ہمیں مساجد میں اب کچھ تبدیلی کرنی پڑے گی۔ مساجد کو صرف نماز پڑھنے کی جگہ ہی نہ بنائیں بلکہ اسلامی کمیونٹی سنٹر کی طرز پرچلائیں۔ وہاں غریبوں کے کھانے کا انتظام ہو۔ ڈپریشن میں الجھے لوگوں کی کاونسلنگ ہو۔ ان کے خاندانی جھگڑوں کو سلجھانے کا انتظام ہو۔ مستحقین کی مناسب تحقیق کے بعداجتماعی و انفرادی طور پر مدد کی جا سکے۔ اپنے گھروں کے فالتو سامان کو نادار افراد کے لیے عطیہ کرنے کی غرض سے مساجد کا ایک حصہ مخصوص ہو۔ آپس میں رشتے ناتے طے کرنے کے لیے ضروری واقفیت کا موقع ملے۔ نکاح کا بندوبست سادگی کے ساتھ مساجد میں کیے جانے کو ترجیح دی جائے۔ قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے اجتماعی کوششوں کا آغاز مساجد سے ہو کیوں کہ صدقات و خیرات کرنے میں ہم مسلمانوں کا کوئی ثانی نہیں۔ بڑی جامع مساجدسے ملحق مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم کا بھی اہتمام ہو ۔ ہماری مساجد میں ایک شاندار لائبریری ہو، جہاں پر مکمل اسلامی و عصری کتابیں مطالعہ کے لیے دستیاب ہوں۔ اب وقت آگیا ہے کے ترجیحات بدل کر کچھ ضروری جگہوں پربھی اپنا مال خرچ کیا جائے۔

ان میں سے کوئی بھی تجویز نئی نہیں ہے۔ تمام کاموں کی مثال 1400 سال پہلے کے دور نبوی ﷺ میں بآسانی دیکھی جاسکتی ہے۔ کیا مسجد ِ نبوی صحابہ کرام ؓ کی علمی وعملی تربیت گاہ نہیں تھی؟ تمام غزوات وسرایہ کی حکمت ِ عملی کا گڑھ مسجد نبوی تھی۔ ساری جنگی تیاری اور ساز و سامان کی تقسیم و ترتیب مسجد نبوی میں ہوا کرتی تھی۔ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، مسجد نبوی میں تلوار بازی بھی ہوا کرتی تھی اور دیگر علوم و فنون کی تربیت و تیاری بھی۔ کیا وجہ تھی کے اس دور کے مسلمان دوڑے دوڑے مسجدکی جانب آیا کرتے تھے؟ اور آج ہم نے اپنی نسل ِ نو کی دلچسپی کے لیے مساجد میں کیا انتظامات کیے ہیں؟

خدا کے بندو اپنی مساجد میں نوجوانوں کا داخلہ آسان بناﺅ ورنہ موجودہ عادی نمازیوں کے بعد خدانخواستہ مساجد ویران ہوجائیں گی۔ آپ کسی مسجد میں چلیں جائیں، آپ کو نمازیوں میں زیادہ تعداد ضعیف العمر، بلغم زدہ، ریٹائرڈ اور فارغ لوگوں کی نظرآئے گی۔ کیا وجہ ہے کہ نوجوان اور پڑھا لکھا طبقہ مسجد سے دورہے؟ شاید اس لیے کہ پھٹی پرانی صفوں اور گرد آلود فرشوں والی مساجد میں ان کی جرابیں گندی ہوتی ہیں۔ دنیاکے کسی کلب، ہوٹل، ریسٹورنٹ، کسینو، کالج اور یونیورسٹی میںچلے جائیں، آپ کو صاف ستھرا ماحول، سنٹرلی ائیرکنڈیشنڈ ہال، وائٹ واش اور فرنشڈ کمرے، تیز رفتار انٹرنیٹ اور جدید ترین لیب نظر آئیں گی۔ بے دھیانی میں کسی کو کندھا لگ جائے یا چھولیا جائے تو وہ بجائے گھورنے کے سوری کرتا ہے۔ آپ کو وہاں پر دنیا کے بہترین طور طریقے اور انٹرنیشنل ریلیشنز کے معیار ملیں گے۔

جب کہ ہماری مساجد میں آج بھی برادری ازم اور اجارہ دارانہ نظام دیکھنے کو ملتا ہے۔ پرانے نمازی کبھی کبھار نماز پڑھنے والوں کو عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔ جب کہ پچھلے 60 سالوں سے نماز پڑھنے والوں میں سے 40 فیصدسے زائد لوگوں کوساری نماز بھی نہیں آتی ہوگی۔ نئے نمازی کوشاید ہی کبھی پہلی صف میں جگہ ملی ہو۔ پچھلی صفوں میں اگر بچے شور مچا رہے ہوں تو آئندہ کے لیے ان کے مسجد میں داخلے پر پابندی لگادی جاتی ہے۔ اس پہ سونے پہ سہاگہ یہ کہ ہمارے آئمہ حضرات دنیاوی تعلیم کو آج بھی غیر اسلامی اور کافروں کی تعلیم سمجھتے ہیں۔ پینٹ شرٹ اور تھری پیس وغیرہ کو غیر شرعی لباس سمجھ کر قابل ِ نفرت سمجھا جاتاہے جب کہ دوسری جانب کالج اور یونیورسٹی کے طلباءکے اذہان میں اٹھنے والے سوالات کو شیطانی وسوسے قرار دے کر جھٹلا دیا جاتا ہے اور نتیجتاً نوجوان نسل دین سے دور ہوتی چلی جاتی ہے۔ ان پہ فتوے لگائے جاتے ہیں کہ دیکھو انگلش تو فرفر بولتا ہے اور دین اتنا بھی نہیں آتا کہ باپ کا جنازہ ہی پڑھا سکے۔ خدارا اب رک جائیں، سوچیں اور اپنی ترجیحات بد لیں۔ اپنے بچوں کو وقت دیں۔ ان کے مسائل کوسمجھیں۔ ان کی ترجیحات کو جانیں ورنہ آج کی نسل کوبے دین کرنے کی ساری ذمے داری آپ پہ ہوگی اور مورخ آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔

Facebook Comments