوتھے فلور پہ ہی تھا۔ انہوں نے دروازے پر لگی گھنٹی بجائی۔ دروازھ فضیلہ نے کھولا۔

السلام وعلیکم! وعلیکم السلام! آئیے شبانہ باجی! فلیٹ اندر سے بہت خوبصورت اور پرآرائش تھا۔ شبانہ باجی کو داخل ہوتے ہی گلستان نظر آگئی،روئی روئی سی آنکھیں،ایک دن پہلے ہی فضیلہ اور گلستان شبانہ باجی کے گھر ان سے ملنے آئے تھے،مگر اب گلستان کو دیکھ کرشبانہ باجی کو یکدم ترس آیا۔۔

شبانہ باجی آپ آرام سے بیٹھ جائیں! بات یہ ہے کہ گلستان کو آج اپنے گھر میں ایک تعویذ ملا ہے اور آج ہی اس کے اوپر مسائل کا انبار آگیا۔ صبح شوہر سے لڑائی،پھر کام والیاں غائب ہو گئیں ،بیٹی بھی اسکول جاتے ہوئے سر درد کی شکایت کرکے گئی ہے۔ گلستان بہت پریشان ہے۔ آپ تو جانتی ہیں آج کل جادو ٹونا کتنا بڑھ گیا ہے، ہم سے حسد کرنے والے اور نقصان پہنچانے والے بہت ہیں،ہم جانتے ہیں یہ کس کی حرکت ہو سکتی ہے،آپ رہنمائی فرمائیں ہم کیا کریں۔
شبانہ باجی سمجھ گئیں معاملہ گھمبیر ہے۔ ان دونوں کی والدہ بھی ایک دن رات کو سوئیں اور پھر صبح نہ اٹھیں۔ ان دونوں کی عمریں تب چودہ اور سولہ سال تھیں۔ ۔ تبھی سے یہ بات مشہور تھی کہ ان کی ماں پر کسی نے جادو کردیا۔ ۔ اور یہی بات اب بھی ان کے ذہنوں میں رچی بسی تھی۔۔

جادو بےشک برحق ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس سے بچنے کی احتیاتی تدابیر بھی بتائی ہیں،مگر ہر چیز جادو نہیں ہوتی،میں جتنا قرآن حدیث اللہ کے فضل سے جانتی ہوں اس کے حساب سے رہنمائی کرنے کی کوشش کروں گی، مجھے پوری بات بتاﺅ۔

گلستان نے رندھائی ہوئی آواز میں بولنا شروع کیا، کل میں کام ختم کرکے شام میں آپ کی طرف چلی آئی، گھر میں کوئی نہیں تھا،جھاڑو،پونچھا، سبزی،استری ،کپڑے،برتن سب کی ماسیاں کام ختم کرکے جا چکی تھیں۔

یا اللہ، اتنی ماسیاں! اتنی نعمتوں میں تو زندگی جنت ہونی چاہیے، نجانے ایک تعویزکی وجہ سے جہنم کیسے ہوگئی؟ شبانہ باجی نے دل میں سوچا۔

پھر میں رات کو تیار ہوکر دعوت میں چلی گئی، واپسی پر کافی رات ہوگئی تھی، میں سو گئی اور پھر صبح میں اکیلی تھی جب یہ مجھے نظر آیا، لاکر دکھاﺅں آپ کو؟

گلستان بیٹی! جب نیند پوری نہیں ہوتی، مزاج میں جھنجلاہٹ آہی جاتی ہے۔ رات کو تمہارے ہاں سب دیر سے سوئے تھے اسی لئے صبح تمہاری نوک جھونک ہو گئی ہوگی اور بیٹی بھی اسی وجہ سے سر درد کی شکایت کر رہی تھی۔ رہی بات ماسیوں کی تو ہو گئی ہوگی کوئی وجہ، آج کل کون نہیں پریشان، اپنے ماتحتوں سے اکثریت تنگ ہے،تم کہتی ہو تو تعویذ لاکر دکھا دو، شاید کوئی نکتہ سامنے آئے۔

ایک منٹ بعد فضیلہ اور گلستان ایک کاغز پہ ایک چھوٹا سا چوکور کالے رنگ کا ٹکرا لے کر آئیں، کاغذ کو ایک طرف سے گلستان اور ایک طرف سے فضیلہ پکڑی ہوئی تھی، یہ احتیاط اس وجہ سے تھی کہ کہیں غلطی سے تعویذ پر ہاتھ نہ لگ جائے۔ شبانہ باجی نے تعویذ کو ہاتھ میں لینا چاہا تو دونوں گویا چیخ پڑیں نہیں نہیں خدارا نہیں۔۔
شبانہ باجی نے تعویز غور سے دیکھا۔۔

کل تمہاری بیٹی جو کپڑے میرے گھر پہن کر آئی تھی، وہ کہاں سے آئے تھے؟ شبانہ باجی نے پوچھا۔۔

وہ میں لائی تھی،کل اسنے پہلی دفعہ پہنے تھے گلستان الجھی ہوئی تھیں جبکہ فضیلہ ستائشی نظروں سے دیکھ رہی تھیں جیسے ان کو یقین ہو کہ شبانہ باجی معاملے کی تہہ تک پہنچ گئیں۔۔ وہ کرتی ذرا لاکر دکھاﺅ۔۔گلستان بجلی کی سی تیزی سے گئی اور فورا بیٹی کی قمیص لے آئی۔ شبانہ باجی نے کرتی کا دامن نکالا اور اسپر لگے ٹسل زور سے گننے شروع کیے۔ ایک، دو، تین اور چوتھا کہاں ہے گلستان۔

گلستان اور فضیلہ دونوں حیران تھیں۔ چوتھے ٹسل کی جگہ محض دھاگا لٹک رہا تھا اور باقی ٹسل ہو بہو تعویذ کی شکل کے تھے۔

شبانہ باجی نے تعویذ بلا خوف اٹھایا اور گلستان کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولیں، پکڑو اور ٹانکو اسے یہاں پہ،اتنی سی بات پہ پریشان ہو گئیں، لا حول ولا قوة الا باللہ، مجھے تمہاری بیٹی کی کرتی اچھی لگی تھی۔ میں نے اپنی نواسی کے لئے ویسی لینے کا سوچا اسی لئے کرتی کا پورا جائزھ لیا اور اسی لئے اب بھی پہچان گئی۔۔

ہاں سارہ (بیٹی) مستقل ٹسل سے کھیل رہی تھی، اسی نے نکالا ہوگا۔ میں نے منع بھی کیا تھا مگر وہ کھیلتی ہی رہی گلستان نے جواب دیا اور یوں ایک جادوئی قصہ اپنے اختتام کو پہنچا۔
جادو برحق ہے مگر یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی پتا بھی نہیں ہل سکتا۔

کٹھن وقت کبھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے، جو درجات کی بلندی کے لیے آتی ہے، جس پر کیا گیا صبر بے حساب اجر کا باعث ہوتا ہے اور کبھی یہ اپنے گناہوں کا نتیجہ، مکافات عمل اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہے۔ اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی نہ گزارنے کا نتیجہ ہوتا ہے اور اللہ کی یاد سے غافل دل پر ویسے بھی شیطان مسلط ہوجاتا ہے۔

اللہ کے نبی نے جادو سے بچنے کی کئی تدابیر بتائی ہیں جن میں صبح و شام کے اذکار خصوصا معوذتین شامل ہیں۔ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا، سورہ البقرھ پڑھا کرو کیونکہ اس کا پڑھنا باعث برکت،اسے چھوڑنا باعث حسرت ہے اور اس کے پڑھنے والے پر جادوگر قدرت نہیں پا سکتے۔ (صحیح مسلم:1874)

اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو جادو کرنے کرانے اور دیگر شیطانی کاموں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور تمام مسلمانوں کو نیک ہدایت عطا فرمائے آمین۔

Facebook Comments