تاریخ انسانیت میں”تحریک پاکستان“ بلاشبہ ایک ایسی تحریک تھی جس کی آبیاری خون سے کی گئی۔ آزادی کے دیوانے اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو مذہبی، اخلاقی، معاشی، نظریاتی، ثقافتی، سیاسی اور سماجی آزادی دینے کا عزم لیے ایک سبز ہلالی پرچم تلے جمع ہوئے اور پھر پیچھے نہ دیکھتے ہوئے آگے بڑھتے چلے گئے۔ ایسی کون سی قربانی تھی جو اس جدوجہد کے لیے نہ دی گئی ہو خواہ وہ آبروریزی کی شکل میں ہو یا خون ریزی کی شکل میں۔ آگ و خون کا دریا عبور کیا گیا تو تحریک پاکستان رقم ہوئی۔

تحریکِ آزادی محض اتفاقیہ تحریک نہ تھی بلکہ تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی اپنی بقا اور اسلامی احیاءکی حفاظت کے لیے باہمی رضا مندی سے پروان چڑھنا شروع ہوئی۔ برصغیر کے انگریز و ہندوو¿ں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ مسلمانوں سے ان کے اس شعور کو چھین لیا جائے کہ وہ ایک قوم ہیں تاکہ ان کو غلام بنانا آسان ہو جائے اور ان کو ہر لحاظ سے اتنا کمزور کر دیا جائے کہ وہ کبھی پنپ نہ سکیں۔ 30 دسمبر1906ءکو نواب وقار الملک کی صدارت میں ایک خصوصی اجلاس ہوا اس اجلاس میں نواب سلیم اللہ خان نے آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام کی قرار داد پیش کی جسے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا مسلم لیگ کے قیام کا مقصد مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ تھا اور مسلمانوں کو ایک سیاسی پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا۔ مسلم لیگ کا قیام جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے مسلم لیگ کے قیام سے مسلمانوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے کا موقع ملا۔

قائد اعظم نے 1935ءمیں جب مسلم لیگ کی باگ ڈور سنبھالی تو مسلمانوں کے حالات میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی واقع نہ ہوئی مگر 1936۔37 کے انتخابات کے بعد یہی جماعت ہندوستان کے مسلمانوں کے دل کی آواز بن گئی۔ انگریز اور ہندو سدا مسلمانوں کو اپنا غلام دیکھنے کے خواہاں رہے مگر جب تحریک پاکستان کی شکل میں وہ اسے روکنے میں ناکام رہے تو مسلمانوں کی بدترین نسل کشی سے اس کا بدلہ لیا گیا۔ کون سا ایسا ظلم ہے جو نہیں ڈھایا گیا۔ ہندوستان کی اسلحہ ساز فیکٹریوں میں کئی ماہ پہلے سے اسی مقصد کے لیے تیار اسلحہ بھارتی فوج، پولیس اور ہندو انتہا پسند تنظیموں میں تقسیم کیا گیا تاکہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے دہشت و قتل و غارت گری کا کھیل کھیل سکیں اور اس کے نتیجے میں جو کچھ ہوا اس کی مثال آپ تاریخ انسانیت میں بمشکل ڈھونڈ سکیں گے۔ جگہ جگہ کٹے پھٹے اجسام، معصوم خواتین کی برہنہ لاشیں، خون میں لتھڑے ہوئے لاشوں کے ڈھیر، عصمتیں بچاتی خواتین کی لاشوں سے بھرے کنویں، چھری چاقو سے ذبح ہوتے بچے اس خواب کا کفارہ تھے جو مسلمانوں نے اپنا تشخص بچانے کے لیے دیکھا تھا۔

سینے دے وچ بلماں ٹ±ٹیاں
سر قلم ہوئے تے قلماں ٹ±ٹیاں
عشق دی اچی ٹاہنی اتے
عذرا بانو تے سلما لٹیاں
فیر جا ای موقع بنیا
پاکستان کوئی سوکھا بنیا؟

آج ہمارے نوجوان کہتے ہیں کہ پاکستان کیوں بنایا؟ کیا چھ لاکھ افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ خواہ مخواہ پیش کر دیا؟ جی نہیں وہ اہل فراست اپنی نسلوں کا مستقبل بچا گئے اور بھارت و کشمیر کے موجودہ حالات اس کا واضح ثبوت ہیں۔1947 میں قوم ایک تھی مگر ملک نہ تھا آج بہتر سال بعد ملک ہے مگر قوم ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔

خدارا اس ملک و ملت سے کسی بھی طرح کی غداری مت کیجیے۔ کچھ بھی کرنے، بولنے اور لکھنے سے پہلے سوچیں کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمیں طشتری میں رکھ کر پیش نہیں کیا گیا اس کی بنیادوں میں ہمارے اجداد کا خون ہے اور یاد رکھیے تاریخ سب کچھ معاف کر دیتی ہے مگر اپنے مذہب، ملک سے غداری معاف نہیں کرتی۔

Facebook Comments