خوشبو سے مجھے فلم ”دی پرفیوم“ اکثر یاد آجاتی ہے کہ جس کا مرکزی کردار اپنی فطری انسانی خوشبو سے محروم ہونے کی بنا پر چاہے جانے سے عاری ہوتا ہے اور یہی محرومیت پہلے اسے باقاعدہ عطرسازی سیکھنے پھر اس کے تجربات خوب صورت دوشیزاو¿ں پر کرنے پر اکساتی ہے تاکہ وہ ان میں سے ایسی خوشبو کشید کرے جو اک عالم کو مسحور کر سکے۔ آخر کار وہ ایک عجیب و غریب اور مسحورکن خوشبو بنانے میں کامیاب تو ہو جاتا ہے مگر اس کی قیمت کیا ادا کرتا ہے، اس کے لیے آپ کو یہ فلم ہی دیکھنا پڑے گی۔ اس میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ خوشبو کے لیے آپ کے پاس ایک اچھی ناک کا اور مستقل مزاجی کا ہونا ضروری ہے، یعنی آپ باذوق بھی ہوں۔ ایک اچھی خوشبو نہ صرف آپ کا اعتماد برقرار رکھتی ہے بلکہ اس سے آپ کا اور اردگرد کے لوگوں کا موڈ بھی اچھا رہتا ہے۔ ہمارے ہاں مہنگے کپڑوں اور جوتوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے مگر خوشبو کے معاملے میں ”کوئی بھی دے دو“ سننے کو ملتا ہے حالاں کہ خوشبو انسانی مزاج اور جذبات پر بہت گہرا اثر ڈالتی ہے۔ کہتے ہیں قلوپطرہ نے جو خوشبو اپنی کشتیوں کے بادبانوں سے لگائی تھی وہ ساحل پر پہنچنے سے پہلے، میلوں دور سے ہی مارک انٹونی کو محسوس ہو گئی تھی۔ اسی لیے شیکسپئیر نے اس بارے کہا تھا،
” So perfumed that the winds were lovesick with them”

پرفیوم یونانی زبان کے لفظ perfumare سے اخذ کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں “To smoke through” یعنی دھویں کے ذریعے۔ عطر سازی قدیم میسوپوٹیمیا اور مصر سے شروع ہوئی، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا آغاز قدیم چائنہ سے ہوا تھا جب کہ اسے مزید ترقی یافتہ رومیوں اور عربوں نے بنایا۔ ہندوستان میں بھی اس کے آثار 3300 قبل مسیح سے 1300 قبل مسیح کے درمیان ملتے ہیں۔

کسی بھی خوشبو کی تین پرتیں ہوتی ہیں۔ پہلی وہ جسے آپ معمولی سا سونگھ کر بے نقاب کرتے ہیں۔ اسے ٹاپ نوٹ کہا جاتا ہے اور اکثر لوگ اسی کے بل بوتے پر پرفیوم خریدتے ہیں۔ اکثر کمپنیوں کے لیے یہ ٹاپ نوٹ ہی سیلنگ پوائنٹ ہوتا ہے۔ یہ پرت دیر پا نہیں ہوتی۔ دوسری پرت جسے ہارٹ نوٹ یا مڈل نوٹ کہا جاتا ہے، یہ اس پرفیوم میں موجود جڑی بوٹیوں اور دیگر عناصر پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ پرت ٹاپ نوٹ سے زیادہ دیر پا ہوا کرتی ہے جو بیس نوٹ کی فوری ناخوش گوار خوشبو کو ڈھانپتی ہے۔ تیسری پرت بیس نوٹ کہلاتی ہے، جو سب سے زیادہ دیر پا اور مسحور کن ہوتی ہے، اس نوٹ میں عموماً قیمتی لکڑی، عنبر اور مشک وغیرہ شامل ہوتا ہے۔ اس پرت کا اثر کم ازکم 30 منٹ کے بعد ظاہر ہوتا ہے اور یہی پرت آپ کو ایک ان دیکھی کائنات اور دلکش احساس سے نوازتی ہے اور آپ کے موڈ اور مزاج پر اثر انداز بھی ہوتی ہے۔

پرفیوم مختلف کیٹیگری کے ہوتے ہیں جن کا علم ہونا ضروری ہے۔ Eau de Toilette میں خوشبو دار آئل کی مقدار 10 فیصد تک ہوتی ہے۔ اسی بنا پر یہ خوشبوئیں زیادہ دیر پا نہیں ہوتیں۔ Eau de parfum کیٹیگری میں شامل کیے جانے والے خوشبودار آئل کی مقدار 15 سے 20 فیصد تک ہوتی ہے، جس بنا پر ان کی خوشبو پہلی کیٹیگری سے زیادہ دیرپا ہوتی ہے جب کہ صرف پرفیوم جو کہ خالص خوشبو ہوتی ہے، اس میں یہ آئل 40 فیصد تک ہوتی ہے اور یہ بہت زیادہ دیر قائم رہنے والی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خالص پرفیوم کی قیمت بھی بہت زیادہ ہے۔ جدید زمانے میں پرفیوم عموماً ایتھانول، یا ایتھانول اور پانی کی ملاوٹ سے بنایا جاتا ہے اور پھر اس کے اندر خوشبودار آئل کی کیٹگری کے حساب سے ملاوٹ ہوتی ہے۔

پرفیوم خریدتے وقت کوشش کیجیے کہ ایک ہی وقت میں دو یا تین سے زیادہ ٹیسٹ نہ کریں، ورنہ آپ کا دماغ زیادہ بوجھ برداشت نہ کر پائے گا۔ مزید دکاندار حضرات ساتھ کافی کے دانے بھی رکھتے ہیں تاکہ وقفہ لے لیا جائے مگر بہتر یہ ہوتا ہے کہ کافی کی بجائے آپ اپنے جسم کو سونگھیں تاکہ آپ کا دماغ نارمل حالت میں آ کر نئے پرفیوم کو بہتر طریقے سے ٹیسٹ کر سکے۔ پرفیوم لگانے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ جہاں خون کی گردش زیادہ ہو وہاں چھڑکا جائے۔ اس سے خوشبو زیادہ پھیلتی ہے۔ یعنی کان کے پچھلے حصوں، گردن، کلائی اور ہاتھوں کے اوپری حصوں پر۔ اس کے علاوہ بالوں کے برش پر پرفیوم چھڑک کر بال بنائیں جائیں تو بھی خوشبو زیادہ دیر تک موجود رہتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اگر آپ خود کو پرسکون رکھنا چاہتے ہیں تو لیونڈر کی خوشبو استعمال کیجیے اور اگر فوری انرجی بوسٹر چاہیے ہو تو سٹرس وغیرہ جیسی خوشبو کا استعمال کرنا بہتر ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ جاسمین، صندل اور عود بھی بہت زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔ گو کہ خوشبو منتخب کرنے کے لیے جنس یعنی مردانہ یا زنانہ کا فرق نہیں ہوتا لیکن کچھ لوگ اس کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ اسی بنا پر چند مشہور اور بہترین مردانہ و زنانہ پرفیوم کے نام پیش نظر ہیں، اگر موقع ملے تو ان میں سے کوئی بھی ضرور خریدیے۔ خواتین میں،burberry, gucci bloom, the body shop white musk, bvlgari, origins ginger essence skin scent, وغیرہ کافی مقبول ہیں۔ ان کے علاوہ Tom ford oud minerale, SJP Stash, اور Francis kurkdjian aqua vitae آل ٹائم فیورٹ خوشبوئیں ہیں۔ جب کہ مردوں کے لیے davidoff cool water, Dolce & Gabana light blue, calvin klein ck one, dunhill, 273 california, obsession، joop Homme اور Tom Ford oud wood کافی مقبول ہیں۔

Facebook Comments