ٹپ ٹپ کرتی بوندیں دوپہر کے قریب موسلا دھار بارش میں بدل گئیں۔ بڑی بیٹی اللّھم صیبا نافعا کا نعرہ لگاتے ہوئے چھت پر بھاگی۔ بارش دیکھ کر بے اختیار رب تعالی کا شکر ادا کیا۔ کراچی میں گرمی کی شدت میں کمی لانے اور پانی کی کم یابی کو دور کرنے کے لیے بارش اشد ضروری تھی۔ بارش سے لطف اٹھا کر نیچے آئے تو کے الیکٹرک نے روایتی تکلیف دینے کا آغاز کردیا تھا۔ بجلی بند، پانی ختم اور تو اور موبائل کی بیٹریز بھی ٹمٹما رہی تھیں۔ کے الیکٹرک کو کوسنے دیتے ہوئے فیس بک پر آئی اور وال چیک کرنے لگی۔ میری بڑی بیٹی یوم آزادی کی مناسبت سے تقریر کی تیاری میں مگن تھی۔ ایک جملہ اس کے دہراتے ہوئے سماعتوں کو مستقل ٹکرا رہا تھا کہ ”حضرت عمرؓ کہا کرتے تھے کہ فرات کنارے کتا بھی پیاس سے مر جائے تو اس کا بھی جواب دہ عمر ہوگا“۔ جملہ یاد کرنے میں باربار بیٹی کا بولنا اور ماو¿ں کی طرح مجھے بھی جھنجھلاہٹ میں مبتلا کررہا تھا۔ ہم ازراہ مذاق گھر میں کہتے ہیں یہ اتنا بولتی ہے کہ لگتا ہے کہ اس کی کیسٹ اٹک گئی ہے۔

بہرحال میں نے کے الیکٹرک کا غصہ بیٹی پر اتارا ہی تھا کہ فیس بک وال پر ایک دل دہلادینے والی وڈیو نظر کے سامنے آگئی۔ دو معصوم رنگ برنگ پینٹ شرٹ پہنے سائیکل پر ایک دوسرے کو مضبوطی سے تھامے اوندھے پڑے تھے۔ سمجھنے میں زیادہ دقت اس لیے محسوس نہ ہوئی کہ قریبی لگے پول اور زمین پر پڑے پانی نے قصہ لمحوں میں سمجھادیا۔ دماغ ماوف ہوگیا، ہاتھ پاوں کپکپانے لگے۔ ماں ہوں اور ان بچوں کی ماوں کا درد سمجھ سکتی ہوں۔ کیسے کیسے خواب ہوں گے، تعلیمی معاملات پر باز پرس بھی کی جاتی ہوگی لیکن اب دو پھول ساری زندگی کا دکھ دے گئے ماں باپ کو۔

بچوں کی پیدائش، ان کی پرورش ان کی تربیت سے مشکل شاید ہی کوئی کام ہو لیکن ایک ادارے کی غفلت، ہٹ دھرمی اور بے حسی نے ایک ماں سے، ایک خاندان سے اور وطن کے مستقبل کو کن پھولوں سے محروم کردیا اس کا اندازہ ذرا بھی کسی کو ہو تو یہ حادثات جنم ہی نہ لیں۔ بجھے دل کے ساتھ وال آگے بڑھائی تو ایک تصویر دیکھ کر دل و دماغ میں غصے کی لہر امڈ آئی۔ شہر ڈوب رہا ہے۔ بچے کرنٹ سے مارے جارہے ہیں لیکن وزیر اعلی، گورنر، مئیر کراچی سب کے سب چائے پراٹھے کے میلے سجارہے ہیں۔ بے اختیار دل چاہا کہ ان ارباب اختیار کو چوکوں اور چوراہوں پر لایا جائے اور بیانگ دہل پوچھا جائے

کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے
کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے

ان تصاویر سے جھلکتی بے فکری، ان کی بے حسی کی چادر پھاڑ چکی ہے۔ عوام کی سسکیاں ان کی چائے کی چسکیوں کی آواز میں دب کر رہ گئیں ہیں۔ ارباب اختیار ہوش کے ناخن لو نجانے تمہیں خدا سے ڈر کیوں نہیں لگتا۔ تمہاری عمل داری میں اداروں کی غفلتیں ہنستے بستے گھروں کو اجاڑ رہی ہیں۔ حاکمان وقت ٹھنڈے ٹھار کمروں میں آرام فرماتے ہیں، ہائی لکس، ویگو گاڑیوں میں گھوم کر ڈھٹائی کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہماری تو گاڑیاں پانی میں بند نہیں ہوئی تو گویا پانی اتنا بھی نہیں ہے۔ کراچی میں شہری بل بھی بلکہ اوور بلنگ بھی بھریں اور قتل گاہوں میں بھی ہمارے بچے مارے جائیں آخر کیوں؟

اے سربراہ مملکت! اے وزیر اعظم پاکستان! آپ ہی لوگ کہتے ہیں نا کہ ریاست ہوگی ماں کے جیسی۔ سرکار ماں کی گود میں تو سکون ملتا ہے لیکن ہمیں تو یہاں اپنا آپ یتیموں جیسا محسوس ہوتا ہے۔ ساری سوچوں کو سوالات کی صورت ذہن میں تحریر کے لیے اکھٹا کررہی تھی لیکن بیٹی کا ایک جملہ اب بھی سماعتوں کو چیر رہا تھا۔ وہی کہ فرات کنارے کتا بھی پیاس سے مر جائے تو روز قیامت اس کا جواب دہ عمر ہوگا۔۔۔۔ آنکھیں بھیگ گئیں ہچکیاں بندھنے کے قریب تھی کہ میری گڑیا پاس آئی اور کہا کہ مما آپ رو کیوں رہی ہیں؟ بس ایک جملہ کہا کہ بیٹا ”ہمارے حضرت عمرؓ اب نہیں رہے نا! اس لیے۔

Facebook Comments