کچھ دنوں قبل دوستوں کے ساتھ اورنگی ٹاﺅن کے یوسف گوٹھ جانے کا اتفاق ہوا جہاں پر عصر کے نماز کا وقت ہوا اور ہم چاروں دوست (میں،ذاکر،فیروز،حکیم)نماز کے لیے مقامی مسجد کی جانب چل پڑے ، مسجد کم از کم دوہزار گز پر تعمیر تھی جس میں رہائشی طلب دین کے لیے ایک مدرسہ بھی موجود تھا ۔ مسجد پہنچ کر ہم نے مسجد کے ساتھ تعمیر ہوئے استنجاخانے کا رخ کیا ، ہم استنجاخانے میں داخل ہوئے تو زبردست قسم کی بدبو نے ہمارا استقبال کیا، میں نے جیسے ہی استنجاخانے میں موجود بیت الخلا ءکادروازہ کھولا تو دھنگ رہ گیا ،پانی کی وافرمقدار کے باوجود تمام بیت الخلاءکی وہ حالات تھی کی جس میں ان کو استعمال کرنے کا دل بھی نہیں کرہاتھا ، مگر باعث مجبوری کچھ کم گندا بیت الخلاءہم نے استعمال کیا اور پر وضوخانے کی جانب چل پڑے ، وضوخانے کو دیکھ کر افسوس کے سیوا کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے ، وہ حالات تھی وضو خانے کی کہ جس کو دیکھ کوئی غیر مسلم مسلمانوں کے بارے میں کیا سوچیں گے وہ قارئین خود ہی اندازہ لگا لیں۔
 
قارئین میں نے مسجد کے ساتھ نمازیوں کے استعمال میں آنے والے استنجاخانوں کی مثال اس لیے دی کی ہمارے شہر کراچی یہیں استنجاخانے نمازیوں کے استعمال کے ساتھ عوامی استعمال میں بھی آتے ہیں۔ شہر کراچی کہ ہزاروں مساجد میں مسجد کے ساتھ موجود ان استنجاخانوں میں اکثر مساجد میں صفائی کے لیے ایک خاکروب موجود ہوتا ہے جو بیت الخلاءکو استعمال کرنے کے 10روپے لے تا ہے ، وہ ان بیت الخلاﺅں کی صاف صفائی بھی کرتا ہے ، مگر وہ ان بیت الخلاﺅں کو دن میں ایک یا دو مرتبہ دوتا ہوگا ، لیکن اس بیچ ان بیت الخلاﺅں کو استعمال کرنے والے تو اپنے آپ کو صاف کرلیتے ہیں ،مگر ان کو اتنی فرصت نہیں ہوتی کہ ایک لوٹا پانی اپنے کئے ہوئے گند پر بھی بہادے ، جس کے بعد اگلا بھی یوں ہی کرتا ہے ، چاہیے وہ نماز کے لیے متصل مسجد آیا ہو ،اڑوس پڑوس کا دوکاندار ہو یا راہگیر سب یوں ہی کرتے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ہونے والی جنگوں پر انٹرنیٹ پر سرچینگ کرہا تھا، خاص کر صلیبی جنگیں تو اس میں کچھ ایسی باتیں سامنے آئی جو مجھے پہلے معلوم نہیں تھی ،جس میں ایک یہ تھی کہ سات آٹھ سو سال قبل تک یورپ اور گرد و نواح میں نہانے کو جرم سمجھا جاتا تھا ، جس میں روس بھی شامل تھا یعنی عیسائی دونیا میں نہانے کو گناہ سمجھاجا تا تھا۔ مشہور کیسٹال کی ملکہ ازابیل جو عیسائیوں میںنجات دہندہ کی حیثیت رکھتی ہے ان کے بارے میں مشہور ہے کہ زندگی میں صرف دومرتبہ نہائی تھی ایک مرتبہ تب جو وہ پیدہ ہوئی تھی اور دوسری مرتبہ جب اس نے شادی رچائی، اس کے علاوہ اس کو نہانے سے نفرت تھی یہ نفرت ذاتی نہیں مذہبی تھی اور اس لیے اس اپنے پورے سلطنت میں نہانے پر پابندی لگائی تھی۔
مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی جنگوں میں جب مسلمانوں کے علاقوں فتح کرتی سب سے پہلے وہ نہانے کے حماموں کو مسمار کرواتی تھی ۔ اپنے جسم کی بدبو کو کم کرنے کے لیے فرانس سے مختلف اقسام کو خوشبو منگوایا کرتی تھی ۔ ازابیل یا اس سے قبل کسی بھی عیسائی ملک سے ہونے والی جنگوں میںمخالف افواج کو سب سے زیادہ پریشانی ان کی جسم سے آنے والی بدبو سے ہوتی تھی ۔ یورپ کے دیگر ممالک کے ساتھ روس کا بھی یہیں حال تھا ، مشہور سیاح ابن فضلان نے لکھا ہے کہ روس بادشاہ قیصر کو پیشاب آنے پر مہمانوں کے سامنے ہی کھڑے کھڑے محل کی دیوار پر پیشاب کرتا تھا، چھوٹا ہو یا بڑا پیشاب کرنے پر وہ استنجا نہیں کرتا تھا ۔مزید لکھا کہ میں نے اپنی زندگی میں اتنی گندی قوم نہیں دیکھی ہے۔
 جب یورپ میں نہانے کو جرم سمجھا جاتاتھا تب ہمارے سائنسدان نظام شمسی پر تحقیق کرہے تھے اور ہمارے مﺅرخین ان کے کرتوتوں پر کتابیں لکھ رہے تھے۔ پھر کیا ہوا انہوں نے ہمار ا کلچر اپنا لیا اور ہم نے ان کا، وہ ترقی پر ترقی کرنے لگے اور ہم تنزلی کا شکار ہونے لگے ۔ یورپ سمیت دنیابھر کے عیسائی مسلمانوں سے مسلسل شکستوں اور مسلمانوں کی ترقیوں سے پریشان تھے۔ تب ہی ان میں کچھ زی شعور لوگوں نے سر پکڑ لیا کہ کیا وجہ ہے مسلمانوں کی ترقی کا اور ہماری تنزلی کا ؟ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ انہوں نے مسلمانوں کا رہن سہن اور معاشرتی نظام کو اپنالیا ۔چونکہ صفائی ان میں گناہ کبیرہ سمجھی جاتی تھی اس کبیرہ گناہ کو بھی انہوں نے شروع کردیا۔
 
بلاشبہ صفائی نصف ایمان ہے ، صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے سے اللہ تعالیٰ بھی خوش ہوتا ہے اور بیماریاں وغیرہ بھی دور رہتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ قران مجید میں ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور طہارت (صفائی) اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے(ترجمہ سورة البقرہ آیت 222) ۔اسی طرح صحیح مسلم شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث موجود ہے جس میں آپ ؑ نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے ، ایک اور حدیث پاک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلاشبہ اللہ کی ذات پاک ہے اور پاکی کو پسند کرتا ہے۔صاف ستھرا ہے اور صفائی کو پسند کرتا ہے۔پس اپنے گھروں کو صاف رکھا کرو اور یہودیوں سے مشابہت نہ اختیار کرو۔غالباً اس زمانے میں یہودی اپنے گھروں کو گندارکھتے ہوں گے۔(ترمذی) ایک اور حدیث میں ہے کہ دونوں قابل لعنت چیزوں سے بچو،پیشاب پاخانے سے اور اس شخص سے جو لوگوں کے راستے یا سایے میں پیشاب پاخانہ کرتا ہو(مسلم شریف)
 صفائی ستھرائی کے اُوپر قرآن مجید اور بھی آیات ہے اور احادیث بھی موجود ہے ،اگر ان سب کو شامل کیا تو یہ مضمون ایک زخیم کتاب کی صورت اختیار کر جائے گی ۔ مگر میری کوشش ہے کہ کسی طرح اس نظام کو درست کرنے کی کوشش ہو ، آج کا مسلمان اس مسلمان جیسا نہیں ہے جس سے دنیا کا کفر لرزتاتھا، آج مسلمانوں میں جہاں اور کئی اور برائیاں پائی جاتی ہے وہاں ایک بڑی برائی صفائی ستھرائی کی ہے گر چہ تمام میں یہ برائی نہیں مگر کسی نہ کسی طرح اس برائی کہ سب زمہ دار ہے ۔کراچی کی موجودہ صورتحال کیا ہے ، سڑکوں پر کس طرح کچرا پڑا ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ کچرے کی موجود گی اور صفائی نہ ہونے کی جتنے زمہ دار حکومت ہے اتنے ہم شہری بھی ہے ، اس پر بھی کسی موقع پر تحریر لکھوں گا۔
ہمارے علما کرام، اسکول کے اساتذہ ، حکومت اور شوشل نیٹ وارکز چلانے والے افراد کو چاہیئے کہ وہ عوام میںآگاہی مہم چلائے ۔سب سے زیادہ زمہ داری مساجد کے ائمہ کرام کی بنتی ہے کہ وہ ممبر پر بیٹھ کر قرآن و حدیث کی روشنی میں عوام میں صفائی ستھرائی کا شعور اجاگر کرایں ، انہیں بتائے کہ صفائی صرف حکومت وقت کی زمہ داری نہیں حکومت آپ کو آپ کے گھروں کے یا مساجد سے متصل بیت الخلاﺅں کی صاف صفائی نہیں کر کے دیگی ۔ گلیوں میں کچرا نہ پھینکیں ، کچرا کچرادانوں میں ڈال کر آئے یہ سب باتیں گر مسجد کی ممبر سے کوئی اپنی لیے برا سمجھے تو انہیں یہ پتا ہونا چاہییے کہ کہ بڑے اور جید علماءکرام جو مختلف مدارس یا اجتماع گاہوں کی بیت الخلاﺅں کو رات کے اندروں میں صاف کیا کرتے تھے ، یہ نہیں کہ دن میں صاف کرنے میں ویر سمجھتے تھے بلکہ وہ اس بات سے واقف تھے کہ دن میں ہمیں ہمارے شاگرد یا مرید ایسا نہیں کرنے دینگے ۔ اسی طرح وہ سوشل وارکرز جو جگہ جگہ خود کچرا اُٹھانے میں مصروف ہے اس سے بہتر ہے کہ اس کے ساتھ آگاہی مہم بھی چلائے اور مسلمانوں کوبھی اپنا” نصف ایمان بچانا ہوگا“ اپنے گھر اور اپنے دوکان کے سامنے خود سے صاف صفائی کی زمہ داری پوری کرنی ہوگی ۔ ۔۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہدائت اور سمجھ دیں(آمین)

Facebook Comments