شریعت کی رو سے مسلمانوں پر اپنے علاقوں کا دفاع فرض ہے۔ جب مسلمان ملکوں پر کافر حملہ آور ہو جائے، ان کے علاقوں پر قبضہ کرے، ان کی زمینوں پر جہاں اللہ تعالیٰ کا نام لیا جا رہا ہے، وہ اپنی تہذیب کا پرچار کرے تو رب کائنات اپنے بندوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ اپنا دفاع کریں، مقابلے میں نکلیں۔ جب انسان اس عمل کو اللہ کا حکم مان کر سر انجام دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ مومنوں کی طرف سے دفاع کرتا ہے۔
آپ کچھ عرصہ قبل کا مشاہدہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اکتوبر2001ءمیں امریکی عفریت 48 ملکوں کو ساتھ لے کر افغانستان آیا تھا۔ دنیا سمجھتی تھی کہ افغانستان چند دنوں میں مفتوح ہو جائے گا اور مسلمان مغلوب ہو جائیں گے۔ مادہ پرستی پر ایمان رکھنے والے مسلمان ہوں یا کافر وہ یہ سمجھتے تھے کہ مسلمان کھڑے نہیں ہو سکیں گے، مگر اللہ تعالیٰ مومنوں کی طرف سے دفاع کرتا ہے، شرط یہ ہے کہ انسان مومن بن کر دکھائے۔ آپ دیکھ لیجیے وہ افغانی پگڑیاں باندھنے والے جن کے پاس کلاشنکوف بھی نہیں تھی، سوویت یونین کے مقابلے میں لڑے اور ایسا لڑے کہ اپنے آپ کو سپر پاور سمجھنے والا وہ سرخ ریچھ پوری دنیا میں جہاں بھی جاتا تھا، جس ملک میں قدم رکھتا تھا وہ ملک روس کا حصہ بن جاتا تھا، لیکن اس نے ایمان والوں کے سامنے کھڑے ہو کر ایسی غلطی کی کہ آج دنیا میں ڈھونڈنے نکلیں تو سوویت یونین نام کی کوئی طاقت نظر نہیں آئے گی۔
اسی طرح افغانستان میں امریکا آیا، لوگ سمجھتے تھے پتہ نہیں کیا حال بنے گا؟ جن لوگوں نے مادہ پرستی پر یقین رکھنے کے بجائے قرآن پر یقین رکھا ان کو اس بات کی امید تھی کہ اللہ ان ایمان والوں کی مدد کرے گا۔ قرآن پر یقین رکھنے والا ہمیشہ یہ کہتا تھا کہ امریکا ساری دنیا کو ساتھ لے کر آ جائے، اللہ نے فتح ایمان والوں کو ہی دینی ہے۔ ہم بھی اس وقت کہا کرتے تھے کہ امریکا یہاں شکست کھائے گا، لوگ ہم پر ہنسا کرتے تھے اور آج تاریخ نے یہ ثابت کر دیا۔ سپر پاور امریکا کے صدر ٹرمپ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں گھٹنے ٹیک چکا کہ ہمیں افغانستان سے نکلنے کا راستہ دیں، صلح کروا دیں۔ وہ پگڑی باندھنے والے طالبان کبھی قطر میں اور کبھی کسی اور ملک میں مذاکرات کر رہے ہیں۔
آپ ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھیے ستمبر 1965ءکی جنگ کا اختتام بھی پاکستان کی فتح کے ساتھ ہوا تھا، کیوں کہ اللہ کا وعدہ ہے تم اللہ کے دین کے مددگار بنو، اللہ تمہیں فتح دے گا۔ اللہ کریم اپنے ایمان والے بندوں کو فتح دیتا ہے اور وہ غالب ہو جاتے ہیں۔ ایمان والوں کا وصف اللہ نے بیان کیا کہ جو اللہ کا گروہ بنے گا، اللہ کریم ان کو اس جہاد اور قتال کی برکت سے دنیا میں غلبے دے گا اور وہ باطل پر غالب آئیں گے۔ اللہ فرماتا ہے میں نے یہ بات لکھ دی ہے کہ میں بھی غالب آﺅں گا، میرے رسول بھی غالب آئیں گے اور رسولوں کے پیروکار بھی دنیا پر غالب آئیں گے، شرط یہ ہے کہ وہ مومن بن کر دکھائیں۔ آج پاکستان کے نوجوان کشمیریوں پر مظالم کے خلاف ہاتھوں میں جھنڈا لے کر یکجہتی کشمیر منا رہے ہیں۔ صرف جھنڈا اٹھانے سے کشمیریوں پر مظالم ختم نہیں ہوں گے۔ آپ دیکھ لیجیے افغانیوں نے کونسی سفارتکاری کی تھی؟ کس ملک سے جا کر بھیک مانگی تھی؟ انہوں نے اللہ کا حکم مانتے ہوئے علم جہاد بلند کیا۔ اسی طرح ستر سال قبل آزاد کشمیر بھی جہاد کے ذریعے آزاد کیا گیا تھا۔ لاکھ سفارت کاریاں کرتے رہو۔ یوم دفاع، یوم کشمیر یا یوم شہداءمناتے رہو، مگر فتح کی راہ وہی ہے جو اسلام نے بیان کی ہے۔
دراصل ہندوستان چاہتا ہے کہ کشمیر کو بھی یروشلم جیسا شہر بنا دیا جائے۔ آبادی کا تناسب بگاڑنے کے لیے آرٹیکل 370 اور 35A کا خاتمہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ جب آپ کی شہ رگ کسی کے ہاتھ میں ہو تو چیخنے چلانے سے کچھ نہیں ہوگا، اسے چھڑانے کی تدبیر کرنی ہوگی۔ آج کشمیریوں کو اس لیے سزا دی جا رہی ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ جب عیسائی انڈونیشیا سے الگ ہونا چاہتے تھے تو انہیں مشرقی تیمور کاٹ کر دے دیا گیا۔ اسی طرح سوڈان کو بھی تقسیم کردیا گیا۔ دوسری جانب کشمیری مسلمان ہیں، اس لیے انہیں بولنے نہیں دیا جا رہا۔ کرفیو کی وجہ سے ان کی زندگیاں تنگ کردی گئیں۔ اس سے قبل کشمیریوں کو لالچ دیا گیا، سہولتیں دینے کے وعدے کیے گئے لیکن ہندوستان سے الحاق پر کشمیری بالکل بھی راضی نہیں ہوئے۔
یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اپنے علاقوں کا دفاع کرنا رسول اللہﷺ کی سنت ہے۔ پانچ ہجری میں مدینے کے دفاع کے لیے خندق کھودی گئی۔ رسول اکرمﷺ خود اپنے صحابہ کرام کے ساتھ مدینے کا دفاع کر رہے ہیں۔ کشمیر کا دفاع پاکستان کا دفاع ہے، کیونکہ بات صرف مقبوضہ کشمیر تک محدود نہیں رہے گی، انڈیا پاکستان سے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بھی چھیننا چاہتا ہے۔ دفاع اگر کرنا ہے تو بنیادی اصول سمجھ لیں کہ اپنی سرحدوں کا دفاع کرو۔ ایک موقع پر رسول اللہﷺ کو پتا چلا کہ شام کی طرف سے مدینہ پر حملہ ہونے والا ہے تو رسول اللہﷺ نے سخت گرمی کے موسم کے باوجود صحابہ کرام کو غزوہ تبوک کے لیے روانہ کیا، یہ غزوہ سخت مشکلات کی وجہ سے جیش العسرہ کے نام سے بھی معروف ہے۔
موجودہ صورت حال میں مجھے یہ اعتراف ہے کہ پاکستان سخت حالات سے دوچار ہے، چاروں طرف سے ملک پر حملوں کی بات ہو رہی ہے۔ چومکھی لڑائی پاکستان ضرور لڑ رہا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ پاکستان جنگ کا متحمل نہیں ہے، لیکن جنگ مسلط کرنے کی صورت میں دفاع سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ دفاع ایمان کے ذریعے ہوتا ہے۔ افغانستان میں مجاہدین نے روس کو توڑا، پھر امریکا مجاہدین کے ہاتھوں پِٹا، اب ہندوستان نے افغانستان میں تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے، وہ پریشان ہے کہ 18 سال میں جو منصوبہ بندی کی تھی اس پر پانی پھر گیا۔ اگلی بات جو اسے زیادہ پریشان کر رہی ہے کہ افغانستان کے مجاہدین ہم سے بدلہ لینے کے لیے کشمیر سے ہوتے ہوئے ہندوستان تک جا پہنچیں گے۔ وہ اس پورے خطے میں چوہدری بننا چاہتا تھا اللہ نے اس پر پانی پھیر دیا۔
کشمیری آج یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ان مشکل حالات میں کتنے لوگ ہمارے لیے باہر نکلتے ہیں۔ کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ جان لیجیے کہ یہ اللہ کے رسولﷺ کی سنت ہے کہ دشمن پر اپنی طاقت ظاہر کی جائے۔ رسول للہﷺ جب مکہ میں عمرہ کرنے آئے تو مشرکین مکہ نے کہا کہ محمدﷺ اور ان کے ساتھی یثرب میں جا کر بخار کی وجہ سے کمزور ہوگئے ہیں۔ پیارے پیغمبرﷺ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ اچھل اچھل کر پہلوانوں کی طرح چلو۔ آج ہم نے بھی مظلوم کشمیریوں کے لیے مضبوط آواز بلند کرنی ہے۔ غیروں سے اگر یہ توقع رکھیں گے کہ وہ اس مسئلے کا کوئی حل نکال لیں گے، خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہوگا۔ ستر سالوں سے انہوں نے کیا کیا؟ اللہ فرماتے ہیں دفاع چاہتے ہو تو ایمان والے بن کر دکھاﺅ۔ تھوڑی سے حرکت یا سفارتکاری کرنا کافی نہیں ہے۔ پیارے رسولﷺ کی سنت کو بھی نہیں بھولنا چاہیے۔ ہمیں بھی کشمیریوں، مظلوموں اور شہداءکے ورثاءکے ساتھ کھڑے ہو کر یکجہتی کشمیر کے عزم کا اظہار کرنا ہے اور لوگوں میں شعور پیدا کرنا ہے کہ دفاع کیسے ممکن ہے؟ اللہ تعالیٰ ملک پاکستان کو مظلوم مسلمانوں کا دفاع کرنے والا ملک بنائے۔ آمین

Facebook Comments